تبليغاتX
balti
balti

baltistan-skardu-k2- pakistan
منوي اصلي
صفحه اصلي
پروفایل مدير
عناوين وبلاگ
آرشيو وبلاگ
پست الكترونيكي

درباره وبلاگ
استفاده از مطالب وبلاگ با ذکر منبع بلا اشکال است
آرشيو
9/13/2009 - 9/22/2009
8/30/2009 - 9/5/2009
8/13/2009 - 8/22/2009
7/27/2009 - 8/12/2009
7/13/2009 - 7/22/2009
6/26/2009 - 7/12/2009
6/29/2009 - 7/5/2009
6/22/2009 - 6/28/2009
5/22/2009 - 5/28/2009
4/25/2009 - 5/11/2009
3/12/2009 - 3/20/2009
2/23/2009 - 3/11/2009
1/11/2009 - 1/19/2009
12/28/2008 - 1/3/2009
9/26/2008 - 10/12/2008
8/29/2008 - 9/4/2008
8/22/2008 - 8/28/2008
8/12/2008 - 8/21/2008
5/25/2008 - 6/10/2008
2/24/2008 - 3/11/2008
2/27/2008 - 3/4/2008
2/11/2008 - 2/19/2008
1/12/2008 - 1/20/2008
11/22/2007 - 11/28/2007
11/13/2007 - 11/21/2007
10/23/2007 - 10/29/2007
9/27/2007 - 10/13/2007
8/13/2007 - 8/22/2007
7/30/2007 - 8/5/2007
7/23/2007 - 7/29/2007
6/26/2007 - 7/12/2007
6/22/2007 - 6/28/2007
6/12/2007 - 6/21/2007
4/28/2007 - 5/4/2007
3/25/2007 - 4/10/2007
2/11/2007 - 2/19/2007
1/25/2007 - 2/10/2007
1/21/2007 - 1/27/2007
12/26/2006 - 1/11/2007
12/29/2006 - 1/4/2007
11/26/2006 - 12/12/2006
11/29/2006 - 12/5/2006
11/22/2006 - 11/28/2006
11/13/2006 - 11/21/2006
10/27/2006 - 11/12/2006
10/30/2006 - 11/5/2006
10/23/2006 - 10/29/2006
10/14/2006 - 10/22/2006
9/27/2006 - 10/13/2006
9/30/2006 - 10/6/2006
بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ( )

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت و بلتستان اور اسکے ملحقہ علاقوں پر حق گلگتی و بلتی لوگوں کا مانتے ہوئے انہیں بالغ رائے دہی کا حق ملنا چاہیے تھا لیکن اسلام آباد نے ان پر ایک وائسرائے گورنر کی شکل میں نازل کر دیا۔ اسی لیے تو گلگت و بلتستان کی ایک سینئر سیاستدان کہتی ہیں 'ہم گلگت و بلتستان کے لوگ اب تک (حکمرانوں کی نظر میں) نابالغ ہیں کہ انہیں ووٹ کا بھی حق حاصل نہیں۔'

گلگت وبلتستان میں 'سیلف رول' کے نام پر اسلام آباد یا 'مضبوط مرکز' نے جو گورنر مقرر کیا ہے وہ بھی غیر بلتی یا غیر گلگتی لیکن صدر آصف علی زرداری کے دوست قمر زمان کائرہ ہیں۔ بالکل ایسے جیسے 'نیٹیِو' ہندوستانیوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے گماشتے بھیجا کرتی تھی۔

سندھ پر مقامی گورنر عشرت العباد، پنجاب پر مقامی پنجابی سلمان تاثیر، بلوچستان پر بلوچ نواب ذوالفقار مگسی، صوبہ سرحد یا پختونخواہ پر اویس غنی لیکن بلتستان و گلگت پر گونر گوجر خان! یاروں کے یار صدر کی یار نوازی کی ایک اور عظیم مثال۔

گلگت و بلتستان اور شمالی علاقہ جات کو پاکستان کے اعلی سول و فوجی حکام یا جنریلوں نے اپنے لیے پولو کے میدان سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہ اور بات ہے کہ گلگت و بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔۔۔ بقول شاعر:

'ہم جیئے بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی

مگر یہ نہ کھل سکا آّپ کی خوشی کیا تھی۔۔۔'

آگر کسی نے محاورتاً نہیں حقیقتاً گھاس کھا کر بھی پاکستان کے لیے دنیا کے برفانی چھت والے حصے یعنی سیاچن (جہاں بقول ڈکٹیٹر ضیاء گھاس بھی نہیں اگتی تھی) کی حفاظت کی تھی تو وہ گلگت و بلتستان کے نوجوان تھے۔ اس کے جواب میں گلگت و بلتستان کا کوئی فوجی برگیڈئير کے عہدے سے شاید ہی آگے بڑھا ہو (اگر بڑھتا بھی تو کیا کرتا!)۔ یہ کشمیر کے کیس میں گروی رکھے لوگ ہیں۔۔۔

'سیلف رول' کے تصور سے اس سے زیادہ بھونڈا مذاق کیا ہوگا کہ گلگت و بلتستان پر پہلے اسلام آباد سے وفاقی وزیر وائسرائے کی طرح حکومت کرتا تھا اور اب وہ اسلام آباد کے 'کیمپ آفس' سے ہی اپنے اس غیر حاضر زمیندارے کو دیکھا کریں گے۔۔۔


+ نوشته شده در Tue 15 Sep 2009ساعت 11 AM توسط mna750 |
گلگت بلتستان کےلئے بڑاترقیاتی پیکج دیںگے ، صدر زرداری ( )

صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کی پسماندگی دورکرنے کے لئے ایک بڑا ترقیاتی پیکج دیا جائے گا جس کے تحت علاقے میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے گلگت بلتستان میں قومی دھارے میںلانا اوران علاقوں کوترقی کی شاہراہ پرڈالنا شہیدبے نظیرکی کمٹمنٹ تھی ہم اس کوپورا کریں گے انہوں نے یہ بات ایوان صدرمیںپیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عہدیداروں اورکارکنوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہی صدرسے ملاقات کرنے والوں میںپیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدرسیدمہدی شاہ ،جنرل سیکرٹری غلام محمد، عمران ندیم، محمدجعفر، محمداسماعیل، پیرکرم علی شاہ ، ڈاکٹر علی مدد شیر، چیئرمین ابراہیم، راجہ جلال، شیخ نثار، نصیراستوری، شفا استوری، طارق استوری، خواجہ محمدخان ، ذوالفقارعلی ، حاجت علی ،منظوربگورواور صاحب خان شامل تھے ترقیاتی پیکج کے بارے میں صدرنے موقع پرمتعلقہ حکام کواحکامات جاری کئے اورکہا کہ پیکج کوجلدازجلدحتمی شکل دی جائے صدر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی خوشیوں میںشامل ہونے کے لئے وہ بہت جلدگلگت بلتستان کادورہ بھی کریں گے ترقیاتی پیکج میںگلگت بلتستان میں خواتین کے لئے شہیدبے نظیربھٹویونیورسٹی منصوبہ اوردیگربڑے بڑے منصوبے شامل ہوں گے سکردومیں جدید ائیرپورٹ کی تعمیراوراستورروڈبھی ترقیاتی پیکج کاحصہ ہوں گے صدرنے گلگت بلتستان میں نیشنل بنک، زرعی ترقیاتی بنک ، ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اورنادرا کے ریجنل اورزونل آفس دوبارہ قائم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی بگ بورڈ متاثرین کے مسئلہ بھی زیرغورآیا ہے اورصدرنے ہدایت کی کہ متاثرین کی دادرسی کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔




 







 
 

+ نوشته شده در Thu 3 Sep 2009ساعت 7 PM توسط mna750 |
گلگت بلتستان انتظامی پیکیج، عوام کو سیلف گورنمنٹ کے اختیارات ملینگے ( )
 
 گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے رکن حاجی محمد اقبال نے گلگت بلتستان میں صوبے کی طرز پر انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے گلگت اور بلتستان کے باشندوں کو سیلف گورنمنٹ کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ حکومت کے اس اعلان سے علاقے کے لوگوں کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کے دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد آج یہ کریڈٹ دوبارہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے کھاتے میں گیا ہے۔ انہوں نے کہا گلگت اور بلتستان کے عوام میں اس فیصلے کے بعد خوشیوں کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ اس فیصلے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف پر اس کا کوئی منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت اور بلتستان کو اس کے قانونی اور آئینی حق سے ہمیشہ محروم رکھا گیا اور اس علاقے کے مسائل کو نظرانداز کیا جاتا رہا تاہم اس فیصلے سے یہاں کے عو ام اپنے فیصلوں میں بااختیار ہوگئے ہیں۔

+ نوشته شده در Sun 30 Aug 2009ساعت 12 PM توسط mna750 |
موجودہ حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام سے بددیانتی کی، نثار میمن ( )
 
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات نثار اے میمن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عو ام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ (ر)جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ان علاقوں کے لئے جوپیکیج دیا تھا اس کی بہت سی مر اعات کو ختم کردیا ”جنگ“ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کی کسی معزز شخصیت کو گورنر نامزد کیا جاتا، قمر زمان کائرہ کی بحیثیت گورنر تقرری کو وہا ں کے لوگ پسند نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گلگت بلتستان میں ہونیو الے انتخابات میں دھاندلی کے لئے اقدامات شروع کردیئے ہیں اقلیتی پارٹی کے چھ وزراء کی نامزدگی دھاندلی کی

+ نوشته شده در Sun 30 Aug 2009ساعت 12 PM توسط mna750 |
گلگت بلتستان کیلئے اصلاحاتی پیکیج کا اعلان اہم پیش رفت ہے،ارکان قانون ساز اسمبلی ( )
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے بیشتر ارکان اور علاقے کے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اصلاحاتی پیکج کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔جبکہ منتخب نمائندوں نے اپنے ملے جلے ردعمل میں کہا ہے کہ پیکج کے تحت بھی اختیارات وفاق کے پاس ہی ہیں، انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم پر اعتبار نہیں کیاجاتا، چند دیگر رہنماؤں نے فیصلے کو جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں خوشحالی و مثبت تبدیلی آئیگی۔ مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی و سابق مشیر اطلاعات سکندر علی نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام 62 سال سے بنیادی انسانی و آئینی حقوق سے محروم چلے آ رہے تھے موجودہ اصلاحاتی عمل ایک پیشرفت ہے۔ امید ہے وزیراعلیٰ کو اختیارات دیئے جائینگے اور ماضی کے عمل کو نہیں دہرایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان خواتین ونگ کی صوبائی صدر سعدیہ دانش نے گلگت بلتستان کو دیئے گئے اصلاحاتی پیکج کو گلگت بلتستان کی 62 سالہ محرومیوں کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس خطے سے ایف سی آر اور راجگی نظام کا خاتمہ کیا اور علاقے کو جمہوری راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر پاکستان آصف علی زرداری‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور چیئرمین گلگت بلتستان قمرالزمان کائرہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر و ممبر قانون ساز اسمبلی حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ہم پر کیوں اعتبار نہیں کیا جاتا۔ وزیر امور کشمیر کو گورنر بنانا پیکج کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اختیارات ایک بار پھر وفاق کے پاس رکھے گئے ہیں۔ پی پی پی ضلع گلگت کے صدر و سابق ممبر قانون ساز کونسل محمد موسیٰ نے شمالی علاقہ جات کے نام کی تبدیلی اور علاقے کو صوبائی درجہ دینے کے حکومتی اعلان کو ایک جرات مندانہ اور انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے لے کر اب تک پیپلزپارٹی کی ہر حکومت نے انقلابی اقدامات اور تاریخ ساز عوامی فیصلوں کے ذریعے ان علاقوں کے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے پیکج کا اعلان کر کے صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدے کو پورا کر دیا ہے۔ ممبر قانون ساز اسمبلی عمران ندیم نے کہا کہ مقامی اچھے سیاستدان یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو گورنر تعینات کیا جائے اور وزیراعلیٰ کو بااختیار بنا کر بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسمبلی کو مالی اختیارات دینے اور آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کے فیصلے سمیت پورا پیکج ماضی سے بہت بہتر ہے۔ ممبر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد نے کہا کہ یہ اچھی پیشرفت ہے۔ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان میں شمولیت کے لئے قربانیاں دی ہیں اور ہمارے تمام تر مسائل اور محرومیوں کا حل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں باقاعدہ نمائندگی اور آئین پاکستان کا حصہ بتاتے ہیں۔  

+ نوشته شده در Sun 30 Aug 2009ساعت 12 PM توسط mna750 |
رهبر "سپاه صحابه " پاكستان به هلاكت رسید ( )
"علی شیر حیدری " رهبر مركزی گروهك تروریستی وهابی موسوم به "سپاه صحابه " همراه با "امتیاز پهلپوتو " دستیار اصلی وی در شهر "خیر پور " در ایالت سند این كشور به هلاكت رسید.
بر اساس این گزارش، "پیر محمد شاه " رئیس پلیس شهر خیر پور ضمن تایید هلاكت وی در گفتگو با خبر نگاران اعلام كرد كه رهبر سازمان منحله سپاه صحابه كه امروز به عنوان سازمان منحله " ملت اسلامیه " معروف است، از دهكده "دوست محمد ابرو " به شهرستان خود "پیر جو گوته " بر می‌گشت كه در حال حركت مورد حمله افراد ناشناس قرار گرفت و به همراه یكی از دستیاران اصلی خود به هلاكت رسید و شش تن دیگر نیز زخمی شدند.
رئیس پلیس افزود: در نتیجه تیراندازی محافظان وی یكی از حمله كنندگان نیز كشته شد كه تاكنون جسد وی شناخته نشده است.
پلیس در اسرع وقت به محل حادثه رسید و منطقه را در محاصره خود قرار داد و همه كشته ها و مجروحان را به بیمارستان منتقل و تحقیقات را شروع كرد اما تاكنون هیچ كس دستگیر نشده است. یكی از تحلیلگران پاكستانی در گفت‌وگو با خبرنگار فارس تأكید كرد كه امروزه اختلاف میان "محمد احمد لدهیانوی " رئیس سازمان منحله "ملت اسلامیه " و "علی شیرحیدری " به اوج رسیده بود و بسیاری از هوداران سپاه صحابه و ملت اسلامیه می خواستند "علی شیر حیدری " را جایگزین " محمد احمد لدهیانوی " كنند.
+ نوشته شده در Mon 17 Aug 2009ساعت 11 PM توسط mna750 |
رقباي احمدي نژاد،نماينده اشرافيت جامعه ايران بودند ( )
"احمد جاويد" سردبير روزنامه اردو زبان "هندوستان اکسپرس" روز دوشنبه در مصاحبه اختصاصي به خبرنگار ايرنا گفت: رهبراني همچون احمدي نژاد و ياران نزديک وي از طبقه متوسط و حتي عادي مردم و به ويژه از ميان گروه جامعه زحمتکشان و کارگران به حکومت رسيده اند.
وي معتقد است: نسل جديد رهبري ايران، نتيجه مثبت انقلاب اسلامي است که در سال 1979 ميلادي به رهبري امام خميني (ره) صورت گرفت. اين حکومت ثمره آن انقلابي است که يک نظام اسلامي را پايه گذاري و به اجرا در آورد.
اين روزنامه نگار هندي که تحولات سياسي جمهوري اسلامي ايران را از نزديک دنبال مي کند و تاکنون مقاله هاي زيادي در ارتباط با مسائل ايران به چاپ رسانده، در ادامه اين مصاحبه اظهار داشت: انقلاب اسلامي ايران باعث شد که مردم پايين جامعه در بخش فراگيري علم و دانش حضوري موفق داشته باشند و براي مساوات و برابري در جامعه صداي خود رااز طريق راي خود بلند کنند و اين دگرگوني را گروه هاي وابسته به طبقه بالاي جامعه جمهوري اسلامي ايران بر نمي تابند.
جاويد گفت: تقابل سياسي که اکنون در جمهوري اسلامي ايران جريان دارد، مبتني بر انديشه هاي عقلاني نيست بلکه از نوع برخوردهاي ناشي از قدرت طلبي و تسلط است که البته به نظر مي رسد، ريشه هاي اين برخورد و تضاد خيلي عميق است در حالي که اين تقابل ها و تضادها ،عادي به نظر نمي رسد.
اين مقاله نويس هندي افزود: در تاريخ 30 ساله جمهوري اسلامي ايران، احمدي نژاد براي اولين بار براي کشاورزان، صاحبان بنگاه هاي کوچک و نيز معلمان تسهيلات گسترده رفاهي و مالي و بانکي فراهم کرد و با اعطاي وام آسان وبا اقساط بلند مدت و کم بهره ، زمينه تحصيل فرزندان گروه عقب مانده جامعه را مهيا ساخت.
وي اضافه کرد: از سوي ديگر سياست هاي سرسختانه احمدي نژاد در قبال کشورهاي غربي به ويژه آمريکا به زيان سرمايه داران و بازرگانان بزرگ تمام شده و همين امر باعث گرديده که آنان در جبهه مخالفان رئيس جمهوري ايران قرار گيرند.
جاويد در ادامه مصاحبه گفت: احمدي نژاد براي اداره حکومت از نخبگان طبقه متوسط و پايين جامعه استفاده کرد که به رغم اهليت، صلاحيت و قابليت آنان گروه هاي منتسب به طبقه بالاي جامعه به مخالفت پرداختند چرا که آنان در حاشيه قرار گرفتند.
احمد جاويد در ارتباط با دخالت خارجي در امورد داخلي ايران گفت: شکي نيست که نيروهاي خارجي براي دخالت در امور داخلي ايران تلاش مي کنند در حالي که در اين مقطع از زمان نيز موفقيت هاي انقلاب اسلامي ايران ادامه مي يابد.
وي حوادث پس از انتخابات رياست جمهوري ايران را بحران سياسي و گسترده خواند و ابراز اميدواري کرد که اين بحران بزودي حل خواهد شد زيرا قواي سه گانه و ارتش و سپاه جمهوري اسلامي ايران که حاصل پيروزي انقلاب اسلامي است همچون نظام هاي سياسي آمريکا و هند، مستحکم ، نيرومند و ثابت است.
+ نوشته شده در Mon 17 Aug 2009ساعت 11 PM توسط mna750 |
نتایج نظر سنجی از مردم پاکستان در مورد طالبان ( )

به نقل از خبرگزاري داون پاكستان، بر اساس اين نظر سنجي كه توسط مركز تحقيقاتي «پيو» واشنگتن صورت گرفته، تنها پنج درصد از پاسخ دهندگان مسلمان بر اين باور بوده اند كه حملات انتحاري مي تواند در برخي موارد قابل توجيه باشد.
اين در حالي است كه در آخرين نظر سنجي انجام شده در سال 2004 ميلادي، 41 درصد از پاكستاني ها حملات انتحاري را قابل قبول دانستند.
طبق آمارهاي به دست آمده 87 درصد معتقدند اين نوع حملات به هيچ وجه قابل توجيه نيست.
نگراني هاي مردم پاكستان درمورد هندوستان نيز از ديگر سوالات مطرح شده در اين نظرسنجي بوده است. بيش از 88 درصد پاكستاني ها معتقد هستند كه درگيري بر سر مسئله كشمير مهمترين عامل اختلاف بين هند و پاكستان به شمار مي رود. نكته قابل توجه در نتايج به دست آمده از اين تحقيق اين است كه علي رغم اعتقاد مردم بر وجود تهديدات جدي از سوي طالبان (57 درصد) و القاعده (41 درصد)، مردم پاكستان بيشترين تهديد جدي را از سوي هندوستان (69 درصد) قلمداد مي كنند.
در اين راستا همچنين پاكستاني ها بر اين باورند كه آمريكا در مسئله هند و پاكستان با اختلاف 54 درصد به چهاردرصد ، جانب هندوستان را مي گيرد .
تحليل اطلاعات به دست آمده در اين نظرسنجي نوع ديدگاه هاي مردم پاكستان را در مورد القاعده و طالبان نيز بازگو كرده است:
طبق نتايج بدست آمده هر دو گروه ذكر شده در نظر مردم منفور هستند. در ميان ساير گروه هاي فعال و مهم ديگر در جامعه پاكستان، نقطه نظرات منفي درمورد طالبان و القاعده بسيار بيشتر از نظرات مثبت بوده است.
دومين نتيجه به دست آمده نشان داد كه حمايت از هر دو گروه حتي از سوي افرادي كه تنبيهات سخت و شديد تاييد شده توسط طالبان و القاعده را براي مجازات دزدان (قطع دست) يا فحشاگران (سنگسار) و يا اعدام افرادي كه اسلام را انكار مي كنند ؛ موجه مي دانستند، بسيار اندك است.
مقوله ديگري كه در بررسي نتايج ديده شد اين است كه طالبان و القاعده در مناطق مختلف در سطح پاكستان بدنام و منفور هستند. نمونه اي از آن، مناطق مرزي شمالغرب پاكستان است كه نيروهاي دولتي هم اكنون در حال جنگ با گروه هاي افراط گرا هستند.
در ارقام به دست آمده معلوم شده است كه منطقه «سيند» با 82 درصد بيشترين نظر منفي را نسبت به طالبان دارد، اين رقم در منطقه مرزي شمال غرب به 75 درصد و در «پنجاب» به 67 درصد مي رسد. بيش از نيمي از مردم منطقه «بلوچستان» از اظهارنظر درمورد طالبان و القاعده خودداري كردند.
از سوي ديگر نقطه نظرات مردم نسبت به طالبان به طور قابل توجهي با ميزان تهديدي كه مردم باور دارند اين گروه هاي افراط گرا بر كشور وارد مي كند، ارتباط داشته است. تحليل داده ها نشان داد كه مردمي كه فكر مي كردند گروه هاي افراط گرا مي توانند كنترل كشور را به دست گيرند، بيشترين نظرات منفي را نسبت به طالبان ابراز داشته اند.
در پايان اينكه تفكر عمومي پاكستاني ها در قبال مسئله تحصيل دختران و خشونت افراط گرايانه اعضاي طالبان مهمترين عامل وجود تنفر از طالبان به شمار مي رود؛ 87 درصد از مردم پاكستان معتقدند تحصيل بطور مساوي براي دختران و پسران اهميت دارد.


+ نوشته شده در Mon 17 Aug 2009ساعت 11 PM توسط mna750 |
وب سايت شهيد عارف حسيني راه اندازي شد ( )

در كراچي، به مناسبت مراسم بيست و يكمين سالروز شهادت رهبر شيعيان پاكستان وب سايت خصوصي اين شهيد به آدرس "www.arifhusaini.com " در پاكستان راه اندازي شد.
بر اساس اين گزارش، اولين وب سايت درباره زندگاني شهيد عارف حسين الحسيني به زبان اردو امروز در كراچي در جمع عاشقان ولايت و امامت با همت "عاشقان عارف حسين حسيني " گروهي از فارغ التحصيلان سازمان دانشجويان اماميه پاكستان راه اندازي شد و صدها نفر اين سايت را مشاهده و مورد تحسين و آفرين قرار دادند.
اين سايت كه زندگينامه و سيره و فرمايشات علامه عارف حسيني را در معرض ديد مخاطبان قرار داده، يكي از گام‌هاي مهم در جهت حفظ و گسترش افكار و آثار آن عارف خدا به شمار مي رود.
"نقوي " يكي از پيروان شهيد حسيني ضمن اشاره به ابعاد مختلف شخصيت اين شهيد گفت: علامه شهيد عالم با عمل، نماد زهد و تقوي، روحاني مبارز، عاشق ولايت و پيرو خط امام خميني (ره) بود.
وي ضمن قدرداني از زحمات آن شهيد بزرگوار خاطر نشان كرد: رهبر شهيد شيعيان پاكستان پرچمدار اخوت و وحدت اسلامي بود و هميشه از ملت غيور پاكستان سخن مي‌گفت و به تعبير زيباي امام راحل روحاني مبارز و فرزند راستين ايشان بود.
چنانچه امام راحل به مناسبت شهادت شكوهمند آن مرد بزرگ تاريخ تشيع در پاكستان گفت: "درد آشنايان جوامع اسلامي، هم آنان كه با محرومان و پا برهنگان ميثاق خون بسته‌اند بايد توجه كنند كه در آغاز راه مبارزه‌اند و براي شكستنن سدهاي استعمار و استثمار و رسيدن به اسلام ناب محمدي، راه طولاني در پيش دارند و براي مثال علامه عارف حسين حسيني، بشارتي بالاتر از اين نبوده كه از محراب عبادت حق, عروج خونين «ارجعي الي ربك» خويش را نظاره كند و جرعه وصل يار را از شهد شهادت بياشامد و شاهد وصول هزاران تشنه عدالت به سر چشمه نور گردد. "
امام راحل در پيامي فرمودند: اينجانب فرزند عزيزي را از دست داده‌ام، خداوند تعالي به همه ما توفيق تحمل مصائب و توان ادامه راه بر فروغ شهيدان را بيشتر از پيش، كرامت فرمايد و توطئه و مگر ستمگران را به خودشان برگرداند و ملت پر كرامت اسلام را در مسير جهاد و شهادت ، ثابت قدم نگهدارد.
در حاشيه افتتاح اين سايت، قرآن خواني و مجلس عزاي سيدالشهداء عليه السلام نيز برپا شد و حضار با شعارهاي گوناگون با روح شهيد حسيني تجديد بيعت كردند كه راهش را در هر حال ادامه خواهند داد.


+ نوشته شده در Thu 6 Aug 2009ساعت 11 AM توسط mna750 |
بلتستان نیوز: ماهیت دکتر گریک و فعالیتهای وی در بلتستان ( )

در بلتستان مؤسسه  "آسیای مرکزی" Central Asia ، با پشتیبانی آمریکا و اسرائیل توسط شخصی بنام « غلام محمد پاروی» فعالیت‏های فرهنگی، آموزشی می‏کند و در زمینه ایجاد تاسیسات و مدارس غیر انتفاعی فعال شده است. البته رابط اصلی بین آمریکا و غلام محمد پاروی (در شمال پاکستان) آقای دکتر گریک می‏باشد.
مادر دکتر گریک متولد آلمان و پدرش آمریکائی است و نیمی از زندگی‏اش را در اسرائیل گذرانده است. ورود دکتر گریک در ابتداء با استقبال سرد مردم شمال پاکستان مواجه شد؛ ولی آقای غلام محمد پاروی که دارای افکاری شیطانی است، زمینه‏هایی را برای فعالیت دکتر گریک فراهم ساخت.  علماء هم با ورود وی به مخالفت برخاستند ولی آقای پاروی بعلت ذهنیت یهودی که داشت، سیاستمدار و عالم معروف «سید عباس موسوی» را با هدیه بزرگ قانع ساخت و ایشان طی فتوایی فعالیت دکتر گریک را بدلیل وجود فقر در منطقه، جائز دانستند.
بعد از این ماجرا، دکتر گریک به منطقه شِگَر رفت تا فعالیتش را در آنجا آغاز کند، اما با مخالفت مردم روبرو شد. شخصی بنام اپو علی ایشان را به منزل راه داد و از ایشان پذیرایی گرمی بعمل آورد. وی به آقای دکتر گریک ۳ استکان چایی داد و بعد از آن دکتر گریک موفق به شروع فعالیت‏هایش شد. دکتر گریک پرسید فلسفه خوردن ۳ استکان چای چیست؟ اپو علی گفت: در فرهنگ ما اگر کسی یک استکان چای بدهد شما فکر کن که با هم دوست شده اید و اگر بار دیگر چای داد فکر کن که از افراد خانواده اش شده اید و بار سوم اگر این عمل تکرار شد فکر کن که با هم هم‏راز شده‏اید!
وی تا بحال در منطقه شگر ۳۵ مدرسه غیر انتفاعی احداث کرده. همچنین در شهر اسکردو هم آپارتمان سه طبقه‏ای برای دانشجویان ساخته شده که بعدا پنج طبقه خواهد شد.
دکتر گریک کتابی نوشته بنام "سه استکان چای" three cups of tea، که در حدود ۳۵۰.۰۰۰ نسخه آن را به فروش رسانده است. در آمریکا و انگلیس و بعبارتی در کشور‏های غربی مورد استقبال فراوانی قرار گرفته است و باید دانشجویان دانشگاه‏های غربی آن را بخوانند و امتحان بدهند.
ایشان چند روز پیش خواهان ترجمه فارسی این کتاب شده و هزینه ترجمه آن را تقبل کرده است.
خبری نیز در دست است مبنی بر این که، آقای غلام محمد پاروی یک مؤسسه بنامNGO ، تأسیس کرده و این مؤسسه با پشتیبانی مالی کشور آلمان فعالیت خواهد کرد.


+ نوشته شده در Mon 20 Jul 2009ساعت 7 PM توسط mna750 |
آصف زرداري پاکستان کے صدر نے ايراني صدر کو مبارک باد پيش کي ہے ( )
پاکستان کےصدر آصف زرداري نے ايراني صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد کو ايران کا دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پيش کي ہے پاکستان کے صدر آصف زرداري نے ايراني صدر احمدي نژاد کو ٹيلي فون کيا اور انہيں دوسري مرتبہ ايران کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دي صدر زرداري نے اميد ظاہر کي کہ صدر احمدي نژاد کے دور صدارت ميں پاکستان اور ايران کے تعلقات مزيد مضبوط و مستحکم ہوں گے دونوں راہنماوں نے دوطرفہ تعلقات ، علاقائي اور بين الاقوامي امور پر بھي تبادلہ خيال کيا
+ نوشته شده در Wed 8 Jul 2009ساعت 8 PM توسط mna750 |
انديشمند پاكستاني: موسوي در دام غرب ( )

"ظفر بنگاش " اندیشمند پاکستانی در تحلیلی از انتخابات ایران، این انتخابات و جنجال پس از آن را فرصتی برای غربی‌ها دانست که علیه ایران جنجال بر پا کنند.
بنگاش نوشت: انتخابات ریاست‌جمهوری ایران که در 12 ژوئن [22 خرداد] برگزار شد و در آن محمود احمدی‌نژاد، با اختلافی بسیار از رقیب خود، "میر حسین موسوی "، پیشی گرفت
فرصتی برای اسلام‌ستیزان غربی فراهم ساخته است تا بار دیگر تیرهای زهرآلود حقد و کینه خود را علیه اسلام پرتاب کنند.
ظفر بنگاش افزود: رسانه‌ها و بوق‌های تبلیغاتی کشورهای غربی حتی پیش از آغاز رای‌گیری، در همه جا میرحسین موسوی را برنده این انتخابات اعلام کرده بودند ولی وقتی نتیجه انتخابات مطابق تصورات آنها نشد و آروزهایشان را محقق نکرد، بلافاصله به پخش شایعه "تقلب " اقدام کردند.
شواهد نشان می‌دهد که حتی میرحسین موسوی نیز در دام این تبلیغات دروغین و جنجالی غرب افتاد و به محض پایان ساعت اخذ رای، در یک کنفرانس مطبوعاتی، پیروزی خود را اعلام کرد. ولی وقتی هنوز هیچ رایی شمارش نشده است، او چگونه می‌تواند ادعای پیروزی کند؟
بنگاش نوشت: با شمارش آراء نخستین صندوق‌ها، همین که معلوم شد احمدی‌نژاد با اختلاف بسیار بالا از رقیبش جلو افتاده است، رسانه‌های غربی به سردمداری "بی.بی.سی. " القای تردید در سلامت و صحت انتخابات را آغاز کردند و رسانه‌های دیگر نیز همین خط را در پیش گرفتند.
چیزی نگذشت که سیل اتهامات در خصوص پیشتازی احمدی‌نژاد، در حجمی انبوه و به‌شکلی گسترده به سمت انتخابات ایران روانه شد. اما دامن‌زدن به این اتهامات همگی ناشی از تصورات جانب‌دارانه رسانه‌های غربی درباره پیروزی موسوی بوده است.
بنگاش ادامه داد که یکی از علل محاسبات غلط خبرنگاران غربی در تحلیل درست از روحیات مردم ایران ناشی از این است که آنان در هتل‌های پنج‌ستاره شمال شهر تهران، مانند استقلال، آزادی و ... مستقر می‌شوند.
وی افزود:
شاید جسم این قشر از جامعه ایرانی در منازل گران‌قیمت مناطق مرفه تهران باشد، ولی روح و ذهن‌شان در اروپا و آمریکای شمالی سیر می‌کند، یعنی همان کشورهایی که دائماً به آن‌ها سفر می‌کنند.
بنا بر این گزارش، خبرنگاران غربی از قبل به نحوی تربیت شده‌اند که به جمهوری اسلامی ایران دارای نوعی نگاه بغض‌آلود و بدبینانه هستند،
و تنها با یک بهانه ساده درباره قضایای ایران قضاوت می‌کنند و ساکنان مناطق مرفه تهران نیز با ارائه دیدگاه‌های غرض‌ورزانه خود به این خبرنگاران، در واقع خوراک رسانه‌های غربی را فراهم می‌کنند. آن وقت می‌بینیم که تصاویر کلیشه‌ای سیاهی از دریچه دوربین‌های آن‌ها به دنیا مخابره می‌شود.
بنگاش نوشت: شاید ذکر چند نمونه به روشن‌شدن مسئله کمک کند؛ چند هفته پیش از انتخابات ایران، رسانه‌های غربی به‌ شکلی هماهنگ چنین تحلیل می‌کردند که مردم ایران انتخابات را تحریم خواهند کرد زیرا به نظام کنونی ایران "اعتقاد " ندارند. ولی پس از آنکه مناظرات کاندیداها به گسترش شور و هیجان در میان مردم ایران منجر شد، آنها با ساز خود نوای دیگری نواختند و این بار دوربین‌های خود را روی پوشش جمعیت عظیمی که میرحسین موسوی به خود جلب کرد، زوم کردند و تعمداً از نشان دادن موج عظیم‌تری از مردم که به طرفداری از احمدی‌نژاد به‌راه می‌افتاد، خودداری کردند.
در خروجی‌های رسانه‌های غربی، از واژه "جمعیت اجاره‌ای " برای اشاره به طرفداران احمدی‌نژاد استفاده می‌کردند. عموم مردم غرب به هیچ‌وجه با این تفاوت‌ها آشنایی ندارند، ضمن آن‌که اصولاً علاقه چندانی به مسائل ایران از خود نشان نمی‌دهند. اطلاعات آنها درباره ایران صرفاً از طریق "چرندیاتی " است که رسانه‌ها به خوردشان می‌دهند و آن هم در یکی دو مورد خلاصه می‌شود که: ایران در حال ساخت بمب اتمی است و احمدی‌نژاد خواستار محو اسرائیل است.
وی نوشت: این پیش‌داوری‌ها در کنار حرف و حدیث‌های ایرانیانی که به آمریکا مهاجرت کرده و در کشورهای غربی ساکن شده‌اند و البته با جمهوری اسلامی ایران بشدت مخالفند، تشدید می‌شود.
رسانه‌های غربی با پیروی از همین خط شروع به گمانه‌زنی درباره پیروزی میرحسین موسوی کردند. علاوه بر این، نفرت آنها از احمدی‌نژاد -رئیس‌جمهور جسوری که با پاسخ‌‌های استادانه خود در مصاحبه‌های رسانه‌های غربی با وی در تنگنا قرار می‌گرفتند- مانع از دیدن این حقیقت می‌شد که احمدی‌نژاد از حمایت گسترده توده‌های مردم ایران برخوردار است.
سادگی و تواضع احمدی‌نژاد باعث شده است تا نه تنها ایرانیان، بلکه مسلمانان جهان به او احترام بگذارند. هر چه رسانه‌های غربی وی را دست می‌انداختند، محبوبیت او در میان مردم عادی ایران افزون‌تر می‌شد. ولی این محبوبیت صرفاً ناشی از هیجانات احساسی نبود. احمدی‌نژاد به شعارهای انتخاباتی خود در سال 2005 عمل کرد و با دیدار از مناطق روستایی و محروم که اکثریت جمعیت ایران را تشکیل می‌دهد، مسیر مصرف درآمدهای ایران را به نفع آن مناطق تغییر داد.
مردم این مناطق همان کسانی بودند که رهبران دوران سازندگی، اصلاحات و سایر شخصیت‌های غرب‌گرا از آن‌ها غفلت کرده بودند. اما خبرنگاران غربی در دام طفیلی‌های قشر طاغوتی در تهران افتادند. به‌رغم این واقعیت که مردم ایران از میرحسین موسوی به‌ دلیل رفتار و سلوک متواضعانه و همچنین توانمندی‌هایش در اداره اقتصاد در سال‌های جنگ تحمیلیِ عراق ضد ایران، خاطرات خوبی دارند، متاسفانه به نظر می‌آید که آن انگل‌ها حتی در تیم ستاد تبلیغاتی میرحسین موسوی نیز نفوذ کرده‌اند.
در این‌جا باید یادآوری کنیم که موسوی هرگز به هیچ مقام دولتی انتخاب نشده است؛ وی در زمان حیات حضرت امام‌ خمینی به امر ایشان به مقام نخست‌وزیری منصوب شد و تنها رئیس‌جمهور بود که با انتخابات به این مقام و جایگاه دست می‌یافت.
در سال 1989، در اصلاحیه‌ای که در قانون اساسی انجام شد، پست نخست‌وزیری حذف و کلیه اختیارات اجرایی به رئیس‌ جمهوری تفویض گردید.
برخی طرفداران موسوی به پیروزی احمدی‌نژاد با چنین اختلاف بالایی با شک می‌نگرند. آن‌ها فکر می‌کردند انتخابات به دور دوم برسد، زیرا هیچ‌یک از نامزدها نمی‌توانستند نصاب 50 به‌اضافه یک درصد آراء را که در قانون اساسی پیش‌بینی شده است کسب کنند. این تصور نیز بر اساس احساساتِ ناشی از مشاهده جمعیت کثیر هواداران موسوی در اذهان آنها شکل گرفته است. احمدی‌نژاد، دو روز پیش از انتخابات، از بیم اینکه مبادا جمعیت حاضر در محل برگزاری برنامه تبلیغاتی او در زیر دست و پا له شوند حضور خود در یکی از اجتماعات طرفدارانش در تهران را لغو کرد.
این خبر بر هیچ‌یک از خروجی‌های رسانه‌های خارجی قرار نگرفت و آنان اجتماع عظیم مردمی را که در روز 14 ژوئن به مناسبت پیروزی احمدی‌نژاد صورت گرفت نیز گزارش نکردند. در عوض، روی راهپیمایی طرفداران موسوی در روز 15 ژوئن که به‌ دلیل پخش شایعاتی مبنی بر بازداشت او به‌راه افتاده بود، متمرکز شدند.
البته وقتی کذب بودن این خبر ثابت شد، آنها ترفندی دیگر به‌ کار بستند و مدعی شدند که مقامات ایران هر گونه راهپیمایی را ممنوع اعلام کرده‌اند. آنگاه که کذب ‌بودن این ادعا نیز روشن شد، تاکتیک خود را عوض کردند و گفتند که هواداران موسوی ممنوعیت راهپیمایی را نادیده گرفته‌اند و دولت را وادار به "عقب‌نشینی " کرده‌اند.
با وجودی که مردم به آتش‌زدنِ اتوبوس‌ها و شکستن شیشه‌ها اقدام کردند و به اموال [عمومی] خسارت زدند، ولی مسئولان هیچ اقدامی در ممانعت از انجام راهپیمایی نکردند.
در پایان راهپیمایی، عده‌ای به مراکز بسیج حمله‌ور شدند و درست در همین التهابات بود که هفت نفر بر اثر تیراندازی کشته شدند. با تاریک ‌شدن هوا، آرامش به شهر بازگشت، ولی هر دو رقیب از طرفدارانشان خواستند روز 16 ژوئن در میدان ولی‌عصر تهران اجتماع کنند که حامیان احمدی‌نژاد کمی زودتر حاضر شدند و کنترل اوضاع را به ‌دست گرفتند.
شورای نگهبان نیز در همان روز اعلام کرد آراء صندوق‌هایی که به ادعای اوپوزیسیون [میر حسین موسوی]، در آن‌ها تقلب صورت گرفته است، بازشماری می‌کند. حامیان موسوی این امر را رد کرده و خواستار ابطال نتایج انتخابات 12 ژوئن و برگزاری دوباره انتخابات ریاست‌جمهوری شدند.
در میان قیل و قال‌هایی که بحث تقلب در انتخابات را در دهان‌ها انداخته است، باید به چند واقعیت اساسی بدقت توجه کرد. شاید احمدی‌نژاد به دلیل صراحت لهجه در بیان دیدگاه‌هایش در غرب محبوبیتی نداشته باشد، ولی در ایران از او حمایت گسترده‌ای می‌شود. حامیان او روستائیان و اقشار ضعیف و کم‌ درآمد شهرها و مذهبی‌ها هستند که قشری عظیم از جمعیت ایران هستند.
طبقه متوسطِ تحصیل‌کرده درواقع اقلیتی هستند که اکثراً در مناطق مرفه‌نشین تهران زندگی می‌کنند. فرزندان آنها به دانشگاه می‌روند، سوار اتوموبیل‌های گران‌قیمت می‌شوند و پاتوق‌های‌شان هتل‌های پنج‌ستاره است.
وی نوشت: اغلب همین تیپ آدم‌ها هستند که گرد موسوی را گرفتند. البته منصفانه نیست که بگوییم موسوی شخصاً آشوب‌گران را به ایجاد خشونت ترغیب کرده باشد، ولی شکی نیست که در حلقه اطرافیان او عوامل فتنه‌گری هستند که به آشوب‌ها دامن می‌زنند.

حامیان احمدی‌نژاد عموماً طبقات فقیر جامعه هستند. اکثر آنها زبان انگلیسی نمی‌دانند و شاید همین نیز باعث شده تا نتوانند احساسات و دیدگاه‌های‌شان را به خبرنگاران غربی منتقل کنند. هرچند آن خبرنگاران نیز برای مصاحبه‌های خود به‌سراغ این چنین مردمی نمی‌روند.
این مردم قاطعانه پشت سر انقلاب ایستاده‌اند و می‌دانند که منافعشان در کجاست. بیشترین فداکاری‌ها در جنگ هشت‌ ساله عراق علیه ایران را همین اقشار از ایرانیان به‌ منصه ظهور گذاشتند و از انقلاب دفاع کردند.
سخن ما نظریه‌پردازی و حدس و گمان واهی نیست. برای حرف خود دلیل مستند داریم. "کن بالن " (Ken Ballen) و "پاتریک دوهرتی " (Patrick Doherty) سه هفته پیش از انتخابات، یک افکارسنجی از مردم ایران به عمل آوردند که طبق آن ثابت شده بود مردم ایران به نسبتِ دو به یک به احمدی‌نژاد رای می‌دهند.
آنان نتایج تحقیقات خود را در مقاله مشترکی تدوین کردند و در شماره 15 ژوئن 2009 روزنامه واشنگتن‌پست به چاپ رساندند. در بخشی از مقاله آنان آمده است: "در حالی‌که گزارش‌های خبریِ رسانه‌های غربی از تهران در روزهای منتهی به رای‌گیری، تلاش کرده‌اند تا عموم مردم ایران را مشتاق انتخاب رقیب اصلی احمدی‌نژاد، یعنی میرحسین موسوی، نشان دهند، اما نمونه‌گیری علمی ما از تمام سی استان ایران نشان داد که احمدی‌نژاد پیشتاز است. "
دو سازمان غیر انتفاعی آمریکایی به نام‌های "آینده بدون ترور؛ مرکز افکار عمومی " و "برنامه راه‌برد آمریکایی در بنیاد آمریکا " از یازدهم تا بیستم ماه می، این نظرسنجی را انجام دادند که سومین مورد در نوع خود ظرف دو سال گدشته محسوب می‌شود. این نظرسنجی تلفنی از یکی از کشورهای همسایه ایران (احتمالاً از دبی) انجام شد و قسمت مربوط به تحقیقات میدانی نیز به زبان فارسی توسط یک شرکت افکارسنجی اجرا شد.
این شرکت به‌ دلیل همکاری با شبکه‌های ABC و BBC به دریافت جایزه EMMY موفق شده است. منابع مالی این نظرسنجی را صندوق برادران "راکفلر " تامین کرده است که به هیچ وجه ارتباطی با دولت ایران و احمدی‌نژاد ندارد.
در گزارش‌ها و تحلیل‌های اخیر رسانه‌ها، به این گمان بسیار دامن زده شد که همه جوانان ایرانی با حکومت اسلامی ایران مخالف هستند. ولی نتیجه پژوهشی که این موسسه آمریکایی انجام داد عکس قضیه را ثابت می‌کند. این تصور و تلقی غلط ناشی از این است که خبرنگاران غربی فقط با جوانان ساکن در مناطق شمالی شهر تهران و بخشی از اقشار تحصیل‌کرده صحبت می‌کنند. در حالی‌که این جوانان نازپرورده و ثروتمند، نماینده کل ملت ایران نیستند.
برخلاف گزارش‌های رسانه‌ها، اینترنت نیز منادی و یا مسبب تغییر نیست. تحقیقات "کن بالن " و "پاتریک دوهرتی " نشان داده است که "تنها یک‌سوم ایرانیان به اینترنت دسترسی دارند، در حالی‌که از میان گروه‌های سنی مختلفی که به احمدی‌نژاد رای داده‌اند، جوانان هجده تا بیست وچهار ساله بزرگ‌ترین بخش را تشکیل می‌دهند. "
از نتایج این نظرسنجی چیزهای شگفت‌انگیزتری نیز کشف شده است. برخی از گزارش‌ها درباره احراز رای بالای احمدی‌نژاد در مناطق آذری‌زبان تشکیک کرده‌اند. جواب نظرسنجی کن بالن و پارتیک دوهرتی چنین است: "گستره حامیان احمدی‌نژاد در تحقیقات ما پیش از انتخابات معلوم بود. مثلاً در مدت تبلیغات انتخاباتی، موسوی بر هویت آذری خود بسیار تاکید می‌کرد تا رای آن‌ها را به سوی خود جلب کند، زیرا آذری‌زبان‌ها دومین جمعیت قومی را بعد از فارس‌ها در ایران تشکیل می‌دهند. اما تحقیقات ما نشان می‌داد که محبوبیت احمدی‌نژاد در میان آذری‌ها در مقایسه با موسوی به نسبتِ دو به یک است. "
فهمیدن علت این امر دشوار نیست. احمدی‌نژاد برخلاف روش گذشتگان، به میان ضعفا و محرومین رفته است. آنان نیز با رای خود قاطعانه از او حمایت کردند. این تحقیق، نظریه ما را نیز که می‌گفتیم حامیان موسوی عمدتاً اقشار دانشگاهی و ایرانیان ثروتمند هستند، تایید کرد. این افراد دارای روابط خاصی هستند و می‌توانند دیدگاه‌‌های خود را به خبرنگاران غربی منتقل کنند و تصویری که آنان از ایران ساخته‌اند از دریچه دوربین‌های رسانه‌های غربی به دنیا نمایانده می‌شود.
نکته آخری که باید روشن شود این است که بعضی‌ها می‌گویند که ایرانیان دو هفته مانده به انتخابات، درباره فرد دلخواه خود تصمیم می‌گیرند. شاید این امر درباره خواص شهرنشین صادق باشد، اما جمعیت روستایی بخوبی حامی و دوست خود را می‌شناسد.
از آن گذشته ممکن است آراء مردم به هر طرفی متمایل شود، چه بسا به ضرر احمدی‌نژاد و به هیچ وجه نمی‌توان پیش‌بینی کرد که همه رای‌ها به نفع موسوی به صندوق‌ها انداخته شده باشد.
بالن و دوهرتی گزارش داده‌اند که در حین اجرای نظرسنجی تقریباً یک‌سوم ایرانیان هنوز درباره رای‌گیری به تصمیم قاطعی نرسیده بودند. ولی نظرسنجی ما نشان داد که گزارش مقامات ایرانی درباره نتایج رای‌گیری صحیح است، یعنی احتمال تقلب گسترده در انتخابات وجود نداشته است.
در اینجا باید مقایسه سریعی بین وقایع انتخابات لبنان در هفتم ژوئن 2009 کنیم. هزاران تن از لبنانی‌ها با هزینه عربستان از کشورهای خارجی به لبنان آورده شدند تا به سود گروه 14 مارس به رهبری "سعد الحریری " [برخوردار از حمایت آمریکا و غرب] رای دهند. سعودی‌ها حتی به هر یک از لبنانی‌ها 500 دلار پول تو جیبی دادند. به‌رغم این تقلب بزرگ، گروه سعد الحریری تنها به احراز 68 کرسی پارلمان لبنان موفق شد (که دو کرسی از دوره قبلی کم‌تر است)، در حالی‌که ائتلاف گروه‌های حزب‌الله موفق به کسب 58 کرسی مجلس شد (که فقط یک کرسی کم‌تر از دوره قبل است).
سه نامزد نیز مستقل شرکت کرده بودند. با وجود این، "سید حسن نصرالله " دبیرکل حزب‌الله به‌هیچ‌وجه درخصوص تقلب در انتخابات لب به شکایت نگشود و از حامیانش خواست نتیجه را پذیرفته و به زندگی خود ادامه دهند.
هیچ‌یک از رسانه‌های غربی به تقلب در انتخابات لبنان اشاره نکردند و فقط به ذکر این مطلب بسنده کردند که حزب‌الله شکست خورد.


+ نوشته شده در Wed 1 Jul 2009ساعت 0 AM توسط mna750 |
بلتستان نیوز:ٹیم کی طرح قوم بھی متحد ہوجائے ، شاہد آفریدی ( )
ورلڈ ٹونٹی 20 کپ کے ہیرو شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ٹی ٹونٹی کپ میں فتح موجودہ حالات میں قوم کے لئے مسکراہٹوں کا تحفہ ہے۔ قومی ہیروز کا لندن سے کراچی پہنچنے پر پرجوش استقبال کیا گیا۔وزیراعظم پاکستانی فاتح ٹیم کو آج عشائیہ دیں گے۔ لندن سے کراچی پہنچنے پر اپنی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جس طرح ٹیم متحد ہوکر کھیلی پاکستانی قوم کو بھی اس طرح متحد ہونا چاہئے۔ ورلڈ کپ سوات کے لوگوں کے نام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی عمدہ کارگردگی میں کپتان یونس خان کے اعتماد نے اہم کردار ادا کیا۔ یونس خان کو ابھی ٹونٹی 20 کرکٹ سے ریٹائرڈ نہیں ہونا چاہئے۔ ٹی ٹونٹی کے کپتان کا فیصلہ بورڈ کرے گا۔ اس سے قبل قومی ہیروز شاہد آفریدی ،شعیب ملک اور فواد عالم کا لندن سے وطن واپس پہنچنے پر کراچی ایئر پورٹ پر عوام کی بڑی تعداد نے پرتپاک استقبال کیا۔ کراچی ایئر پورٹ پر شائقین نے شاہد آفریدی بوم بوم کے نعرے لگائے اور جیسے ہی وہ طیارے سے ایئرپورٹ لاﺅنج پہنچے سیکڑوں کی تعداد میں موجود شائقین نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور پاکستان زندہ باد شاہد آفریدی زندہ باد کے نعرے لگائے۔


+ نوشته شده در Wed 24 Jun 2009ساعت 11 PM توسط mna750 |
پاکستان کرکٹ ٹیم ٹونٹی 20 ورلڈ کپ میں کامیابی ( )
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ میں ریٹائرمنٹ سے قبل قوم کو ٹونٹی 20 ورلڈ کپ میں کامیابی کا تحفہ دے کر جارہا ہوں۔ کامیابی ٹیم کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ٹیم کی کامیابی کو آنجہانی کوچ باب وولمر کے نام کرتا ہوں' کپتان کو کامیابی کے لئے دلیرانہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں' یہ کامیابی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مستقبل کیلئے بھی انتہائی شاندار ثابت ہوگی۔ اتوار کو سری لنکا کو فائنل میچ میں شکست دینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل مجھے یقین تھا کہ اگر ہم چند ایک کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ میں شاہد آفریدی' سعید اجمل ' عمر گل اور مصباح الحق نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آخری میچز میں عبدالرزاق اور شاہ زیب کی شمولیت سے ٹیم مزید مضبوط ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پورے ٹورنامنٹ میں ہی دبائو تھا اور خاص طور پر فائنل میں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم بہت اچھی ٹیم ہے لیکن ہمارے بائولرز نے جیسے ہی ابتدائی وکٹیں حاصل کیں سری لنکا کو ایک سو سے زیادہ رنز نہیں کرنا چاہیے تھے۔ لیکن 150 رنز تک بھی باآسانی حاصل کر لیتے۔ اس سے قبل شاہد آفریدی نے کہا کہ میرے لئے یہ ایک بہترین ٹورنامنٹ تھا۔ سیمی فائنل اور فائنل میچ میں اپنی ٹیم کیلئے نمایاں کارکردگی پر خوشی ہوئی۔ یونس خان نے اعتماد دیا اور اوپر بیٹنگ کے لئے بلا کر رنز کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بائولنگ کوچ عاقب جاوید کی ٹپس سے بائولنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سری لنکا کے کپتان کمارا سنگاکارا نے کہا کہ ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم فائنل میں بدقسمت رہے۔ وکٹیں جلد گرنے کے باوجود بہتر سکور بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم یہ ہدف سے 20 سے 25 رنز کم تھا' بائولرز کی کارکردگی بہتر تھی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی قومی زبان میں اپنے ہم وطنوں سے کہا کہ وہ ضرور عالمی کپ کو سری لنکا لائیں گے اور انہیں مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے کہاکہ ٹونٹی 20 ورلڈ کپ ہماری طرف سے قوم کو سب سے بڑا تحفہ ہے اور یہ انکی کرکٹ کیریئرکی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ قوم کی دعائیں اور کھلاڑیوں کی محنت کامیابی کی وجہ بن گئی انہوں نے کہاکہ شاہد آفریدی میچ ونر کھلاڑی ہیں اور انہیں ہمیشہ ٹاپ آرڈر پر کھلانا چاہتا ہوں انہوں نے کہاکہ قوم کو ورلڈ کپ تحفے میں دینا چاہتے تھے اور اس میں کامیاب ہونے پر بے حد خوشی ہے فائنل میں اچھے فیصلوں کے بارے میں انہوں نے کہاکہ انسان بعض اوقات غلط فیصلے بھی کرتا ہے لیکن کرکٹ میں بعض اوقات جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوتے ہیں آج کے فیصلے درست ثابت ہوئے۔ انہوں نے آنجہانی باب وولمر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی اور وہ انہیں کپتان دیکھنا چاہتے تھے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل رائونڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ یونس خان سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں فائنل میں ون یا ٹو ڈائون کھلائے ورلڈ کپ کے فائنل میں کامیابی کے بعد افتتاحی تقریب میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ورلڈ کپ جیتنے کا کریڈٹ کپتان یونس خان کو جا تا ہے جنہوں نے نہ صرف کھلاڑیوں کو حوصلہ دیا بلکہ مثبت کردار ادا کیا انہوں نے کہاکہ تمام کھلاڑیوں نے کھیل میں اہم کردار ادا کیا شاہد آفریدی نے کہاکہ جیت کے قریب پہنچنے کیلئے سنبھل کر کھیلنا ضروری تھا اس لئے انہوں نے شعیب ملک کا بھرپور ساتھدیا اور فاضل جیت گئے
+ نوشته شده در Wed 24 Jun 2009ساعت 11 PM توسط mna750 |
بلتستان نیوز: پرويز مشرف قصد بازگشت به سياست را ندارد ( )
خبرگزاري "ريانوواستي "، "پرويز مشرف "، رئيس جمهور سابق پاكستان، كه طي يك سفر شخصي در مسكو به سر مي برد، امروز چهارشنبه اعلام كرد فعلا قصد بازگشت به سياست را ندارد.
مشرف در پاسخ به سوال خبرنگاران گفت: من چنين برنامه اي ندارم.
مشرف در سال 1999 و در نتيجه يك كودتاي نظامي بر سر كار آمد. وي با بركنار كردن "نواز شريف "، نخست وزير منتخب، بالاترين مقام اجرايي كشور پاكستان را در دست گرفت و اندكي پس از آن با برگزاري يك همه پرسي خود را رئيس جمهور كشور اعلام كرد. مدت حكومت وي 9 سال به طول انجاميد و 18 آگوست سال گذشته به دليل فشارها و تهديدهاي جناح هاي مخالف خود در پارلمان مبني بر استيضاح و بركناري وي، در نطقي تلويزيوني استعفاي خود را اعلام كرد.
بر اساس اظهارات رئيس جمهور سابق پاكستان، در حال حاضر وي نه يك شخصيت نظامي است و نه سياسي، بلكه يك شهروند عادي پاكستاني است.
پرويز مشرف افزود: اكنون من به عنوان يك استاد به كشورهاي مختلف سفر كرده و سخنراني مي كنم و دنيا را تماشا مي كنم.
علاوه بر اين مشرف اين امر را خارج از امكان ندانست كه پس از مدت زمان معيني طرح ها و برنامه هاي وي تغيير كند. وي اظهار داشت گذر زمان همه چيز را مشخص خواهد كرد.

+ نوشته شده در Thu 28 May 2009ساعت 11 AM توسط mna750 |
بلتستان نیونز: عضو فعال سپاه صحابه در پاكستان به هلاكت رسيد ( )
در كراچي، "امان الله " عضو فعال سپاه صحابه توسط افراد ناشناس در منطقه "گلشن اقبال " كراچي كشته شد.
همچنين "سفيان " فرزند وي نيز در اين حمله شديداً زخمي شد كه مقامات بيمارستاني حال وي را وخيم اعلام كرده‌اند.
بر اساس اين گزارش، "امان الله " همراه با سه پسر خود در حال بازگشت به منزل خود بود كه در منطقه "گلشن اقبال كراچي " مورد حمله افراد ناشناس قرار گرفت.
اين افراد از قبل در مسير بازگشت وي به خانه در كمين بودند كه به محض ديدن وي شروع به تيراندازي كردند. ۶/۳/۱۳۸۸

+ نوشته شده در Thu 28 May 2009ساعت 11 AM توسط mna750 |
بلتستان نیوز: ایک سال میں ایک سو دہشت گردی کی نذر ( )

لاہور میں سنہ دو ہزار آٹھ سے اب تک ہلکے اور بھاری نوعیت کے کئی بم دھماکے اور خودکش حملے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ پاکستان میں لاہور واحد شہر ہے جہاں ممبئی طرز کے حملے بھی کیے جا چکے ہیں ۔مجموعی طور پر ان حملوں میں ایک سو گیارہ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکسٹھ سکیورٹی اہلکار شامل ہیں ۔

دو ہزار آٹھ

دس جنوری

اس دن لاہور ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکہ ہوا۔ اس میں تئیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بیس پولیس اہلکار، دو شہری اور خودکش حملہ آور شامل تھے۔

چار مارچ

لاہور کی مصروف شاہراہ اپر مال پر واقع پاک بحریہ کے ایک نیول وار کالج میں خود کش دھماکے میں ایک حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق دھماکے میں نیوی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

گیارہ مارچ

لاہور میں مال روڈ کے نزدیک واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ہونے والے دو خودکش بم دھماکوں مجموعی طور پر ستائیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایف آئی اے کے بارہ اہلکار بھی شامل تھے۔ حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیاں استعمال کی گئی تھیں۔

تیرہ اگست

خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے ایک سب انسپیکٹر اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ بم دھماکہ ملک کی آزادی کے جشن شروع ہونے سے تھوڑی دیر قبل علامہ اقبال ٹاؤن کے دبئی چؤک پر شب گیارہ بجے کے قریب کیا گیا ۔

سات اکتوبر

لاہور کے گنجان علاقے گڑھی شاہو چوک میں یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق یہ کم شدت کے بم تھے اور ان کا مقصد خوف وہراس پھیلانا تھا۔

بائیس نومبر

قذافی سٹیڈیم کے قریب واقع ایک ثقافتی مرکز میں اور اس کے پاس یک بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے ۔ دھماکوں میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق کم شدت کے ان دھماکوں کا بظاہر مقصد خوف وہراس پھیلانا تھا۔

چوبیس دسمبر

سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی او آر II میں ایک گاڑی میں زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں ایک خاتون ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے۔

دو ہزار نو

نو جنوری

دو مختلف تھیئٹروں کے قریب دوگھنٹوں میں پانچ کم شدت کے دھماکے ہوئے ہیں جس میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

تین مارچ

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر تقریباً ایک درجن حملہ آوروں کی فائرنگ سے سری لنکا کے آٹھ کھلاڑی زخمی اور پنجاب پولیس کے پانچ اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ۔ اس کے علاوہ دو نامعلوم افراد بھی مارے گئے ہیں۔

تیس مارچ

لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں واقع پولیس کے تربیتی مرکز پر صبح سات بجے کے قریب متعدد مسلح افراد نے حملہ کیا ۔کمانڈوز نے ساڑھے آٹھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد پولیس کے تربیتی سینٹر کی عمارت پر قبضہ کر لیا ۔ اس آپریشن میں آٹھ پولیس اہلکار اور چار دہشت گرد ہلاک جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

ستائیس مئی

لاہور میں سٹی پولیس آفیسر اور ریسکیو 15 کے دفاتر کے باہر خودکش حملے میں تئیس افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے وہاں لگائے بیریئر کے قریب آ کر پہلے فائرنگ کی اور اس کے بعد چھوٹا دھماکہ کیا۔ جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آوروں نے بیریئر پار کرنے کے بعد بڑا دھماکہ کیا۔


+ نوشته شده در Thu 28 May 2009ساعت 11 AM توسط mna750 |
بلتستان گلگت میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی سیٹ اپ ناگزیر ہے ( )

دہشت گردوں کے نیٹ ورک کوتوڑنے اورعلاقے میں پر امن فضا قائم کرنے کے لیے گلگت بلتستان میں مکمل صوبائی سیاسی سیٹ اپ انتہائی ناگزیر ہے ان خیالات کااظہاررکن ڈسٹرکٹ کونسل گلگت ممتاز قانون دان امبر حسین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کیاانہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر نہ توکوئی مسئلہ حل ہوا ہے اور نہ ہی حل ہوگا امبر حسین ایڈووکیٹ نے کہاکہ 1988ءسے1993ءتک گلگت بلتستان میں فرقہ واریت پروان چڑھی جس کے باعث سینکڑوں جانیں ضائع ہوگئیں لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے پہلی بار جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور لوگوں کو مذہبی جنون سے نکال کر سیاسی جماعتوں سے وابستگی پر آمادہ کیا تو 1994ءسے 2003ءتک گلگت بلتستان میں مذہب کے نام نہ تو قتل غارت ہوئی اور نہ ہی فرقہ واریت کے نام پر فساد ہوا لیکن سیاسی جماعتوں سے عوام آہستہ آہستہ مذہبی جنون کی طرف اس لیے راغب ہو گیا کہ مرکز میں سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ شخصیات کی حوصلہ افزائی اور سیاسی اداروں کی رائے کو اہمیت دینے کے بجائے انتظامیہ جمعے کے خطبے پر فیصلے کرنے لگی جس کے باعث گلگت بلتستان میں فرقہ واریت نے جگہ بنائی۔امبر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر انتظامیہ سیاسی جماعتوں کی رائے اور مشوروں پر عمل درآمد کرے اور وفاق کی تمام سیاسی جماعتوں کو مرکز میں دیگر صوبوں کے برابر عزت اور اہمیت دی جائے تو گلگت بلتستان سے نہ صرف دہشت گردی ختم ہوگی بلکہ فرقہ واریت کا بھی مکمل خاتمہ ہوگا ۔امبر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں61سال سے انتظامی اصلاحات کرتی رہی مگر سیاسی اصلاحات پر کبھی توجہ نہیں دی ۔جس کے باعث انتظامیہ مضبوط ہوتی گئی اور انتظامیہ اپنی مضبوطی کو قائم رکھنے کے لیے مذہبی انتہاپسندوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر گلگت بلتستان کو مکمل صوبائی سیٹ اپ کی سیاسی اصلاحات کئے جائیںتو علاقے سے لسانیت ¾فرقہ واریت اور علاقائیت کینسر کا مکمل خاتمہ ہوگا۔



+ نوشته شده در Wed 6 May 2009ساعت 11 PM توسط mna750 |
بلتستان نیوز درخواست زرداری برای ساخت بنای یادبود بی نظیر بوتو در مشهد ( )

به گزارش خبرگزاری مهر: رئیس جمهور پاکستان در دیدار با استاندار خراسان رضوی خواستار ایجاد بنایی به یاد بود بی نظیر بوتو وزیر اسبق و رهبر فقید حزب مردم پاکستان در مشهد شد. آصف علی زرداری شامگاه چهارشنبه در نشستی با استاندار خراسان رضوی در محل فروگاه شهید هاشمی نژاد مشهد ضمن ابراز خرسندی از حضور در مشهد مقدس افزود: هدف من از این سفر زیارت مرقد مطهر حضرت رضا (ع) است.رئیس جمهور پاکستان از استاندار خراسان رضوی خواست تا بنایی به یاد بود بی نظیر بوتو وزیر اسبق و رهبر فقید حزب مردم پاکستان در مشهد ساخته شود.استاندار خراسان رضوی نیز با اشاره به راه اندازی نمایندگی محصولات آستان قدس رضوی در لاهور پاکستان اظهار داشت: ما نیز خواهان برقراری پرواز مستقیم مشهد - پاکستان هستیم.


+ نوشته شده در Fri 13 Mar 2009ساعت 10 AM توسط mna750 |
بلتستان نیوز آصف زرداری رئيس جمهور پاكستان پابرهنه در حرم امام رضا(ع) ( )

رئيس جمهور پاكستان با پاي برهنه به زيارت مضجع منور هشتمين امام شيعيان شتافت.به گزارش آستان قدس رضوي، آصف‌علي زرداري، رئيس جمهوري پاكستان در دقايق عرفاني و ملكوتي بامداد امروز هنگام ورود به صحن‌هاي مطهر، كفش‌هاي خود را به نشانه احترام و عرض ارادت به ساحت ملكوتي حضرت ثامن‌الحجج (ع) از پا در آورد و با حالت خضوع قدم در اين آستان مقدس گذاشت.
زرداري سپس لحظاتي را پيش روي مبارك ايستاد و با مولاي خود به نجوا پرداخت.وي پس از قرائت زيارتنامه و عتبه‌بوسي مضجع منور در رواق مباركه دارالسلام نماز خواند.محمدجواد محمدي‌زاده، استاندار خراسان رضوي، رئيس جمهور پاكستان را در حضور يك ساعته‌اش در حرم مطهر رضوي همراهي و توضيحاتي در ارتباط با توسعه حرم مطهر، فضاهاي جديد، زيرساخت‌ها و فعاليت‌هاي فرهنگي و رفاهي آستان قدس رضوي ارائه داد.زرداري كه به منظور شركت در اجلاس «اكو» به كشورمان سفر كرده بود، در مسير بازگشت به كشورش به منظور زيارت بارگاه منور رضوي، ساعاتي را در مشهد مقدس توقف كرد و همان شب به كشورش بازگشت


+ نوشته شده در Fri 13 Mar 2009ساعت 10 AM توسط mna750 |
مطالب پيشين
بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا
گلگت بلتستان کےلئے بڑاترقیاتی پیکج دیںگے ، صدر زرداری
گلگت بلتستان انتظامی پیکیج، عوام کو سیلف گورنمنٹ کے اختیارات ملینگے
موجودہ حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام سے بددیانتی کی، نثار میمن
گلگت بلتستان کیلئے اصلاحاتی پیکیج کا اعلان اہم پیش رفت ہے،ارکان قانون ساز اسمبلی
رهبر "سپاه صحابه " پاكستان به هلاكت رسید
رقباي احمدي نژاد،نماينده اشرافيت جامعه ايران بودند
نتایج نظر سنجی از مردم پاکستان در مورد طالبان
وب سايت شهيد عارف حسيني راه اندازي شد
بلتستان نیوز: ماهیت دکتر گریک و فعالیتهای وی در بلتستان

موضوعات
تهديد شيعيان در پاكستان
پيوندها
قالب وبلاگ
سيستم مديريت لينك باكس
just4balti.blogfa.com
شخصی
بهترین ترفندهای کامپیوتری
موزیک بلتی
اخبار بلتستان (باد شمال)
بلتستان
پيوندهاي روزانه
نسیم کوثر
khapuloo
بلتستان بلاگفا
ایران سل
xxxbalti
سید محمد خاتمی
احمدی نژاد
مقام معظم رهبری
مرتضی قاسمی
وبلاگ طاهری مشهدی
آرشیو پیوندهای روزانه
كدهاي اضافه
[url=http://www.fodey.com/generators/animated/ninjatext.asp][img]http://r2.fodey.com/15738f64d4c454bec81fe114a4d7c8a23.1.gif[/img][/url]
طراح قالب
طراح : مهرداد شكري نسب
Pars Template
Template By : www.ParsTemplate.Blogfa.com