تبليغاتX
balti

balti
 
قالب وبلاگ
لينک دوستان
پيوندهاي روزانه
لينک هاي مفيد

حضرت علی ؓکا قول ہے” جو لوگ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں اِن سے علم حاصل کرواور جو کم علم ہیں اُن کو اپنا علم سِکھاو “اور آپ ؓ ہی کاایک قول یہ بھی ہے کہ”جس نے علم حاصل نہیں کیاوہ یتیم ہے“یعنی یہ کہ انسانیت کی تکمیل علم حاصل کرنے ہی سے ممکن ہے توپھرکیا آپ بھی ہماری اِس بات سے متفق نہیں ہوں گے کہ آج دنیاکے سامنے ہم (پاکستانی )جس معیار پر بھی کھڑے ہیں تھوڑی بہت تعلیم کی وجہ سے ہیں اور ہمیں اِس بات کا بھی یقین ہے کہ ہم کل جس(اچھے/بُرے یااُونچے/نیچے) مقام پرہوں گے وہ بھی تعلیم کی ہی وجہ سے ہوں گے۔

جبکہ حکیم محمدسعید نے فرمایا ہے کہ” علم ایک ایساسمندر ہے جس میں چھلانگ لگانے کے بعد ہی اِس کی وسعت وعظمت کااندازہ ہوسکتاہے“اور اِسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایک بہترین اچھائی ہے جو قوموں کو ترقی سے ہمکنار کرتی اور دوسری طرف جہالت وہ بدترین برائی ہے جس پر قائم رہ کر قومیں ذلت کی کھائی میں گرجاتی ہیں اور بھوک و افلاس،تنگدستی اور مایوسی اِن کا مقدر بن جاتیں ہیں علم ایک ایساپھول ہے جو جتنازیادہ کِھلتاہے اتنی ہی زیادہ خوشبودیتاہے اور جن اقوام کے پاس جتنا زیادہ علم ہوگا اِن پر قسمت کی دیوی بھی اتنی ہی زیادہ مہربان رہی گی اور وقت بھی اِن کی گرفت میں رہے گا اور وہ بھی اِن اقوام کی مرضی کے مطابق آگے ، پیچھے اور تیز اور سست رفتار کے ساتھ حرکت کرے گاتوپھر کیوں نہ قو م کے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کے خاطر ہمارے حکمران اپنا کوئی ایسادیرپا اور پائیدار لائحہ عمل مرتب کریں جس سے ہماری قوم کا مستقبل تابناک ہوجائے اور ہم چاردانگِ عالم میں ایک تعلیم اور تہذیب یافتہ قوم کے روپ میں نمودار ہوکر اپنے آج کے حال کو ایک خواب سمجھ کر بھول جائیں اور دنیاکو بتادیں کہ ہم وہی قوم ہیں جِسے دنیا کسی زمانے میں کس نام سے یادکیا کرتی اور جانتی تھی ۔

اگرچہ ایک زمانے میں چرچل نے تویہ تک کہہ دیاتھا جس کا یہی قول آج بھی دنیا کے کسی بھی پست ملک کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ثابت ہوتاہے اِس کا کہناہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی صحیح تعلیم وتربیت سب سے اچھی سرمایہ کاری ہے“ اِسی طرح ابن باویس نے بھی اپنی قوم کے لوگوں کو مخاطب کرکے کہاتھا”اے میری قوم کے لوگو! یہی نوجوان تمہاری پونچی ہیں اور بلندیوںکو چھونے والے یہی ہیں اِن کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری حاکم الوقت پر اپنی اولادوں سے بھی زیادہ عائد ہوتی ہے کیوں کہ کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار اِس کے تعلیم یافتہ لوگوں سے ہی ممکن ہوسکتی ہے مگر ضروری ہے کہ حکمرانِ وقت اپنی قوم کے بچوں کو اپنی اولادوں سے بڑھ کرتعلیم وتربیت کی فکر کرے تواِس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں کوئی قوم اوج ثریاکو نہ پہنچ سکے اِسی لئے توہم بھی یہ کہیں گے کہ آج ہماری اِس بات سے شایدکوئی ذی شعور انکار نہ کرسکے اور وہ یہ صدق دل سے تسلیم بھی کرے کہ ہرزمانے میں یہ بات مصمم حقیقت رہی ہے کہ”درست اور موزوں تربیت یافتہ افرادخوش حال گھرانوں کو جنم دیتے ہیں اور خوش حال گھرانے ہی لازمی طور پر خوش حال اور ترقی یافتہ قوم پیداکرنے میں اپناکلیدی کردار اداکرتے ہیں۔

آج کی اِس 21ویں صدی میںبھی دنیا کے بہت سے ایسے ممالک موجود ہیں جنہوں نے اپنے دیگر شعبہ ہائے زندگی کے مقابلے میں تعلیم پراچھی خاصی توجہ مرکوز کررکھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اِن ممالک کے حکمران اپنے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنے کے لئے اِس میں کئی گناہ اضافہ کررہے ہیں کیوں کہ وہ یہ بات اچھی طرح سے سمجھتے اور جانتے ہیں کہ اگر دیگر شعبوں میں ترقی کرنی ہے تو یہ ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی اور قوم کو تعلیم سے آراستہ کئے بغیر دوسرے شعبوں میںکامیابی مشکل بلکہ ناممکن بھی ہوگی ۔

ہمیں اُوپری سطور میں علم اور تعلیم وتربیت سے متعلق اتنی ساری خوبیاں کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ آج جب ہم اپنی 64سالہ تاریخ کا ماضی کھنگالنے کی کوشش کررہے ہیں تو ہمیں سال بہ سال اپنا معیاری تعلیم تیزی سے زوال کی جانب جاتاہواہی دکھائی دے رہاہے اور ہم کفِ افسوس کے اور کچھ نہ کرپارہے ہیں اور آج جب ہم نے اِس حوالے سے اپنا موازنہ اپنے پڑوسی ملک بھارت سے کیا تو ہمیں اپنا وجود زمین میں دھنستاہواہی محسوس ہوااور ہم خود کو ایک جاہل قوم کا فرد تصور کئے بغیر نہ رہ سکے اور دوسری جانب جب ہم نے اُمتِ مسلمہ کے (ماضی سے ہٹ کر)آج کے معیارے تعلیم کا موزانہ یورپی ممالک سے کیاتو ہمیں اِس بات کا شدت سے احساس ہواکہ ایک ہم پاکستانی ہی نہیں بلکہ ساری مسلم اُمہ ہی تعلیم کے میدان میں یورپی اور دیگر ادیان کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔

اِس حوالے سے ایک خبر نے ہمارے اوسان اور زیادہ خطاکردیئے کہ”برطانیہ اور امریکا کی دانشگاہیں دنیاکی 10بہترین جامعات قرار پائیں ہیں جبکہ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اِن میں کوئی بھی مسلم ملک شامل نہیں ہے“ خبرکچھ اِس طرح ہے کہ”شہرہ آفاق یونیورسٹی کیمبرج امریکامیں تحقیق و دانش کے عالمی مرکزہارورڈکے مقابل عشاریہ کی حفیف فرق کے ساتھ 2011کی درجہ بندی میں دنیا کی پہلی معیاری یونیورسٹی قرارپائی ہے جبکہ ہارورڈکے بعد امریکاکی ہی یل یونیورسٹی تیسرے، برطانوی یونیورسٹی کالج آف لندن چوتھے اور میسا چوسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) بہترین عالم یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں پانچویں نمبر پر ہے، آکسفورڈچھٹے، امپریل کالج آف لندن ساتویں، یورنیوسٹی آف شگاگو آٹھویں، کیلیفورنیاانسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نویں اور امریکا کی ہیپرنسٹن یورنیوسٹی دنیا کی دسویں یونیورسٹی ہے۔

 مگریہاں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہاہے کہ جس دین اسلام کی بنیادہی تعلیم پر ہے اِس دین سے تعلق رکھنے والے مسلم ممالک کی کوئی بھی یونیورسٹی اِن دس نمبروں میں شامل نہیں تھی حالانکہ اسلامی ممالک میں کُل 580یونیورسٹیاں ہیں مگر کوئی بھی اِس قابل نہیں کہ وہ دس نمبروں میں سے کسی بھی پوزیشن پر آتی اور اِس سے زیادہ حیران کُن بات تو یہ ہے کہ دنیاکے سارے اسلامی ممالک کی580یونیورسٹیاں ایک طرف مگر بھارت جیسے پونے دو ارب کے لگ بھگ آبادی والے دنیاکے غریب ملک میں ہی583یونیورسٹیاں مستحکم انداز سے اپنے نوجوانوں کو تعلیم کی روشنی سے مستفیدکررہی ہیں۔؎

جبکہ ایشائی ممالک میں بھارت، جنوبی کوریا اور چین ایسے ممالک ہیںجو اپنے یونیوسٹیوں کے طالب علموں پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کا درجہ حاصل کرچکے ہیں اِسی طرح سروے کے مطابق دنیا کی 400بہترین یونیورسٹیوں میں بھی کوئی پاکستانی جامعہ شامل نہیں ہے صرف سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی ضرورشامل ہے اور اِس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

جبکہ اطلاع یہ ہے کہ ایک امریکی جریدے ” یوایس نیوزاینڈ ورلڈرپورٹ“ نے یہ درجہ بندی تعلیم اور کیریئر پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے”کوئیک کیورلی سیمونٹنگ“سے کرائی ہے جس سے متعلق یہ خیال کیا جارہاہے کہ اِس سروے رپورٹ میں دنیاکی یونیورسٹیوں کی علمی ساکھ، عملے کی ساکھ،فیکلٹی، طلباءکا تناسب، انٹرنیشنل فیکلٹی،غیرملکی اسٹوڈنٹس اور فی استاد سائٹیشن (حوالے)کی تعدادکو درجہ بندی کرنے والے انڈیکیٹربنایاگیاہے ۔

اِدھر اِس سارے منظر اور پس منظر میں یہ ہم جیسے دنیا کے ایٹمی ملک پاکستان کے حکمرانوں، سیاستدانوں اور 19کروڑ عوام کے لئے انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی ممالک کی 580 بشمول پاکستان کی 128یونیورسٹیوں کے مقابلے میں صرف بھارت کی ہی 583یونیورسٹیاں ہیںجو اپنے یہاں نوجوانوںکو جدید علوم و فن سے روشناس کرانے میں دن رات مصروفِ عمل ہیں اور ایک اسلامی ممالک ہی جو سب مل کر بھی بھارت جتنی یونیورسٹیاں نہیں بناسکے ہیں اور سروے کی مطابق دنیا کی 400بہترین یونیورسٹیوں میں پاکستان کی کوئی یونیورسٹی شامل نہیں ہے جبکہ اِن میں بھارت کی 2اورسعودی عرب کی ایک یونیورسٹی دنیاکی بہترین یونیورسٹیوں میں ضرور شامل ہیں اور دوسری طرف صرف امریکامیں 5ہزار 758یونیورسٹیاں ہیں ہاں البتہ! یہ بات ہم مسلم امہ کے لئے ضرور حوصلہ افزارہی کہ اِس سروے میں اِس بات کو کھلے دل اور دماغ سے ضرور تسلیم کرلیاگیاہے دنیاکی 10قدیم یونیورسٹیوں کے حوالے سے مصر کی جامعہ الازہر وہ قدیم ترین مستند یونیورسٹی کا درجہ قرار پائی ہے جو 969ہجری میں قائم ہوئی تھی جس کے سوت سے آج بھی اُمتِ مسلمہ سیراب ہورہی ہے مگر اِس کے باوجود بھی ہمیں یہ ضرور سوچناچاہئے کہ اُمتِ محمدیﷺ کی ترقی اور خوشحالی کاانحصار صرف ایک مصر کی جامعہ الازہر سے وابستہ نہیں کرلیناچاہئے بلکہ دنیاکے جدید علوم کے حصول کے خاطر یورپی طرز کی زیادہ سے زیادہ یونیورسٹیاں اپنے یہاں بنائیں جائیں تاکہ ہم بھی جدید علوم و فن سے یورپ کا مقابلہ کرسکیں اور اپنے وسائل کو اپنے حساب سے خرچ کریں نہ کہ اِنہیں استعمال کرنے کے لئے یورپ سے ماہرین بلوائیں اور خود کو اِن کے رحم وکرم پر چھوڑ کر اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہیں خود ہی بند کراتے رہیں اور اِس کے ساتھ ہی ہم آخر میں یہ بات کہہ کر اجازت چاہیں گے کہ کیا ہم واقعی علم کے لئے اپنے بجٹ میں زیادہ رقوم مختص نہ کرکے قوم کو علم کے بغیر یتیم بناناچاہتے ہیں ....؟؟یا تعلیم کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے اپنے کُل بجٹ کا آدھاحصہ مختص کرکے ترقی کرناچاہتے ہیں ...؟؟

یہ ہے ہمارااپنے حکمرانوں اورسیاستدانوں سے سوال اور سوالیہ نشان....؟؟؟؟؟
محمداعظم عظیم اعظم ۔کراچی
[ Sat 12 May 2012 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

الهم عجل لولیک الفرج ، شعری برای امام زمان (عج) ،

آمدنت هنوز نیامدنیست، پس کی قرارست بیایی مولاآقا نگاهت جای آهوهاست می دانم

دستان پاکت مثل من تنهاست می دانم
آقا دلت در هیچ ظرفی جا نمی گیرد
جای دل تو وسعت دریاست می دانم
برگشتنت در قلبهای مرده ی مردم
همرنگ طوفانی ترین دریاست می دانم
آقا اگر تو بر نمی گردی دلیل آن
ز چشمهای پرگناه ماست می دانم
جای سرانگشتان پر نورت در این ظلمت
مانند رد باد بر شنهاست می دانم
در باور کوتاه این مردم نمی گنجی
وقتی بیایی اول دعواست می دانم
ای کاش برگردی که بعد از این همه دور
یکباره حس بودنت زیباست می دانم
کی باز می گردی ؟ برایم بودن با تو
زیباترین آرامش دنیاست می دانم
تو باز می گردی اگر امروز نه! فرد
از آتشی که در دلم بر پاست می دانم
آقا جان روا بود که گریبان ز هجر پاره کنم
دلم هوای تو کرده بگو چه چاره کنم

[ Fri 20 Apr 2012 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

اطلاعات کے مطابق کالعدم ملک دشمن جماعت کے دہشتگردوں نے آج پورے گلگت میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ آج صبح سے ہی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد پورے شہر میں دندناتے نطر آرہے تھے البتہ سکیورٹی اداروں کی دہشتگردوں کی لگام دینے کی تمام تر کوشش ناکام نطر آئی۔ واضع رہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے nli اسکاوٹس کا شیعہ اہلکار بھی شہید ہوچُکا تھا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کی حالیہ دہشتگردی میں مزید 10 شیعہ مومنین شہید ہوچُکے ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بس روالپنڈی سے گلگت جارھی تھی اور چلاس کے مقام پر انہیں شناخت کرکے شھید کیا گیا۔ زرائع کے مطابق دس بسیں گلگت کی جانب جارھی تھی جن میں سے ایک بس میں ایف ۔سی کے اھلکار بھی شامل تھے۔ یزیدیوں نے تمام بسوں کو روک کر شیعہ عزاداروں کو شناخت کرکے شھید کیا۔

تاریخ گلگت میں یہ انتہائی اھم خبر شمار کی جارھی ہیں۔ اور تشیع پر ہونے والا یہ انتہائی سخت نوئیت کا ظلم شمار کیا جا رھا ہیں۔ یاد رھے کہ ابھی سانحہ کوھستان کا زخم ابھی بھرا بھی نہیں تھا کہ یزیدیوں نے مظلوم ملت جعفریہ پر ظلم کا یہ ایک نیاء پہار توڑ دیا۔

یا درھے کہ چلاس کا مقام وہابیوں کا مرکز اور یزیدیوں کی پناہ گاہ ہیں جہاں سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف نازینا زبان استعمال کی جاتی ہیں۔ حکومت نوٹس لے اور رحمان ملک جھوٹے وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرے اور گلگت میں فساد کی جڑ اور دشمن اھلبیت قاضی نثار کو فوری لگام دے۔

[ Thu 5 Apr 2012 ] [ 7 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ انکے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلی حکومت بمبئی اور جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا  سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952 میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی سا تھمپئین میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953 میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔
1958 تا 1960 صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت ، 1960 تا 1962 وزیر اقلیتی امور ، قومی تعمیر نو اور اطلاعات ، 1962 تا 1965 وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963 تا جون 1966 وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ۔دسمبر 1971 میں جنرل یحیی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی ۔ وہ دسمبر 1971 تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973 کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔
1977 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977 میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978 کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
یہ وہ بھٹو تھا جو مولویوں اور حریف سیاستدانوں کی نقالی کرتا تھا، اپنی آستینیں چڑھا کر گریبان کے بٹن توڑ کر پاگل مجمعے پر کوٹ اچھال دیتا تھا۔ روٹی، کپڑا، مکان اور غریب کا نعرہ بلند کر کے غریب ہاریوں کی آنکھوں میں آنسو لانا اس کا فن تھا۔ بھرے مجمعے میں سرمایہ داروں اور وڈیروں کو گالی دینے اور ہزار سال کی جنگ کی بڑک لگانے والا بھٹو آج بھی ریڑھی اور تانگہ بان کے دل میں زندہ ہے۔۔۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بھٹو کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں مسیحا کو اپنا دل دیا تھا۔
مگر بھٹو نے جب ان سادہ دلوں سے فلرٹ کیا تو خود بھٹو بھی پیشہ ور شکاریوں کے جال سے نہ بچ سکا۔ شاید اسی لیے پورے پاکستان میں چار اپریل انیس سو اناسی کو حالت یہ تھی کہ
ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتے
شہر خاموش ہیں شوریدہ سروں کے ہوتے
 بھٹو کی پھانسی سے پہلے اور بعد میں بھی بھٹو کو انہی عاشقوں نے یاد رکھا، خود سوزیاں کیں، کوڑے کھائے اور پھندے گلے میں ڈالے جنہیں خود بھٹو نے اقتدار کے آ خری دو تین برس کے دوران کھیل سے باہر کردیا تھا۔
 کیا بھٹو کو پھانسی سے بچایا جاسکتا تھا؟
 چار اپریل کو اگر اتنے ہی ٹی وی چینل ہوتے جتنے آج ہیں تو بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی۔۔۔
شہید ذوالفقار علی بھٹوکی قیادت میں پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان کارکنان کا ایک بے باک کردار جس نے مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ اتحاد قائم کرتے ہوئے ریاست کے انتظام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ گو کہ وہ عظیم انقلاب فتح مند نہ ہو سکا لیکن آج ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ہمیں اس انقلاب کے فتح مند نہ ہوسکنے کی وجوہات جو خود ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی آخری تصنیف اگر مجھے قتل کیا گیا میں ضبط تحریر لائے تھے کہ میں اس آزمائش میں اس لئے مبتلا کیا گیا ہوں کے میں نے اس ملک کے شکستہ ڈھانچوں کو جوڑنے کیلئے متضاد مفادات کے حامل طبقات کے درمیان ایک آبرومندانہ مصالحت کرانے کی کوشش کی تھی، فوجی بغاوت (5جولائی 1977)کا سبق ہے کہ متضاد مفادات کے حامل طبقات میں مصالحت ایک یوٹوپیائی خواب ہے۔ اس ملک میں ایک طبقاتی کشمکش ناگزیر ہے جسکے نتیجے میں ایک طبقہ برباد اور دوسرا فتح یاب ہو گا کو نوجوانوں تک پہنچانے اور انہیں باشعور کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کے نوجوان تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنے اور اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں میں لینے کی صلاحیت سے لیس ہیں۔
 بھٹو شہید کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اس نا انصافی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنے کی ناقابل مصالحت جدوجہد میں جان بھی قربان کی جا سکتی ہے ۔لیکن بھٹو کی برسی منانے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ہم ماتم کریں بلکہ بھٹو کی شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔ طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے، طلبہ یونین کی بحالی، ہر سطح پر نوجوانوں کو مفت تعلیم کی فراہمی جیسے مطالبات کو لے کر جدید سائنسی نظریات سے لیس اور طلبہ، مزدور ، کسان اتحاد کو یقینی بناتے ہوئے نظام سرمایہ داری کیخلاف فیصلہ کن لڑائی اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک غیر طبقاتی سماج کا قیام ہی محنت کشوں اور نوجوانوں کی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔

[ Thu 5 Apr 2012 ] [ 7 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایشیا کپ کے فائنل میں میزبان بنگلہ دیش کو 2 رنز سے ہرا کر 12 سال بعد دوسری بار ایشیا کی قیادت کا تاج اپنے سر سجا لیا۔ملک بھر میں جشن کا سماں،صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن و دیگر نے اس جیت پر ٹیم کو مبارک باد پیش کی ہے۔آخری گیند تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں برصغیر اور کرکٹ کھیلنے والی دنیا کو اپنی جانب محو رکھا۔ شاہد آفریدی کو آل رائونڈ پرفارمنس پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔میچ کے دوران بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکا اشرف سمیت پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کی کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ بنگلہ دیش کو جیت کے لیے 237رنز کا ہدف ملا تاہم بنگال ٹائیگرز میچ کی آخری گیند تک234رنز بناسکے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کے کپتان مشفق الرحیم نے میر پور شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس فائنل کا ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی ۔ پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی کو دیکھ کر ایسا لگا کہ مشفق الرحیم کا یہ فیصلہ درست تھا کیونکہ 34.5اوورز میں 133رنز کے عوض پاکستان اپنی6وکٹیں گنواچکا تھامگر اس موقع پر سرفراز احمد نے ٹیم کو سہارا دیا اوران کے46 رنز ناٹ آؤٹ کی بدولت پاکستان نے9وکٹوں کے نقصان پر 236کامجموعہ ترتیب دیا۔ دوسرے کامیاب بیٹسمین محمد حفیظ رہے جنہوں نے 40 رنز اسکور کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی نصف سینچری نہیں بناسکا۔ جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے تمیم اقبال کے60 اورشکیب الحسن کے شاندار68رنز کے باوجود پوری ٹیم مقررہ50اوورز میں8وکٹوں پر 234 رنز ہی بناسکی۔ بنگلہ دیش کے بلے بازوں نے اپنی اننگز کے آغاز میں اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستانی بائولروں کو پر اعتماد طریقے سے کھیلا۔ 237 رنز کے تعاقب میں لیفٹ ہینڈ بیٹسمین تمیم اقبال اور دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے ناظم الدین نے اوپننگ کی۔ بنگلہ دیش کو 68 رنز کا آغاز ملا۔ ناظم الدین جب16 رنز پر آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیش کی دوسری وکٹ بھی فوراً گر گئی۔ ظہور الاسلام کو گیند اور وکٹ سمجھنے کا موقع نہ مل سکا وہ کھاتہ کھولے بغیر چلتے بنے۔ تمیم اقبال 60رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو میزبان ٹیم کا مجموعہ81 تک پہنچ چکا تھا۔ایک موقع پر تو بنگلہ دیش کے 3وکٹوں پر 169رنز تھے اور یوں محسوس ہورہا تھا کہ ٹائیگرز آج پاکستان کو پچھاڑ دیں گے مگر اس موقع پر اعزاز چیمہ اور سعید اجمل نے اوپر تلے بنگلہ دیش کے 4ان فارم بیٹسمینوں کو آؤٹ کرکے میچ کی صورتحال تبدیل کردی۔ سعید اجمل، عمر گل اور شاہد آفریدی کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی، جبکہ تینوں بار کیچ کے لیے گیند یونس خان نے دبوچی۔ بنگلہ دیش کا مجموعی اسکور جب 170رنز تک پہنچا تو عمر گل نے ناصر حسین جو 28 رنز پر کھیل رہے تھے، کی امیدوں کے چراغ گل کر دیے۔ اس مجموعے میں ابھی 9رنز کا اضافہ ہوا تھا کہ ٹاپ اسکورر اور خطرناک ترین بیٹسمین شکیب الحسن 68 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی وکٹ گرانے کا اعزاز فاسٹ بولر اعزاز چیمہ کو ملا۔ چھٹی وکٹ کپتان مشفق الرحیم کی گری جو صرف 10 رنز بنا کر اعزاز چیمہ کا نشانہ بنے۔گو کہ عمر گل کے آخری لمحات کے اوورز پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہوئے تاہم اعزاز چیمہ نے صورتحال کو قابو میں رکھا۔ پاکستان کی جانب سے اعزاز چیمہ نے 3 جبکہ عمر گل اور سعید اجمل نے 2،2 اور شاہد آفریدی نے ایک وکٹ حاصل کی۔میچ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ ایشیا کپ کی جیت میں نوجوان کرکٹرز کا بہت اہم کردار ہے جنہوں نے پاکستان کو فتح دلانے کے لیے بہت محنت کی،ہم نے ٹیم ورک سے ایشیا کپ کے فائنل میں بنگلہ دیش کو شکست دی،بنگلہ دیشی ٹیم اچھی کاکردگی پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس موقع پر بنگلہ دیش کے کپتان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکٹ سلو تھی اس وجہ سے رنز بنانا مشکل ہورہا تھا۔ فائنل میں ٹیم کی کامیابی کے ساتھ ہیملک بھر میں جشن کا سماںہوگیا، شہری خوشی کے مارے سڑکوں پر نکلآئے، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے۔ میچ کے دوران پاکستانیوں نے خوب ہلہ گلہ کیا۔ مختلف شہروں میں بڑی بڑی اسکرینیں لگائی گئیں جہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے میچ دیکھا۔ میچ جیتنے کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں بندھ گیا۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے سڑکوں پر بھنگڑے ڈالے گئے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ کراچی میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے فائنل میچ دیکھنے کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر بڑی ا سکرینیں لگائی گئیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد میچ کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال کا براہ راست دیکھ کر لطف اندوز ہوتی رہی۔ بنگالی آبادی علاقوں میں بھی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اجتماعی طور پر میچ دیکھنے کا انتظام کیا۔ شائقین نے ہر وکٹ اور باؤنڈری پر جذبات کا اظہار کیا۔ حیدرآباد میں بچے ‘ بوڑھے اور جوان سڑکوں پر نکل آئے، پاکستان زندہ باد کے نعرے اور ہوائی فائرنگ کی۔ شہر بھر میں ایک ساتھ ہونے والی ہوائی فائرنگ سے شہر گونج اٹھا ۔ لاہور میں یوسی پی،سینٹرل پارک، کلمہ چوک، جیل روڈ، رائے ونڈ، گلبرگ، اندرون بھاٹی گیٹ اور علامہ اقبال ٹائون کے علاقوں میں بڑی بڑی اسکرینیں لگائی گئیں۔ راولپنڈی اسلام آباد کی سپر مارکیٹ، جناح سپر مارکیٹ، صدر بازار میں پروجیکٹر لگائے گئے۔ کئی سنیما گھروں اور ہوٹلز میں بھی میچ دکھانے کا انتظام کیا گیا۔ بوم بوم آفریدی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے فضا گونجتی رہی۔ فیصل آباد میں سب سے زیادہ رش اقبال اسٹیڈیم کے باہر لگائی گئی اسکرین پر رہا۔شہریوں کے جذبات میچ کے اتار چڑھائو کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہے۔ ملتان میں شائقین کرکٹ نے پروجیکٹر اور بڑی اسکرینیں لگا کر میچ دیکھا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی اچھی بائولنگ پر بھنگڑے ڈالے گئے۔ پشاور میں زرعی یونیورسٹی میں اسکرین لگائی گئی۔ طلبا ہر چھکے اور چوکے پر پاکستانی ٹیم کو داد دیتے رہے۔ لاکھوں افراد نے گھروں میں بیٹھ کر میچ دیکھا جس کے باعث سڑکیں سنسان رہیں۔ علاوہ ازیں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی کرکٹ ٹیم کو ایشیا کپ جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔صدر اور وزیراعظم نے اپنے الگ الگ پیغامات میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان،کوچ اور کھلاڑیوں کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان، وزیرداخلہ رحمان ملک نے بھی ایشیاکپ جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ایشیا کپ جیتنے پر پاکستان کرکٹ ٹیم، کپتان اور قوم کو مبارک باد دی ہے۔ سید منور حسن نے منصورہ سے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ فتح اللہ کے فضل اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ ایک میچ ہارنے کے بعد کپتان بدلنے کا مطالبہ درست نہیں۔تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مصباح الحق کو کپتان رہنا چاہیے۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بھی قومی کرکٹ ٹیم کو مبارک باد دی ہے۔

[ Fri 23 Mar 2012 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

پاکستان از بدو استقلال تاکنون به رغم خواسته بنیانگذاران آن که آرزو داشتند پاکستان کشوری باشد برای همه مسلمانان منطقه جنوب آسیا تا در این حدود و ثغور سیاسی بتوانند به دور از همه چالش‌ها و در فضای آزاد مذهبی زندگی کنند، همزاد و همراه بحران بوده و ثبات و آرامش برای مردمان آن سرزمین کماکان یک آرزوست.

وجود دشمنی همیشگی به نام هند در جوار مرز طولانی با این کشور و همچنین تشتت و درگیری‌های داخلی که از بدو تأسیس این کشور همواره گریبانگیر پاکستان بوده است، بر انگیزه این کشور برای داشتن سازمانی اطلاعاتی و ضد جاسوسی قوی بیش از پیش افزوده است.

ISI اکنون به عنوان یکی از پنج آژانس برتر امنیتی جهان شناخته می‌شود که شبکه آن در سطح جهان گسترده شده است.

تاریخچه ISI

در سال 1948 میلادی در حالی که هنوز یک سال از نخستین رویارویی هند با پاکستان نگذشته بود، سازمانی تحت نام(Inter Services Intelligence" (ISI" با تلاش و مغز متفکر یک ژنرال انگلیسی که ریاست ستاد زمینی ارتش پاکستان را بر عهده داشت، شکل گرفت.

این سازمان به عنوان یک ارگان امنیتی برای هر 3 نیروی دفاعی پاکستان تشکیل شد و وظیفه آن دفاع از مرزهای جغرافیایی و ایدئولوژیکی پاکستان بود.

زمامداری ژنرال "ایوب خان" (1969-1958) را باید دوره انسجام و تبیین حیطه وظایف سازمان اطلاعات پاکستان نامید. در این دوره نقش این سازمان در تأمین منافع ملی، مانیتورینگ احزاب سیاسی و اپوزیسیون و تحکیم نقش نظامیان در قدرت برجسته و مشخص گردید.

دوره حضور ژنرال "حمید گل" در رأس (ISI (1989-1987 را باید اوج دوران قدرت این سازمان دانست.

افغانستان فرصت رشد و توسعه ISI

حمله شوروی سابق به افغانستان در سال 1979 میلادی سبب شد تا ISI نقشی ویژه‌ای در مواجهه با سازمان‌های اطلاعاتی غرب و شوروی بیابد.

در دوران جهاد افغانستان، ISI با همکاری سازمان‌های اطلاعاتی آمریکایی و اروپایی موفقیت تاریخی را در تجهیز و متحد کردن نیروهای جهادی علیه اشغالگران روسیه به دست آورد.

آمریکا طی آن دوران پاکستان را خط مقدم جنگ با شوروی اعلام کرده بود و از همین رو حمایت‌های فراوان لجستیک و مالی از اسلام‌آباد انجام داد.

اقدامات این سازمان در افغانستان که از لحاظ مادی و اقتصادی از طرف غرب حمایت می‌شد علاوه بر به دست آوردن اعتبار جهانی باعث گسترش هرچه بیشتر این سازمان شد.

پاکستان نیز با کمک‌های غرب ده‌ها هزار جنگجوی افغانی را در کمپ‌های درون افغانستان و پاکستان آموزش داد و راهی جبهه‌های نبرد با ارتش سرخ شوروی کرد.

اوج همکاری‌های سازمان سیا با ISI نیز در همین دوره اتفاق افتاد و عده‌ای از افسران نظامی و اطلاعاتی پاکستان به منظور فراگیری روش‌های نوین اطلاعاتی و کسب تجربه از سازمان اطلاعات آمریکا عازم واشنگتن شدند و حتی افرادی از CIA نیز به صفوف و کادر رهبری مبارزه علیه نظامیان شوروی در افغانستان پیوستند.

"حسن عسکری" تحلیلگر در حوزه دفاعی معتقد است: با وجود این که روابط پاکستان و آمریکا در حال حاضر حسنه نیست اما در حوزه اطلاعاتی روابط آنان همچنان ادامه دارد.

وی می‌افزاید: بعد از حوادث 11 سپتامبر به دلیل همکاری این سازمان با سرویس اطلاعات آمریکا (CIA)، اهمیت ISI دوچندان شده است.

اهداف مهم سازمان اطلاعاتی پاکستان

از هدف‌های زیر به عنوان مهمترین اهداف سازمان اطلاعات پاکستان نام برده شده است:

- صیانت از منافع پاکستان و امنیت ملی این کشور در داخل و خارج

- کنترل پیشرفت سیاسی و نظامی در کشورهای همسایه که امنیت ملی این کشور را تحت تأثیر قرار می‌دهند.

- هماهنگی میان فعالیت‌های اطلاعاتی 3 نیروی مسلح ارتش.

- تحت نظر گرفتن افراد خود، اتباع خارجی‌، رسانه‌ها، سیاستمداران پاکستانی، دیپلمات‌های خارجی در پاکستان و دیپلمات‌های پاکستان در خارج از کشور.

در حال حاضر عملیات این سازمان در سطح جهان گسترش یافته و ادارات مختلف آن شامل امنیت بین‌الملل، سرویس مبارزه با جاسوسی، سرویس کشمیر، امنیت داخلی و دیگر سرویس‌های کوچک‌تری که مسئول انجام عملیات‌های مختلف هستند، فعال می‌باشند.

ISI ؛ نهاد برتر در پاکستان

پیشینه تاریخی میان هند و پاکستان و استمرار مناقشه کشمیر، ترس و نگرانی از هند و تهدید خارجی ناشی از آن، همواره ارتش پاکستان را به عنوان اصلی‌ترین نهاد حافظ پاکستان در مقابل این کشور، دارای محبوبیت کرده است.

بر این اساس آرزوی هر جوان پاکستانی است که در ارتش خدمت کرده و از این طریق ضمن کسب مقبولیت مردمی، از رفاه و امنیت شغلی نیز برخوردار گردد.

مجموعه این عوامل اقتداری را به ارتش داده که قابل قیاس با دیگر ارکان قدرت در این کشور نیست. در واقع نهادها و مراکز غیرنظامی پاکستان موجودیت و ارزش اجتماعی خود را در دوری و نزدیکی به ارتش تعریف می‌کنند. حتی عباراتی همچون "ارتشی که کشور دارد"، "ارتش؛ دولتی در دولت"، "حکومت نامریی" و "پدر خوانده‌های مرموز" نیز گاهی در جراید این کشور و در توصیف جایگاه ارتش پاکستان درج می‌شود.

این سازمان به عنوان یک واحد برتر امنیتی پاکستان، نقش کلیدی را در تحولات سیاست ملی ایفا کرده است که نقش آن را روی کار آوردن و برکناری حکومت‌ها در 3 دهه اخیر به وضوح می‌توان دریافت.

ساختار اداری سازمان اطلاعات پاکستان

اداره اطلاعات پاکستان در اسلام‌آباد واقع است. به رئیس این اداره "مدیر کل" می‌گویند که معمولا از میان ژنرال‌های نیروی زمینی ارتش انتخاب می‌گردد.

3 معاونت مهم سیاسی، خارجی و عمومی دارد که بطور مستقیم زیر نظر مدیر کل انجام وظیفه می‌کنند. پرسنل عمومی ISI اکثراً از میان نیروهای پلیس، نیروهای شبه‌نظامی دولتی و برخی واحدهای ویژه نیروی زمینی انتخاب می‌گردند.

محافل غیر رسمی پاکستان شمار کارمندان ISI (نظامی و غیرنظامی) را حدود 25 هزار نفر تخمین زده‌اند که این تعداد بجز 30 هزار نفری است که برای این سازمان خبررسانی می‌کنند.

این تعداد نیرو در 6 بخش پشتیبانی، اطلاعات داخلی، اطلاعات خارجی، بخش جامو و کشمیر، عملیات مسلحانه و فنی مشغول فعالیت می‌باشند.

این سازمان به لحاظ تشکیلاتی دارای بخش‌های زیر می‌باشد:

- "کمیته اطلاعات" X (JIX): این بخش هماهنگ‌ کننده همه بخش‌ها در ISI است. اطلاعاتی که در بخش‌های مختلف تولید می‌شود به این بخش ارسال و پس از تجزیه و تحلیل در این بخش، بصورت گزارش توزیع می‌گردد.

- "دایره اطلاعات مشترک" (JIB): این دفتر بزرگترین بخش این سازمان را تشکیل می‌دهد. فعالیت‌ اصلی این بخش جمع‌آوری اطلاعات در مورد احزاب سیاسی است. گفته می‌شود 3 بخش "عملیات در هند"، "مبارزه با اقدامات تروریستی" و "محافظت از مقامات مهم" در این بخش مشغول فعالیت هستند.

- "دایره ضد اطلاعات" (JCIB): این بخش مشابه NOC در CIA است. دیپلمات‌های پاکستانی که در امر جمع‌آوری اطلاعات اخبار مشغولند، گزارشات خود را به این بخش می‌فرستند. حوزه فعالیت این بخش عموماً خاورمیانه، جنوب آسیا، چین، افغانستان و آسیای مرکزی است.

- "اطلاعات مشترک شمال" (JIN): این بخش در جامو و کشمیر فعال است و حرکت نیروهای هندی در خط کنترل را بر عهده دارد.

- "اطلاعات مشترک متفرقه" (JIM): این بخش مسئولیت فعالیت‌های جاسوسی، مأموریت‌های جاسوسی، نظارت  و فعالیت در دوران جنگ را بر عهده دارد.

- "دایره مشترک اطلاعات ارتباطی" (JSIB): این دایره مجموعه عملیات اطلاعاتی را از طریق برپایی ایستگاه‌های شنودی و دیداری در طول مرز با هند و مراقبت برای جلوگیری از تصویربرداری از مناطق ممنوعه بر عهده دارد.

- "اطلاعات مشترک تکنیکی" (JIT): این بخش مسئولیت تجهیزات جاسوسی و عملیاتی در زمینه‌های سخت افزاری و نرم افزاری را برعهده دارد.

مکانیسم انتخاب رئیس سازمان اطلاعات پاکستان

همانند انتخاب سران تمامی نیروهای دفاعی و آژانس‌های اطلاعاتی در پاکستان، انتصاب مدیر کل ISI نیز بر عهده رئیس جمهور این کشور بوده و بر پایه مشورت با نخست‌وزیر انجام می‌شود.

برای انتصاب مدیرکل جدید این سازمان، رئیس ستاد کل ارتش از طریق وزارت دفاع اسامی 3 تن از افراد مورد نظر را از میان ژنرال‌ها به نخست‌وزیر پیشنهاد می‌کند و نخست وزیر این اختیار را دارد که یکی از این 3 نفر را انتخاب کرده یا هر 3 را رد کند و خواستار اسامی جدیدی شود و یا اینکه براساس نظر خود فردی را برای این پست انتخاب کند.

سازمان اطلاعات پاکستان یک مزیت استثنایی دارد و آن این است که می‌تواند در انتصاب‌های خود از غیرنظامیان نیز استفاده ‌کند؛ اگرچه پست‌های کلیدی این سازمان همواره توسط افسران ارتش پاکستان اداره می‌شود.

هفته گذشته در مورد این که چه کسی مدیر کل ISI خواهد شد، پیش‌بینی‌هایی شد و نام 3 تن در رسانه‌های پاکستانی بیان شد.

این سه تن عبارت بودند از؛ "وحید ارشد" ژنرال بازنشسته رئیس ستاد مشترک نیروهای مسلح، "خالد ربانی" فرمانده واحد پیشاور و "ظهیرالاسلام" ژنرال بازنشسته و فرمانده واحد کراچی بزرگترین شهر پاکستان که از این میان، ظهیرالاسلام به عنوان مدیر کل جدید سازمان اطلاعات پاکستان برگزیده شد.

ظهیرالاسلام فرمانده واحد کراچی یکی از اصلی‌ترین گزینه‌ها برای تصدی پست مدیر کل این سازمان بود.

سران پیشین ISI

قبل از ژنرال احمد شجاع پاشا ژنرال بازنشسته "ندیم تاج" بین اکتبر 2007 تا اکتبر 2008 به عنوان مدیر کل  ISIمشغول به فعالیت بود.

ژنرال "پرویز کیانی" فرمانده کنونی ارتش پاکستان هم در سال‌های 2004 تا 2007 به عنوان مدیر کل این سازمان مشغول فعالیت بوده است.

مدت فعالیت ژنرال "اختر عبدالرحمن" که از سال‌ 1980 تا 1987 مدیر کلی این سازمان را به عهده داشت، طولانی‌ترین زمان اداره این سازمان توسط یک فرد بود. این زمان مصادف با فعالیت ISI علیه حضور شوروی سابق در افغانستان بود.

اسامی مدیران این سازمان از ابتدا تا کنون:

- سرتیپ ریاض حسین از سال 1959 تا 1966 میلادی

- سرتیپ محمد اکبرخان از سال 1966 تا 1971 میلادی

- ارتشبد غلام‌جیلانی خان از سال 1971 تا 1978 میلادی

- ارتشبد محمد ریاض‌خان از سال 1978 تا 1980 میلادی

- ژنرال اختر عبدالرحمن از سال 1980 تا 1987 میلادی

- ژنرال حمید گل از سال 1987 تا 1989 میلادی

- ژنرال شمس‌الرحمان کلو از سال 1989 تا 1990 میلادی

- ژنرال اسد درانی از سال 1990 تا 1992 میلادی

- ژنرال جاوید ناصر از سال 1992 تا 1993 میلادی

- ژنرال جاوید اشرف قاضی از سال 1993 تا 1995 میلادی

- ارتشبد نسیم رانا از سال 1995 تا 1998 میلادی

- ژنرال ضیاءالدین بت از سال 1998 تا 1999 میلادی

- ژنرال محمود احمد از سال 1999 تا 2001 میلادی

- ژنرال احسان‌الحق از سال 2001 تا 2004 میلادی

- ژنرال اشفاق پرویز کیانی از سال 2004 تا 2007 میلادی

- ژنرال ندیم تاج از سال 2007 تا 2008 میلادی

- ژنرال احمد شجاع پاشا از سال 2008 تا 2012 میلادی

در حال حاضر نیز ژنرال ظهیر الاسلام به عنوان رئیس جدید این سازمان منصوب و جایگزین ژنرال شجاع پاشا شده است.

ژنرال ظهیر الاسلام 55 ساله، اهل منطقه "کهوتا" بوده و فارغ‌التحصیل "دانشکده نظامی پاکستان" می‌باشد.

وی در یک خانواده نظامی متولد شده است. پدر وی سرهنگ بازنشسته ارتش بود و 3 برادر وی نیز افسران بازنشسته ارتش هستند.

وی افسر فرمانده در زمان مشرف و نیز عضو واحد پیاده نظام ارتش پنجاب بود. ظهیرالاسلام پیش از انتصاب به عنوان رئیس ISI، به عنوان فرمانده سپاه پنجم کراچی خدمت می‌کرد.

وی همچنین یکی از طرف‌ها در مذاکرات میان آمریکا و پاکستان بوده است.

[ Mon 12 Mar 2012 ] [ 6 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

اسلام آبا د(خبر ایجنسیاں)حکومت نے دفاع پاکستان کونسل کی اہم جماعت اہل سنت و الجماعت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الحرمین فائونڈیشن اور محصورین پاکستان کی واپسی اور ان کی آبادکاری کے حوالے سے قائم کیے جانے والے رابطہ ٹرسٹ پر پابندی لگادی ہے۔بی بی سی کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو شبہ ہے کہ اہل سنت والجماعت سابقہ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہے لہٰذا وفاقی حکومت نے اس جماعت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ایک میں شامل کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ نوٹیفیکیشن چاروں صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کو بھی بھیج دیا ہے

[ Sun 11 Mar 2012 ] [ 7 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

ناصر کاظمی کا اصل نام سید ناصر رجا کاظمی تھا ۔ وہ آٹھ دسمبر 1950 کو بھارت کے شہر امبالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امبالہ میں حاصل کی ۔ بعد میں اعلی تعلیم کیلئے شملہ اور لاہور میں بھی زیر تعلیم رہے۔ وہ ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے اور بعض دیگر اشاعتی ادارون مین بھی خدمات انجام دیں ، انہوں نے 1940 میں  شعری زندگی کا آغاز کیا ۔ انہیں چھوٹی بحر اوراستعارے میں کمال حاصل تھا ۔ بچھڑے ہوئے لوگوں کے دکھ ، تقسیم برصغیر اور پھر سقوط پاکستان جیسے واقعات نے ناصر کاظمی پر شدید اثر کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ انکی شاعری میں ماضی کی یاد کی چبھن کانٹے کی طرح نظر آتی ہے ۔
ناصر کا ظمی فطرت کے رسیا تھے ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں ساون کی رت ، پت جھڑ کی اداسی ، پرندوں کی سرشاری اور مٹی کی خوشبو ، غرض کہ ہر رنگ سمو دیا ۔ان کی نیت شوق ابھی بھری نہ تھی، کہ دو مارچ  انیس سو بہتر کو کینسر کے موذی مرض کا مقابلہ کرتے کرتے، کوچ کر گئے۔
نیت شوق بھر جائے نہ کہیں
ناصر کاظمی نے شوق  کے اس سفر کا آغازمحض تیرہ برس کی عمر میں کیا اور پھر  نیت شوق بھرنے کے بجائے اردو ادب کے خزانے معمور کرتی چلی گئی ۔
دل میں ایک لہر سی اٹھی ہے ابھی
ناصر کاظمی  نے موسموں کو اپنا ہمراز بنایا ، شبنم میں بھیگی صبح ، اور اداسی کی آنچ میں سلگتی شام سے محبوب کی دوری کا گلہ کیا بھی تو بڑے وقار کے ساتھ ۔
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
ناصر کاظمی کا زمین کے ساتھ درد کا رشتہ تھا ان کا پہلا شعری مجموعہ "برگ نے"  ان کی زندگی میں شائع ہوا ۔۔۔ مختصر بحر میں بڑی بات کہنے والا شاعر میر تقی میر سے متاثر نظر اتا ہے ۔
دوستوں کے درمیاں ۔
چین کی گھڑی ہے تو
 ناصر کاظمی جدید دور کا شاعر ہے، پیچیدہ لفظوں کے بجائے سادہ اسلوب میں غزل کی روایت کو برقرار رکھنا ناصر کا ہی کمال ہے ۔
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
بیٹھ کر سایہ گل میں ناصر ۔۔۔ ہم بہت روئے جب وہ یاد آیا ۔۔۔
ناصر نے ہمایوں رسالہ کی ادارت کی ، پھر رسالہ ہم لوگ کی ادارت کی اور ریڈیو پاکستان میں اسٹاف آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کیا۔
 احمد ندیم قاسمی نے لکھا:  غزل کو اتنا سادہ رکھ کر اتنی دور کی اتنی گہرائی کی باتیں کہ جانا اردو کے جدید غزل گو شعرا میں سے صرف ناصر کاظمی کا کام تھا۔ یوں سمجھئے کہ ناصر کے ہاں میر، مصحفی ، غالب، مومن ور فراق کے اپنے اپنے منفرد حسن ادا ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ غزل کی روایت کے اس احترام کے باوجود ناصر کا ایک اپنا اسلوب ہے اور جدید غزل کیموجودہ رجحانات کے پیش نظر ناصر کا یہ اسلوب ناقابل تقلید معلوم ہوتا ہے۔
ناصر کاظمی کی غزل میں دکھ کی ہلکی سی سلگتی ہوئی آنچ نظر آتی ہے۔ دکھ میں چھلبلاہٹ ہوتی ہے غصہ ہوتا ہے لیکن ناصر کے ہاں یہ چیزیں نہیں بلکہ دبی دبی کیفیت موجود ہے جو کہ میر کا خاصہ ہے۔ لیکن ناصر میر کی تقلید نہیں کرتا بلکہ صرف متاثر نظرآتے ہیں ۔ ناصر نے جو دکھ بیان کیے ہیں وہ سارے دکھ ہمارے جدید دور کے دکھ ہیں ناصر نے استعارے لفظیات کے پیمانے عشقیہ رکھے لیکن اس کے باطن میں اسے ہم آسانی سے محسوس کر سکتے ہیں۔ محض عشق نہیں بلکہ ہجرت ، جدید دور کے مسائل، اور دوسری بہت سی چیزیں ان کی غزلوں میں ملتی ہیں۔

وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

[ Fri 2 Mar 2012 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

در اثر حمله عوامل تروریستی سپاه صحابه به اتوبوس حامل شیعیان پاکستان که در منطقه کوهستانی «بهشادم» اتفاق افتاد، بیست تن از پیروان اهل بیت ـ‌ علیهم السلام ـ از جمله سه زن و سه کودک بی‌گناه به شهادت رسیدند. اتوبوس حامل شیعیان که از «راولپندی» به سوی «گلگت» در حرکت بود، در منطقه کوهستانی «بهشادم» شهر «چلاس بساری» در محاصره عوامل تروریستی سپاه صحابه قرار گرفت و بر اثر تیراندازی تروریست‌های سلفی تاکنون بیست نفر شهید و پنج نفر زخمی شده‌اند.

شرکت مسافربری «مشابرم» اعلام کرد: همه این مسافرین شیعه بودند که در میان آنان سه زن و سه کودک هم دیده می‌شوند.

شاهدان عینی به ابنا گفته‌اند: هشت تروریست که از پیش در کوه‌های پیرامون کمین کرده بودند، به سوی مسافران این اتوبوس تیراندازی می‌کردند.

بنا بر این گزارش، شهدا به سردخانه بیمارستان «شتیال» و زخمی‌ها به بیمارستان «چیلاس» منتقل شدند.

متأسفانه، به دلیل کوهستانی بودن منطقه و کوتاهی دولت پاکستان، اعضای سپاه تروریستی صحابه همچون همیشه، موفق به فرار شدند.
[ Tue 28 Feb 2012 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]

چین ہمارا بہت قدیمی دوست ہے لیکن جانے کیوں ہم اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ چین اپنی موجودہ ترقی کی قیمت پر ہماری کسی جنگ میں شرکت کرنے کو تیار ہو گا۔ چین کی ترقی کا آغاز اُس دن سے ہوا جب اُس نے انڈیا اور ویت نام کے بعد کسی ہمسائے کے ساتھ کسی بھی صورتحال میں جنگ نہ کرنے کی پالیسی اپنائی۔ تاحد یکہ فارموسا کے ساتھ چین کے تعلقات دنیا کے ہر ملک سے زیادہ قریب تر ہیں حالانکہ فارموسا، چین کا وہ حصہ ہے جو گزشتہ باسٹھ، تریسٹھ سالوں سے امریکی سامراج نے ایک علیحدہ ملک کے طور پر تخلیق کر رکھا ہے۔ 1949ء میں کیمونسٹوں سے شکست کھانے کے بعد چینی حکمران جنرل کائی شیک نے پیکنگ سے مفرور ہو کر فارموسا میں اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ امریکہ نے موجودہ چین کو تسلیم کرنے کی بجائے، فارموسا کو 1970ء تک سکیورٹی کونسل کا ممبر بنائے رکھا۔ اگر چین ہمارے دماغ سے سوچتا تو اُسے اپنی بے پناہ فوجی اور معاشی طاقت کے بل بوتے پر اپنے ملک کے جبراً علیحدہ کیے گئے حصہ پر فوراً قبضہ کر لینا چاہیے تھا لیکن اُس نے اِس طرز کی مہم جوئی سے گریز کیا۔ چینی قیادت کو اس حقیقت کا احساس ہوا ہو گا کہ اپنے اردگرد امن کی جو فضا اُنھوں نے انتہائی مشکل حالات میں تخلیق  کی، وہ توپ کا پہلا گولہ چلنے کے ساتھ ہی معدوم ہو جائے گی۔ اُنھیں فارموسا تو مل جائے گا لیکن وہ ترقی کی دوڑ میں تیس چالیس برس پیچھے کی جانب لڑھک جائیں گے۔ چنانچہ اُنھوں نے فارموسا پر قبضہ کرنے کی بجائے پوری دنیا میں اُس کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرنے اور مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ آج چین کی سب سے زیادہ ہمکاری اور سرمایہ کاری فارموسا کے ساتھ ہے۔ چین کو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ امن کی فضا ہی کسی ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔ باہمی ناچاقی کے باوجود چین اور انڈیا کا سالانہ معاشی ٹریڈ 62 بلین ڈالر کے قریب ہے جبکہ پاک چین دوستی کے باوجود ہمارا سالانہ ٹریڈ 12 بلین ڈالر تک ہے۔ یہ فرق اس حقیقت کا شاہد ہے کہ ترقی کے خواہاں ممالک امدادی بھیک مانگنے کی بجائے تجارت کو ترجیح دیتے ہیں اور جنگ کی بجائے امن کی پالیسی اپناتے ہیں۔ آج پاکستان کو بھی بھیک اور جنگ کی بجائے تجارت اور امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ملک کے اندر بھی اور باہر بھی۔   
اگر یورپ گزشتہ صدی میں تاریخِ انسانی کی دو خوفناک جنگیں لڑنے اور چھ کروڑ انسانوں کو میدانِ جنگ میں بم و بارود پر بھوننے کے باوجود آج باہمی معاشی اشتراک کا بہترین نقشہ پیش کر رہا ہے…اگر وہ ماضی کی شدید نفرتوں اور کشت و خون میں ڈوبا رہنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ معاشی نمو کے لیے تعاون کر سکتا ہے تو پھر ہمیں ہر ہمسائے کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے خواہ وہ چین ہو یا افغانستان…ہندوستان ہو یا ایران۔ ہمیں مشرقی اور مغربی سرحدات پر اپنی پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لینا چاہیے تاکہ ہمیں کسی جانب سے جنگ کا خطرہ درپیش نہ رہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اُس ملک کو خوش آمدید کہا جائے جو ہمارے ہاں صنعت لگانے اور ہماری ترقی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہو۔ قومیں اپنے مستقبل کی پالیسیاں، ماضی کے جذبات اور تاریخ کے ادھورے خوابوں پر ترتیب نہیں دیا کرتیں۔ جب تک ہم معاشی طور پر کسی دوسرے ملک کے محتاج اور دست نگر رہیں گے تب تک کوئی توپ، طیارہ یا بم ہماری آزادی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

[ Mon 27 Feb 2012 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
درباره وبلاگ

بلتستان واقع در نقطه تلاقی سه رشته کوه بزرگ هیمالیا، قراقروم و هندوکش است که در این منطقه به می رسند شیعیان در مناطق کارگیل ، بلتستان و تبت ساکن می باشند که سابقه حضور آنها به بیش از هفتصد سال قبل می رسد
در این وبلاگ به تاریخ و فرهنگ شیعیان بلتستان خواهیم پراخت، شیعیان بلتستان به علت تأثیر گزاری مستقیم بر جامعه شیعیان پاکستان دارای اهمیت فراوانند لهذا به تناسب بحث شیعیان پاکستان نیز بحث شده است
لينک هاي مفيد
امکانات وب
?