ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت و بلتستان اور اسکے ملحقہ علاقوں پر حق گلگتی و بلتی لوگوں کا مانتے ہوئے انہیں بالغ رائے دہی کا حق ملنا چاہیے تھا لیکن اسلام آباد نے ان پر ایک وائسرائے گورنر کی شکل میں نازل کر دیا۔ اسی لیے تو گلگت و بلتستان کی ایک سینئر سیاستدان کہتی ہیں 'ہم گلگت و بلتستان کے لوگ اب تک (حکمرانوں کی نظر میں) نابالغ ہیں کہ انہیں ووٹ کا بھی حق حاصل نہیں۔'
گلگت وبلتستان میں 'سیلف رول' کے نام پر اسلام آباد یا 'مضبوط مرکز' نے جو گورنر مقرر کیا ہے وہ بھی غیر بلتی یا غیر گلگتی لیکن صدر آصف علی زرداری کے دوست قمر زمان کائرہ ہیں۔ بالکل ایسے جیسے 'نیٹیِو' ہندوستانیوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے گماشتے بھیجا کرتی تھی۔
سندھ پر مقامی گورنر عشرت العباد، پنجاب پر مقامی پنجابی سلمان تاثیر، بلوچستان پر بلوچ نواب ذوالفقار مگسی، صوبہ سرحد یا پختونخواہ پر اویس غنی لیکن بلتستان و گلگت پر گونر گوجر خان! یاروں کے یار صدر کی یار نوازی کی ایک اور عظیم مثال۔
گلگت و بلتستان اور شمالی علاقہ جات کو پاکستان کے اعلی سول و فوجی حکام یا جنریلوں نے اپنے لیے پولو کے میدان سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہ اور بات ہے کہ گلگت و بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔۔۔ بقول شاعر:
'ہم جیئے بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی
مگر یہ نہ کھل سکا آّپ کی خوشی کیا تھی۔۔۔'
آگر کسی نے محاورتاً نہیں حقیقتاً گھاس کھا کر بھی پاکستان کے لیے دنیا کے برفانی چھت والے حصے یعنی سیاچن (جہاں بقول ڈکٹیٹر ضیاء گھاس بھی نہیں اگتی تھی) کی حفاظت کی تھی تو وہ گلگت و بلتستان کے نوجوان تھے۔ اس کے جواب میں گلگت و بلتستان کا کوئی فوجی برگیڈئير کے عہدے سے شاید ہی آگے بڑھا ہو (اگر بڑھتا بھی تو کیا کرتا!)۔ یہ کشمیر کے کیس میں گروی رکھے لوگ ہیں۔۔۔
'سیلف رول' کے تصور سے اس سے زیادہ بھونڈا مذاق کیا ہوگا کہ گلگت و بلتستان پر پہلے اسلام آباد سے وفاقی وزیر وائسرائے کی طرح حکومت کرتا تھا اور اب وہ اسلام آباد کے 'کیمپ آفس' سے ہی اپنے اس غیر حاضر زمیندارے کو دیکھا کریں گے۔۔۔
