ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست گاہ میں آئے اور چھا گئے ۔ ابھی تک وہ ہماری سیاست کے افق پر محیط نظر آتے ہیں ۔ انہوںنے سیاست میں وہ مقام حاصل کیا کہ اب ان کے مخالف بھی انہی کے انداز میں سیاست کرتے نظر آتے ہیں ۔ انہی کے سے نعرے الاپتے ہیں ۔ انہی کے لب ولہجہ اور انداز واطوار کو اپنانے کی  کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ ان کے مخالفین ان کی ہر بات پر تنقید کرتے تھے اورہر بات کو ناپسند کرکے مسترد کرتے دکھائی دیتے تھے ۔ وہ جلسہ عام میں عوام کو ہاتھ ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیتے تھے ۔ان کی پارٹی کے لوگ ہے جمالو کا نعرہ لگاتے تھے اور لڈی ڈالتے تھے ۔ یہ سب باتیں ان کے اکثر مخالفوں کو سخت ناپسند تھیں ۔ ان کی دونو ںیہی باتیں نا خوب سے خوب بن گئیں ۔ ان کے مخالفین نے چپکے چپکے یہی باتیں اپنا لیں ۔ گویا آج ہر سیاست دان سیاست میں انہی کی طرز کا پیرو دکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہ بات ہے جو سیاست کے ہرطالب علم کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاست کا مطالعہ کرے ۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی عوام سے1965ء کی جنگ میں متعارف ہوئے ۔ ان کی سلامتی کونسل میں کی گئی تقریروں نے عوام کو مسحور کردیا تھا۔ 1965ء کی جنگ شروع ہوئی تو ایوب خاں کی تقریر نے پوری قوم کو نہال کردیا ، مگر چند دنوں کے اندر اندر ایوب خاں کی تقریر پرانی ہو گئی ۔ اس کی شخصیت چند دنوں میں اس کپڑے جیسی ہو گئی جس کا رنگ کچا نکلے اور پہلی دھلائی میں مختلف رنگ ایک دوسرے پر مسلط ہو کر کپڑے کو بھدا اور بدرنگ بنا دیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سلامتی کونسل میں کی گئی تقریروں نے عوام پر ایسا سحر طاری کیا کہ تادیر باقی رہا ،مگر اس وقت میرے بچپن نے ان تقریروں سے جذبات اور جذباتیت پائے تھے ۔ جوش کا دریا تھا کہ پھر اترا ہی نہیں ۔ شاید ہمارے اجتماعی لاشعور میں جنگ اور فتوحات کا جذبہ اتنا شدید ہے جس نے ان تقریروں کو دلوں کے بہت قریب محسوس کیا ۔ ان کا یہ جملہ ہماری تاریخ سیاست کا حصہ بن گیا :
ہم ہزار سال تک لڑیں گے
1965ء کی جنگ کے ہیرو ذوالفقار علی بھٹو 1970ء کے الیکشن میں آئے تو بہت سے طبقات اور جماعتیں ان کے خلاف ہوچکے تھے ۔ ابھی ان کی پارٹی کا منشور سامنے نہ آیا تھا کہ 113علما کا فتویٰ بھی آگیا ۔ اس فتویٰ میں پیپلزپارٹی، عوامی لیگ، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام کو ووٹ دینا ممنوع قرار دیاگیا :
واجب القتل اس نے کیا ثابت
آیتوں سے روایتوں سے مجھے
یہ انتخاب ہماری تاریخ میں بہت کٹھن رہا تھا ۔ پورا معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا تھا ۔ اسلام پسند اور ترقی پسند دو دھڑے تھے کہ ہر جگہ نظر آتے تھے ۔ ایک دراڑتھی جو معاشرے میں ہر جگہ دور سے نظر آتی تھی ۔ یہ عمودی تقسیم ایسی خوفناک تھی جس نے افقی سطح پر بھی ملک کو تقسیم کردیا ۔ ملک دو حصوں میں بٹ گیا ۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور ہم یہ سوچتے رہے کہ وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہو ئے اور وہ ساحلوں پر گانے والے کیا ہوئے ۔ ناصر کاظمی یہ دکھ لے کر دنیا سے چل دئیے :
یہ ہم آپ تو بوجھ ہیں زمیں کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
1970ء کے الیکشن سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کے چار اصول طے کیے :
اسلام ہمارا دین ہے۔
جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
سوشلزم ہماری معیشت ہے ۔
طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔
جماعت اسلامی کے لوگوں کو موخرالذکر تینوں اصول کفر اور شرک نظر آئے کیونکہ ان کی نظر میں اسلام کا مقصد ہی ایک خاص نظام حکومت کا قیام ہے ۔ ان کی دینی تعبیر اسلام کو دین نہیں سمجھتی ، سیاست ہی سمجھتی ہے ۔ سیاست بھی وہ جو ان کے مفاد کی ہو۔ بھٹو کا سارا فلسفہ سیاست ہی ان کے نزدیک ممنوعات کے ذیل میں آتا تھا ۔ انہوں نے مخالفت کرنا تھی ، کرتے رہے ، البتہ ان کا لہجہ اور انداز جنگ کسی حوالے سے بھی اسلام کے مطابق تو خیر کیا ہوتا شرافت کے عام اصولوں پر بھی پورا نہیں اترتا تھا ۔ یہ لوگ دعائیں کرتے کہ پاکستان پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے جیسے انڈونیشیا کے مسلمانوں پر ہوا ہے ۔ مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک سوہارتو عطا کرے ۔ ان صاحب کے طویل دور حکومت میں جمہوریت ویسے ہی ممنوع رہی تھی جیسے ہمارے ہاں ضیا الحق کے دور میں ۔ ان بزرگوں کی دعائیں قبول ہوئیں یا ان سے کیے گئے وعدے ایفا ہوئے کہ سات سال بعد انہیں ضیاالحق کی صورت میں ایک سوہارتو مل گیا ۔
جماعت اسلامی اورپیپلزپارٹی کی فلاسفی میں بنیادی تضاد تھا ، لہٰذا ٹکرائو یقینی تھا مگر لطف یہ کہ کونسل مسلم لیگ ، کنونشن مسلم لیگ ، قیوم لیگ ، پی۔ ڈی ۔ پی اور تحریک استقلال جیسی جماعتیں بھی اسلام کی دہائی دینے لگیں ۔ ان سب جماعتوں کو اعتراض تھا پیپلزپارٹی کے سوشلزم پر، انہیں اس لفظ سے کوئی ایسی کد نہیں تھی ، بس ڈر تھا کہ کہیں ان کی بے حدو حساب دولت اور جائیداد میں کوئی دوسرا حصہ دار نہ بن جائے ۔ ذاتی ملکیت کچھ ایسی مقدس ٹھہری تھی کہ یہ جماعتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ہنگامہ آرا نظر آتی تھیں ۔ ان جماعتوں کو فتوے کی تائیدبھی میسر تھی ، اسلام کا نعرہ بھی موجود تھا، الیکشن میں کامیابی کے امکانات خاصے روشن نظر آئے ۔ اسی لیے یہ جماعتیں مل بیٹھ کر اتحاد کا سوچتیں، مگر اتحاد کر نہ پاتی تھیں کہ کوئی جماعت بھی جیتا جتایا الیکشن دوسری جماعت کی جھولی میں ڈا لنے کو تیار نظر نہ آتی تھی۔ الیکشن ہوا تو یہ جماعتیں آسمان سے زمین پرآرہیں۔
الیکشن میں ریڈیو ، ٹی ۔ وی تو سرکاری تھے اور سرکار مارشل لا کی تھی ۔ الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی باتیں شجر ممنوعہ کے ذیل میں آتی تھیں۔ نوابزادہ شیر علی خاں وزیر اطلاعات تھے ۔ پاکستان میں نظریہ پاکستان انہی نے متعارف کرایا تھا ۔ ریڈیو ۔ ٹی وی پر اس کی باز گشت سنائی دیتی تھی ۔ سنا تو یہ بھی تھا کہ نوابزادہ شیر علی خاں نے دائیںبازو کی جماعتوں کو خاصی مدد فراہم کی لیکن الیکشن کے نتائج ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے ۔
الیکشن ہو چکا تو نتائج مارشل لا حاکم کی مرضی کے خلاف نکلے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان سے جو نتائج سامنے آئے ، وہ بڑے پلان کے عین مطابق تھے ۔ ایوب خاں مرحوم کتنے ہی لوگوں سے کہہ چکے تھے کہ مشرقی پاکستان والے چاہیں تو الگ ہو جائیں ۔ جسٹس منیر بھی یہی روایت کرتے ہیں ، الطاف گوہر بھی ۔ الطاف گوہر نے یہ بات بار بار کہی ہے کہ ایوب خاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے خواہاں تھے ۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تو تھا نہیں ۔ اس میں کچھ بڑی قوتیں بھی شامل حال تھیں ۔ عالمی قوتوں کی رضا بھی ایسے ہی ہوگی ۔ مسئلہ تھا ذمہ داری کس پر ڈالی جائے ۔ اس مقصد کے لیے بھی کردار میسر آگئے ۔مجیب الرحمن غدار قرار پائے ۔ ملٹری ایکشن شروع ہوا ۔ جماعت اسلامی آمریت کی شراکت دار تھی ۔ وہ فوراً شریک اقتدار ہو گئی ۔ الیکشن ہار کر شریک اقتدار ہونا کیسا پر لطف تجربہ ہے ۔ یہ تو جماعت اسلامی والے بتا سکتے ہیں ۔ پھر رائو فرمان نے مشرقی پاکستان سے کچھ سیٹیں خالی کیں اور ان کی تقسیم یوں کی کہ اندھے کی ریوڑیاں بھول گئیں ۔ صفر پر آئوٹ ہونے والے بلا مقابلہ جیت رہے تھے ۔ قیوم لیگ ، کنونشن لیگ ، پی ۔ ڈی ۔ پی ، کونسل لیگ وغیرہ بھی مشرقی پاکستان سے بلا مقابلہ جیت رہی ہیں ۔ ایسے الیکشن ہمیشہ مذاق ہی ٹھہرتے ہیں ۔ آخر البدر اور الشمس کی رفاقت کے باوجود اے ۔ کے نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ جنرل یحییٰ خاں نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کیا اور خود چلتے بنے، مگر ان کی رخصتی کی رات ،شب بھر آتش دان میں آتش فروزاں رہی ۔ کے۔ کے عزیز نے ذوالفقار علی بھٹو سے کچھ ریکارڈ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یحییٰ خان کمپنی اور آتش دان کی طرف اشارہ کردیا۔ جب سچائی کا اظہار اشاروں اور استعاروں میں ہو تو جھوٹ سکہ رائج الوقت بن جاتا ہے ۔ بس کچھ ایسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو سقوط ڈھاکہ کے ملزموں میں شامل کیاگیا ۔ فیصلہ کرنے والے وہی تھے جو البدر اور الشمس کے نام بنگالیوں کی نسل کشی میں ہم نوائی کررہے تھے ۔

ہاں جرم وفا دیکھیے کس کس پہ ہے ثابت
بیٹھے ہیں ذوالعدل گنہگار کھڑے ہیں
حمود الرحمن کمشن رپورٹ آئی تو حقائق ، تہمتوں سے متضاد نظر آنے لگے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق کہا گیا کہ انہوں نے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا ۔ جس تقریر سے یہ جملہ برآمد کیا جاتا ہے ، اس میں یہ چار لفظ کہیں موجودنہیں ۔ پیپلزپارٹی نے مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن کی مخالفت نہیں کی تو البدر الشمس بناکر حمایت بھی تو نہیں کی تھی، مگر مارشل لائوں کو سقوط ڈھاکہ کا ایک عدد مجرم درکار تھا سو یہ رو سیاہی شہید بھٹو کے نام لکھی تھی ، مگر تاریخ ایسی تہمتوں کو تادیر برقرار نہیں رکھتی ۔ آخر کار یہ افسانہ قدیم ہوا اور سچ کا سورج طلوع ہوکر رہا ۔
ذوالفقار علی بھٹو سقوط مشرقی پاکستان کے بعد اقتدار میں آئے۔انتقال اقتدار رات کی تاریکی میں ہوا تھا ۔ ضابطوں کے بغیر ، قانونی تقاضوں کے بغیر ، ملک کو یحییٰ خان کمپنی سے نجات دلانا مقصود تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایسے میں ایک شکست خوردہ قوم کی قیادت سنبھالی چند ماہ بعد ایک عبوری آئین دے کر ملک کو جمہوریت دی اور پھر 1973ء کا آئین دے کر پہلا متفقہ قومی آئین دیا ۔ یہ پاکستانی قوم کا پہلا تحریری میثاق تھا ، جو ہمیشہ مارشل لائوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا ۔ ہر آمر اس آئین پر شب خون مارتا تھا ۔ نتیجہ یہ کہ آج اس کی شکل پہچاننا مشکل ہو رہا ہے ۔
ذوالفقار علی بھٹو جب انتخابی مہم پر نکلے تھے تو اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں صرف اخبار اور رسائل موجود تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تب میڈیا ٹرائل شروع ہوا جو کم از کم چوتھائی صدی چلا ۔1970ء میں زندگی اور چٹان دیکھنے کی چیز تھے ۔ لفظ لفظ گالی اور دشنام کا رنگ لیے ہوئے تھا ۔ حرف حرف اتہام اور دشنام تھا ۔ جب مرحوم بھٹو اقتدار میں آئے تو زندگی، اردو ڈائجسٹ وغیرہ نے وہی طرز ملامت جاری رکھی ۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے ، مگر کسی کا جعلی شجرہ چھاپنے والے اختلاف کرنا نہیں جانتے حکم دیتے ہیں ۔ یہی کام آج کل بعض اینکر پرسن کرتے ہیں ۔ فیصلے صادر کرتے ہیں ۔ حکم نافذ کرتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو جمہوری حاکم تھے ۔ ان کے فرمانبردار کیسے بنتے ۔
ذوالفقار علی بھٹو کے ساڑھے پانچ سال میں اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے اختلاف اور دشمنی کو ہم معنی بنا دیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آتے ہی بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلی ۔ یہ تحریک جن لوگوں نے چلائی تھی وہ پراسرار غازی بے تیغ لڑنا چاہتے تھے اور مومنوں کو شہادت کی تعلیم دے رہے تھے ۔ اب بندہ پوچھے کہ ایک مسلمان مملکت کو آپ نہ مانیں گے تو کیا وہ کل کلاں آپ میں ضم ہو جائے گی ۔ خیربڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ ایسے ہی بڑے خواب دیکھنے والوں کے اپنے خواب ۔
عوامی اقتدار کے مخالفین دن گنتے رہے اور حکومت کو ناکام کرنے کے لیے سازشیں بھی کرتے ر ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا اور اسمبلیاں توڑ دیں ۔ یہ موقع عوامی اقتدار کے مخالفین کے بہت سنہری تھا ۔ اپوزیشن کی وہ جماعتیں بھی یکجا کردی گئیں جو ایک دوسرے کو سلام کہنا اور مصافحہ کرنا ممنوعات میں سے خیال کرتی تھیں ۔ان کی یکجائی کو بعض سادہ لوح یک جہتی سمجھتے تھے ۔ ہمارے بعض انقلابی دوست بھی اس اتحاد میں جا بیٹھے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اس طرح انقلاب برپا ہوسکے گا ۔ نام تو اس اتحاد کا پاکستان قومی اتحاد تھا ، مگر اس کے اندر نفاق کی بھی خاصی گنجائش تھی ۔ الیکشن ہوا۔ پیپلزپارٹی الیکشن جیت گئی ، مگر ہار گئی ۔ پاکستان قومی اتحاد نے تحریک چلانے کا اعلان کیا اور نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر کا راستہ ہموار کردیا ۔ جنرل ضیا نوے دن کے وعدے پر اقتدار میں آئے ، مگر یہ نوے دن تب بھی نوے دن ہی تھے جب وہ گیارہ سال گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے۔
جنرل ضیانے ادھر تو نظام مصطفی کا نعرہ بلند کیا، ادھرپیپلزپارٹی کے لیے وہ غیظ وغضب ہو گیا ۔ ان کے گیارہ سالوں میں قرآن مجید کی اس آیت کا تذکرہ بہت کم سننے میں :اور ہم نے نہیں بھیجا ، مگر آپ کو رحمت للعالمین بنا کر ۔ اس دور میں حضور سرور کونین کا خطبہ حجة الوداع سنسر ہوا تھا۔ کسی کی کیا مجال جو کہہ سکتا کہ حضور تو
رحمت عالم رحمت عالمین تھے ۔ آپ کے نظام میں غیظ و غضب کیسا۔ اس عہد میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ایسے شخص کے قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیاگیا ، جو اب بھی زندہ ہے ۔ لوگ حیران ہیں کہ بھٹو مرحوم پرا لزام تھا کہ انہوں نے احمد رضا قصوری کے قتل کا حکم صادر کیا ۔ مقدمے کا دعویٰ تھا کہ محمد احمد خاں غلطی سے قتل ہوا ۔ نظام مصطفیٰ میں یہ قانون تسلیم شدہ ہے کہ قتل خطا کا قصاص نہیں ہوتا ، مگر یہاں تو صورتحال ہی عجیب تھی ۔ بھٹو مرحوم پر الزام جھوٹ کا پلندہ تھے اور نفرت کے جذبوں سے پھوٹے تھے ۔ ایسے سوالوں کا جواب کون دے اور ایسے الزامات کی صفائی کون دے :
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
ذوالفقار علی بھٹو پر جس عدالت میں مقدمہ چلا ، اس عدالت کا جج اپنی ہی عدالت کی توہین کیے جاتا تھا ۔ اس کی نفرت چھپائے نہ چھپتی تھی ۔ وہ سوال بھی کرتا اور الزام بھی عائد کرتا ۔ جن باتوں کا مقدمے میں تذکرہ تک نہیں تھا، وہ باتیں جج صاحب کیے جاتے۔ یوں نظر آتا تھا جیسے جج صاحب ذاتی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ جن لوگوں نے عدل کی کرسی کی توہین کی ، وہ دنیا سے جاچکے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ اپنی کوتاہ قامتی کا چلتا پھرتا اشتہار ہیں ۔ آخر ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لے جایاگیا ۔ وہ اس شان سے چلے کہ فیض کا شعر پہلی بار اپنے معنوں سے آشنا ہوا :
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو سوئے دار سے نکلے تو سوئے دار چلے
بھٹو نے کہا تھا کہ مجھے ہمالہ روئے گا ۔ہمالہ آج بھی انہیں رو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں چلا جائوں گا تو میری روح حکومت کرے گی ۔ وہ اس شان سے چل رہاتھا کہ اس کے ساتھ تاریخ محو خرام تھی ۔ وہ تختہ دار پر چڑھا تو سربلند ہو گیا ۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد سیاست میں قوم کو کیا دیا ۔ ہر شخص اپنے فہم کے مطابق اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہے ۔ میں اپنے انداز سے اس کا جواب ڈھونڈتا ہوں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے پہلے سیاست ڈرائنگ روم میں محدود تھی۔ وہ اسے میدانوں ، کھیتوں، کھلیانوں اور گلی کوچوں میں لے آئے ۔ زمیں دار سیاست کا حصہ بن گئے ۔

تحریر:امجد علی شاکر


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Sat 9 Apr 2011 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

یہ بات بہت پرانی ہے کہ جب انسان بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسکی نیند کم ہوجاتی ہے۔ کچھ ماضی کی غلطیاں اسے سونے نہیں دیتی ہیں اور کچھ مستقبل میں ہونے کا خوف اسے ہراساں رکھتا ہے۔ اس بیچ کے عرصہ میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ اتنا یاد نہیں رہتا ہے۔ اس عرصہ میں بڑے ہوتے ہوئے بچے اس سے دور ہوجاتے ہیں اور وہ ان ہی بچوں میں شبیہہ ڈھونڈتا رہ جاتا ہے۔
یہی حال کچھ اپنے پاکستان کا ہے۔ 63 سال کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا ہے۔ کئی حکومتیں آئیں اور کتنی چلی گئیں۔ کتنے لوگوں کی جانیں گئیں۔ کتنے ہی لوگوں نے مرمر کے اس پودے کو سینچا، پانی ڈالا اور ہرا بھرا رکھنے کی کوششیں کیں اور کتنے ہی لوگوں نے اسکے ہرے بھرے پتوں کو پیڑوں سے توڑ کر زمین پر پھینک دیا، کتنی ہی کلیوں کو روندا گیا اور تناور درخت بنتے بنتے اس پودے کی جڑیں سوکھنے لگیں۔ وجہ ہماری ہی غلطی ہے جس کا خمیازہ ہماری آنیوالی نسلیں بھگتیں گی۔ اس پودے کے پتے جب اپنے درخت سے ٹوٹ کر بکھرنے لگے تو اڑ اڑ کر دوسرے ملکوں میں جاکر بس گئے کہ کم از کم ہرے بھرے تو رہیں گے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔
آج کل ٹی وی پر ہر طرف اٹھو، جاگو، پاکستان'' اور نہ جانے کتنے ایسے ہی پروگرام دکھائے جا رہے ہیں۔ شائستہ واحدی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ صبح صبح اس پروگرام کو دیکھ کر خوش ہوں۔ مختلف لوگوں کی محاذ آرائی، خودنمائی، اچھے میک اپ اور اچھے کپڑوں کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔ خواتین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اینکر کے نت نئے ڈیزائن اور کپڑے دیکھ کر خوش ہوں۔ مختلف شوز میں ''لان میلہ'' کے پرنٹ دیکھنا دل کو خوش کر جاتا ہے مگر ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ اس پروگرام میں ''پاکستان کیسے جاگ گیا''… کیا  صرف ہنسی مذاق، باتیں، تبصرے پاکستان کو جگا دینگے۔ ہم کہاں سے اٹھ کر پاکستان کی قسمت بدل دینگے، کیونکہ پاکستان کی قسمت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ تو سو رہے ہیں۔ اچھا طرزعمل، اچھی تعلیم، اچھی سوچ، اچھے لوگ اور اچھی حکومت ہی پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے مگر لوگ ہی بیچارے کیا کریں جن کے پاس مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ جن کے پاس روٹی، کپڑا اور مکان جیسے وسائل کی کمی ہے۔ جن کے پاس اچھی عدالتیں نہیں، جن کے پاس قانون کے رکھوالے نہیں، جن کے پاس تعلیم نہیں، بلکہ تعلیم کے نام پر مذاق ہورہا ہے۔ جن کے چولہے بجھے رہتے ہیں۔ جن کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ جہاں پانی کی کمی رہتی ہے۔ ان ساری چیزوں کی کمی کے بعد بھی پاکستان کو جگائے رکھنا بہت ہمت کی بات ہے۔
ہم سب کو پتہ ہے کہ ساری چیزیں ناپید ہونے کے باوجود ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیونکہ ابھی آگے نہ جانے کتنی بڑی زندگی پڑی ہے جس کو صرف جھیلنا ہے اور 63 سال کے پاکستان کو ہلا ہلا کر جگانا ہے۔ اسکی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو سینچنا ہے اور کچھ کرنے کا وقت ہے۔
ابھی تھوڑے دن پہلے جاپان کے شہر سینڈائی میں اندوہناک زلزلہ اور پھر سونامی نے تو پورے شہر کو نیست و نابود کردیا۔ ایک قیامت بپا ہوئی اور ابھی تک اندازے کے مطابق تقریباً 18 ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔ ابھی تک نہ جانے کتنے لوگ غائب ہیں جن کو سمندر کی لہریں کھا گئیں۔ ایسی خبریں دیکھ کر تو دل تقریباً دھڑکنا بھول جاتا ہے مگر بعد میں مختلف کلپس میں لوگوں کا حوصلہ، انکی خاموش ہمت اور متحد ہو کر ایک جگہ کھڑے ہو کر انکی کارکردگی دیکھ کر دل عش عش کر اٹھا۔ تقریباً پندرہ ممالک کے بھیجے ہوئے امدادی کارکن اور امداد انکو حوصلہ دینے کیلئے موجود ہیں۔ ان حالات میں لوگ نہ کسی کو لوٹ رہے ہیں نہ جیبیں کاٹ رہے ہیں نہ سامان لیکر بھاگ رہے ہیں نہ ہی بے حوصلگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ قدرتی آفات ہر جگہ ہر ملک ہر شہر میں بپا ہوسکتی ہیں، ان پر تو کسی کا بس نہیں کیونکہ اللہ کے سامنے ہم سب مجبور ہیں۔ اسکی قدرت کب حساب دہ ہوجائے، کسی کو نہیں پتہ، سوائے ''توبہ'' کے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ مگر پاکستان میں سونامی جیسی چھوٹی چھوٹی آفات آرہی ہیں جو سب کو کھا رہی ہیں۔ کسی بھی وقت دھماکہ ہوجاتا ہے۔ چالیس سے پچاس لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ میں کتنے ہی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں اور اپنے پیچھے پورے خاندان کو مرنے کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔ کتنے ہی غربت کے ہاتھوں خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، کتنے ہی نوجوان جیلوں میں پولیس کے ہاتھوں مر جاتے ہیں مگر ان سب آفات کو ختم کرنے کیلئے باہر سے کوئی امداد نہیں آئیگی۔ ہم اپنے گھر کو ختم کرنے کیلئے خود ہی مجرم ہیں۔ تو پھر باہر سے کسی مدد کا انتظار کیوں؟
پاکستان میں زلزلہ آیا، طوفان آیا، سیلاب آیا، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے اصولوں پر سب کام کئے مگر ان میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے مدد کے نام پر خوب نوچا کھسوٹا، غریبوں کو تو شاید چار آنے کا بھی فائدہ نہیں ہوا مگر نہ جانے کتنے لوگوں کی تجوریاں بھر گئیں۔ جن کے گھر بنے تھے بہہ گئے مگر دوسری طرف لوگوں کے گھر اور اونچے ہوگئے اور بیچارے جو ان چیزوں کا شکار ہوئے وہ ابھی تک کسمپرسی کی زندگی گزار ر ہے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو کیسے جگایا جائے؟ جہاں کے وزیر پارلیمنٹ میں بیٹھے بیٹھے سو جاتے ہیں۔ جن کو کسی آفات کا ڈر نہیں، جن کو کسی مسئلہ سے دلچسپی نہیں، انہیں ایسی ہی نیند آجاتی ہے۔ ''اٹھو، جاگو پاکستان'' جیسے کسی پروگرام میں یہ کلپس دکھائی گئیں اور سوال تھا کہ کون گہری نیند سو رہا ہے؟ یہ دیکھ کر شرم تو آئی مگر افسوس زیادہ ہوا کہ جب پورا پاکستان بھوک، غربت، بیروزگاری، لاچاری، بے کسی سے جاگ رہا ہے تو یہ کیوں سو رہے ہیں؟ اسکو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ''اٹھو، جاگو پاکستان'' جیسے پروگرام بار بار دکھائے جائیں کہ شاید یہ کبھی جاگ جائیں۔


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Wed 30 Mar 2011 | 10 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
چائے کے کپ کے ساتھ ورلڈ کپ کو ملانا ایسا ہی ہے جیسے شہزادہ سلیم کے ساتھ زرداری کا نام لینا۔ قذافی،حسنی مبارک،ریمنڈ ڈیوس،نواز شریف کا10 نکاتی ایجنڈا،شاہ محمود قریشی سب کو ڈالو بھاڑ میں اور بس دیکھو ورلڈ کپ۔جہاں کرکٹ شروع وہاں باقی سب کوڑا کرکٹ۔جب تک پاکستان جیتتا رہے تالیاں،جہاں ہارا وہیں گالیاں۔انقلاب نہیں لانا ابھی تو صرف ورلڈ کپ لانا ہے۔حکمراں خزانہ لوٹیں،پنجاب اسمبلی لوٹے خریدے،قوم کو فکر نہیں۔عمران خان نوجوانوں کو سڑکوں پر لانے کیلئے بے چین ہیں تو نوجوان آفریدی کے چھکے دیکھنے کیلئے بیتاب۔الطاف حسین ،عمران اور نواز کو نہ پٹا سکے تو چلو سرفراز نواز ہی سہی،سرفراز کے پاس پہلے فلموں کی رانی تھی تو اب سیاست کا راجہ ہے۔سب خوش کہ چلو کرکٹ کے سیزن میں ایک سابق کپتان ہی ہاتھ لگ گیا۔اب ایم کیو ایم سرفرازنواز سے عمران خان کے چھکے چھڑوائے گی۔کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ کوئی نئی بات نہیں۔دونوں میں سات خون معاف۔ اب تو ”ایک ہی نعرہ ہے --- ورلڈکپ ہمارا ہے“۔ ورلڈکپ کے آتے آتے دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے ہمیں کیا۔ سیلاب کے متاثرین ٹھنڈ سے مرجائیں،ورلڈکپ کے بعد دیکھیں گے،ریکوڈک معاہدہ ہو جائے گا،فائنل کے بعد سوچیں گے،امریکہ ریمنڈ کو نسوار میں زہر دے دیگا،سیمی فائنل کے بعد احتجاج کرلیں گے ،ڈرون حملوں اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ،خیال رکھنا میچ متاثر نہ ہو ورنہ عوام بدک جائے گی۔کرکٹ میں جیت کیلئے کروڑوں ہاتھ دعا مانگنے کیلئے اٹھ گئے،ٹارگٹ کلرز کومارنے کیلئے ایک بھی آہنی ہاتھ نہ اٹھا۔ زرداری کو جاپانیوں سے مطلوبہ "بھیک" حاصل کرنے میں ناکامی،کوء بات نہیں ہمارا حدف تو کامران اکمل کو کامران دیکھنا ہے۔ (مرزا یاسین بیگ ، کینیڈا)
موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Thu 3 Mar 2011 | 5 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
          
        عربوں سے ایک آواز اُٹھی ہے
        اور پوری مسلم دنیا کے
        اپنے قد سے،اپنے جد سے اونچی باتیں کرنے والے
        کہنہ بالشتیے کانپ رہے ہیں
        یہ ہوا میں تلواریں چلانے والے
        بنی اُمیہ سے لے کر بنو طالبان تک کے خفتہ مربی
        ڈر کے مارے ہانپ رہے ہیں
        کہ اب کی بار اِن کے دماغوں پر لپٹی رسی،گلے کا ہار بنے گی
        اب صحراﺅں،کوہستانوں حتی کہ ارضی جہنم کے تمام کونوں میں
        مستضفین کی نہتی ٹولیاں
        اپنے اپنے خنزیروں کاانتخاب کر چکی ہیں
        پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر چکی ہیں
        اب تو صرف آواز کی دیر ہے
        کب ،کہاں اور کون پہلے سنتا ہے
        ارحل یاخنزیر،ارحل یا خنزیر،ارحل یاخنزیر
موضوعات مرتبط: محمد نظیر عرفانی

تاريخ : Fri 4 Feb 2011 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے سینئر پارلیمینٹرین پیر سید کرم علی شاہ کو گلگت بلتستان کا گورنر مقرر کردیا گیا

صدر آصف علی زرداری نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔پیر سید کرم علی شاہ کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل اشکومن سے ہے۔وہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے واحد رکن ہیں جو گزشتہ چالیس سال سے مسلسل اسمبلی کے انتخابات جیتنے کا اعزاز رکھتے ہیں

محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پیر کرم علی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو بھی رہے ۔ان کا شمار ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ ملنے کے بعد ڈاکٹر شمع خالد گورنر کے عہدے پر فائز ہوئیں جو چار ماہ بعد ہی علالت کیباعث انتقال کرگئیں تھیں جس کے بعد قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر وزیر بیگ گزشتہ تین ماہ سے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Fri 4 Feb 2011 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی قدر ہے کہ

’حسین (ع) مجھ سے ہے اور میں حسین (ع ) سے ہوں۔‘

امام حسین (ع) کا انتخاب اللہ تعالی نے اپنے دین کی دائمی بقا کی خاطر فرمایا اور امامِ عالی مقام نے اللہ تعالی کی جانب سے دی گئی اس ذمہ داری کو یوں نبھایا کہ رہتی دنیا تک اللہ کا مقبول دین محفوظ کر دیا۔ ۱۰ محرم 6۱ ھ کی صبح تک مذکورہ بالا حدیث کے تحت امام حسین (ع) اپنے نانا (ص) سے تھے اور اسی خون آشام شام کے بعد نانا (ص) کی پہچان، حسین (ع) کے زریعے سے ہی ممکن پائی۔ امام حسین (ع) نے جلتی ہوئی زمین کو سجدے سے سجا کر اور نوکِ نیزہ پر کلامِ الہی کو سنا کر نانا سے کئے ہوئے وعدے کو نبھایا اور دینِ الہی کو تا شامِ قیامت سرفراز کر دیا۔ شامِ غریباں کے ہنگام کے بعد آپکے فرزند جناب علی زین العابدین (ع) اور آپکی ہمشیرہ جناب زینب (س) نے آپکے مشن کا بار اپنے کاندھوں پر سنبھالا اور اپنے معرکةالآرا خطبات اور دلسوز مراثی کے زریعے سے جہاں باطل کو بے نقاب کیا، وہیں مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ کر غمِ حسین (ع) منانے کی ایسی داغ بیل ڈالی، جسکا سلسلہ کل کائنات میں چودہ صدیوں سے ہنوز اسی شان و شوکت سے جاری ہے اور انشاءاللہ تا قیامت جاری رہے گا۔

دنیاکے ہر گوشے میں موجود ہر با ضمیر قوم اپنے محسنین کی یاد اپنے اپنے انداز میں مناتی ہے۔ عموماً کربلا کی یاد دنیا کے طول و عرض میں ماہِ محرم میں منائی جاتی ہے، مگر پاکستان کے شمالی علاقہ بلتستان میں اس عظیم واقعے کو شمسی تقویم کے تحت اسد کے مہینے میں بھی منایا جاتا ہے۔ اس مظہر کاتاریخی پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات تمام سال سردی کی لپیٹ میں رہتے ہیں اور عموماً ان علاقوں میں ماہِ محرم سردی کی شدت کے ایام میں آتا ہے۔ ان علاقوں کے مذہبی رہنماوں اورعلما ئے کرام نے عوام کی باہمی مشاورت سے ان ایام کو شمسی تقویم کے تحت ہجری تقویم کے ساتھ گرمی کے موسم میں بھی منانے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ محرم کا واقعہ شمسی تقویم میں ماہِ اسد میں پیش آیا تھا، سو کشمیر میں محرم کے علاوہ اسد میں بھی ایامِ عزا ءمنانے کے رواج نے فروغ پایا۔ یوں یہ سلسلہ کشمیر سے چل کر بلتستان آیا اور قریباً ایک صدی سے یہ عشرہءاسد تمام بلتستان میں مذہبی جوش و جذبے اور دینی حمیت کے ساتھ منا یا جاتا ہے۔ امسال بھی یہ عشرہ ۱۰ اسد تا16 اسد بمطابق یکم اگست تا سات اگست منایا گیا جسمیں بلتستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں مجالسِ عزااور ماتمی محافل منعقد ہوئیں، جن سے ملک کے جید علمائے کرام نے خطاب فرمایا۔ اسد عشرے کے سلسلے کا ایک ماتمی جلوس ۴ اگست کو سکردو کے نواحی گاﺅں گمبہ میں برآمد ہوا جسمیں دن بھر علمائے کرام نے مجالسِ عزا سے خطاب کیا اور بلتستان بھر کی قریباً ۳۵ ماتمی انجمنوں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کی اور قریباً پچاس ہزار عزاداران نے پرسہ پیش کیا۔

اسی سلسلے کا بڑا جلوس ٧ اگست بمطابق ۱۶ اسد کو سکردو شہر میں بر آمد ہوا جسمیں سکردو، گلگت، ہنزہ، خپلو، گھانچے اور استور سے قریباً ۷۰ سے زائد ماتمی انجمنوں اورکم و بیش ڈیڑھ لاکھ عزادارانِ امامِ مظلوم نے شرکت کی اور نواسہءرسول (ع) کے حضور نذرانہءعقیدت پیش کیا۔ قراقرم اور ہمالیہ کے بلندوبالا پہاڑی سلسلوں کے دامن ’یا حسین‘ کی لافانی صداوءں سے گونجتے رہے اور اسلام کی فتحِ مبین کا ڈنکا بجاتے رہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یزید کے ارادے خاک میں مل گئے، حسین (ع) کے نانا کا دین آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا ااور ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑ بھی حسین (ع) کے علمدار عباس (ع) کے زیرِ دست ہیں۔

آن لائن اردو انٹرنیشنل میں جناب ذیشان مہدی نے بلتستان میں عزاداری کی تاریخ اس طرح لکھی ہے

ظہورِ اسلام سے قبل بلتستان (بالتی یول) کے لوگ پہلے زرتشتی مذہب، اس کے بعد بون چوس (تبت کا قدیم مذہب) اور اس کے بعد بدھ مت کے پیروکار تھے۔ بلتستان میں اشاعت اسلام کا سہرا عام طور پر امیر کبیرسید علی ہمدانی کے سر باندھتے ہیں تاہم ان کے بلتستان آنے کے تاریخی شواہد کسی کے پاس نہیں۔ سید علی ہمدانی کے کشمیر آنے کا ذکر 1373ء میں ملتا ہے جب وہ شاگردوں اور مریدوں کی بڑی تعداد کے ساتھ آئے تھے۔ بعض دیگر لوگ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی بلتستان آمد کا دور 1437ء سے 1446ء بتاتے ہیں اور اسی دور کو بلتستان میں اشاعت اسلام کے ابتدائی دور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس وقت سکردو پر غوتہ چو سینگے نامی راجہ حاکم تھا۔ تاہم اس سے قبل 1190ء میں مقپون ابراہیم نامی مسلمان راجہ کا نام بھی ملتا ہے۔ اس راجہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شاید مصر کی طرف سے بھاگ کر بلتستا ن آیا تھا اور اپنی منفرد شخصیت کی بنا پر یہاں کا حاکم بنا۔ یہی راجہ بلتستان کے معروف راجہ خاندان مقپون کا بانی بتایا جاتا ہے۔ مقپون بوخا کے دور میں (1490ء سے 1515ء) میر شمس الدین عراقی بغرض تبلیغ اسلام سکردو آئے اور کئی مؤرخین نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ اسی دور میں بلتستان میں باقاعدہ اشاعت اسلام ہوئی۔ مقپون بوخا کا بیٹا شیر شاہ خاص طورپر میر شمس الدین عراقی سے متاثر تھا اور اس نے ان کی مریدی اختیار کر لی تھی، بعد میں 1515ء میں جب وہ خود برسر اقتدار آیا تو اس نے اسلامی رسومات کے فروغ اور اشاعت اسلام کے لیے سرکاری وسائل فراہم کیے۔ اسی دور کو بلتستان میں عزاداری کا ابتدائی دور کہا جا سکتا ہے۔ بعد میں بلتستان کے معروف راجہ علی شیر خان انچن (1588ء تا 1625ء) کے دور میں دیگر علوم و فنون اور رسوم و رواج کے ساتھ ساتھ رسمِ عزاداری اور فن شاعری کو بھی عروج ملنا شروع ہو گیا۔

اندازہ لگایا جاتا ہے کہ میر شمس الدین عراقی نے خاص طور پر تشیع کی تبلیغ کی اور عزاداری کو بھی فروغ دیا۔ اسی نسبت سے یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بلتی زبان و ادب نے یہاں سے نیا دور شروع کیا۔ اس سے قبل صدیوں سے بلتستان کی زبان بلتی میں شاعری ہو رہی تھی مگر یہ آزاد شاعری تھی۔ اس شاعری کو مقامی زبان میں خلو کہا جاتا ہے جو آج کل غزل کے لیے مستعمل ہے۔ بلتی زبان بلتستان، کرگل لداخ، بھوٹان، سکم اور شمالی نیپال میں مختلف بولیوں کی شکل میں بولی جاتی ہے جبکہ بھارت کے بعض شہروں اور چین کے چار مختلف صوبوں میں بھی اس زبان کے بولنے والوں کی کچھ تعداد کی موجودگی کا بتایا جاتا ہے۔ اس زبان کا رسم الخط 632ء میں اس وقت کے راجہ کے حکم پر تھونمی سامبھوتہ نامی ایک شخص نے ہندوستان جا کر سنسکرت کے مطالعہ کے بعد وضع کیا ۔اس کی ہندی کی طرح کی لکھائی ہے اور بائیں سے دائیں لکھا جاتا ہے۔ اشاعت اسلام تک یہ زبان اور رسم الخط پورے تبت میں رائج تھا اور اس کا ادبی ذخیرہ بھی مشترکہ تھا مگر تبلیغ اسلام کے ساتھ ہی بلتی زبان نے تبت سے الگ ہو کر اپنا الگ سفر شروع کیا۔ بہت جلد لوگوں نے اس زبان کے رسم الخط کو بھی بدھ مت کی نشانی سمجھ کر ترک کر نا شروع کیا جس کی وجہ سے یہ زبان بے قاعدگی کا شکار ہو گئی اور اس نے زبان کی سطح سے گر کر بولی کی حیثیت اختیار کر لی۔ بعد میں فارسی رسم الخط کو بلتی زبان کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ رسم الخط کے متروک ہو جانے کے باعث بلتی زبان کا ادبی سرمایہ بھی ضائع ہو گیا۔ اسی سبب 1840ء تک کے بلتی شعر و ادب کا مستند ریکارڈ دستیاب نہیں البتہ 1736ء اور 1776ء کے دور کی کچھ فارسی/ بلتی تصانیف دستیاب ہیں، تاہم یہ طے ہے کہ اس دوران یہاں کی شاعری اپنا سفر طے کرتی رہی۔اشاعت اسلام کے بعد بلتی زبان کی بہت سی ادبی اصطلاحات فارسی کی جگہ فارسی زبان کی اصطلاحات نے لے لی۔ پہلے پہل بلتی غزل (خلو) کو مقامی اسلامی اصطلاح کے مطابق ”خدا پی خلو“ کہا گیا، اسی طرح نعت کو ”رسول پی خلو“ اور منقبت کو” امام پی خلو“ کہا جانے لگا۔ 1840ء میں جب ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں سکردو کی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو یہاں کی شاعری نے بھی کروٹ بدلی اور اپنے سنہرے دور کا آغاز کیا۔ اس سے قبل یہاں کی شاعری زیادہ تر لوک گیتوں تک محدود تھی تاہم ان لوک گیتوں میں ہر قسم کے موضوعات کو شامل کیا جاتا تھا۔

1840ء میں سکردو پر مپقون احمد شاہ حکومت کرتا تھا اور بعض بزرگوں کے مطابق اسی دور میں سکردو میں امام بارگاہ کلاں کے نام سے پہلی امام بارگاہ بنی جس کے بعد امام بارگاہ لسوپی اور امام بارگاہ کھرونگ تعمیر ہوئیں۔ پہلی امام بارگاہ کی تعمیر کے ساتھ ہی باقاعدہ عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا اور امام بارگاہ سے تعزیے کا جلوس برآمد ہونے لگا۔ اس سے قبل مجالس حکمرانوں کے درباروں میں ہوتی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقپون راجاؤں نے عزاداری کے فروغ کے لیے ہر طرح کے وسائل فراہم کیے اور بہت سارے علما و ذاکرین اور شعرا کو اسی مقصد کے لیے جاگیریں عطا کر دیں۔ دستیاب تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس وقت ڈوگروں نے سکردو کی حکومت کا نظم و نسق اپنے ہاتھوں لیا تو روز عاشور کے جلوس پر انہوں نے کسی قسم کی پابندی عائد نہ کی بلکہ انہوں نے عزاداری کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جب جلوسِ عزا امام بارگاہ کلاں کے نزدیک پہنچتا تھا تو ڈوگرہ فوج کا ایک خصوصی دستہ تعزیہ اور عَلم کو سلامی (گارڈ آف آنر) پیش کرتا تھا اور جلوس کے اختتام تک احتراماً اپنی سنگینوں کو سرنگوں رکھتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی کافی عرصہ تک پاکستانی فوج عزاداری کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرتی رہی۔ آزادی کے بعد سکردو میں متعین ہونے والے فوجی یونٹ چھاؤنی سے اپنا الگ ماتمی دستہ بھی نکالتے تھے۔ 1840ء میں ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں قید ہونے والے سکردو کے آخری راجہ احمد شاہ مقپون کے چار بیٹے حسین علی خان محب، لطف علی خان عاشق، ملک حیدر بیدل اور امیر حیدر مخلص نے کشمیر میں قید اور نظر بندی کے دوران بے مثال شاعری تخلیق کی۔ بعد میں لطف علی خان عاشق کے فرزند محمد علی خان ذاکر نے بھی شاعری شروع کی۔ محب اور ذاکر کو آج بھی بلتستان میں رثائی ادب کے حوالے سے انیس اور دبیر کا درجہ حاصل ہے۔ ان شعرا نے دیگر موضوعات کے علاوہ خصوصی طور پر بلتی ادب کے دامن کو نوحہ، مرثیہ اور منقبت کی دولت سے مالا مال کر دیا۔ بعد میں حیدر خان حیدر، مراد خان اماچہ، بوا عباس، بوا جوہر، اخوند خدایار، سلطان شاہ، حاتم خان حاتم، ظفر علی خان ظفر، بوا اسفندیار، راجہ محمد علی شاہ بیدل، اخوند حسین، اخوند حسن، محمد علی خان واحد، بوا شجاع، غلام مہدی مرغوب سمیت بے شمار شعرا نے نوحوں سمیت دیگر کئی اصناف میں بلتی شاعری کے حسن میں اضافہ کیا ۔ آج بھی بلتستان میں راجہ محمد علی شاہ صبا، غلام حسن حسنی، غلام مہدی شاہد سمیت کئی شعرا شاندار بلتی شاعری تخلیق کر رہے ہیں۔

1948ء میں اہالیان بلتستان نے ڈوگرہ فوج سے آزادی حاصل کر لی اور بلتی شاعری کے ساتھ ساتھ رسوم و رواج نے ایک اور کروٹ لے لی۔ جنگ آزادی کے دوران بلتیوں کی بڑی تعداد ہندوستان کے کئی شہروں سے ہجرت کر کے بلتستان آئی۔ ان میں بعض نے سکردو میں عَلم، تعزیے اور ذوالجناح کے ماتمی دستے نکالنے کا سلسلہ شروع کیا۔ بعض بزرگوں کے مطابق موضع سکمیدان کے سید محمد اور محمد جو ڈار و دیگر وہ ابتدائی لوگ تھے جنہوں نے بہت چھوٹی عمر میں 1951ء، 1952ء میں اردو نوحہ خوانی شروع کی، تاہم بعض اس سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یولتر کے غلام مہدی مرغوب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے1951ء میں اردو ماتم کا سلسلہ شروع کیا۔ مرغوب بلتستان میں غزل گو شاعر کی حیثیت سے مشہور ہیں تاہم انہوں نے نوحے بھی لکھے جن میں سے بعض کو بڑی شہرت ملی۔ بعد میںسندوس کے محمد حسین شملوی نے بھی اردو نوحہ خوانی شروع کی۔ جنگ آزادی کے بعد موضع سکمیدان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ذاکر علی جو ملک، جو کہ کافی عرصہ قبل سکردو سے شملہ جا چکے تھے، واپس آئے۔ پہلے انہوں نے بری ہاتو نامی جگہ پر ایک امام بارگاہ کی بنیاد رکھی اور مجلس کا سلسلہ شروع کیا، بعد میں 1952ء میں انہوں نے محلہ سکمیدان میں باقاعدہ اردو نوحہ خوانی شروع کی۔ ان کی اہلیہ بھی نوحہ خواں تھیں۔ ذاکر علی جو ملک کو بلتستان میں اردو ماتمی سلسلہ اور جدید ماتمی روایات کے بانی کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے دستہ آل عبا  کے نام سے اردو ماتمی دستہ نکالنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دور میں ان کے پڑھے ہوئے نوحے ”دین محمدی کے وارث واری ترے ہم جائیں، اولاد پیمبر کا دشمن زمانہ سارا“ سمیت کئی دیگر نوحے بہت معروف ہوئے جو آج تک لوگوں کو یاد ہیں۔ ان کے گھر میں یکم محرم سے عاشورہ تک خواتین کی جبکہ 14محرم سے چہلم امام حسین تک مرد مجالس منعقد کرنے لگے، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

عابد ملک کے دور میں مقامی شعرا نے نوحے میں نئے تجربات کیے اور آج نوحے کی شاعری کے حوالے سے بلتستان کو خاص مقام حاصل ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق بلتستان میں اہل زبان کے پائے کے اردو نوحے تخلیق ہو رہے ہیں۔ آج سکردو کی تمام ماتمی انجمنیں اپنی کیسٹیں اور سی ڈیز ریلیز کرتی ہیں جن میں سال بہ سال نئے اور منفرد نوحے شامل کیے جاتے ہیں۔ عابد ملک کا بیٹا الطاف ملک ان دنوں نو عمر ہیں لیکن اپنی خاندانی راویت کو زندہ رکھنے کے لیے دستہ آل عبا میں نوحہ خوانی کرتے ہیں۔ ذاکر علی جو مرحوم کی دونوں بیٹیاں بھی نوحہ خواں ہیں۔ ایک عرصے تک دونوں بہنیں اپنے گھر میں ہونے والی مجالس میں اردو بلتی نوحے پڑھتی تھیں اور آج ان کی دیکھا دیکھی بہت ساری خواتین اس میدان میں آگئی ہیں۔ ان کے چھوٹے فرزند عاشق ملک اس وقت سکردو میں ایک ماتمی دستہ ”دستہ حیدریہ“ میں نوحہ خوانی کرتے ہیں جہاں ان کے بعض بیٹے بھی ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ شمسی مہینہ اسد میں سکردو میں خصوصی عاشورہ منایا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے کم و بیش ایک لاکھ سے زائد عزادار شرکت کرتے ہیں اور اس ماتمی اجتماع کو جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ماتمی اجتماع قرار دیا جا تا ہے۔

بلتستان میں شروع میں آداب مجالس ایرانی طرز کے تھے، بعد میں ان میں کشمیری روایات بھی شامل ہو گئیں۔ بلتی مجالس کی روایات کے مطابق مجلس کے آغاز سے پہلے عزا خانے کے اوپر کی طرف ممبر کے گرد ایک دائرہ بنا کر علما، ذاکرین اور نوحہ خوانوں کے علاوہ بزرگوں کو بٹھادیا جاتا ہے۔ ان کے پیچھے باقی لوگ ترتیب وار بیٹھ جاتے ہیں۔ مجلس کے آغاز کے ساتھ ہی تمام شرکا اپنی ٹوپیاں اتار دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے سروں پر چادریں ڈال لیتے ہیں، جس کے بعد مرثیہ خوان (بلتی زبان میں) پہلے دومصرے بیٹھ کر پھر کھڑے ہو کر مرثیہ کے باقی شعر مخصوص لے میں پڑھتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ نوحے فارسی زبان میں تھے، بعد میں مقامی شعرا نے بلتی نوحے لکھے جبکہ کشمیری نوحے بھی پڑھے جاتے تھے۔ بعض مقامات پر آج بھی کشمیری نوحے پڑھے جاتے ہیں۔ مجلس کے اختتام پر تبرکات کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں عام طور پر پتلی روٹیوں(چپاتی) کے ساتھ حلوہ، گوشت اور مقامی روٹیاں کلچہ، اذق وغیرہ پیش کیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ مقامی نمکین چائے بھی پیش کی جاتی ہے۔ نویں محرم کو حضرت عباس  کی مجلس خصوصیت کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے، اس رات مختلف امام بارگاہوں میں شب عاشور کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں اور بعد میں ماتمی جلوس برآمد کیے جاتے ہیں اور یوں رات بھر ماتم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بعد میں کم و بیش تمام لوگ کالے لباس میں ملبوس ہو کر امام بارگاہوں کا رُخ کرتے ہیںجہاں مجالس کے بعد تعزیہ، عَلم اور ذوالجناح کے جلوس نکالے جاتے ہیں اور جلوس کے ہمراہ نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہوئے سکردو شہر میں قائم شبیہ زیارت گاہ امام حسین  (قتل گاہ شریف) کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ شہر کی مختلف امام بارگاہوں سے نکلنے والے جلوس کے شرکا نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد دوبارہ ماتم کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ جلوس کے شرکا قتل گاہ شریف کی زیارت کے بعد واپس اپنی اپنی امام بارگاہوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جہاں مجالس شام غریباں منعقد کی جاتی ہیں۔ شام غریباں کی مجالس میں معروف بلتی شاعر بوا محب کا لکھا ہوا نوحہ ”دنیا دی کھڑم ان پا بیا چس چی بیو“ خصوصیت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ جلوس کے دوران اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ راستوں میں تبرکات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسی سبب بلتستان کا پر امن معاشرہ پورے ملک کے لیے مثال ہے۔ بلتستان میں پورے ملک کے برعکس سال میں دو دفعہ عاشورہ منایا جاتا ہے۔ پہلا محرم میں منایا جاتا ہے جبکہ دوسرا عاشورہ شمسی حساب سے ماہ اسد میں منایا جاتا ہے۔ اس میں بعض مقامات پر دس دن جبکہ بعض مقامات پر پانچ دن کی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ہر سال اگست کی پہلی تاریخ یا اسی کے آس پاس عاشورہ منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ واقعہ کربلا اسی موسم میں رونما ہوا تھا۔ اسد میں سکردو شہر میں 25 کے قریب ماتمی دستے برآمد ہوتے ہیں

قمر رضا۔اسلام آباد

موضوعات مرتبط: تاریخ بلتستان

تاريخ : Fri 4 Feb 2011 | 11 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
"محمد علي دوراني " *و عضو مجلس سناي پاکستان با اشاره به تاثير رهبري امام خميني (ره) در شكل‌گيري انقلاب اسلامي در ايران، ايشان را يكي از بزرگترين رهبران طول تاريخ خواند.
سناتور پاكستاني در پاسخ به اين سئوال كه بعد از حدود 3 دهه از عمر انقلاب اسلامي ايران آن را چگونه ارزيابي مي‌كنيد، پاسخ داد: انقلاب ايران همچنان موفق عمل مي‌كند و مردم ايران نيز از آن سود مي‌برند.
وي افزود: ملت ظلم ديده و سركوب شده ايران براي احقاق حقوق خود بسيج شدند و اين منجر به انقلاب در اين كشور شد و تاريخ ثابت كرده است رهبران انقلابي آن در مسير صحيحي حركت مي‌كنند.
عضو مجلس سناي پاكستان تصريح كرد: بدون رهبري امام خميني فكر نمي‌كنم هيچ انقلابي در ايران صورت مي‌گرفت و شخصيت دورانديش امام خميني مردم ايران را در مسير صحيحي هدايت كرد.
وزير سابق اطلاع رساني پاكستان گفت: اگر جهان اسلام بخواهد با احترام و عزت زندگي كند، انقلاب اسلامي ايران درس‌هاي زيادي دارد كه به آنها بياموزد.
وي تاكيد كرد: ايران ثابت كرد يك كشور مي‌تواند بدون حمايت ابرقدرت‌ها راه خود را ادامه دهد و كشورهاي مسلمان بايد ايران را در اين رابطه الگو قرار دهند.
دوراني در پايان گفت: با وجود اعمال تحريم‌هاي مختلف عليه ايران، اين كشور نه تنها توانسته است مشكلات را پشت سر بگذارد بلكه با غرور و سرافرازي نيز به راه خود ادامه مي‌دهد.

موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Fri 4 Feb 2011 | 11 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
هیلاری کلینتون  وزیر امور خارجه آمریکا، در یک تلگراف سری، اعلام کرد که عربستان  سعودی از پدید آمدن مثلث شیعی متشکل  از ایران، پاکستان،) که ریاست جمهوری آن را آصف علی زرداری شیعی مذهب بر عهده دارد( و عراق تحت حکومت دولت نوری المالکی، هراس دارد.

روزنامه عراقی "المراقب" در همین رابطه با اشاره به اطلاعات منتشر شده توسط پایگاه ویکی لیکس نوشت:کلینتون در این تلگراف که عبارت است از گزارش دیدار وی با مسؤولان امارات در آوریل 2009، یادآور شد که شیخ عبد الله بن زاید وزیر امور خارجه امارات متحده عربی، به وی اطلاع داده که سعودی‌ها حتی یک روز از بابت حزب "مردم" پاکستان که ریاست آن را زرداری بر عهده دارد، آسوده‌خاطر نبوده‌اند.

شیخ زاید همچنین گفت: سعودی‌ها احتمال می‌دهند که زرداری گرایش شیعی داشته باشد و در راستای تقویت روابط خود با ایران و در نتیجه تشکیل مثلث شیعی تلاش کند.

خاطرنشان  می‌شود تلگراف‌های دیپلماسی که پایگاه ویکی لیس مورد بررسی قرار داده، نشان می‌دهد که ملک عبد الله بن عبد العزیز به زرداری اعتماد ندارد  و ترجیح می‌دهد که پاکستان  رهبر دیگری داشته باشد.

ملک عبدالله در دیدار با جیمز جونز، مشاور  امنیت ملی رئیس جمهور آمریکا در ژانویه 2009، زرداری را سر فاسدی توصیف  کرد که اثر آن به تمام بدن سرایت خواهد کرد.

در تلگراف دیگری به عنوان خلاصه‌ای از گزارش  این دیدار، آمریکایی‌ها نگرش ملک  عبد الله و سعودی‌ها به اوضاع  پاکستان را این گونه ارزیابی کرده‌اند: به نظر می‌رسد که آن‌ها به دنبال رهبر دیگری هستند، یعنی حاکم و رهبری نیرومند و قاطع که نسبت به وی شناخت داشته باشند  و بتوانند به او اعتماد کنند.

بر اساس تلگراف‌ها، سعودی‌ها خواهان آن هستند  که ارتش پاکستان همچنان در رأس قدرت باقی بماند. مطابق یکی از تلگراف‌ها،  وزیر کشور عربستان، امیر محمد بن نایف،  ارتش پاکستان را این گونه توصیف  کرده است: اسب بَرنده عربستان در پاکستان.

سفیر پاکستان  در ریاض، به تردید سعودی‌ها در خصوص گرایش‌های  مذهبی زرداری و نزدیکی وی به ایران  اشاره کرد و گفت: سعودی‌ها به رئیس جمهور زرداری اعتماد ندارند، زیرا او رابطه نزدیکی با ایران دارد.

زرداری پیش  از این هنگامی که دوره ریاست جمهوری‌اش را با سفر به چین و اروپا و آمریکا آغاز کرد، با اشاره آشکاری به دوری‌اش از عربستان، سعودی‌ها را خشمگین کرده بود. عربستان سعودی نیز در مقابل، با در پیش گرفتن سیاست تأمل تا روشن شدن امور، کمک‌های نفتی خود به پاکستان را قطع کرد و مساعدات مالی‌اش را کاهش داد


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Sat 25 Dec 2010 | 10 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
پيام مقام معظم رهبري به حجاج بيت‌الله‌الحرام: " وظیفه‌ی بزرگِ آن هم، فرمان دادن به نیكی و بازداشتن از بدی و ایمان راسخ به خداست.  هیچ معروفی برتر از نجات ملت‌ها از چنگال قدرت اهریمنی استكبار و هیچ منكری زشت‌تر از وابستگی و خدمت به مستكبران نیست. امروز كمك به ملت فلسطین و محاصره شوندگان غزه، همدردی و همراهی با ملت‌های افغانستان و پاكستان و عراق و كشمیر، مجاهدت و مقاومت در برابر تعدی آمریكا و رژیم صهیونیستی، پاسداری از اتحاد مسلمانان و مبارزه با دست‌های آلوده و زبان‌های مزدوری كه به این اتحاد ضربه می‌زنند و گستردن بیداری و احساس تعهد و مسئولیت در میان جوانان مسلمان در همه‌ی اقطار اسلامی، وظایف بزرگی است كه متوجه خواص امت است."

چر مقام معظم رهبري در پيامشان به حجاج بيت الله الحرام به كشتار مردم كشمير اشاره فرمودند؟

كشتار در كشمیر، چرا؟

كشمیر در ماه های گذشته روز های پر التهابی را پشت سر گذاشته است. اهالی مسلمان كشمیر علی رغم برقراری مقررات منع رفع و آمد در روز های گذشته تظاهرات های اعتراض آمیزی را جهت محكوم كردن اهانت به قرآن برنامه ریزی كردند كه به درگیری با پلیس و بر جای ماندن چند كشته و زخمی منجر شد. مردم این منطقه علی رغم فشارهای زیادی مانند برقراری حكومت نظامی، هر روز تظاهرات خود را برای عقب نشینی نیروهای نظامی و شبه نظامی هند و همچنین رسیدن به خواسته های خود ادامه می دهد كه البته تظاهرات های سه ماهه گذشته در این منطقه 105 كشته برجای گذاشته است. تظاهرات كنندگان خواستار استقلال کشمیر، رسیدگی به وضعیت بد زندگی مردم و تبعیض‌های اعمال شده علیه مسلمانان در این منطقه و عقب نشینی نیروهای نظامی هند هستند.

ریشه این بحران در كجاست؟‌

ریشه بحران کشمیر به زمان تقسیم شبه قاره (اوت سال 1947م) برمی گردد که انگلستان در طرح تقسیم این منطقه وسیع تکلیف این منطقه را در هاله ای از ابهام باقی گذاشت و زمینه را برای شکل گیری نزاع مستمر بین پاکستان و هند فراهم نمود، به طوری که تاکنون این دو کشور بر سر مسائل مربوط به كشمیر چهار بار (سالهای 1948، 1965، 1971 و 1999)  با یکدیگر درگیری نظامی پیدا کرده و در طول این مدت نیز بارها درگیری های پراکنده مرزی در منطقه کشمیر داشته اند. از سوی دیگر، این بحران به رقابت تسلیحاتی گسترده در جنوب آسیا و دو قدرت مزبور کمک نموده و نوعی تکامل سلاح هسته ای و اتمی را در این دو كشور باعث گردیده است. همچنین دولت های هند و پاکستان بارها با یکدیگر بر سر اختلافات دو جانبه مذاکره نموده و حتی پس از جنگ 1971 موافقت نامه معروف "سیملا" را در 1972  امضا كردند و سازمان ملل متحد نیز طی دو قطعنامه در سال های 1948 و 1949، سرنوشت مردم کشمیر را به عهده خود آن ها گذاشت اما هند كه بحران كشمیر را جزء مسائل داخلی خود تلقی می كند از انجام موافقت نامه ها و قطعنامه ها سر باز زده و هر نوع دخالت دولت ها و مجامع بین المللی را در امور کشمیر رد نموده است.

تیرگی روابط بین هند و پاکستان به مدت دو سال ادامه داشت و به کاهش سطح روابط سیاسی و حتی ارتباطات ترابری و اقتصاد آنها انجامید.
شورش و نا آرامی در کشمیر از سال 1989 شروع شده است و پیوسته تا كنون ادامه داشته است. شبه نظامیان مسلمان مخالف حکومت هند در کشمیر با هدف الحاق دو بخش این سرزمین به پاكستان و یا استقلال آن از هند در سال 1989 میلادی دست به شورش مسلحانه زدند که از آن زمان تا كنون بیش از 40 هزار نفر در این راه کشته شده‌اند. از آن زمان تا کنون ادعای مقامات هندی این است که پاکستان به شورشیان منطقه که خواستار جدایی کشمیر هستند کمک می‌کند. اما مقامات اسلام آباد می‌گویند که پاکستان فقط از این افراد حمایت معنوی به عمل می‌آورد.

روابط هند و پاكستان

اگر چه تحت تأثیر تحولات این منطقه، دولت های هند و پاكستان دوره های پر تنشی را از سال 1989 سپری كرده بودند اما جریان هایی در این دو دولت طی سال های 1996 م و 1997 م. سعی در حل اختلافات از طریق مذاكرات نمودند. مذاكراتی كه به علت بهره مندی هر دو كشور از سلاح هسته ای جهان به نتیجه بخش بودن آن بسیار امیدوار بود . نه تنها تنش در روابط دو کشور، که جدایی طلبان کشمیر  به آن دامن می‌زدند، به طور کامل رفع نشد بلكه در دسامبر سال 2001، در پی حمله مسلحانه به پارلمان هند كه 14 كشته بر جای گذاشت هند جدایی‌طلبان مسلمان کشمیر تحت حاکمیت هند را عامل این انفجار دانست و به دلیل حمایت پاكستان از این منطقه روابط دو کشور به شدت تیره شد. از سوی دیگر، صف آرایی نظامی و تبادل آتش بین نیروهای مسلح هند و پاکستان مستقر در خط کنترل کشمیر احتمال بروز جنگ تمام عیار بین دو کشور را تشدید کرد.

دولت های هند و پاکستان بارها با یکدیگر بر سر اختلافات دو جانبه مذاکره نموده و حتی پس از جنگ 1971 موافقت نامه معروف "سیملا" را در 1972  امضا كردند.تیرگی روابط بین هند و پاکستان به مدت دو سال ادامه داشت و به کاهش سطح روابط سیاسی و حتی ارتباطات ترابری و اقتصاد آنها انجامید و در مواردی، تبادل آتش توپخانه از دو سوی مرز به نگرانی در مورد بروز جنگ دیگری بین دو کشور دامن زد و حتی  میانجیگری های بین المللی، از جمله میانجیگری توسط دولت ایالات متحده امریكا، نیز به رفع تنش کمکی نکرد.

مذاكرات صلح پیرامون منطقه كشمیر

در ماه آوریل سال 2003، آتال بیهاری واجپایی، نخست وزیر هند، طی ملاقاتی با پرویز مشرف، رئیس جمهور پاکستان با وی در مورد عادی‌سازی روابط و خاتمه بحران در روابط دو کشور گفتگو نمود. در دور دوم گفتگوهای صلح كه در سال 2004 م. شروع شد بین هند و پاکستان در مورد محوریت بحران کشمیر در این گفتگوها اختلاف نظر وجود داشت. پاکستان تمایل داشت که مساله کشمیر به موضوع اصلی مذاکرات تبدیل شود، در حالی که هند با محوریت بخشیدن به موضوع کشمیر در مذاکرات صلح، مخالف بود و مترصد بود تا با استفاده از این فرصت به بررسی جنبه‌های دیگر روابط دوجانبه، مانند تجارت و مبادلات فرهنگی، بپردازد كه البته در پایان نیز بحران كشمیر موضوعی حل نشده باقی ماند.

شایان ذکر است که هند با به‌ کارگیری دیپلماسی پیچیده و بسیار دقیق، تاکنون توانسته است در ارتباط با مسئله کشمیر که اغلب جمعیت آن را مسلمانان تشکیل می‌دهند، در مقابل کشورهای مسلمان قرار نگیرد و حتی رابطه خوبی با بسیاری از آنها داشته باشد. همچنین هند پیوسته سعی نموده است تا از بین‌المللی شدن موضوع کشمیر جلوگیری كرده و آن را در حد یك اختلاف مرزی صرف بین دو كشور نگاه دارد تا ا از ارجاع این موضوع به سازمان‌ها و مجامع بین‌المللی جلوگیری کند و  تاکنون نیز در این امر، موفق بوده است اما تشدید بحران استقلال این منطقه در ماه های اخیر و همچنین كشته شدن تعداد زیادی از مسلمانان آن سبب اعتراض برخی از كشور ها و سازمان ها نظیر سازمان عفو بین الملل شده است. لازم به ذكر است تحلیل گران اعتراضات گسترده چند ماه گذشته در این ایالت را جزو بزرگترین چالش های دولت هند در زمینه كشمیر دانسته اند.


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Sat 25 Dec 2010 | 10 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
سخنگوی وزارت امور خارجه پاکستان در پاسخ به سئوالی، حمایت روشن و قاطع رهبر جمهوری اسلامی ایران حضرت آیت الله خامنه ای را در راستای حقوق مردم کشمیر دانست.
"عبدالباسط " همچنین گفت که مردم شجاع جامو و کشمیر فقط در حال مبارزه برای بدست آوردن حقوق مدنی خود هستند.
مقام معظم رهبری در پیام حج خود خطاب به امت اسلامی بیان فرمودند: «امروز کمک به ملت فلسطین و محاصره شوندگان غزه، همدردی و همراهی با ملت های افغانستان و پاکستان و عراق و کشمیر، مجاهدت و مقاومت در برابر تعدی آمریکا و رژیم صهیونیستی، پاسداری از اتحاد مسلمانان و مبارزه با دست های آلوده و زبان های مزدوری که به این اتحاد ضربه می زنند و گستردن بیداری و احساس تعهد و مسئولیت در میان جوانان مسلمان در همه ی اقطار اسلامی، وظایف بزرگی است که متوجه خواص امت است.»



موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Sat 25 Dec 2010 | 6 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

روزنامه اردو زبان اسلام كه بطور همزمان از شهرهاي كراچي، اسلام‌آباد، لاهور، مولتان، پيشاور و مظفرآباد (جامو و كشميرآزاد) انتشار مي‌يابد و از نقطه نظرات جنگجويان حمايت ميكند مقاله اي در شماره امروز (جمعه) خود تحت عنوان «سلطنت آغاخاني در گيلگيت- بلتستان» به قلم سيد محمد معاويه بخاري چاپ نموده است.
در اين مقاله، اين موضوع مورد تاكيد قرار گرفته كه استراتژي آمريكا و انگليس درخصوص منطقه گيلگيت- بلتستان كه يك منطقه بسيار استراتژيكي واقع در مرز مشترك چين و هند بوده جداسازي اين منطقه از كشمير و اعلام آن به عنوان يك پادشاهي مستقل آغاخان كه رهبر روحاني فرقه اسماعيلي نزاري در جهان است مي‌باشد.
مقاله مزبور مي‌افزايد: دولت كنوني زرداري كاملاً تحت نفوذ آمريكا و انگليس قراردارد و باد ناديده گرفتن خواسته هاي مردم كشمير، گيلگيت- بلتستان را اخيراً از كشمير آزاد جدا نموده و به آن منطقه استقلال داخلي اعطاء كرده است. نويسنده اين مقاله مي‌گويد: آمريكا و انگليس براي تشكيل دو كشور مثل سلطنت آغاخاني در گيلگيت – بلتستان بزرگ و كشور بودايي لاما در منطقه لداك در كشمير تحت اشغال هند طراحي مي‌كنند.

 


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Sun 17 Oct 2010 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
ڈاکٹرشيخ محمد عليم
  آو بڑوں تمہيں ايک کہاني سنائيں ۔۔ اس سوئِ ادب پر معذرت! آپ کہيں گے بھئي کہاني تو بچوں کو سنائي جاتي ہے اور يہ ہميں کيوں سنائي جارہي ہے۔ جي ہاں کہاني بڑوں کو بھي سنائي جاسکتي ہے فرق يہ ہے کہ بچوں کو کہاني ’’سلانے‘‘ کے لئے سنائي جاتي ہے اور بڑوں کو ’’جگانے‘‘ کے لئے۔ يقين نہ آئے تو مولا عليٴ کا يہ قول سن ليجئے جو غالباً بڑوں کے لئے ہے: ’’لوگ سورہے ہيں، مریں گے تو جاگیں گے۔‘‘
چنانچہ آئيے ايک کہاني سنئے جو خود ہمارے اپنے ملک کي کہاني ہے يعني تشکيلِ پاکستان کي روداد۔
آپ کہيں گے کہ يہ کہاني تو ہم کئي مرتبہ سن چکے ہيں ۔۔۔ ليکن پھر بھي سن ليجئے کيونکہ تاريخ نگاروں نے تعصب کي قينچي کس قدر بے رحمي سے استعمال کي ہے کہ کبھي بھي اس کہاني کے اصل کرداروں کا حقيقي تعارف نہيں کرايا گيا۔ ہم نے اس مضمون ميں کوشش کي ہے کہ ان حقيقتوں سے پردہ اٹھائيں جو تعصب اور ذاتي اناکي گرد میں کب سے دبي ہوئي ہيں اور منصب و حکمراني کي لالچ کي دھول اس ’’Fact File‘‘ پراس قدر جم چکي ہے کہ فائل کا اصل نام ہي چھپ گيا ہے۔ اس فائل اور اس کہاني کا نام ہے ’’تشکيلِ پاکستان ميں شيعيانِ عليٴ کا کردار ۔۔۔!‘‘ کہ جس ميں شيعيانِ عليٴ کي کاوشوں، کوششوں، عزم و استقلال کو بيان کيا گيا ہے کہ جب ہندوستان کے ہر مسلمان کے لب پر يہي نعرہ تھا:

چشم روشن پاکستان دل کي دھڑکن پاکستان
صحرا صحرا اس کي دھوم گلشن گلشن پاکستان

لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
(سيد ياور حسين کيف بنارس)

©٢٣ مارچ ١٩٤٠ ئª
آل انڈيا مسلم ليگ کا 27 واں تاريخ ساز اجلاس 22 تا 23 مارچ 1940 لاہور ميں قائد اعظم کي صدارت ميں منعقد ہوا جس ميں ہندوستان کے تمام صوبوں کے مسلم زعمائ نے شرکت فرمائي۔ اس اجلاس ميں 23 مارچ کو تقسيم برصغير کي قرارداد پاس ہوئي جو بعد ميں ’’قرار دادِ پاکستان ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئي۔ يہي قرارداد دراصل نظريہ پاکستان کي بنياد بني۔
اس قرارداد ميں يہ طے پايا کہ جن علاقوں ميں مسلمانوں کي اکثريت ہے، وہاں ايک خود مختار رياست بناکر مسلمانوں کے حوالے کر دي جائے تاکہ وہ اپني مرضي سے وہاں اسلامي طور طريقے سے زندگي بسر کر سکيں اور اس کا انتظام مکمل طور پر وہاں کے مسلمانوں کے ہاتھ ميں ہو۔
اس کے بعد 14 اگست 1947 کو پاکستان دنيا کے خطے ميں پہلا نظرياتي ملک کہ جس کي بنياد اسلامي نظريہ حيات تھي، وجود ميں آيا۔
ليکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح رسول۰ اور اہلِ بيت کي کوششوں سے مسلمانوں کو پوري دنيا ميں عزت و حکمراني حاصل ہوئي ليکن انہيں اور ان کے ماننے والوں کو فراموش کرديا گيا۔ نہ صرف يہ کہ انہيں حکومتوں سے الگ رکھا گيا بلکہ ان کي خدمات کو بھي يکسر طور پر فراموش کرديا گيا۔ گويا اسلام کي سربلندي ميں ان کا کوئي حصہ تھا ہي نہيں بلکہ خلافت کے حوالے سے تو بني ہاشم کے خاموش احتجاج کو ’’اسلام کے خلاف سازش‘‘ قرار دياگيا۔ (شبلي نعماني، الفاروق)
يہي کچھ پاکستان کے قيام کے حوالے سے ہوا۔ تشکيلِ پاکستان ميں شيعيانِ عليٴ کاجو کردار رہا اور جس طرح اہلِ بيتٴ کي تعليمات کي روشني ميں اور اہلِ بيتٴ کے متوالوں نے جس طرح اس تحريک کو اپنا خون دے کر پروان چڑھايا بالکل اس کے برعکس ان ہي لوگوں کو تحريک پاکستان کے باب سے حرفِ غلط کي طرح مٹا ديا گيا اور آج جب لوگوں کو شيعيانِ عليٴ کي تحريکِ پاکستان کے حوالے سے قربانياں گنوائي جاتي ہيں تو لوگ حيرت و استعجاب سے ديکھنے لگتے ہيں۔ جب پھل کھانے کا وقت آيا تو وہي لوگ صفِ اول ميں نظر آئے جو کبھي تحريکِ پاکستان کے مخالفين کي اولين صفوں ميں شامل تھے
منزل انھيں ملي جو شريکِ سفر نہ تھے

©سرسيد احمد خانª
مسلمانوں کي انتہائي کسمپرسي، ابتري اور زوال و انتشار سے متاثر ہوکر سرسيد احمد خان نے 1890 ميں ’’کميٹي خواستگارانِ ترقي تعليم مسلمانانِ‘‘ قائم کي۔ اس کميٹي نے فيصلہ کيا کہ مسلمانوں کي اعليٰ تعليم کے لئے ايک کالج کھولا جائے۔ يہي وہ فيصلہ تھا کہ جس نے مسلمانانِ ہند کے سوچنے کے انداز بدل ڈالے۔ چنانچہ ’’محمڈن کالج فنڈ کميٹي‘‘ قائم ہوئي۔ اس فنڈ ميں سرمايہ کي فراہمي اور پھر يونيورسٹي کے قيام ميں جن شيعيانِ عليٴ نے نماياں خدمات انجام ديں، ان ميں سالارِ جنگ حيدرآباد خليفہ محمد حسن، وزيرِ اعظم پيٹالہ نواب صاحب رام پور، سر فتح علي قزلباش، مہاراجہ سر محمد علي خان محمود آباد، مولوي سيد حسين علي بلگرامي، بہادر حسين بخش، مير تراب علي آگرہ اور جسٹس سيد امير علي شامل تھے۔

مخالفين
حيرت انگيز بات يہ ہے کہ سرسيد کے خلاف جو محاذ کھڑا ہوا اُس ميں مولانا قاسم نانوتوي (سرپرست ديوبند)، مولانا رشيد احمد گنگوہي، مولانا حالي، شبلي نعماني اور ابو الکلام آزاد جيسے علمائ شامل تھے۔ يہ لوگ آپ کي مخالفت ميں اتنے آگے بڑھے کہ آپ کے خلاف فتاويٰ بھي جاري ہوئے اور آپ کو لامذہب، کرسچين، دہريا، کافر، دجال وغيرہ کہہ کر مخاطب کيا گيا۔ گويا سيد احمد خان کے لئے بات کرنا مشکل ہوگيا۔ سر سيد احمد خان کو جب شديد مخالفت کا سامنا ہوا تو سر سيد احمد خان نے تمام ہندوستان کو چھوڑ کر ’’علي گڑھ‘‘ کو منتخب کيا جس کي وجہ وہ خود بتاتے ہيں۔

علي گڑھ۔۔ وجہ تسميہ
يہ شہر آگرہ۔۔ بھرت پور کے علاقے کي سادات کي بستيوں کے قريب ہے جس کے رئيس شيعہ ہيں۔ مجھے ان تمام لوگوں سے اور ان کي اولادوں سے بھي زيادہ توقع ہے کہ يہ سب نہايت دل سے مدرسہ کے حامي اور سرپرست رہيں گے۔ يہ خاص صفت جو ميں نے علي گڑھ کي نسبت بيان کي اور جس کو سب سے اعليٰ اور مقدم سمجھتا ہوں، ميں نہايت مضبوطي اور تقويت سے کہہ سکتا ہوں کہ تمام اضلاع شمال اور مغرب ميں، کسي دوسري جگہ نہيں ہے۔ بس ان وجوہات سے ميں نے علي گڑھ کو دارالعلوم بنانے کے لئے عمدہ مقام تجويز کيا ہے۔ اب ميں اپني رپورٹ کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ ’’علي گڑھ‘‘ ايک پيارا نام ہے۔ ہمارے پيغمبر رسول۰ کا يہ قول مشہور ہے کہ ’’انا مدينۃ العلم و علي بابھا‘‘۔۔ پس يہ پہلا ’’مدرسۃ العلوم‘‘ ہم مسلمانوں کا جو درحقيقت علم کا دروازہ ہوگا علي گڑھ ميں ہي ہونا چاہيے۔ (سيد احمد سي۔ ايس۔ آئي سيکٹري)
(مقالات سرسيد جلد شانزدہم صفحات ٧٦٤ تا ٧٧١)

سندھ مدرسۃ الاسلام ، کراچي
1884ميں جسٹس سيد امير علي کي کوششوں سے کراچي ميں بھي ايک مدرسہ قائم کيا گيا جو علي گڑھ کي طرز پر تھا اور اس کا نام ’’سندھ مدرسۃ الاسلام‘‘ رکھا گيا۔ قائد اعظم محمد علي جناح بھي اسي مدرسہ کے طالب علم رہے ہيں۔
اسي طرح کا مدرسہ بنگال ميں ہگلي کے مقام پر قائم ہوا۔ جس ميں ايک حصہ امام باڑہ کے لئے بھي مختص تھا۔

©راجہ صاحب محمود آبادª
کہتے ہيں، پاکستان سرسيد احمد خان کي تعليمي خدمات ، قائد اعظم کي رہنمائي اور راجہ صاحب محمود آباد کي دولت کے مرہونِ منت ہے۔
راجہ صاحب محمود آباد (لکھنو کے قريب ايک علاقہ) رياست محمود آباد کے راجہ تھے ليکن مخدوم ہونے کے باوجود خادم نظر آتے اور شايد خدمت کي يہ ميراث ان کو اپنے والد مہاراجہ محمد علي خاں سے ملي تھي۔
ان کے والد ’’مہاراجہ علي محمد خاں‘‘، نے ايک دفعہ کانپور مسجد کے حادثے ميں گرفتار ہونے والے مسلمانوں کي ضمانت کے طور پر اپني پوري رياست پيش کردي تھي۔ لوگوں نے کہا بھي ’’آپ بلاامتياز سب کي ضمانت دے رہے ہيں، ان کي اکثريت سے آپ واقف بھي نہيں ہيں‘‘ تو آپ نے کہا ’’ايک مسلمان کے بچانے کے لئے ميري رياست ختم ہوجائے تو ميں اسے معمولي سمجھوں گا۔ اور يہ سينکڑوں کي تعداد ميں ہيں۔ ان کے تحفظ کے لئے ميں اپني جان اور آن کے لئے بھي خطرہ مول لے سکتا ہوں، رياست کيا چيز ہے‘‘۔

آپ کي دريادلي
راجہ صاحب نے جس طرح دل کھول کر تحريکِ پاکستان ميں اپني دولت کو لٹايا ہے اس کي مثال مشکل ہي سے ملتي ہے۔ گاندھي جي، جواہر لال نہرو، مولانا محمد علي، مولانا شوکت علي، مولانا حسرت موہاني، چودھري خليق الزماں، غرضيکہ ہندوستان کا ہر شعلہ بياں مقرر آپ کي رہائش گاہ ’’قيصر باغ‘‘ لکھنو ميں محفلوں کو گرماتا۔ جب آپ نے مسلم ليگ ميں شموليت اختيار کي تو گورنر ’’سرہنري ہيگ‘‘ سے ٹکر لي۔ انھيں بلايا گيا اور دھمکي دي گئي کہ اگر آپ نے مسلم ليگ نہ چھوڑي تو رياست ضبط کرلي جائے گي۔ ليکن آپ کا شعلہ آتش اور تيز ہوگيا۔

لوگوں کي خدمت
راجہ صاحب مسلم ليگ کے اجلاس اور جلسوں کا خرچہ برداشت کرتے تو دوسري طرف ذاتي طور پر ايک بيکس و نادار کي مدد کے لئے ہمہ وقت تيار رہتے۔ بيٹے ’’سليمان مياں صاحب‘‘ کي ولادت ہوئي تو لوگوں نے جشن منانے کا مشورہ ديا۔ آپ نے ايک عجيب انداز سے اللہ کي اس نعمت کا شکرادا کيا۔ وہ اس طرح کہ رياست کي تمام ٢٤ تحصيلوں سے کل ايسے آدميوں کي فہرست منگوائي جو موتيا کے مرض کا شکار تھے۔ چنانچہ انھوں نے گيارہ سو اٹھاون 1158 مريضوں کو اپنے علاقے کے کيمپ ميں ٹھہرايا اور تمام لوگوں کا مفت آپريشن ڈاکٹر ٹي پرشاد (جو اس وقت آنکھوں کے مشہور ڈاکٹر تھے) سے کروايا ۔

قائد اعظم کي انسان شناسي
قائد اعظم نے آپ کي صلاحيتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کو مسلم ليگ کا خزانچي مقرر کرديا ليکن اس کے ساتھ ساتھ اپني شعلہ بياني سے بھي آپ نوجوانوں کے دلوں کو گرماتے رہتے، يوں زباني جمع خرچ کے ساتھ ساتھ جيبي خرچ کي ذمہ دارياں بھي انجام ديتے رہے۔
ليکن پاکستان بننے کے بعد آپ کو اپني رياست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جس کے بعد آپ کو پاکستان ميں تين فيکٹرياں لگانے کي پيشکش بھي ہوئي ليکن آپ نے اسے ٹھکرا ديا۔ اپني زندگي کے آخري ايام بڑي کسمپري کے ساتھ جو کي روٹي اور بسوں ميں سفر کرتے ہوئے گزار دي

وہ محوِ نالہ جرسِ کارواں رہے
يارانِ تيزگام نے محمل کو جاليا
©علامہ اقبالª

جو کام تحريکِ پاکستان کے رہنما مل کر کرتے رہے وہي کام علامہ اقبال نے اپنے قلم اور شاعري سے تن تنہا کر ڈالا۔ آپ کو شاعرِ مشرق بجا طور پر کہا گيا ليکن آپ کي شاعري ميں اصل لطف اس وقت پيدا ہوا جب آپ نے مسلمانانِ برِ صغير کو اہلِ بيت کے پيغام کے ذريعے جگانا شروع کيا۔جب اتحاد کي بات ہوئي آپ نے کہا:

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہيں
موج ہے دريا ميں اور بيرونِ دريا کچھ نہيں

اقبال اور ايران
وہ مغرب کي عياشي اور سہل پسندي کي زندگي کو جب ديکھتے تو ايران کي عزاداري کو اس کا ترياق سمجھ کر لوگوںکے سامنے پيش کرتے اور کہتے

سازِ عشرت کي صدا مغرب کے ايوانوں ميں سن
اور ايراں ميں ذرا ماتم کي تياري بھي ديکھ۔۔!

علامہ اقبال ايران (تہران) کو صرف برِ صغير کے مسلمانوں کے لئے ہي اميد کي کرن نہيں سمجھتے بلکہ وہ تو کرہ ارض کي تقدير کو ايران کي سرزمين سے مشروط کرتے تھے

تہران اگر عالمِ مشرق کا جنيوا
شايد کرہ ارض کي تقدير بدل جائے

مذہبِ اقبال
علامہ اقبال کي شاعري پر اہلِ بيت کي محبت ، مودت اتني غالب آگئي تھي کہ لوگ کو شک ہو چلا تھا کہ آپ مذہبِ تشيع سے تعلق رکھتے ہيں اور شک يقين ميں بدلنے لگتا جب لوگ ان کا يہ شعر پڑھتے

اسلام کے دامن ميں بس اس کے سوا کيا ہے
اک ضربِ يد اللّٰہي ايک سجدہ شبيري

اس شک کا اظہار انھوں نے بالآخر کرہي ڈالا
ہے اس کي طبيعت ميں تھوڑا سا تشيع بھي
تفضيلِ عليٴ ہم نے سني اُس کي زباني۔۔!
ليکن جب ان کے صبر کا پيمانہ لبريز ہوگيا تو بالآخر وہ اپنے مذہب کا اقرار کرہي بيٹھے

پوچھتے کيا ہو مذہب ِ اقبال
يہ گناہ گار بوترابي ہے۔۔!

©قائد اعظم محمد علي جناحª
قائد اعظم محمد علي جناح برطانيہ کي پرعشرت زندگي چھوڑ کر علامہ اقبال کي درخواست پر مسلمانانِ ہند کے دکھ درد کو سمجھ کر ہندوستان تشريف لائے اور اس کے بعد مسلمانوں کے ہر دلعزيز ليڈر بن گئے۔ قائد اعظم محمد علي جناح ايک غير متعصب شيعہ تھے۔ مذہبِ اہلِ بيت سے تعلق رکھنے کے باوجود کبھي آپ نے کسي فرقے کي ضرور ت سے زيادہ حمايت نہيں کي۔

تبليغي شيعہ
قائد اعظم محمد علي جناح نہ صرف يہ کہ اثنائ عشري شيعہ تھے بلکہ انھوں نے آغا خان کو يہ ترغيب دينے کي کوشش بھي کي کہ وہ اسماعيليوں کي سربراہي سے سبکدوش ہوکر اثنا عشري جماعت ميں شامل ہوجائيں۔ (شاہراہِ پاکستان صفحہ ٥٢٠)
شفيق بريلوي صاحب نے اپني کتاب ’’محمد بن قاسم سے محمد علي جناح تک‘‘ شائع کردہ نفيس اکيڈمي کراچي کے صفحہ ١٠٥ کے مقابل نکاح کے رجسٹر سے قائد اعظم کے نکاح کے اندراج کا عکس شائع کيا ہے جس ميں آپ کو ’’محمد علي ولد جينا خوجہ اثنائ عشري‘‘ تحرير کيا گيا ہے ۔

محبتِ رسول ۰
جنابِ رسول۰ سے والہانہ عقيدت کا اظہار اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ قائد اعظم نے ’’لنکن ان‘‘ يونيورسٹي ميں صر ف اس لئے داخلہ ليا تھا کہ اس کے دروازے پر دنيا ميں ممتاز قانون دينے والوں کي فہرست ميں پيغمبر ۰ کا نام شامل تھا۔ (قائد اعظم ميري نظرميں صفحہ ١٦٤)

محبتِ عليٴ
اسي طرح کا ايک اور واقعہ ہے جس سے قائد اعظم کي حضرت علي سے عقيدت اور ان کے يومِ شہادت پر دنيوي کاروبار سے لا تعلقي اور اصول پسندي کا اظہار ہوتا ہے۔

موضوعات مرتبط: شيعيان پاكستان

تاريخ : Sun 17 Oct 2010 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

حجت‌الاسلام رحيميان به‌عنوان فرستاده رهبر معظم انقلاب به مناطق سيل‌زده در پاكستان در گزارشي به تشريح وضعيت مناطق سيل‌زده و ابلاغ پيام رهبر انقلاب براي كمك به مردم پاكستان پرداخته است.

به گزارش پايگاه اطلاع‌رساني دفتر حفظ و نشر آثار آيت‌الله خامنه‌اي، حادثه‌ سيل پاكستان همان‌طور كه رهبر معظم انقلاب اشاره كردند، به عنوان بلاي عظيم و مصيبت بزرگ، فوري‌ترين مسئله جهان اسلام است.

 از همين رو معظم‌له به حجت‌‌الاسلام و المسلمين رحيميان مأموريت دادند تا به عنوان نماينده‌ ايشان به پاكستان رفته گزارشي از مناطق سيل‌زده تهيه و ارائه كند. نماينده‌ رهبر انقلاب در بنياد شهيد و امور ايثارگران نيز پس از بازگشت از پاكستان و قبل از خطبه‌هاي نماز عيد فطر گزارش خود را خدمت رهبري ارائه كرد. قبل از «روز ملي همدردي با سيل‌زدگان پاكستان» به ساختمان بنياد شهيد و امور ايثارگران رفتيم تا او درباره نحوه‌ تهيه‌ گزارش براي رهبر انقلاب براي‌مان بگويد. متن زير سفرنامه‌اي كوتاه است از سفر نماينده‌ رهبر انقلاب به پاكستان.

* ابلاغ دستور

در ماه رمضان از دفتر مقام معظم رهبري با من تماس گرفتند و دستور رهبر انقلاب مبني بر سفر بنده و ديگر همراهان به پاكستان را ابلاغ كردند. بايد مي‌رفتيم و ابعاد سيل پاكستان را بررسي مي‌كرديم و خدمت ايشان گزارش مي‌داديم.

* ورود به كشور سيل‌زده

برنامه‌ ما اين بود كه چند ملاقات رسمي با مقامات پاكستاني داشته باشيم. ميزبان هيأت همراه ما وزارت كشور پاكستان بود. تقريباً در طول سفرمان وزير كشور پاكستان ما را همراهي مي‌كرد. در بدو ورودمان جلسه‌ مختصري برگزار شد، ولي چون شب بود، مراسم احياء را در سفارت برگزار كرديم و فردا صبح اول وقت، اولين جلسه‌ مفصل با مسئولان ذي‌ربط پاكستاني را تشكيل داديم. بعد از آن جلسه هم با بالگرد بازديد هوايي داشتيم از مناطق شمالي پاكستان.

پس از برگشت به اسلام‌آباد، جلسه‌‌اي با نخست‌وزير صورت داديم. شب هم مجموعه‌ علماي بزرگ پاكستان و شخصيت‌هاي معتبر منطقه‌ مركزي و شمالي پاكستان به سفارت جمهوري اسلامي ايران دعوت شده بودند. بعد از نماز جماعت و صرف افطار، بنده آنجا صحبت مفصلي كردم و سلام رهبر معظم انقلاب و ابراز محبت‌هاي ايشان را نسبت به پاكستان و عنايت ايشان به حادثه‌ سيل را به آن‌ها ابلاغ كردم. بعد هم تا آخر شب و حدود چندين ساعت، يكايك علما كه هر كدام از منطقه‌اي بودند، گزارشي از وضعيت آسيب‌ديدگان سيل ارائه كردند. خوب اين اطلاعات دقيق و خوبي براي ما بود و علاوه بر اطلاعاتي بود كه دولت پاكستان داده بود.

فردا صبح در سفارت و با حضور مسئولان و كارگزاران جمهوري اسلامي در پاكستان و نيز هيأت اعزامي، جلسه‌ جمع‌بندي گذاشتيم. بعد از اين جلسه عازم كراچي شديم. در آنجا باز ما جلسه‌ مفصلي با تعدادي از كارگزاران جمهوري اسلامي در آن منطقه و علماي آن منطقه و نماينده‌ مقام معظم رهبري در كراچي داشتيم. ايشان هم اطلاعات جديدي را مخصوصاً درباره‌ مناطق جنوب پاكستان و بخش‌هاي مجاور ايالت سِند ارائه كرد.

تا قبل از سفر ما چيزي از ايران مطرح نشده بود. پس از اينكه يك نفر از طرف ولي امر مسلمين و چند نفر از طرف دولت ما رفتند و ملاقات ما با رياست‌جمهوري و نخست‌وزير پاكستان كه چندان قابل سانسور هم نبود، خودبه‌خود انعكاس خبري داشت.

بازديد هوايي از جنوب - كه وضعيتي بدتر از شمال داشت- هم انجام شد. بعدازظهر هم ملاقاتي با رئيس‌جمهور پاكستان داشتيم. مجموعه‌ مسئولان پاكستاني، هم نخست‌وزير و هم رئيس‌جمهور نسبت به رهبر معظم انقلاب و دولت جمهوري اسلامي ايران قدرداني و تشكر داشتند و بسيار استقبال خوبي كردند.

باز يك جلسه‌ مجددي در كنسولگري جمهوري اسلامي در كراچي انجام شد. اطلاعات را جمع‌بندي كرديم و راه‌كارهاي كمك‌رساني و شيوه‌هاي آن را بررسي نموديم. نتيجه‌ آن را هم بنده بلافاصله پس از بازگشت و طي گزارشي خدمت رهبر معظم انقلاب تقديم كردم. پيشنهادهايي را هم مطرح كردم‌ مبني بر اينكه ابعاد اين فاجعه به‌صورت گسترده‌تري در سطح جامعه مطرح شود و مردم نسبت به اين حادثه‌ توجه‌ بيشتري بكنند كه فاجعه‌اي دلخراش براي يك ملت و جمعيت انبوهي از مسلمانان است كه بخش عظيمي از آنها هم شيعيان هستند.

* ابعاد فاجعه

اما در باب ابعاد اين فاجعه عظيم بايد تصريح كنم كه وقتي گفته مي‌شود حدود يك‌پنجم زمين‌هاي تحت كشت پاكستان بر اثر اين سيل آسيب‌ ديده است، در يك كشوري كه 150 ميليون نفر جمعيت دارد، معنايش اين است كه يك‌پنجم جمعيت آسيب ديده‌اند. در واقع يعني يك‌پنجم تأسيسات، خانه‌ها و مساجد،‌ درمانگاه‌ها، ده‌ها هزار مدرسه و مسجد و حسينيه و مراكز عام‌المنفعه نابود شده است. حداكثر توانايي كه مردم داشته‌اند، اين بوده كه خودشان را از اين سيل نجات بدهند.

زمين‌هاي پاكستان عمدتاً مسطح است و سيل هم آن‌چنان تند نبوده كه جريان آب انسان را با خودش ببرد و چون جريان آب از شمال به جنوب بوده، اكثر افراد از معرض سيل خارج شده‌اند. لذا تلفات انساني نسبتاً كم بوده، اما خانه و كاشانه‌شان را گذاشته‌اند و فرار كرده‌اند و آب خانه‌ و همه‌ وسايلشان را برده است. سرمايه‌ آنها هم عموماً در مناطق روستايي و شهرهاي كوچك مجاور رودخانه‌ها كه عمدتاً كشاورز بوده‌اند، همين زمين‌ها بوده است. درآمد اصلي‌شان از كشاورزي بوده و اين يعني كل منبع درآمدشان را آب برده است. ضمن اينكه عموماً هم مردم فقيري هستند.

نكته‌ جالب توجه اين است كه مردم پاكستان، اعم از شيعه و سني، همان‌طور كه رهبر انقلاب فرمودند، مردمي مذهبي هستند. چه شيعيان و چه اهل سنت، ملتزم به اسلام و ‌اهل نماز و روزه هستند. حتي وجه غالب اهل سنت علاقمند به اهل بيت(ع) هستند. نبايد ذهن را مشغول به جريان محدود سپاه صحابه، طالبان و وهابي‌ها كرد. جنايت‌ها و فعاليت‌هاي اين گروه‌ها را نبايد به حساب مردم گذاشت. مردم پاكستان طرفدار جمهوري اسلامي هستند و شايد در ميان اهل سنت در كشورهاي اسلامي كمتر داشته باشيم كه تا اين اندازه علاقه‌مند به جمهوري اسلامي و اهل بيت باشند. علاوه بر اين، تقريباً 20 الي 30 درصد هم شيعيان هستند.

* حضور تأمل‌برانگيز آمريكايي‌ها

اين در حالي است كه آمريكايي‌ها صرفاً در راستاي اهداف پليدشان و در پي ترميم آن چهره‌ كريهي كه نزد ملت پاكستان دارند به سبب كشتارهاي جمعي و تجاوزهاشان انبوه كمك‌ها را به آنجا گسيل داشته‌اند. طبق نظرسنجي‌ها حدود 80 درصد از مردم پاكستان از آمريكا منزجر هستند، اما آن‌طور كه گفته شده، سربازان‌ آمريكايي به‌عنوان كمك‌رساني، حدود 30 هلي‌كوپتر و چند هواپيماي غول‌پيكر را به كار گرفته‌اند؛ خصوصاً در مناطق شيعه‌نشين و در جاهايي كه مردمش به‌شدت علاقه‌مند به جمهوري اسلامي و انقلاب و امام هستند و مقلد رهبر معظم انقلاب هستند.

آمريكايي‌ها اين كارها را انجام مي‌دهند كه جاي پايي براي خود باز كنند. حتي گفته شده كه يكي از هنرپيشه‌هاي سينماي غرب به پاكستان آمده و حدود 25 ميليون دلار (راست و دروغش را نمي‌دانيم) كمك كرده است. يعني علاوه بر اهداف نظامي و سياسي پليدشان در آنجا و حتي در اين موقعيت، از شبيخون فرهنگي و ناتوي فرهنگي هم غفلت نكرده‌اند. عربستان سعودي هم به صورت گسترده‌اي در اين صحنه فعال است. از اين طرف هم تبليغات و تريبون‌ها و دوربين‌ها دست خودشان است. راست و دروغ را با هم يكي كرده‌اند و با بزرگ‌نمايي و بزرگ جلوه دادن كارهايشان، افكار عمومي را تحت تأثير قرار داده‌اند.

* ارائه گزارش

پس از پايان سفر، بنده گزارشي را در چهار صفحه خدمت رهبر معظم انقلاب تقديم كردم. پس از ارائه‌ گزارش عرض كردم كه لُبّ مطلب را من مكتوب نوشته‌ام و زياد مُصدِّع نمي‌شوم و خداحافظي كردم. بعد هم كه صحبت‌هاي رهبر انقلاب در خطبه‌ها را دقت كردم؛ بسياري از فرازهايش ناظر بر همين محورها بود كه بنده نوشته بودم. البته گزارش‌هاي ديگري هم رسيده بود كه البته مجموع اين گزارش‌ها هم‌سو بود و مؤيد نكاتي بود كه بنده خدمتشان عرض كرده بودم.

رهبري در برابر حوادث بسيار باصلابت هستند و به اين سادگي كنترل خودشان را از دست نمي‌دهند.امام(ره) هم همين‌طور بودند. اينجا ولي عجيب بود كه براي اولين بار بابت يك قضيه‌اي غير از ذكر مصيبت ائمه و حالات معنوي، اين‌طور منقلب و متأثر شدند. واقعاً عجيب بود.

از نگاه من اين سفر دو نتيجه داشت؛ يكي اينكه آنجا تا قبل از سفر ما چيزي از ايران مطرح نشده بود. پس از اينكه يك نفر از طرف ولي امر مسلمين و چند نفر از طرف دولت ما رفتند و ملاقات ما با رياست‌جمهوري و نخست‌وزير پاكستان كه چندان قابل سانسور هم نبود، خودبه‌خود انعكاس خبري داشت. علاوه بر اينكه ملاقات‌هايي هم كه در طول سفر با طيف‌هاي مختلف مسئولان عالي‌رتبه و علما داشتيم و ابلاغ سلام و پيام رهبر معظم به آنها، بازتاب ويژه‌اي به اين سفر ‌داد و موجبات دلگرمي آنها را فراهم ‌كرد.

نتيجه‌ ديگر آن هم اين بود كه بالأخره عمق و ابعاد اين فاجعه از طريق نماينده‌ اعزامي از سوي رهبر معظم انقلاب دقيقاً براي ايشان گزارش مي‌شد.

* خطبه‌هاي نماز عيد

رهبر معظم انقلاب واقعاً در خطبه‌هاي نماز عيد فطر حق مطلب را ادا كردند و اين براي من خيلي تازه و جالب بود. من صحنه‌هاي زيادي را ديده بودم كه همه از شدت تأثر به گريه مي‌افتادند و نمي‌توانستند خودشان را كنترل كنند. ولي رهبر معظم انقلاب كه مثل كوه استوارند، غير از مواقعي كه مصيبت اهل بيت عليهم‌السلام خوانده مي‌شود، در برابر حوادث بسيار باصلابت هستند و به اين سادگي كنترل خودشان را از دست نمي‌دهند و آشكارا تأثر خود را نشان نمي‌دهند. امام(ره) هم همين‌طور بودند. اينجا ولي عجيب بود كه براي اولين بار بابت يك قضيه‌اي غير از ذكر مصيبت ائمه و حالات معنوي، اين‌طور منقلب و متأثر شدند. واقعاً عجيب بود.
من معتقدم رهبر انقلاب نگاه اصلي‌شان و ملاك اصلي حركت‌شان و اشكي كه در خطبه‌هاي نماز ريختند، براي آن بُعد انساني و اسلامي و اخلاقي ملت پاكستان بود. اصل قضيه به نظر من اين بود. بُعد انساني و اخلاقي و اسلامي آن از همه پررنگ‌تر است.

* آيا كمك‌ها به دست مردم مي‌رسد؟

پيامبر اكرم (ص) مي‌فرمايند: "من سَمع رجلاً ينادي يا للمسلمين فلَم‎يجَبه فليس بِمسلم1 " يعني هر مسلماني كه صداي شخصي را كه فرياد مي‌زند مسلمانان به فرياد من برسيد بشنود و او را كمك نكند، مسلمان نيست. شرط مسلماني ما اين است كه اگر مسلماني در هر گوشه‌ دنيا فرياد كمك‌خواهي و امدادرساني‌اش بلند شود، ما وظيفه‌ انساني و اخلاقي كمك به او را ادا كنيم.

من در مصاحبه‌اي كه پس از بازگشتم با شبكه‌ خبر داشتم، يك نكته‌اي را به مردم ابلاغ كردم كه جزو نتايح اين سفر است. نكته‌ مهمي هم هست و آن اينكه معمولاً كمك‌هايي كه براي حوادث مي‌شود، گاهي در آنها شبهه به‌وجود مي‌آيد كه به دست مردم مي‌رسد يا نمي‌رسد؟ آيا حفظ امانت مي‌شود يا يك‌باره ‌مسيرش عوض مي‌شود؟ البته احتمال اين مسائل هم مطرح مي‌شود و هم وجود دارد، چون ممكن است در شلوغي‌هاي زياد يك چيزي به مقصد اصلي نرسد.


از دستاوردهاي مهم اين سفر اين بود كه ما در جمع‌بندي نهايي سازوكاري را پيش‌بيني كرديم و تصويب كرديم كه آنچه را از ايران ارسال مي‌شود، به دست هيچ واسطه‌اي ندهيم، بلكه همه‌ آن از طُرق صددرصد مورد اعتماد يا با مباشرت واسطه‌هاي مورد اعتماد جمهوري اسلامي و در حقيقت دل‌بسته و عاشق جمهوري اسلامي، از طريق آنها كمك‌ها را به مردم برسا

موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Mon 20 Sep 2010 | 7 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
گورنر گلگت بلتستان ڈاکٹرشمع خالد کوایبٹ آباد میں سپردخاک کردیا گیا۔ مرحومہ کی نمازہ جنازہ میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ، صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزیر ارباب جہانگیراور دیگر ایم شخصیات نے شرکت کی۔ شمع خالد طویل علالت کے بعد کل اسلام آباد میں انتقال کرگئیں تھیں۔ وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور فوجی فاؤنڈیشن اسپتال میں زیر علاج تھیں۔

کچھ عرصے پہلے انہیں اسلام آباد میں ان کے گھر منتقل کردیا گیا تھا۔ شمع خالد کی عمر پینسٹھ برس تھی اور وہ گلگت بلتستان کی پہلی گورنر تھیں۔ڈاکٹر شمع نے رواں برس تیئس مارچ کو عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔وہ ایک معروف سماجی کارکن اور گلگت بلتستان کی پہلی خاتون ڈاکٹر بھی تھیں۔ انہوں نے انیس سو اڑسٹھ میں خیبر میڈیکل کالج پشاور سے گریجویشن کی۔ شمع خالد کی دو بیٹیاں ہیں جو ملک کی مختلف عدالتوں میں سول جج کے عہدے پر فائز ہیں۔


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Fri 17 Sep 2010 | 11 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
یک فعال ضدجنگ و کارشناس عدم اشاعه هسته‌ای در انگلیس می‌گوید ، وزارت دفاع آمریکا بخش زیادی از بودجه خود را به توسعه سیستم‌های نظارتی و اطلاعاتی مرتبط با تغییرات آب و هوایی از جمله طرح هارپ اختصاص داده است سم آکاکی به خبرنگار ایرنا گفت: ناسا و آژانس نقشه برداری و تصویربرداری ملی آمریکا که زیر نظر وزارت دفاع فعالیت می‌کنند اکنون در حال تحقیق بر روی تصویربرداری برای مطالعات آب و هوایی هستند تا امکان استفاده نظامی از آنها را بررسی کنند.وی افزود: کارشناسان آمریکایی در حال تحقیق برروی محیط زیست طبیعی و پدیده‌هایی نظیر سیل، توفان، زلزله، رانش زمین و پیش بینی‌های آب و هوا و تغییرات جوی در قالب پروژه هارپ هستند.ادامه…

وی تاکید کرد:من هیچ شکی ندارم که هارپ در سال‌های اخیر به گستردگی برای به وجود آوردن بلایای طبیعی همچون زلزله هاییتی و سیل پاکستان مورد استفاده قرار گرفته است.

این کارشناس انگلیسی افزود: نکته قابل توجه این است که مکان‌هایی که با بلایای طبیعی مواجه شده‌اند از نظر منابع طبیعی بسیار غنی هستند و می توانند آمریکا را برای انجام هر اقدامی وسوسه کنند.

آکاکی با اشاره به برخی از مطالعات انجام شده درباره هارپ، گفت: دکتر روسالی برتل از دانشمندان مشهور اذعان کرده است که کارشناسان ارتش آمریکا در حال تحقیق بر روی سیستم‌های آب و هوایی به عنوان یک سلاح بالقوه هستند دکتر برتل همچنین گفته است که روشهای ارتش آمریکا شامل ایجاد توفانهای شدید و سیلاب و خشک سالی‌های هدفمند است.

آکاکی گفت: نیکلاس بگیچ یکی دیگر از دانشمندانی است که سالها برای مقابله با هارپ زحمت کشیده است زیرا او می‌داند که این سلاح عظیم می‌تواند اختلالات زیادی در طبیعت به وجود آورد.

وی افزود: بسیاری از کارشناسان سیاسی معتقدند هارپ یک سلاح جدید در دست ارتش آمریکاست تا با آن بتواند به سیطره خود بر دنیا ادامه دهد.

آکاکی گفت: شاید رضایت دادن آمریکا به نابودی برخی سلاح‌های هسته‌ای خود به این دلیل باشد که جایگزینی برای سلاح‌های هسته‌ای خود پیدا کرده است و آن احتمالا همان هارپ است.

هارپ به ظاهر یک پروژه تحقیقاتی است که توسط آمریکا برای تحقیق درباره لایه یونوسفر (‪ )Ionosphere‬که بالایی‌ترین لایه جو می‌باشد و همچنین مطالعه درباره معادن زیر زمینی با استفاده از امواج رادیویی تاسیس شده است.

برخی معتقدند زلزله ‪ ۷/۳‬ریشتری هاییتی، موج سرمای سال گذشته در اروپا و حتی سیل اخیر در پاکستان ممکن است از پروژه هارپ آمریکا متاثر شده باشند.

آنان می‌گویند هارپ از طریق ارسال یک انرژی فوق‌العاده به لایه یونوسفر، مولکول‌های آن را به تپش انداخته و به بازتاب قدرتمند این انرژی وادار می سازد. این انرژی پس از کانالیزه شدن می‌تواند اختلالاتی مانند خشکسالی، بارش برف و باران، سرمای شدید، سونامی، توفان، زلزله و… در نقاط تعیین شده به وجود آورد

نظر شخصی نظیر: این حرفها اثبات نشده است همچون داستان سفر ماه امریکایی ها که روسها چند بار گفتند اگر دهه 60 میلادی به فضا رفتید الان که علم پیشرفت فراوانی کرده چرا نمی روید که آمریکایی ها جوابی برایش ندارند همه اینها فیلم های هالیوود است و لا غیر


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Fri 17 Sep 2010 | 0 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
روز دوشنبه "سيد يوسف رضا گيلاني "، نخست‌وزير پاكستان در ديدار با مردم گيلگيت بلتستان به آن‌ها اطمينان خاطر داد كه تمامي اقدامات لازم را براي بازسازي خانه‌ها و زيرساخت‌هاي آسيب‌ديده در اين ايالت انجام خواهد داد.

نخست‌وزير طي حضور يك روزه خود در اين ايالت، با مردم آواره و آسيب‌ديده در سيل اخير ديدار كرد و به آن‌ها اطمينان داد كه دولت تمامي امكاناتش را براي كمك به آن‌ها به كار خواهد گرفت.

گيلاني چكي به مبلغ 50 ميليون روپيه در اختيار سروزير گيلگيت بلتستان جهت تهيه فوري آذوقه، كمك‌هاي دارويي و كالاهاي امدادي براي مردم آسيب‌ديده از سيل قرارداد.

وقتي به گيلاني اطلاع دادند كه ذخيره گندم اين منطقه تا ده روز جوابگو خواهد بود، وي اطمينان داد كه دولت، گندم اين منطقه را تامين خواهد كرد. سپس گيلاني از ويراني‌هاي بجا مانده از سيل و باران‌هاي سيل‌آسا در گس بالا ديدن كرد و در فرودگاه، مورد استقبال "سيد مهدي شاه " سروزير ايالت گيلگيت بلتستان "بشير احمد " رئيس اپوزسيون مجلس گيلگيت بلتستان و دبيركل و فرمانده نيروهاي مناطق شمالي قرار گرفت.

در گس بالا، 47 تن در جريان باران سيل‌آسايي كه در 10 آگوست اتفاق افتاد، جان خود را از دست دادند.

گيلاني با خطاب قرار دادن مردم مصيبت‌زده، گفت: او آمده تا در رنج و اندوه آن‌ها شريك باشد و اقدامات ضروري را براي جبران خسارات ناشي از مرگ و صدمه در جريان سيل و باران‌هاي سيل‌آسا به انجام رساند.

گيلاني تصريح كرد كه چالش‌هايي كه كشور در جريان سيل با آن روبرو شده است بسيار بيشتر ازفاجعه سونامي و زلزله است. وي از تلاش‌هاي جامعه بين‌الملل و همچنين آن دسته از مردم پاكستان كه قربانيان بحران سيل را مورد حمايت خود قرار دادند، قدرداني كرد. نخست وزير افزود كه دولت بدون توجه به انتقادات منفي با شور و اشتياق براي تامين آسايش توده مردم خدمت مي‌كند.

پيش‌تر گيلاني در جريان تلفات ناشي از سيل در گيلگيت بلتستان كه به 183 تن مي‌رسيد از جمله مرگ 103 نفر در ديامير و 56 تن در سكاردو قرار گرفته بود. ضمن اينكه در اين فاجعه 3000 خانه آسيب ديده، دره‌ها زير آب رفته و 947 كيلومتر جاده صدمه ديده و مردم در مناطق مختلفي آواره شده‌اند.

بارندگي‌ها به 71,000 كانال زمين‌هاي كشاورزي و 571 كانال آب‌رساني صدمه وارد كرده وبه 182 پل آسيب وارد شده و يا بطور كلي از بين رفته و مسير ارتباط جاده‌اي گيلگيت بلتستان بين چين و پاكستان تخريب شده، ضمن اينكه بزرگراه كاراكورام در باشام و سوات هم بند آمده است.
همچنين جاده ارتباطي به چيترال بسته شده و تنها مسير ارتباطي ميان گيلگيت بالتيستان و ديگر مناطق از طريق دره كاگان ناران ميسر است. ميزان خسارت وارد شده به اين ايالت 11 ميليارد روپيه برآورد مي‌شود.

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Tue 24 Aug 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
افراد مسلح پسر حجه الاسلام و المسلمین میرزا یوسف از روحانیون سرشناس شیعه در پاکستان را در شهر کراچی به شهادت رساندند سه گلوله به گردن وی اصابت کرده بود که منجر به شهادت وی شده است
موضوعات مرتبط: شيعيان پاكستان

تاريخ : Tue 17 Aug 2010 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

آيت‌الله مکارم شيرازي خطاب به سفير پاکستان گفت: سلام مرا به دولتمردان و علماي برجسته پاکستان برسانيد و بگوئيد که ما در اين غم و اندوه با شما سهيم هستيم و انشا الله مسئوليت خودمان را انجام مي‌دهيم.


مهر: آيت‌الله مکارم شيرازي 50 هزار دلار به سيل زدگان پاکستان کمک کرد.

آيت‌الله ناصر مکارم شيرازي عصر دوشنبه در ديدار سفير پاکستان اظهار داشت: من 50 هزار دلار به حساب سيل زدگان پاکستان واريز مي‌کنم و به مردم هم سفارش مي‌کنم که بخشي از وجوهات شرعي خودشان را براي کمک به سيل زدگان پاکستان اختصاص دهند.

اين مرجع تقليد عمق فاجعه سيل در پاکستان را گسترده توصيف کرد و افزود: من از اين فاجعه دردناکي که براي برادران و خواهران ما در پاکستان واقع شده بسيار نگران هستم و شب‌ها و روزهاي متوالي از فکر سيل زدگان بيرون نمي‌روم.

آيت‌الله مکارم شيرازي اضافه کرد: اين فاجعه بسيار وسيع و گسترده است و بر همه مسلمانان و آزادگان دنيا لازم است که به کمک برادران و خواهران پاکستاني بشتابند.

وي اظهار داشت: ما از خدا مي‌خواهيم که آثار اين فاجعه هر چه زودتر برچيده شود و دعا مي‌کنيم که ديگر امثال اين فجايع براي برادران ما در پاکستان واقع نشود.

استاد برجسته حوزه علميه خطاب به سفير پاکستان اظهار داشت: آنچه که باعث تأسف شماست موجب تأسف ماست و آنچه که باعث خوشبختي شما مي‌باشد موجب خوشبختي ماست.

آيت‌الله مکارم شيرازي گفت: يقين داشته باشيد که ما در مسائلي که براي شما در پاکستان واقع شده، با شما شريک و سهيم هستيم و انشا الله تلاش مي‌کنيم مسئوليت خودمان را در مقابل اين فاجعه انجام دهيم.

آنهايي که دم از دوستي بشر مي‌زنند احساس مسئوليت کنند

وي ادامه داد: اميدواريم آنهايي که دم از دوستي بشر (غيرمسلمانان) مي‌زنند احساس مسئوليت و تنها به اظهار تأسف قناعت نکنند و به قول‌هايي که مطابق آن عمل نمي‌کنند قناعت نکنند، بلکه قولي بدهند که در کنار آن بايستند و عمل کنند.

آيت‌الله مکارم شيرازي خطاب به سفير پاکستان گفت: سلام مرا به دولتمردان و علماي برجسته پاکستان برسانيد و بگوئيد که ما در اين غم و اندوه با شما سهيم هستيم و انشا الله مسئوليت خودمان را انجام مي‌دهيم.

پاکستان به تروريست‌ها مجال ندهد

اين مرجع تقليد در بخش ديگري از سخنان خود با اشاره به توقع نظام جمهوري اسلامي از دولت پاکستان تصريح کرد: ما مي‌توانيم اين خواسته را از دولتمردان پاکستان داشته باشيم که به تروريست‌ها مجال ندهند که اين دو کشور همسايه برادر را نسبت به هم بدبين کنند.

وي اضافه کرد: دولتمردان پاکستان بايد آنچه در توان دارند از کمک‌هاي اطلاعاتي و غير اطلاعاتي به ما بدهند تا بتوانيم مرزهاي خودمان را امن کنيم و ملت ما دچار فاجعه انساني به وسيله تروريست‌ها نشود.

آيت‌الله مکارم شيرازي با اشاره به مشترکات فرهنگي بين پاکستان و ايران اظهار داشت: ما با پاکستاني‌ها جهات مشترک فراواني داريم. سزاوار است در دنياي طوفان زده امروز در کنار هم باشيم و متحد هم باشيم و اجازه ندهيم افراد فاسد اين اتحاد و صميميت ما را بهم بزنند.

وي اظهار داشت: معتقدم ريشه ترورها در تعليمات مدارس ديني وهابي‌هاست بايد بر برنامه‌هاي مدارس وهابي‌ها نظارت بيشتري انجام شود.

همچنین آیت الله صافی گلپایگانی با صدور اطلاعیه‌ای اجازه استفاده از یک سوم سهم مبارک امام جهت کمک به سیل زدگان پاکستانی را صادر کرد.

به گزارش خبرنگار مهر در قم، در اطلاعیه آیت الله لطف الله صافی آمده است: در پی وقوع سیل در کشور اسلامی پاکستان و تلفات و خسارات جانی و مالی فراوانی که به مردم مسلمان آن کشور وارد گردیده است، ضمن ابراز تأسف شدید و هم‌دردی با خانواده‌های داغدار و سانحه دیده به اطلاع می‌رساند: مرجع عالیقدر شیعه حضرت آیت الله العظمی صافی اجازه مصرف یک سوم سهم مبارک امام (علیه السلام) را برای کمک به این امر انسانی و اسلامی صادر کرده است.
 
در ادامه اطلاعیه آمده است: مؤمنان می‌توانند از راه‌های مورد اعتماد، کمک‌های خود را برای سانحه‌دیدگان ارسال دارند.
موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Tue 17 Aug 2010 | 11 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
نخست وزير پاكستان اعلام كرد: تعداد آسيب ديدگان سيل شديد در اين كشور به به مرز 20 ميليون نفر رسيده است.

به گزارش بي بي سي، يوسف رضا گيلاني، نخست وزير پاكستان در سخناني به مناسبت سالگرد استقلال پاكستان اعلام كرد: تعداد آسيب ديدگان سيل شديد در اين كشور به 20 ميليون نفر رسيده است.

از سوي ديگر وزير اطلاع رساني پاكستان نيز با تأييد اين خبر، تأكيد كرده است كه امكان دسترسي سريع به تمام مناطق سيل زده و كمك به آسيب ديدگاه در شرايط كنوني نيست.

همچنين يوسف رضا گيلاني در ادامه اظهاراتش تصريح كرده كه با نواز شريف رهبر حزب مسلم ليگ درباره هماهنگي در كمك رساني به آسيب ديدگان هماهنگي هايي انجام شده است.

وي گفت كه با همكاري نواز شريف قرار است يك نهاد مستقل براي جذب كمك هاي مالي و نظارت به هزينه هاي مربوط به امداد رساني تشكيل شود.

بر اساس آخرين گزارش ها تعداد كشته هاي ناشي از سيل شمال پاكستان و اقليم كشمير و شمال شرق افغانستان به بيش از 2هزار و 600 نفر رسيده است كه يك هزار و 600 نفر آن متعلق به مناطق شمال غربي پاكستان است.

جاري شدن سيل كه موجب طغيان رودخانه ها، آبگرفتگي و رانش زمين در روستا هاي شمال غربي و مركزي و جنوبي شده، بسياري از محصولات و زمين هاي زراعي را تخريب كرده است. اين سيل در ايالت سرحد پاكستان شديدترين سيلاب از سال 1929 بوده است.

موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Tue 17 Aug 2010 | 11 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
 1974ء اور 1975ء تنظیمی وسعت کے سال قرار پائے اور تنظیمی اسٹرکچر فیصل آباد‘ ملتان اور راولپنڈی میں قائم ہو گئے۔ 1976ء میں پہلی بار مرکزی سالانہ کنونشن جامعتہ المنتظر لاہور میں منعقد ہوا۔ تب سے یہ روایت آج تک جاری ہے۔ مرکزی کنونشن میں ملک بھر سے تنظیمی کارکنوں وعہدیداران اور سیاسی‘ سماجی‘ علمی‘ مذہبی شخصیات وطالبعلم رہنماء شریک ہوتے ہیں۔ 1974ء میں اس تنظیم کے فارغ التحصیل برادران نے سابقین پر مشتمل علیحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جس کا نام ”امایہ آرگنائزیشن پاکستان“ رکھا گیا جبکہ 1979ء میں اس کارواں کے شرکاء نے ملت جعفریہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے ”تحریک نفاذ فقہ جعفریہ“ کی بنیاد رکھی۔ 1980ء میں اسلام آباد میں حکومتی زیادتیوں کے خلاف سیکریٹریٹ کے گھیراؤ کی تحریک اور مطالبات کی منظوری کیلئے کفن پوش دستوں کی تشکیل اور انتظامات میں بھی آئی ایس او پاکستان کے نوجوانوں نے بنیادی ترین کام کیا۔ 1979ء میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں انقلاب برپا ہوا تو تنظیم نے اس انقلاب کے اثرات کو پیغام کی صورت میں قبول کیا۔ 1984ء میں علامہ سید عارف حسین الحسینی کی فعال قیادت جس کا امام خمینی کی ذات کے ساتھ گہرا تعلق تھا ملت جعفریہ پاکستان کی قیادت کا علم سنبھالا تو امامیہ نوجوانوں نے انہیں اپنا رہبر ورہنما تسلیم کیا۔ علامہ سید عارف حسین الحسینی نے استعمار کے ایجنٹ حکمرانوں کی سازش کو بھانپتے ہوئے ملک بھر میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کیلئے سردھڑ کی بازی لگا دی اور شیعہ وسنی مشترکہ اجتماعات وکانفرنسز کا انعقاد کیا گیا۔ آئی ایس او پاکستان نے شہید قائد کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنے تنظیمی نظم میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدامات کئے۔ اس حقیقت سے بھلا کیسے انکار ہو سکتا ہے کہ اس طلباء تنظیم کے تربیت یافتہ نوجوان عالمی حالات وواقعات‘ سیاست اور سازشوں کو سب سے بہتر انداز میں سمجھتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے میں اس پلیٹ فارم سے امت مسلمہ کے مسائل چاہے وہ فلسطین کا مسئلہ ہو یا لبنان کا‘ ایران پر زیادتی ہو یا بوسنیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان، آئی ایس او نے سب سے آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف آواز احتجاج بلند کی بلکہ عملی طور پر بھی خود کو پیش کیا۔ آج بھی دنیا بھر میں امت مسلمہ پر استعماری طاقتوں کے مظالم اور تجاوز کے خلاف آئی ایس او پاکستان صدائے احتجاج بلند کرتی دکھائی دیتی ہے۔ تحریک حمایت فلسطین‘ تحریک حمایت لبنان‘ غزہ کے مسلمانوں کے محاصرہ کے خلاف پہلی آواز بن کر سامنے آئی اور ہر سال جمعتہ الوداع کے روز کو بطور یوم القدس منانے کا آغاز اسی کارواں کے پلیٹ فارم سے ہوا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
ہم اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ حق کا پرچم سربلند رکھنے کی اس راہ میں تنظیم کے بانی ڈاکٹر سید محمد علی نقوی نے جام شہادت نوش کیا۔ تنظیم کے دیگر رہنماؤں تنصیر حیدر‘ راجہ اقبال حسین‘ ڈاکٹر قیصر سیال اور بیسیوں کارکنان نے حیَّ علیٰ خیرالعمل کی صدا بلند کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا ہے۔ شہادت و سعادت کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ طالبعلموں کے تعلیمی مسائل‘ ان کی تعلیمی رہنمائی اور یونیورسٹیز و کالجز کے فاسد ماحول سے انہیں بچانے کیلئے‘ ان کی نظریاتی و فکری و روحانی تربیت کا سامان کرنے کیلئے اس کاروان الٰہی نے گزشتہ 38 برس میں سیکڑوں ورکشاپس‘ سیمینارز‘ اسکاؤٹ کیمپس‘ کنونشن اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا ہے۔ ہر سال یہ سلسلہ تسلسل سے جاری رہتا ہے۔ طالبعلموں کے باہمی جھگڑوں اور فسادات کے حل اور تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے تمام طلباء تنظیموں پر مشتمل ”متحدہ طلباء محاذ“ میں آئی این او نے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں اس اتحاد کی سربراہی بھی آئی ایس او پاکستان کے پاس رہی ہے۔

موضوعات مرتبط: شيعيان پاكستان

تاريخ : Sun 18 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
زندہ انسان دو قسم کے ہیں ایک کو ہم زندہ انسان کہتے ہیں اور ایک کو خود خداوند عالم زندہ و تابندہ قرار دے رہا ہے ہم چلتے ہوئے بدنوں کو زندہ انسان کہتے ہیں جبکہ خداوند عالم اس فرد کو حقیقی زندہ انسان قرار دے رہا ہے جس نے اپنی جان خداوند عالم کے حضور نذرانے کے طور پر پیش کی اسلامی تعلیمات میں شہید کے جو عظیم درجات بیان کئے گئے ہیں ان میں شہید کو زندہ قرار دینا ایک خوبصورت اور انتہائی عمیق تعبیر ہے انسانی زندگي میں بہت سارے لوگ ظاہرا" چل پھر رہے ہوتے ہیں لیکن امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کے فرمان کی روشنی میں وہ چلتی پھرتی لاشوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے عالم اسلام کے عظیم مفکر آیت اللہ شہید مرتضی مطہری شہید کی تعریف میں فرماتے ہیں : شہید انسانیت کی محفل میں ایک شمع کی مانند ہوتا ہے ۔ شمع اپنے آپ کو فناکردیتی ہے لیکن دوسروں کو روشنی عطا کرتی ہے ۔پانچ اگست انیس سو اٹھاسی کو ایک ایسی ہی ہستی نے جام شہادت نوش کیا جس کی یاد اکیس سال گزرنے کے باوجود ابھی تک دلوں میں تازہ ہے ۔ جب بھی پانچ اگست کا دن طلوع ہوتا ہے تو اس شخصیت کے چاہنے والوں کے سامنے اس صبح کا منظر دوبارہ زندہ ہونے لگتا ہے جب ایک عالم ربانی اور عارف حق کو نماز صبح کے بعد استعماری اور یزیدی ایجنٹوں نے خون میں نہلادیا تھا بقول شاعر:

شہادت کا آرمان تھا تیرے دل میں               ہوا منکشف  تجھ  یہ  راز  شہادت
وضوکرکے  اپنے  مقدس  لہو  سے               پڑھی تو تم نے عارف نماز شہادت

پانچ اگست انیس سو اٹھاسی اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی علامہ سید عارف حسین الحسینی کا روز شہادت ہے ۔آج اس شہید کی شہادت کواگرچہ اکیس برس کا طویل عرصہ گزرچکا ہے لیکن وہ آج بھی کروڑوں انسانوں کے دلوں میں زندہ و تابندہ ہے ۔شہید عارف حسین الحسینی اپنے دور کے عظیم معلم اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی اور طاغوت و استعمار کے خلاف ایک سیسہ پلائي دیوار کی علامت سمجھے جاتے ہیں آپ نے اپنے چارسالہ دور قیادت میں پاکستان کے مظلوم اور محروم طبقے کی جس طرح ترجمانی کی پاکستان کی پوری تاریخ اس سے خالی نظر آتی ہے ۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے مسلمانوں کے درمیان جہاں کہیں بھی فرقہ واریت اور مذہبی تفرقے کی سازشیں رچی ہیں اس کے پیچھے امریکی استعمار کا ہاتھ ہے ۔شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی مجدد دوران حضرت امام خمینی (رح) کے حقیقی شاگرد اور پیروکار تھے  . آپ بھی اپنے رہبر اور استاد کی طرح فرقہ واریت اور تفرقے کو امت مسلمہ کے لئے سب سے زيادہ خطرناک سمجھتے ہیں ۔علامہ شہید عارف حسین الحسینی کی امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے عظیم کاوشیں اور لازوال قربانیاں ہی تھیں جس نے اس شہید کو سنی شیعہ تمام حلقوں میں اتنا مقبول بنادیا تھا کہ امت مسلمہ کا ہر باشعور شخص آپ کی شہادت کی خبر سن کر یہ پکار اٹھا کہ آج پاکستان اتحاد بین المسلمین کےعظیم داعی سے محروم ہوگیا۔آپ کی مقبولیت اور ہر دلعزيزي کا یہ عالم ہے کہ آپ کے شہادت کے اکیس برس کےبعد آج بھی آپ کی برسی کا پروگرام انتہائی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔گذشتہ سالوں کی طرح آج بھی دنیا کے مختلف شہروں میں آپ کی شہادت کی مناسبت سے کئی پروگرام ہوئے ۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آپ کی اکیسویں برسی کی مناسبت سے ایک عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کے مختلف شہروں سے شہید عارف حسین الحسینی کے چاہنے والوں نے شرکت کی ۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شہید مظلوم علامہ سید عارف حسین الحسینی کی اکیسویں برسی کے پروگرام منعقد ہوئے ۔یورپ کے کئی شہروں کے علاوہ ایران کے مقدس شہروں قم اور مشہد میں خصوصی طور پر شہید عارف حسین الحسینی کی دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پروگرام منعقد ہو‏ئے ۔اکیسویں برسی کی مناسبت سے ان تقریبات میں مقررین ، علما اور دانشور حضرات نے علامہ سید عارف حسین الحسینی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں بالخصوص ان کی قیادت کے چارسالہ دور کو خصوصی طور پر اپنا موضوع گفتگو قرار دیا ۔مقررین نے آپ کو با بصیرت ، دور اندیش ، شجاع اصولوں پر سودے بازي نہ کرنے والا اور اسلام محمدی کا حقیقی مبلغ قراردیتے ہوئے آپ کے بتائے ہوئے سیاسی اصولوں کو آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ قرار دیا ۔


موضوعات مرتبط: شيعيان پاكستان

تاريخ : Sun 18 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

آج کے گلگت بلتستان اور کل کے شمالی علاقہ جات سے میرا پہلا تعارف ائیر مارشل اصغر خان کے بھائی بریگیڈئر اسلم کے ذریعے ہوا جو ان دنوں ہماری بیجوں کی دکان " کسان اینڈ کمپنی " میں میرے والد صاحب سے ملنے کیلئے آیا کرتے تھے.... تب میں نے ان کی زبان سے پہلی مرتبہ کسی دور افتادہ پہاڑی شہر سکردو کا نام سنا.... والد صاحب نے بتایا کہ ان بریگیڈئر صاحب نے سکردو کے دریائے سندھ کی ریت پر اترنے والے ایک ہوائی جہاز کا ڈھانچہ خرید کر اسے کسی جھیل کنارے ایستادہ کر کے اس میں ایک ہوٹل بنایا ہے جس کا نام " شنگریلا " ہے.... بریگیڈئر صاحب والد صاحب کے ساتھ مشورے کیا کرتے تھے کہ اتنی بلندی اور برفانی آب و ہوا میں اس جھیل کے کنارے کونسے پھول اگائے جاسکتے ہیں

کونسے پھلدار درخت کامیاب ہو سکتے ہیں اور کیا جھیل کے پانیوں میں سنگھاڑے اگائے جاسکتے ہیں.... انہوں نے ہم سے گلاب کی مختلف اقسام کے پودے خریدے جو انہوں نے جھیل کے کناروں پر لگائے.... ایک مدت کے بعد جب ان کے بیٹے عارف اسلم سے میری دوستی ہوئی اور میں پہلی بار سکردو سے کچھ فاصلے پر واقع " شنگریلا " گیا تو شائد وہاں جو گلاب کھلے تھے ان میں سے چند ایک وہی تھے جو ابا جی نے لاہور سے روانہ کئے تھے.... گلگت بلتستان ان زمانوں میں اتنے گمنام اور طویل فاصلوں پر تھے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو بھی ان کے وجود کا علم نہ تھا۔

انیس سو پچپن میں جب میں گورنمنٹ کالج لاہور کی پہلی کوہ پیما ٹیم کے ممبر کی حیثیت سے وادی کاغان کے راستے رتی گلی کی چوٹی تسخیر کرنے جارہا تھا تو راستے میں ایک ویران پہاڑی راستے پر تن تنہا سفر کرتے ایک نوجوان لڑکا ہمیں ملا جو " نیشنل جیوگرافک " میں وادی ہنزہ کے بارے میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے ہمراہ چھپی ہوئی ایک خوبصورت لڑکی کی تصویر پر عاشق ہو کر صرف اسے ملنے کی خاطر یہ خطرناک پیدل سفر اختیار کئے ہوئے تھا.... اس نے ہمیں بتایا کہ وہ گلگت کے راستے ہنزہ کی وادی میں جائے گا.... اور یہ پہلی بار تھا

جب میں اس گمنام شہر گلگت اور اس دور دراز کی وادی ہنزہ کے نام سے آگاہ ہوا.... ان دنوں سکردو، گلگت اور وادی ہنزہ میرے حواس پر چھائے رہتے تھے.... میں ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہتا اور ان علاقوں کے بارے میں لکھے گئے انگریزی کے سفر نامے پڑھتا رہتا، ان میں مجھے آئن سٹیفن کی کتاب " دے ہارنڈ مون " اور " گلگت گیم " مجھے یاد ہیں۔ انہی زمانوں میں ایک شاندار فلم " سرچ فار پیراڈائز " بنی جس میں نیپال اور کشمیر کے کچھ حصوں کے علاوہ وادی ہنزہ کی بھی تصویر کشی کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ ابھی شاہراہ قراقرم کی تعمیر بہت دور تھی جس نے بالآخر ان علاقوں کو پاکستان کے قریب کر دیا...

انہی دنوں مجھے یاد ہے کہ میر آف ہنزہ بھی ہم سے پھولوں کے بیج منگوایا کرتے تھے اور ایک مرتبہ انہیں میں نے خط لکھا کہ میں وادی ہنزہ کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں.... ان کا جواب آیا کہ اس برس موسم گرما میں مجھے کاشغر وغیرہ جانا ہے تو آپ اگر اگلے برس آجائیں تو آپ میرے مہمان ہوں گے اور میں ذاتی طور پر آپ کو اپنی وادی سے روشناس کرواؤں گا .... اگلے برس میں کسی اور طرف نکل گیا اور پھر کچھ اور ہوگیا میں ادھر کا رخ نہ کر سکا.... یہ آج سے تقریباً چوبیس برس پیشتر کا قصہ ہے جب میں نے اپنے بیٹے سلجوق کے ہمراہ پہلی بار گلگت اور ہنزہ کا سفر اختیار کیا اور واپسی پر " ہنزہ داستان " نام کا سفر نامہ لکھا....

ان علاقوں میں میرے اولین دوست جی ایم بیگ تھے جنہوں نے مجھے وہاں کی تاریخ اور ثقافت سے روشناس کروایا.... بیگ صاحب اس بدقسمت فوکر طیارے کے مسافر تھے جس کا سراغ آج تک نہیں ملا..... اس پہلے سفر کے بعد شمال نے مجھ پر کچھ ایسا جادو ٹونا کیا کہ مجھے پھر سوائے شمال کے اور کچھ دکھائی نہ دیا اور میں تقریباً ہر برس کوہ نوردی کیلئے ادھر کا رخ کرلیتا.... میں اس محبوب کا کچھ ایسا اسیر ہوا کہ آج تک اس کے عشق میں بری طرح مبتلا ہوں، میں نے یہ حیات سیاحت کے جنوں میں گزاری ہے.... بہت سے ملکوں کی خاک چھانی لیکن میں صدق دل سے یہ بیان دیتا ہوں کہ پوری دنیا میں کوئی اور کوہستانی خطہ اس کی ہمسری نہیں کر سکتا.... وہ جو شان و شوکت اور جلال اور ایک الوہی خوبصورتی اس کے پہاڑوں اور وادیوں میں ہے اور کہیں نہیں ہے....

میں نے دیگر ممالک کے بارے میں جو سفر نامے تحریر کئے ہیں ان کی تعداد شمال کے سفر ناموں سے کم ہے.... اب تک میں ایک درجن سفر نامے شمال کی کوہ نوردیوں کے حوالے سے لکھ چکا ہوں۔ اُدھر شمال اور اس کے باسیوں نے بھی مجھے بے پناہ محبت سے نوازا ہے.... کبھی کسی جھیل کو میرا نام دے کر اور کبھی کسی کوہستانی منزل کو " تارڑ سٹاپ" قرار دے کر .... بلکہ ایک بار سکردو میں کوئی الیکشن منعقد ہونا تھا تو امیدواروں کے بارے میں سخت اختلاف رائے تھا

اس پر ایک صاحب سے ذرا شگفتہ انداز میں کہا کہ کیوں نہ تارڑ صاحب کو بلالیا جائے، ان کی نامزدگی پر کوئی معترض نہ ہوگا.... بلکہ ایک مرتبہ میرا چھوٹا بیٹا سمیر اپنے ایک دوست کے ہمراہ گلگت اور ہنزہ کی جانب گیا تو کئی ہوٹل والوں نے اس سے کرائے کی رقم لینے سے انکار کر دیا.... نہ صرف شمال شاندار ہے بلکہ اس کے باشندے بھی خلوص اور سادگی کے پیکر ہیں.... جب میری کتاب" نانگا پربت بلتستان داستان " کو اس برس کی بہترین نثری کتاب قرار دیا گیا تو اکیڈمی کے ایوارڈ دینے کیلئے صدر لغاری تشریف لائے۔ انہوں نے چند روز بعد مجھے خصوصی طور پر قصر صدارت میں مدعو کیا....

ان دنوں ازبکستان روڈ کی تعمیر کا معاملہ زیر بحث تھا اور اس سلسلے میں میری رائے بھی معلوم کرنا چاہتے تھے کہ کیا ان علاقوں میں ایسی سڑک کی تعمیر ممکن ہے " نانگا پربت " کے حوالے سے پہلی بار وہ جادوئی خطہ جسے فیئری میڈو کہا جاتا ہے عام پاکستانیوں سے متعارف ہوا..... فیئری میڈو کا چاچا شکور اور رحمت نبی آج بھی میرے بہترین دوست ہیں اور ہاں! میں اشرف امان ، نذیر صابر اور رجب شاہ کو کیسے بھلا سکتا ہوں جن کے قدم کے ٹو اور ایورسٹ تک پہنچے.... یہ تینوں آج بھی میرے دل کے قریب ہیں۔

انہوں نے شمال کی بہت سی کوہ نوردیوں کے سلسلے میں میری راہنمائی کی ..... بلکہ میرے سفر نامے " یاک سرائے " کا تصور ایورسٹ فتح کرنے والے پہلے پاکستانی نذیر صابر کے دفتر میں آویزاں ایک تصویر میں سے پھوٹا ..... یہ جھیل کروبر کی جادوئی تصویر تھی جس نے مجھے موہ لیا.... اس سفر کے دوران میں اور میرے کوہ نورد ساتھی کوہ پامیر کے سائے سائے چلتے .... واخان کوریڈور کی قربت میں سفر کرتے وادی بروغل کے راستے درہ درکوت عبور کر کے وادی یاسین میں اترے تھے اور تب مجھے کسی نے بتایا کہ اس وادی کے نواح میں تبتی تہذیب کے کچھ آثار ملے ہیں.... ابھی پچھلے دنوں ایک برطانوی محقق خاتون سوزن وٹ فیلڈ کی کتاب " لائف الانگ دے سلک روڈ " پڑھ رہا تھا جس میں درج تھا کہ گلگت اور بلتستان آج سے تیرہ سو برس پیشتر تبت کے زیر نگیں تھے....

پھر ایک عرصہ تک چین کی حکومت رہی.... اسی وادی بروغل کے قریب چینیوں کے سپہ سالار گاؤ نے تبت کی فوج کو شکست دی.... تبت کی شکست خوردہ فوج اسی درہ درکوت کو عبور کر کے دریائے گلگت کے کناروں تک آئی اور چینی ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے ۔ اس کتاب میں درہ درکوت عبور کرنے کے بعد جو تقریباً عمودی اترائی آتی ہے اس کا بھی ذکر تھا جہاں سے تبت کی فوج بہت مشکل سے اتری... مجھے یاد ہے اس اترائی سے نیچے آتے میرے پاؤں کے ناخن خون آلود ہو گئے تھے اور آج مجھے شمال... گلگت اور بلتستان کیوں یاد آرہا ہے...

اس لئے کہ بالآخر وہاں کے باشندوں کو بھی انکے جائز آئینی حقوق مل گئے ہیں جن کے بارے میں میں بھی ہر فورم پر بات کیا کرتا تھا.... تمام ٹیلی ویژن چینلز پر گلگت اور بلتستان کے تذکرے ہیں ... وہ دن گئے جب یہ دور افتادہ گم شدہ اور نامعلوم خطے تھے آج گلگت اور سکردو ویسے ہی جانے پہچانے جاتے ہیں جیسے لاہور اور کراچی...میں اس خطے کے دوستوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں.. دیر آید درست آید !

مستنصر حسین تارر


موضوعات مرتبط: تاریخ بلتستان

تاريخ : Tue 13 Jul 2010 | 9 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

نام کوه: کی2، چوگوری، گادوین آستین

ارتفاع: ۸۶۱۱ متر 

موقعیت جغرافیایی: ۳۵،۸۸ عرض شمالی _ ۷۶،۵۱ طول شرقی

محل قرار گیری: قراقروم، مابین پاکستان و چین

بهترین ماههای صعود: ژوئن، جولای، آگوست 

اولین صعود: ۱۹۵۴ میلادی

نزدیکترین فرودگاه بین المللی: راولپندی پاکستان 

کوه کی2 دومین کوه مرتفع دنیا و بی شک سرسختترین قله ۸۰۰۰ متری می باشد که هدف غایی بسیاری از کوهنوردان است.

 این هرم غول آسا، برجی است تنها واقع در منطقه قراقروم پاکستان و در راس یخچال بالترو قرار دارد. کی ۲، ۵۴۹ متر از بلندترین کوههای اطرافش رفیعتر است و این امر موجب شده از دوردستها بتوان این غول را مشاهده و خداوند را تحسین نمود. ارتفاع بلندکوه و قرار داشتن آن در عرض شمالی ۳۵ درجه موجب شده تا کی۲ دارای آب و هوایی متمایز از سایر کوههای قراقروم باشد از این رو قله ای است از سنگ پوشیده از یخ و برف با ۶ یال مخوف.

در ۱۸۵۶ برای نخستین بار تی جی مونتگومری که یک مساح بود این کوه را از فاصله حدود ۲۰۰ کیلومتری (احتمالا از هاراموش) مشاهده نمود. کوه در میان رشته ای از کوههای رفیع قرار داشت به همین دلیل نیز از هیچ منطقه مسطحی در هند و چین قابل مشاهده نبود(در آن زمان هنوز پاکستان بخشی از خاک هند بود). مونت گومری بدون داشتن اطلاعاتی دقیق از نام کوههای منطقه قلل رفیع آنرا به نامهای قراقروم ۱ تا ۷ نامگذاری کرد، و نام کی۱ تا کی ۷ را برآنها نهاد که برگرفته از حرف اول karakoram بود. اما بعدها تنها نام کی ۲ به عنوان تنها کوه مرتفعی که یک مساح آنرا نامگذاری کرده بود بر روی دومین قله رفیع جهان باقی ماند و سایر نامها تغییر کرد و نام چوگوری که نامی بود محلی و کوه کوهها معنا می داد بعدها به فراموشی سپرده شد. البته نام دیگر کوه گادوین آستین می باشد که به افتخار هنری هاورشام گادوین استین بر این کوه نهاده شده بود، اما هیچگاه رسمیت نیافت.

در ۱۸۹۲ مارتین گانوی کاشف انگلیسی گروهی از محققان کوه ها را تا بر روی یخچال بالترو رهبری نمود. آنها تا ابتدای محلی که امروزه به یخچال کنکوردیها معروف است بالا آمدند.

در ۱۹۰۲ برای نخستین بار اسکار اکنسین بر روی جبهه شمالی کوه تلاشی را صورت داد. وی از طریق یال شمال شرقی تا ارتفاع ۶۵۲۵ متری بالا رفت.

اما راه قابل صعود کوه یعنی مسیر جنوب شرقی در ۱۹۰۹ توسط توسط هیئتی ایتالیائی به سرپرستی لوئیجی آمودئو کشف گردید. از آن تیم دوک ابروزی تا ارتفاع ۶۲۵۰ متری یال جنوب شرقی صعود نمود. پس از این تلاش این مسیر بنام یال ابروزی شناخته شد. ویکتور سلا عکاس این تیم، عکسی از کوه انداخت که بی شک قدیمی ترین عکس کی۲ به شمار می رود که همچنان موجود است.

در ۱۹۳۸ تیمی آمریکایی به سرپرستی دکتر چارلز هوستون توانست تا ارتفاع ۷۹۲۵ متری کوه بالا رود.

یک سال بعد تیم دیگری از آمریکا به رهبری فریتز ویسنر رکورد ارتفاع جدیدی برپا کرد. آنها تا ۸۳۸۲ متری کوه از مسیر یال ابروزی بالا رفتند، که بعد از صعود نورتون تا ارتفاع ۸۵۷۰ متری جبهه شمالی اورست در سال ۱۹۲۴ بلندترین ارتفاع صعود شده توسط انسان بود.

در ۱۹۵۳ تیمی ۷ نفره به سرپرستی دکتر چارلز هوستون توانست تا ارتفاع ۷۵۰۰متری کوه بالا رود. اما خرابی هوا و وخامت حال گیکلی، یکی از اعضای جوان تیم که به ارتفاع زدگی شدید دچار شده بود موجب شد تا آنها راه بازگشت را پیش گیرند. هنگام بازگشت و پائین آوردن گیکلی، ۵ عضو تیم بدلیل شیب تند مسیر سقوط کردند، اما کارگاه مستحکمی که پت شوئینگ برپا نموده بود مانع از سقوط بیشتر آنها به اعماق دره های کی۲ گردید اما لحظاتی بعد بهمن گیلکی را با خود به اعماق دره ها برد تا تیم ناکام به پائین باز گردد.

سال ۱۹۵۴ کی۲ تلاش موفقی را از کوهنوردان ایتالیایی شاهد بود. آشیل کامپاگنونی و لینولاسیدلی دو کوهنوردی بودند که در ۳۱ جولای موفق شدند بعنوان نخستین انسانها گام بر فراز این کوه سرسخت بگذارند. آنها اعضای تیم بزرگ و مجهزی به سرپرستی آردیو دزیو بودند. تیمی با بیش از ۵۰۰ باربر محلی، ۱۱ کوهنورد و ۶ دانشمند. آنها برای صعود قله ۹ کمپ برپا کرد. یکی از کوهنوردان بر اثر ذات الریه جان خود را از دست داد. پس از این صعود چیزی که بیش از فتح قله جلب توجه کرد تلاشهای کوهنورد بزرگ ایتالیایی والتر بوناتی و باربر پاکستانی مهدی بود. که ظاهرا بازیرکی سایرین از صعود قله بازماندند. فاتحان قله همچنین مدعی بودند بوناتی و مهدی زمانیکه کپسولهای اکسیژن را به کمپ آخر حمل می کردند، بدلیل شب مانی در ارتفاع بخشی از اکسیژن را مصرف کرده بودند و تیم قله بخشهای پایانی را بدون اکسیژن طی نمود. گرچه بودن ماسک اکسیژن بر صورت آنها که در تصاویر قله قابل رویت است، این ادعا را توام با شک نمود. بعدها بوناتی در کتابی تحت عنوان "کوههای زندگی من" از خودش دفاع کرد.

پس از صعود ایتالیائیها، کوه تا ۱۹۷۷ صعودی بر خود ندید، تا اینکه در این سال تیمی از کشور ژاپن متشکل از ۵۲ کوهنورد و ۱۵۰۰ باربر موفق شد دومین صعود قله را صورت دهند. در این تیم اشرف امان کوهنورد پاکستانی نیز بعنوان راهنما و باربر ارتفاع عضویت داشت که موفق به فتح قله گردید.

یکسال بعد تیمی از آمریکا توانست از یال شمال غربی قله را فتح نماید. این تیم صعود خود را از مسیر یال شمال شرقی آغاز نمود (این یال امروزه به مسیر لهستانیها معروف است)، سپس در ارتفاع ۷۷۰۰ متری به طرف یال ابروزی تراورس کردند. در اینجا بحث بر سر آن شکل گرفت که چه کسی نخستین صعود بدون اکسیژن را بر روی قله صورت دهد. بدین ترتیب لوئیس ریچارد نخستین داوطلب اجباری این امر بود. وی کپسول اکسیژن خود را در میان راه دفن کرد، زیرا سیستمش دچار مشکل بود و عمل نمی کرد. جان روسکلی پس از لوئیس دومین شخصی بود که قله را بدون اکسیژن صعود کرد، اما نه بدلیل خربی سیستم اکسیژن بلکه از ابتدا به این نیت بالا آمده بود.

در ۱۹۸۱ ترئو موستورا تلاش موفقی را از یال جنوب غربی رهبری کرد. در ۷ آگوست آیهو اوهتانی به همراه راهنمای پاکستانی نظیر صبیر موفق شدند نخستین صعود این مسیر را صورت دهند.

در سال ۱۹۸۲ نخستین صعود جبهه شمالی توسط تیمی ژاپنی به رهبری ایسائو شینکای صورت گرفت. ۷ عضو این تیم همگی بدون کپسول اکسیژن به قله رسیدند. در همین سال تیمی لهستانی به رهبری یانوس کورزب بدون داشتن اجازه صعود از مسیر صعود نشده شمال غربی بالا رفتند. اما پس از مشاهده این تیم توسط مقامات محلی مجبور به بازگشت از ارتفاع ۸۲۰۰ متری شدند.

در ۱۹۸۶ نخستین صعود زنان بر روی کی۲ را وندا رتکوویچ کوهنورد زن لهستانی، لیلین بارارد از فرانسه و جولیا تولیس از انگلستان هر سه بدون کمک کپسول اکسیژن صورت دادند. آنها نیز از یال آبروزی به این مهم دست یافتند. گرچه جولیا و لیلین بر اثر طوفان کشته شده و برای همیشه در دل کی۲ آرام گرفتند.

در سال ۱۹۸۶ بنیو شامو کوهنورد معروف فرانسوی توانست کی۲ را در مدت زمان ۲۲ ساعت و ۳۰ دقیقه از کمپ پیشرفته ABC صعود نماید. این در شرایطی بود که تازه چند روز از صعود ۱۶ ساعته او به برودپیک می گذشت. همچنین اریک اسکوفیر دیگر کوهنورد فرانسوی موفق شد پس از صعود قلل گاشربروم I و II ، کی۲ را نیز صعود نماید. اسکوفیر این سه قله را تنها در مدت ۲۱ روز صعمد کرد که کاری بس قابل توجه بود.

در این سال همچنین کاکوشکا و پتروفسکی کوهنوردان شایسته لهستانی موفق به گشایش مسیری دشوار در جبهه جنوبی شدند. متاسفانه کاکوسکا پس از صعود به تنهایی به خانه بازگشت و پتروفسکی برای همیشه در دل کی۲ آرام گرفت.

در مجموع در سال ۱۹۸۶ با مرگ ۱۳ کوهنورد بر روی کی۲ فاجعه ای در کوهنوردی رقم خورد.

در سال ۱۹۹۰ تیمی از ژاپن به رهبری تومای اوکی توانست مسیری جدید در رخ شمال غربی باز کند. بخشهای پایانی مسیر در ارتفاع ۸۰۰۰ متری با یال شمالی مشترک بود.

در ۱۹۹۱ پیربگین و کریستوف پروفی کوهنوردان بزرگ فرانسوی توانست در مدت ۴۸ ساعت بدون کمک باربر ارتفاع و کپسول اکسیژن و کمک طنابهای ثابت مسیر جدیدی را بر روی جبهه شمال غربی کی۲ باز کنند. صعود آنها نمایش قابل تحسینی از کوهنوردی فنی به شمار می رفت.

در بهار ۹۶ یکی از پرتلفات ترین صعودهای کی۲ رغم خورد و این زمانی بود که ۶کوهنورد از جمله آلیسون هرگریوز پس از صعود قله دچار طوفانی سهمگین شده و همگی مفقود شدند.

از نظر میزان صعودها به کشته شدگان این کوهبا نسبت ۴ به ۱ پس از آناپورنا و نانگا پاربات در رده سوم قلل ۸۰۰۰ متری قرار دارد. از این رو این کوه را گاها کوه قاتل یا کوه بی رحم نیز می خوانند.

یکی از فاکتورهایی که صعود به کی۲ را به مبارزه تبدیل نموده فنی بودن کوه می باشد. بیش از ۴۵ درجه شیب در اکثر نقاط کوه آنرا نیازمند ثابت گذاری در اغلب نقاط صعود نموده. نیاز به ۲۵۰۰ متر طناب در جبهه جنوبی و ۵۰۰۰ متر در جبهه شمالی باعث شده تا اغلب تیمها به قصد صعود سبک به کوه بیایند از طرفی عدم فعالیت باربرهای توانمند ارتفاع بر روی این کوه مجب می شود تا خود کوهنوردان مجبور به آماده کردن مسیر گردند و این امر بر خطرات صعود افزوده.


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Thu 1 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |


مقدمه

به نظر نمي رسد جغرافي دانهاي آكادميك در مورد توصيف دقيق يخچالها كاملا متفق باشند. ما بايد يخچالها را به مانند توده هاي عظيم برف به صورت رود خانه هاي يخ زده در دره هاي كوهستاني توصيف كنيم كه از بالاي مسير برفي سرچشمه گرفته اند. نواحي قطبي (قطب شمال و جنوب)، بخاطر داشتن بزرگترين يخچالهاي كره زمين شناخته شده اند قطبین مسيرهاي عبور دريايي را طي قرنها بر هم زده اند. زيرا توده هاي عظيم يخبندان از بدنه اصلي شكسته و به درون اقيانوس لغزيده اند، و به شكل كوه يخي شناور در آمده اند.

در تاريخ كشتيراني دنيا صدها واقعه ثبت شده كه دال بر تصادف كشتي ها با كوههاي يخ شناور است و نتيجه آن مفقود شدن انسانها و سرمايه هاي زيادي است.

بجزمناطق قطبي درکمتر نقطه ای از جهان می توان به یخچالهایی نظیر یخچالهای منطقه قره قروم پاكستان اشاره نمود. البته اغلب این یخچالها بصورت سطحی بررسی شده اند.

در اين مقاله سعي شده نخست سرگذشت اين منطقه، و سپس يخچالهاي آن و نيز برخي كمپ سايتهاي موجود معرفي گردد. عكسهاي موجود همگي از اينترنت و كتاب كوههاي پاكستان(مراجعه به معرفي منابع) گرفته شده است.

يخچالهاي طبيعي پاكستان

محققان مي گويند كار بررسي در قره قروم ساده نيست. آنجا صدها مشكل وجود دارد. مناطق، غير قابل دسترسي، مسيرها خيلي مشكل و آبهاي منجمد، عدم سهولت در حمل و نقل و ارتباطات، منابع ناكافي در تهيه تجهيزات و افراد آموزش ديده، فقدان تصميم گيري و فداكاري، برنامه ريزي ضعيف و مديريت بد، كار بررسي را در آنجا مشكل كرده است.

در هر صورت بايد پذيرفت كه در هر حال كارهايي انجام شده كه در حال حاضر ما مي توانيم اين يخچالها را توصيف كنيم. اصلي ترين تفاوت بين يخچالهاي قطبي و يخچالهاي منطقه پاكستان اين است كه يخچالهاي مناطق قطبي در درياها واقع شده اند، در حالي كه يخچالهاي پاكستان در ارتفاعات 20هزار تا 27 هزار پايي بالاي سطح دريا، تقريباً در آسمان معلق اند.

در میان صدها يخچال پاكستان، يخچال سياشن جایگاه ویژه ای دارد.

يخچال سياشن 46مايل/74 كيلومتر طول داشته و عرض آن از 2 تا 4 مايل می باشد. اين يخچال در ارتفاع 17 تا 20 هزار پايي بالاي سطح دريا واقع شده و با تعدادي يخچال كوچكتر محاصره شده، از جمله بيلافوند، چوميك، لولوفند، ترام، شر، سيالا و...

اين يخچالها در شرق قره قروم قرار گرفته اند، در آنسوي دره هوشی و دانسوم، ميان سياشن موزتاق و رشته كوه بالتورو كه كوهها بزرگي با ارتفاع متغير از 18 هزار تا 24 هزار پايي بالاي سطح دريا قرار دارد.

پيش از 1982، اين محل امن ترين منطقه اي بود كه حركتي به جز رقص آرام پوسته هاي برفي و نغمه بادها نداشت. براي سالها گوشه و كنار صخره ها، تپه هايي پوشيده از برف باقي مانده بود. طي سالهاي3-1982 نيروهاي هندي، به آرامي بوسيله هلي كوپتر و سپس از طريق راههاي پر شيب زميني به منطقه وارد شدند.

آنها تقريباً همه ارتفاعات كليدي كوهها و تمام بخش جنوب غربي را اشغال كردند. اين كار بسيار برنامه ريزي شده و دقيق بود. آنها منطقه اي را كه متعلق به خاك پاكستان بود، اشغال كردند. رفت و آمد به آن منطقه را ممنوع اعلام كرده بودند، اين درحالي بودكه پاكستان ارتش منظمي براي سركشي به آنجا نداشت.

اما به محض اينكه خبر حركت هندي ها منتشر شد، ابعاد اثر بخشي به خود گرفت و همه چيز به يك تباني در پايان سال 1983 منتهي شد. پاكستان تلاش كرد منطقه را برگرداند. اما هندي ها استحكامات و جانپناه هاي خوبي داشتند و بواسطه آن تمام نقاط مرتفع كليدي را اشغال كرده، چنانچه تمام تلاش پاكستان در بيرون راندن آنها بي نتيجه ماند.

از آنجايي كه هيچ كشوري روي زمين نمي تواند تحمل كند بخشي از خاكش بوسيله دیگری اشغال شود (هر چند آن زمين بي استفاده هم باشد)، پاكستان گامهاي ديگري را در بيرون راندن آنها در پيش گرفت، و اين چنين جنگ در گرفت. البته هيچ انسان عاقلي گمان نمي كند در 18 هزار پايي بالاي سطح دريا بتوان جنگيد.

در چنين فرايندي، در هر صورت هزاران زندگي پرارزش از دست رفت، نه بخاطر شليك اسلحه يا حمله یکی از طرفین، بلكه بخاطر طوفانهاي برف، سرماي گزنده، بادهاي سرد كشنده، نبود اكسيژن و ساير عوارض مربوط به آن.

شكي وجود ندارد كه سيستم بسيار پيچيده يخچالها، دنياي ناشناخته اي است، كه براي مردم عادي به هيچ وجه آشنا نيست. اين يخچالهاي بيرحم و وحشي، اغلب در نگاه اول روح با شكوه شان را در مقابل بشريت آشكار مي كنند كه بطور قطع از هر جهت شيطاني است. گاهي براي ماه ها و گاه براي سالها آنها برنامه ريزي و طرح حركت هایشان را به آرامي و بصورت محرمانه ادامه مي دهند، مانند حركت يك مار بزرگ پيش از حمله به قرباني اش.

پس از مدتي ساكت و بي حركت ماندن، آنها بيك باره از هم پاشيده و همه چيز را درسر راه خود از بين مي برند. آنها اغلب چندين روستا را از بين برده، راهها را مي بندند و مسير رود خانه ها براي چندين روز بسته ميشود. و فجايع باور نكردني به بار مي آورند.

شكي نيست كه اين يخچالها براي مردمي كه در كوهستان و دره ها زندگي مي كنند، سرچشمه دائمي ترس و خطر هستند. اما آنها در عين حال منابع دائمي جريان آب هستند كه كاميابي را براي مردمي كه در جلگه ها زندگي مي كنند به همراه دارد. آنها در اين زمين ها زندگي مي كنند و كشاورزي و باغاتشان در آنجا قرار دارد. كه آنجا را با آب يخچالها زه كشي كرده و در سراسر منطقه رودخانه ها و نهرهاي متعددي جريان مي يابد.

ترديدي نيست در سياشن وضعيت جنگي وجود دارد. بازديد كنندگان با سرماي بينهايت و تنفر فوق العاده اي در طي چندين روز روبرو مي شوند.

انحصاري كردن بلندي كوهستان، به نظر خصومت شخصي با بازديدكنندگان است، نه تنها براي صعود طولاني مدت از مسيرهاي صعب العبور تر، انسان را از پا در ميآورد، حتي فواصل كوتاه بسيار بلند و غير قابل عبور به نظر مي آيد. بخاطر نبود اكسيژن، بدن و مغز كوهنورد ضعيف مي شود، واكنش هاي بدن بطور خطرناكي به آرامي كاسته مي شود و انرژي انسان گرفته مي شود، در نتيجه توان زندگي از دست مي رود.

من بايد اعتبار و اعتقاد كاملي به سربازان پاكستاني بدهم كه براي دفاع از بخش مهمي از پاكستان در چنين شرايط نامناسبي تلاش مي كنند.

اين حقيقت را بايد پذيرفت كه ميليونها شهروند هندي رنج گرسنگي و قحطي را تحمل كردند، ميليونها نفر در پياده روها به دنيا مي آيند، در پياده روها مي خوابند، زندگي شان را در پياده روها مي گذرانند و در همانجايي كه بدنيا مي آيند، مي ميرند؛ ميليونها نفر ديگر هر سال بخاطر بيماريهاي واگيردار و گرسنگي مي ميرند. بخش كوچكي از مبلغي كه هندي ها براي تلاش در سياشن مي پردازند، اگر معطوف رفاه اجتماعي شان گردد، مي تواند هزاران شهروند هندي را نجات دهد.


يخچال اولتار

يخچالهاي منطقه قره قروم

برخي از يخچالهاي مهم واقع شده در كوه هاي پاكستان در زير آورده شده است:

    1. بالتورو: 36 مايل(58 كيلومتر) طول و که از طویلترین یخچالهای دنیا در خارج از مناطق قطبي است. تعداد زيادي از قله هاي قره قروم در دوسوي آن قرار داشته و همچنين تعدادي يخچال فرعي در اطراف آن وجود دارد.

    2. بارپو: در دره ناگار.

    3. باتورا: 36مايل (58 كيلومترطول). در دره هونزاي عليا كه در نزديكي دوست داشتني ترين قلل دنيا قرار گرفته: باتورا موزتاق، كمپير و ديور و ...

   4. بيافو: حدود 37مايل (59 كيلومتر)، واقع در بخش مركزي قره قروم. اينجا محل تلاقي بزرگترين يخچالهاي كوههاي آسياست. بيافو و هيسپار در پهنه ای حدود 60 مايل(10 كيلومتر) در جهت شرقي - غربي چشم انداز پر ابهت ترين و دورنماي باشكوه را رقم زده. مارتين كانوي جغرافي دان بريتانيايي اين پديده را چنين توصيف مي كند: "شگفتي هاي زمين به خاطر می آورند كه زندگي ادامه دارد."

   5. بيانگ: نزديك برج موزتاق و قله بيانگ

    6. بيارچدي: نزديك قله بيار‌چدي ژاكورا، كه به بالتورو مي پيوندد.

    7. بيلافوند: نزديك قله K-13.

    8. برالدو: يكي از تغذيه كننده هاي رود شاكس گام.

      9. چوگولانگما: با 11مايل (17كيلومتر) طول. نزديك قله هاي مارلوبيتينگ و هاراموش، تغذيه كننده بوشا از شعبه هاي ايندوس.


        10. چولونگ: يكي از تغديه كنندهاي رود دانسوم.

          11. چوميك: نزديك گيونگ لا، به يخچال بيلافوند مي پيوندد.

          12. گاشربروم: 12 مايل(17كيلومتر). ميان يخچال اوردك و سينقي.

         13. قاندر شيش: در دره ناگار


        14. گوندو كورو: نزديك قله ماشربروم.

    15 هيسپر: 36:63مايل(59 كيلومتر) طول. تا نوك گذرگاه هيسپر ادامه يافته. پهناي آن در حدود 3مايل(4كيلومتر) است. يكي از 4 يخچال كوه است كه بوسيله تعداد كوچكتري، به شكل متوازي الاضلاع احاطه شده است. بخشي از يخچال هيسپر در ارتفاع 17500پا(5334 متري) قرار گرفته است. كه در پايان به يخچال بيافو مي پيوندد. هيسپر و بيافو در كنار هم بزرگترين يخچال خارج از ناحيه قطب شمال را تشكيل مي دهد (لازم به ذکر است مولف نسبت به یخچالهای طویل منطقه پامیر اطلاعات جامعی نداشته).

17. خابري: نزديك قله چوگوليسا و K-6 و K-7 تغذيه كننده رود كندوس.

18. خال خال: به يخچال گادوين آستن در نزديكي قله هاي ماربل و كريستال مي پيوندد.

19. خين يانگ چيش: در دره ناگار.

20. خورد پين: 26مايل(41كيلومتر) طول در شمال شرقي دره هانزا.

21. كون يانگ: در دره ناگار.

22. كوتيا: در كوهستان هاراموش.

23. ماندو: نزديك به يخچال يرمانندو.

24. ماشربروم: نزديك قله ماشربروم، تغذيه كننده هاشه.

25. ميار: در دره ناگار.

26. ميناپين: در دره ناگار.

27. پيسان: در دره ناگار.

28. موم هيل سر: در دره ناگار.

29. پورماري كيش: در دره ناگار.

30. ميتر: نزديك قله ميتر. قبل از اينكه به بالتورو بپيوندند به يخچالهاي بيارجدي و گادوين آستن، ملحق مي شود.

31. ريمو: در قره قروم شرقي واقع شده است. در رودخانه شيوك در هندوستان تقسيم مي شود.

32. ساويا: نزديك K-2 و به يخچال گادوين آستن مي پيوندد.

33. سياشن: 46مايل(47كيلومتر) طول دارد. در قره قروم شرقي ميان ارتفاعات سياشن موزتاق و بالتورو.


34. سكامري: نزديك قله كراون . تغذيه كننده شاكس گام.

35. سكي يانگ: 7مايل(11كيلومتر).

36. ترينيتي: نزديك قله ترينيتي

37. ويگن: نزديك قله ميتره و بريد. در نزديكي كونكورديا به يخچالهاي بالتورو و گادوين آستن مي پيوندد.

38. ويرجداگ: 24مايل(38كيلومتر) طول دارد. در شمال شرقي دره هانزا واقع است.

39. يازگيل: 18 مايل(29كيلومتر) طول دارد. در شمال شرقي دره هانزا و شيمشال واقع شده است.

40. ين گوتز: دردره ناگار.

البته چندين يخچال ديگر وجود دارد كه در اينجا ذكر نشده اند. چرا كه خيلي از اين يخچالها غير قابل دسترسي اند و اطلاعات قابل اعتماد و موثقي درمورد آنها در دست نيست.


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Thu 1 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

کشمیر پر یورپی پارلیمنٹ کے لئے رپورٹ مرتب کرنے والی بیرونس ایما نکلسن ایم ای پی نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان کو امداد دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس لئے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت سے یہ پوچھیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو طویل عرصہ تک حقوق کیوں نہیں دیئے گئے اور یہ کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ایک آرڈیننس کے ذریعے گورنر کی تعیناتی، انتخابات اور نئے نظام سے گلگت بلتستان کے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ ان خیالات کا اظہار وہ منگل کے روز ہاؤس آف لارڈز کے ایک کمیٹی روم میں اپنی جانب سے گلگت بلتستان کے نئے نظام کے بارے میں بلائے گئے ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ پریس کانفرنس سے کشمیر نیشنل پارٹی کے سفارتی شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر شبیر چوہدری، بلاورستان نیشنل فرنٹ کے عبدالحمید خان اور محمد سرور نے بھی خطاب کیا جبکہ قبل ازیں اجلاس سے پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر آصف درانی، بھارتی ہائی کمیشن کے پولیٹیکل قونصلر رویش کمار، کشمیر نیشنل پارٹی کے صدر عباس بٹ، نیشنل لبریشن فرنٹ کے محمود کشمیری، نیشنل عوامی پارٹی کے ندیم اسلم، کشمیر شناخت مہم کے شمس کشمیری، کشمیر لبریشن آرگنائزیشن کے نجیب افسر، کشمیر انٹرنیشنل فرنٹ کے طاہر افضل، کشمیری پنڈت کرشنا بھان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایما نکلسن نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو ایک طویل عرصہ تک انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ پچاس سال تک ان پر فوج راج قائم رکھا گیا۔ انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے دباؤ پر پاکستان کی موجودہ حکومت نے گلگت بلتستان آرڈیننس کا اجرا کیا جسے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس نئے نظام کے ذریعے لوگوں کو کس حد تک حقوق ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ لوگوں کو پہلی مرتبہ ووٹ کا حق دیا گیا ہے مگر گورنر کی تقرری اور کونسل کا قیام اب بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحث کو شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا پتہ چلایا جائے کہ آرڈیننس کا گلگت بلتستان کے عوام کو کیا فائدہ ہو گا اور اس کے مخالفین کن بنیادوں پر مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے لوگوں کو طاقتور بنایا جائے گا اور حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اجلاس کے دوران پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر آصف درانی کی تقریر کا حوالہ دیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اس معاملے پر بہت سی چیزوں کی وضاحت کی ہے۔ واضح رہے کہ آصف درانی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آئینی طور پر گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے تاہم انتظامی اعتبار سے اسے حکومت پاکستان کے تابع کیا گیا ہے۔ ایما نکلسن نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام ہونے چاہئیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات ان لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام ہونے چاہئیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات ان لوگوں کو فراہم کی جانا چاہئیں۔ ڈاکٹر شبیر چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں مگر موجودہ صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں گلگت بلتستان اور کشمیر کی مقامی پارٹیوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لوگوں نے انتخابات میں اس لئے ووٹ ڈالے کہ وہ صورتحال کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو پاکستان کے وزیراعظم نے نامزد کیا ہے ان کا آبائی تعلق تو اس علاقہ سے ہے مگر وہ کبھی گلگت بلتستان میں نہیں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت اور گورنر پر حکومت پاکستان کا کنٹرول ہے ہم چاہتے ہیں کہ اختیارات عوام کے پاس آئیں اور مقامی لوگ ان کو استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت گلگت بلتستان میں ہزاروں پاکستانی باشندوں کو بسا رہی ہے جس کا مقصد مقامی طاقت کو تقسیم کرنا ہے۔ عبدالحمید خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ اور مقامی پارٹیاں انتخابات سے خوش نہیں ہیں۔ مقامی سات جماعتی اتحاد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان کے حامی امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی اس لئے یہ انتخابات فراڈ تھے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لوگوں کی خواہشات کے خلاف ڈیم بنائے جا رہے ہیں۔

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Thu 1 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
ا
دو نقطوں کے درمیان خط ِمستقیم صرف ایک ہی ہو سکتا ہے جو نزدیک ترین راستے کو تشکیل دیتا ہے اور یہی صرف ایک ہی سیدھا راستہ ہے ، اسی راستے پرچلنے والے ہی کامیاب ہوں گے ۔دوسر کوئی راستہ ہی نہیں۔ایک سیدھا راستہ یعنی اللہ کا بتا یا ہوا راستہ ۔۔جس کا راہی ہمیشہ اللہ کی رحمت کے لیے پُر امید رہتا ہے،فرمایا: ”جنہوں نے اللہ کے دامن رحمت کو تھامے رکھا،انہی نے صراط ِمستقیم کی ہدایت پائی“(سورہ آل عمران۔آیت نمبر ۱۰۱)
ہدایت ،منزل ،نجات ،بہتری ،سبھی کچھ اسی راستے سے ملنا ہے تو پھر کیوں ہم سرابوں میں بھٹکتے ہیں،خدا کے بندے! جب مکمل راہنمائی موجود ہے تو پھر یہ لاعلمی ،بے یقینی کیسی ؟خرابی سے نکلنا تو کامیابی ہے مگر خرابی سے توقع رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے؟میں فلسفے کی بھرمار کر کے دماغوں کو بوجھل نہیں کر نا چاہتا۔میرے پاس تو ایک سیدھی سی بات ہے اور سیدھی بات یہ ہے کہ سیدھے راستے پر نہ چلنا ،ناکامی و زوال کا سبب ہے ۔مغرب اور امریکہ کس کو ناکام ریاست کہتا ہے اس کا مجھے کو ئی خوف نہیں میں تو بس یہی ایک سیدھی سی بات جانتا ہوں کہ کوئی فرد ہو ،گروہ ہو یا ریاست ہواگر وہ سیدھے راستے پر گامزن نہیں تو پھر وہ ناکام ہے ،ناکام ہے ،ناکام ہے ۔
ایک سیدھا راستہ یہی کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھمانا اور تفرقے نہ پڑنا ،اسی میں امت مسلمہ کی نجات ہے ،وزیر خارجہ چاہے یورپ اور امریکہ کے کتنے ہی چکر لگائے ،اگر عالم اسلام کی قوت کو ایک جگہ لانے کے لیے مخلصانہ کوشش نہیں ہوتی ،تو ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے ۔دفاع،وزرت داخلہ ،وزارت خزانہ سب کے سب ناکام ہیں۔کلام پاک سے روگردانی کر کے بھلا کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے،حکم ہے کہ سود حرام ہے اور پورا ملک سود کی لعنت میں دھنسا ہو ا ہے،کامیابی بھلا کیے ممکن ہے ؟آئی ایم، ایف زدہ سوچ بھلا آگے کیسے بڑھ سکتی ہے؟ ۔کیوں بھٹک رہے ہو جب کو ئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں جو کامیابی کی طرف جاتا ہو۔ جو راہنمائی کی گئی وہی درست ہے ۔جو کچھ فرمایاگیا صرف اسی میں بھلا ہے ۔ایک مثال اہل یورپ زیادہ تر خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ ایسا گھٹیا جانور ہے کہ علم جدید کی روشنی میں یہ ثابت چکا ہے کہ اس کا کھانا جنسی امور میں بے حیائی اورلاابالی کا باعث ہے اور یہی اس کی نفسیاتی تاثیر ہے جو مشاہدے میں آ چکی ہے۔شریعت موسوی میں بھی سور کا گوشت حرام تھا ۔الہامی کتابوں میں گنہگاروں کو سور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ داستانوں میں سور کو مظہر شیطان کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ انسان اپنی ٓانکھوں سے دیکھتا ہے سور غلیظ چیزیں کھاتاہے اور کبھی کبھی تو وہ اپنا ہی پاخانہ کھا جاتا ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی سب پر واضح ہو چکا ہے کہ اس پلید جانور میں دوقسم کے خطرناک جراثیم پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو تریشین (trchin) اور دوسرے کو کرم کدو کہتے ہیں اس کے باوجود وہ اس کا گوشت کھانے پرمصر ہیں۔صرف ایک تریشین (trchin) ہر ماہ ہزار انڈے دیتا ہے اور انسان میں طرح طرح کی بیماریاں پیداکرنے کا سبب بنتا ہے۔مثلا خون کی کمی ،سر درد ، ایک مخصوص بخار، اسہال، دردرماتیسمی، اعصاب کا تناو، جسم میں خارش، بدن میں چربی کی کثرت، تھکن کا احساس، غذا چبانے اور نگلنے میں دشواری، سانس کا رکنا وغیرہ۔ایک کلو گوشت میں چالیس کروڑ تک نوزائیدہ تریشین (trchin) ہو سکتے ہیں۔
انہی وجوہ کے پیش نظر بہت سال پہلے حکومت روس نے بھی اپنے ایک علاقے میں سور کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔جی ہاں ۔۔۔روشن بینی کے یہ احکام کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جن کے تازہ جلوے نمایاں ہوتے ہیں ہمیشہ رہنے والے دین اسلام کا ہی حصہ ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ ٓاج کے جدید وسائل کے ذریعے ان تمام جراثیم کو مارا جا سکتا ہے اور سور کا گوشت ان سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن صحت کے جدید وسائل کے ذریعے یا سور کے گوشت کو زیادہ حرارت دے کہ پکانے کے ذریعے یہ کیڑے ختم بھی کر دیئے جائیں تو بھی سور کے گوشت کا نقصان دہ اور مضر ہونا قابل انکار نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ تو مسلم ہے کہ ہر جانور کا گوشت اس کی صفات کا حامل ہوتا ہے۔ اور غدودوں (hormones) اور ہارمونز (glands) کے ذریعے کھانے والے اشخاص کے اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ سور کھانے والے پر سور کی بے لگام جنسی صفات اور بے حیائی جو اس کی واضح خصوصیات میں سے ہیں اثر انداز ہو جائے ۔ مغربی ممالک میں جن میں شدید جنسی بے راہروی پائی جاتی ہے اس کا ایک اہم سبب اس گندے جانور کے گوشت کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔“شراب ،زناحرام ہیں تو اس میں بھی انسان کی بھلائی اور بہتری ہے۔جھوٹ ،چوری ،ڈاکہ ،دھوکہ سب گناہ و جرم قرار دیے گے ہیں تو اس حکم میں ہی معاشرے کی فلاح ہے ۔ایک سیدھے راستے میں انسانی زندگی کے تمام امور کے لیے مکمل راہنمائی ہے۔اچھے برے میں فرق،دوست اور دشمن کی تمیزسب بتا دیاگیا ہے۔
انسانیت کا کھلا دشمن ،اللہ کا دشمن ہے ،ایک سیدھی سی بات ہے کہ اس دور میں اللہ کے سب سے بڑے دشمن کا اتحادی ہو نا قابل ِفخر نہیں بلکہ انتہائی شرمناک بات ہے ، اللہ کے دشمن سے مانگنا کمینگی ہے ،ذلالت ہے ،انسانیت کی توہین ہے۔ایک پست ذہنیت کے مالک شخص سے اپنی توقعات کو وابستہ کرنا کتنی بڑی پستی ہے ۔آپ دیکھ لیں کہ کس طرح تمام اسلامی ممالک کو الگ الگ تباہ وبرباد کیا جارہا ہے ،کس طرح شیطانی حربوں کے ذریعے اسلامی ریاستوں پر ناپاک تسلط جما یا گیا ہے ۔کہیں بادشاہت ،کہیں فوجی آلہ کار اور کہیں جمہوری ایجنٹ …یہ زوال ۔یہ زبوں حالی ۔۔۔یہ غلامی ۔۔۔یہ محتاجی ۔۔۔یہ کاسہ لیسی ۔۔۔یہ ذلت ۔۔۔اسباب کیا ہیں؟وجوہات کیا ہیں؟کیا ہم اپنے راستے سے بھٹک نہیں گئے ؟اگر بھٹک گئے ہیں پھر راستے پر آنا ہوگا ۔۔۔اللہ کے بندو! سرابوں میں مت بھٹکو۔۔۔ ازل سے ابد تک رحمان کے بندے الگ ہیں اور شیطان کے پیروکار الگ ہیں ،ان کے بیچ کوئی راستہ نہیں ،کوئی اتحاد نہیں ،کو ئی اشتراک نہیں ،راستہ صرف ایک ہی ۔۔۔ایک سید ھا راستہ جوکہ اللہ کا کلام ہے ، وہ قرآن ِ پاک ہے۔قرآن وہ جو مکمل ضابطہ ٴ حیات ،دستوراور قانون ہے اورہرآنے والے دور سے نہ صرف آگاہ و ہم آہنگ ہے بلکہ یہ کہنہ اور بوسیدہ نظاموں کے لیے انقلاب کی بنیاد بھی ہے ،یہ ایک سیدھا راستہ جوہر دور میں انسانوں کو تبدیل کرتا رہے گا مگرخود کبھی بھی تبدیل نہیں ہوگا۔

موضوعات مرتبط: محمد نظیر عرفانی

تاريخ : Thu 1 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

گلگت بلتستان کا آئندہ مالی سال 2010-11 ء کا 12 ارب 98 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے چھ ارب چار کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ کیا گیا۔ بجٹ کا 8.6 فیصد سے زائد حصہ 39کروڑ سے زائد بنتا ہے تعلیم کیلئے رکھا گیا ہے۔ شعبہ سیاحت کے لئے چھ کروڑ سولہ لاکھ ‘ شعبہ زراعت کیلئے چار کروڑ 57 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔سال 2007 ء سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن میں بیس فیصد جبکہ 2001 ء کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن میں پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا گلگت بلتستان کے وزیر خزانہ محمد علی اختر نے بجٹ پنشن کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی بڑھتی ہوئی این جی اوز کے تعاون سے چلنے والے اسکولوں کو پچیس لاکھ روپے کی امداد دی گئی۔ میڈیکل الاؤنس کی مد میں گریڈ 1 سے 15 کے ملازمین کیلئے 100 فیصد جبکہ گریڈ 16 سے 22 کے ملازمین کیلئے پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا،آئندہ مالی سال میں پندرہ سو نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی ۔ 140 کلومیٹر آبپاشی کی نہریں تعمیر کی جائیں گی جن کے لئے دس کروڑ 96 لاکھ روپے مختص کئے گئے۔


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Thu 1 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
اسکردو کے گاؤں حسین آباد میں گھر میں آگ لگنے سے تین بچے جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق حسین آباد کے رہائشی پولیس اہلکارکے اہلخانہ لوڈشیڈنگ کے باعث موم بتی جلا کرسوئے ہوئے تھے کہ اس دوران موم بتی گرنے سے گھرمیں آگ لگ گئی۔مقامی افراد نے گھر سے پانچ خواتین کو نکال لیاجبکہ آگ سے جھلس کردوبچے اور ایک آٹھ سالہ بچی جاں بحق ہوگئی۔تاہم کچھ ہی دیر بعد فائربریگیڈ کے عملے نے موقع پرپہنچ کر آگ پرقابو پالیا۔
موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Thu 1 Jul 2010 | 8 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
هنزہ کے علاقے عطاآباد میں لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جھیل کی وجہ سے کئی دیہات زیرآب آچکے ہیں۔ علاقے سے بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء ہوا ہے۔ جبکہ ناگہانی کا شکار ہونے والے کئی خاندان اب بھی کسمپرسی کی حالت میں جھیل کے بڑھتے ہوئے پانی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے چینل جیو نیوز نے سب سے پہلے اس انسانی المیے سے قوم کو آگاہ کیا اور حکمرانوں کو احساس دلانے کی کوشش کی کہ اگر فوری طور پر اس خطرناک جھیل کی شکل میں رونما ہونے والے اژدھے کا منہ بند نہ کیا گیاتو یہ کسی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں جیتے جاگتے انسانوں کو نگل لے گا۔پچھلے کئی دنوں سے ناگہانی کا شکار ہونے والے علاقے سے جیو کی لائیو کوریج جاری ہے۔اور شمالی علاقوں میں آنے والے زلزلے کے بعد ہنزہ جھیل کی شکل میں پیدا ہونے ایک اور انسانی المیے سے پیدا ہونے والے مصائب کی نشاندہی کی جارہی ہے لیکن وزریراعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ ء ہنزہ اور متاثرہ آبادی سے ملنے کے باوجود ابھی تک لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے یا انہیں کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیاگیا۔جس کی وجہ سے متاثرین ہنزہ جھیل میں شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ انہیں حکومت نے بے آسرا چھوڑ رکھا ہے۔اور ان کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ جھیل میں ڈوب مریں۔

متاثرین ہنزہ جھیل کی ہر طرح سے نگہداشت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے سے پہلو تہی کر رہی ہے۔ کیا ایک قوم کی حیثیت سے ہم بھی اتنے مردہ دل ہو چکے ہیں کہ مصیبت کا شکار ہنزہ کے بھائی بہنوں ، بچوں اور بزرگوں کی مد د کے لیے نہ تو کوئی سیاسی پارٹی آگے آرہی ہے۔ نہ کوئی این جی اوہے جو مددکو وہاں پہنچی ہو ، سول سوسائٹی بھی خاموش ہے۔ ایک میڈیا ہے جو اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ہو سکتا ہے عدلیہ ہی حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کوئی ایکشن لے؟

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Mon 31 May 2010 | 0 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

جرارکیمپ پلاٹ اسکینڈل کے متاثرین نے کہاہے کہ سارے واقعہ کاذمہ دارشیخ حسن فخر الدین ہے ہم نے ان کے اوپر اعتماد کرکے زمینیں خریدی تھیں اورانہوںنے گارنٹی دی تھی کہ کسی قسم کے فراڈ کا کوئی خطرہ نہیں ہے سکردو میں کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہمیں شیخ حسن فخرالدین ایجنٹ ہوتے ہوئے فراڈ کا گمان بھی نہ تھا تاہم جو ہوا وہ حیران کن ہے اورہم سخت پریشان ہیں انہوںنے کہا کہ شیخ حسن فخر الدین بڑے فخر سے میڈیا کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ فراڈ کیا گیا انہوںنے کہاکہ فراڈ کا انکشاف پہلے ہی ہواتھا تاہم ایجنٹ حضرات متاثرین کوطفل تسلیاں دیتے ر ہے انہوںنے کہا کمیشن کی خاطر لوگوں کی جمع پونجی لوٹنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے اورذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیاجانا چاہیے انہوںنے کہا کہ متاثرین کی جمع پونجی لوٹنے والے آج بھی دندناتے پھر رہے ہیںمگر انتظامیہ کی جانب سے تاحال ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔

وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے راولپنڈی میں ہاﺅسنگ سکیم کے نام پر گلگت بلتستان کے 17سو سے زیادہ افراد کے ساتھ ہونیوالے فراڈ کا سخت نوٹس لیا ہے اور متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ غریب عوام کو پلاٹ کا جھانسہ دے کر ان سے ان کی جمع پونجی لوٹنے والوں کوفوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق انہیں سزائیں دی جائیں اور متاثرین کو رقوم کی واپسی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کے اشتہارات شائع نہ کریں جن کا مقصد سادہ لوح عوام کو جھانسہ دینا ہے وزیر اعلیٰ نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غریب عوام کے ساتھ فراڈ کرنے والوں کو ہم ہرگز نہیں بخشیں گے اور جرار کیمپ میں فرضی ہاﺅسنگ سکیم شروع کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو لوٹنے کے واقعہ میں ملوث تمام افراد کو نیب کے حوالے کیا جائےگا انہوں نے کہا کہ 17 سو سے زیادہ لوگوں کے ساتھ ہونے والایہ فراڈ سنگین معاملہ ہے ہم اس کی تحقیقات اور ڈوبی ہوئی رقوم کی واپسی کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے ۔ادھر چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بابر فتح محمد یعقوب نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے 17سو افراد کے ساتھ ہونے والے فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف انتظامیہ سخت سے سخت کارروائی کرے گی اور انتظامیہ اس بارے میں کسی کے ساتھ نرمی نہیں برتے گی کے پی این سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی انتظامیہ فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیلئے پنجاب حکومت سے بھی استدعا کرے گی اور اس سے مدد طلب کی جائے گی انہوں نے متاثرین سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان سے رابطہ کریں اور تمام تفصیلات ان تک پہنچا دیں انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کسی شخص کو لوگوں کی مال ودولت اور زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی اور ذمہ دار افراد کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Thu 6 May 2010 | 0 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے ٹینس سٹار ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کو گلگت بلتستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دیدی ہے دعوت انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذریعے ان تک پہنچائی ہے کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے سید مہدی شاہ نے کہاہے کہ شعیب ملک ایک قومی ہیرو ہیں ان کی گلگت بلتستان آمد ایک نیک شگون ثابت ہوگی گلگت بلتستان میں بھی ان کے بہت سارے مداح موجود ہیں اور وہ ان سے ملنے کے لیے بے چین ہیں انہوںنے کہا کہ ثانیہ مرزا کو خطے میں باقاعدہ طورپر سرکاری پروٹوکول دیا جائیگا اور انہیں جگہ جگہ پر گھمایا جائیگا اور غذر پھنڈر ,ہنزہ نگر  دیوسائی میدان, سدپارہ جھیل, شنگریلا جھیل خپلو, چلاس شگرفورٹ کے ٹو بیس کیمپ,بلتت التت فورٹ اور دیگر تاریخی مقامات کی سیر کرائی جائیگی انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا کا حسین ترین علاقہ ہے یہاں قومی ہیروز کی آمد سے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہموار ہونگی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی ہیروز کو دعوت دینے کیلئے اتحادیوں سے مشاورت کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کسی نے اعتراض کیا تو ذاتی حیثیت سے ان کے استقبال کیلئے اہتمام کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ اول تو مجھے امید ہے کہ میری اتحادی جماعتیں کوئی اعتراض نہیں کریں گی اور یہ کوئی ایشو بھی نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ ثانیہ مرزا میری پسندیدہ کھلاڑی ہیں ان کی علاقے میں آمد کے موقع پر پرتپاک استقبال کیاجائیگا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں اور وہ مہمان نوازی کی اپنی بہترین روایات کو برقرار رکھیں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ وہ قومی ہیروز کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کرے وہ اسی مقصد کیلئے کئی اہم نوعیت کے منصوبوں پر کام کررہی ہے

 

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Mon 26 Apr 2010 | 0 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

شمع خالد


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Sun 25 Apr 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

گلگت بلتستان کی گورنر ڈاکٹر شمع خالد نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیاہے وہ اس پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گی انہوں نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے پیپلزپارٹی کے مشن پر بھرپور عمل درآمد کرنا میرامشن ہے اورمیں اس مشن کو پورا کروں گی۔انہوں نے کہا کہ میری قوم  میرا مذہب مسلک اور قبلہ ایمانداری اور دیانتداری ہے اس گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے خلوص دل سے کام کروں گی اور دوسروں سے بھی توقع رکھتی ہوں کہ علاقے کی ترقی کے لیے کام کریں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیروترقی میرا سب کچھ ہے میں علاقے کی بلاامتیاز خدمت کروں گی انہوں نے کہا کہ کوئی شخص میرے نام کو غلط استعمال نہیں کرے گا جو ایسا کرے گا وہ پولیس کے حوالے کیاجائے گا میں چار جوڑے کپڑے اور ایک ہینڈ بیگ اورسوٹ کیس لے کر گلگت جارہی ہوں اور یہی کچھ لے کر واپس آﺅں گی انہوں نے کہا کہ مجھے کرپشن  نااہلی اور چاپلوسی سے سخت نفرت ہے دیانتداری اور محنت سے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔گورنر گلگت بلتستان ڈاکٹر شمع خالد نے سانحہ ہنزہ کے بارے میںرپورٹ طلب کرلی ہے انہیں بدھ کے روز عطا آباد کے سانحے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور متاثرین کے مسائل اور امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جھیل کی نکاسی میں دیر نہ کی جائے اور جھیل کے آس پاس آبادی کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی بنیاد پر اقدامات کئے جائیں انہوںنے ہدایت کی کہ متاثرین کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے اور ان کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں بعد میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں بے روزگاری کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے تاہم مقامی وسائل کو بھرپور طریقے سے بروے کار لاکر بے روزگاری پر قابو پایا جاسکتاہے گلگت بلتستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے ان وسائل کو بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے پھل فروٹ ہمارے ہاں بہت ہے اور یہ ضائع ہورہاہے پھل فروٹ کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں

 

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Sun 25 Apr 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

فعالیت فرهنگی برای طلاب در عصر کنونی از ملزومات واجب می باشد بویژه اینکه  خود را سربازان راه معصومان بدانیم در این راستا حقیر از سالها قبل علاوه بر عضویت در انجمن های علمی فرهنگی ، فعالیت مستمر و همکاری با انجمن های علمی در جامعه المصطفی داشته ام که در ذیل به برخی از این انجمن ها خواهم پرداخت:

1.انجمن علمی فرهنگی اسلامیک تهاوت( اندیشه اسلامی)

این انجمن در زمینه نشر معارف علوی و نهج البلاغه فعال می باشد برخی از فعالیت های انجمن عبارتند از:

برگزاری چهار دوره مسابقات مقاله نویسی برای طلاب اردو زبان ( در سطح ایران)

برگزاری مسابقه حفظ چهل حدیث در سطح کل طلاب جامعه المصطفی ( خواهران و برادران)

راه اندازی اولین و جامع ترین سایت نهج البلاغه و فرهنگ  علوی به زبان اردو

چاپ کتب متعدد به زبان های اردو و انگلیسی

برگزاری مسابقه آشنایی با نهج البلاغه در سطح پاکستان

برگزاری کلاسهای آموزش کامپیوتر و نرم افزار

مدیریت محترم انجمن برادر لیاقت علی اعوان می باشند

2. انجمن اذان

این انجمن در راستای فعالیت های اسلامی در پاکستان شکل گرفته و برخی از اهم فعالیت های انجمن عبارتند از:

چاپ مجله اذان

چاپ روزنامه قیادت

راه اندازی سایت اذان

همکاری با دانشگاه های پاکستان

مدیریت محترم انجمن برادر سلیم کاظم می باشد

4. انجمن علمی علوم قرآن

این انجمن در راستای فعالیت طلاب  گروه علوم قرآن  مدرسه عالی امام خمینی(ره) شکل گرفته است که البته بنده دو سال است که رابطه ام با انجمن قطع شده است

مدیر محترم انجمن آقای جعفری می باشند

5. انجمن علمی فرهنگی الضحی

این انجمن توسط دوستان بنده با همکاری خودم تأسیس یافته است و بیشتر روی مسأله پرورش خطیب و سخنران برای ملیت های مختلف و مخاطبین مختلف تمرکز دارد

اهم فعالیت های انجمن

تولید نرم افزار های اسلامی

چاپ کتاب

برگزاری نشست های علمی در ارتباط با خطابت

برگزاری کلاسهای آموزش سخنرانی برای ملیت های مختلف

همکاری با واحد فرهنگی جامعه المصطفی در زمینه خطابت

مدیر محترم انجمن برادر نصیر المجیدی می باشند


موضوعات مرتبط: محمد نظیر عرفانی

تاريخ : Sun 25 Apr 2010 | 2 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
بازیکن تیم ملی کریکت پاکستان ( شعیب ملک) با ( ثانیه میرزا) تنیسور حرفه ای هندوستان ازدواج کرد این ازدواج باعث شادی و احساس دوستی هر چه بیشتر ملت های هند و پاکستان شده است گرچه برخی  از هندوهای افراطی علیه این اقدام دست به آتش زدن تصاویر ثانیه میرزا نمودند ولی عموم مردم از این امر استقبال نموده اند لازم به ذکر است ثانیه میرزا مسلمان بوده و در سطح جهان بین بازیکنان مطرح تنیس رتبه ۲۷ را دارد


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Sun 25 Apr 2010 | 1 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

امروز ۱۹ فروردین ماه ۱۳۸۹ در جلسه عمومی مجتمع عالی  آموزشی امام خمینی(ص) جایزه تحقیق پرسش از ما پاسخ از شما که سال قبل برگزار شده بود را دریافت کردم و نفر سوم شدم که همراه با لوح تقدیر مبلغ ۱۵۰۰۰۰۰ریال وجه نقد نیز دریافت نمودم این دومین جایزه بنده در سال تحصیلی جدید است در ابتدای هم موفق به دریافت لوح تقدیر و مبلغ ۵۰۰۰۰۰ریال باب رتبه ممتاز تحصیلی در کارشناسی ارشد تفسیر تطبیقی و علوم قرآن شده بودم

در ادامه جلسه جناب آقای هاشمیان ( دام عزه) مدیر محترم مجتمع در سخنانی به بیان دیدگاه رهبر معظم انقلاب در مورد جامعه المصطفی پرداختند و اینکه رهبری تاکید داشتند بر توجه طلاب به معنویات بویژه ادعیه اسلامی و آموزش فن مناظره و آگاهی بر شبهات و دفع آن همچنین لزوم حوزوی بودن جامعه المصطفی العالمیه و اینکه مدرنیزه شدن و دانشگاهی شدن همانند ژنی است که در دراز مدت ریشه یک مجموعه را از بین می برد لهذا جامعه المصطفی باید ریشه حوزوی خود را حفظ کند


موضوعات مرتبط: محمد نظیر عرفانی

تاريخ : Thu 8 Apr 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
 
آصف علی زرداری متولد 21 جولای 1956 سیاستمدار پاکستانی و همسر بی‌نظیر بوتو نخست وزیر فقید پاکستان است.

آصف علي زرداري  متولد استان جنوبي سند و فرزند يك خانواده زمين دار است. وي در رشته تجارت، اقتصاد و بازرگانی تحصیل كرده و فارغ التحصیل دانشگاه لندن است. وی در 18 دسامبر 1987 با بی نظیر بوتو ازدواج کرد و حاصل زندگی مشترک آنها 3 فرزند به نام‌های بیلاوال، بختاور و آصفه است.

آصف علی زرداری از اعضای برجسته طایفه زرداری است. وی همچنین در زمان نخست‌وزیری همسرش سمت وزیر سرمایه‌داری پاكستان را بر عهده داشت. وي پس از ترور خانم بوتو معاونت رهبری حزب مردم پاکستان را بر عهده گرفت.

وی پس از کشته شدن همسرش رهبری حزب مردم را به عهده گرفت و به این ترتیب توانست از همدردی‌ای که مردم با وی در خصوص همسرش داشتند، استفاده کند و قدرت و نفوذ خود را گسترش دهد.

زرداری در کشمکشی که با رقبای خود و از جمله نوازشریف، رهبر حزب مسلم لیگ شاخه نواز و نخست وزیر سابق پاکستان داشت، توانست گوی رقابت را از وی و قضات طرفدارش برباید و در سال 2008 رئیس جمهور پاکستان شود.

وي که دارای ثروت قابل توجهی دارد، شیعه مذهب است و با اتهاماتی در خصوص فساد مالی روبرو بوده‌است. زرداری به اتهام فساد مالی سال‌ها در زندان به سر برده و آخرین دوره محکومیت وی 8 سال بوده و تا سال 2004 به طول انجامید.

وی پس از یک دوره تبعید با عفو عمومی پرويزمشرف پس از گفت‌وگو با بی نظیر بوتو، بخشیده شد.

زرداری همچنین یک بار هم درپی انحلال دولت بی نظیر بوتو، در شب چهار نوامبر 1996 به دستور فرماندار پنجاب دستگیر شد، اتهام وی قتل میرمرتضی بوتو، برادر بی نظیر بوتو و همچنین عدول از قوانین دولتی بود.

او در دهه 1990 در كابينه دومي كه همسرش تشكيل داد در راس يكي از وزارتخانه‌ها قرار گرفت. زرداري همچنين تا سال 1999 عضو سناي پاكستان بود. اما از زماني كه زرداري متهم به گرفتن پورسانت از معاملات دولتي شد، وي را آقاي ده درصد ناميدند.

اگر چه زرداري همواره اتهامات مطروحه عليه خود را رد مي‌كرد و در دادگاه نيز گناهكاريش اثبات نشده بود  طي دوران فعاليت سياسي خويش، به اتهام فساد مالي و قتل به زندان رفت و 11 سال را در حبس سپري كرد. او در سال 2004 با سپردن وثيقه از زندان آزاد شد.

برخي از پزشكان پيش از برگزاري انتخابات رياست جمهوري پاكستان ادعا مي‌كردند كه زرداري از افسردگي ناشي از شكنجه در دوران زندان رنج مي‌برد اما حزب مردم با رد اين ادعا، زرداري را به عنوان كانديداي خود براي تصدي مقام رياست جمهوري پاكستان برگزيد.

زرداري در نهايت در روز 6 سپتامبر 2008 از سوي پارلمان و چهار مجلس استاني به عنوان رئيس جمهور پاكستان انتخاب شد.


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Thu 8 Apr 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

تحصيلات‌ پيش‌ دانشگاهي‌

‌ تحصيلات‌ ابتدايي‌ با يك‌ دوره‌ پنج‌ ساله‌ (Grades 1-5)  از پنج‌ سالگي‌ آغاز مي‌شود. سپس‌ دانش‌آموزان‌ وارد دوره‌اي‌ دو مرحله‌اي‌ مي‌شوند. مرحله‌ اول، سه‌ سال‌ (Grades 6-8)   و مرحله‌ دوم‌ كه‌ تحصيل‌ در دبيرستان‌هاست‌Grades 9-10)  ) دو سال‌ طول‌ مي‌كشد. در مجموع‌ در پايان‌ اين‌ دوره‌ها و بعد از گذراندن‌ امتحانات‌ دوره‌ ده‌ ساله‌ دانش‌آموزان‌ موفق‌ به‌ دريافت‌ گواهي‌ Secondary School Certificate (SSC)  مي‌شوند. پس‌ از دريافت‌ اين‌ گواهي‌ دانش‌آموزان، مي‌توانند مستقيماً‌ وارد كالج‌هاي‌ وابسته‌ به‌ دانشگاه‌ها شوند و پس‌ از چهار سال‌ تحصيل‌ مدرك‌ Bachelor Degree دريافت‌ كنند يا اين‌ كه‌ با گواهي‌SSC   دو سال‌ دوره‌ پيش‌ دانشگاهي‌ را بگذرانند (Grades 11-12) و در مجموع‌ پس‌ از 12 سال‌ تحصيل‌ با شركت‌ در امتحانات‌ نهايي‌ براي‌ دريافت‌ مدرك‌ ديپلم‌ دبيرستان‌Higher Secondary Certificate (HSC)   توانايي‌ خود را براي‌ ورود به‌ دانشگاه‌ بيازمايند.

 ‌‌تحصيلات‌ دانشگاهي‌

‌براي‌ ورود به‌ دانشگاه‌ها و مؤ‌سسات‌ آموزش‌ عالي‌ پاكستان‌ داشتن‌ مدرك‌ ديپلم‌ دبيرستان‌ Intermediate Certificate ياHSC   الزامي‌ است. داشتن‌ معدل‌ بالا شرط‌ ورود به‌ دانشگاه‌هاي‌ خوب‌ براي‌ تحصيل‌ در رشته‌هاي‌ مهندسي‌ و پزشكي‌ است. نظام‌ تحصيلي‌ در اكثر دانشگاه‌هاي‌ پاكستان‌ ساليانه‌ و نيم‌ سالي‌ است. در نظام‌ آموزشي‌ Carry Over  ادامه‌ تحصيل‌ به‌ سال‌هاي‌ بالاتر با وجود مردودي‌ در چند درس‌ از دروس‌ سال‌هاي‌ قبل‌ نيز ممكن‌ است.

دوره‌هاي‌ تحصيلي‌

‌: Bachelor . 1شامل‌ دو سال‌ تحصيل‌ بعد از ديپلم‌ دبيرستان‌ يا چهار سال‌ تحصيل‌ بعد از دوره‌ ده‌ ساله‌ متوسطه‌(Matriculation)   يا SSC  است. اين‌ دوره‌ اكثراً‌ در كالج‌هاي‌ وابسته‌ به‌ دانشگاه‌ها گذرانده‌ مي‌شود.

 : Bachelor . 2 شامل‌ چهار تا پنج‌ سال‌  تحصيل‌ در دانشگاه‌هاي‌ معتبر بعد از ديپلم‌  دبيرستان يا پيش‌ دانشگاهيIntermediate Certificate) ) یا  Hsc است.

 : Master .3شامل‌ دو سال‌ تحصيل‌ به‌ صورت‌ آموزشي‌ و پژوهشي‌ در رشته‌هاي‌ گوناگون‌ است.

‌: M.Phil .4 شامل دو سال‌ تحصيل‌ بعد از دريافت‌Master   است.

: Ph.D .5 شامل‌ سه‌ سال‌ پژوهش‌ پس‌ از Master است.

 Doctor of Law (LL.D.), Doctor of Science (D.Sc), Doctor of Literature .( D.Liit).6   

شامل‌ پنج‌ تا هفت‌ سال‌ تحصيل‌ پس‌ ازMaster  است. 

‌‌نحوه‌ ارزشيابي‌ مدارك‌ تحصيلي‌

‌.1 مدارك‌Bachelor  ،با دو سال‌ تحصيل، صادره‌ از كليه‌ كالج‌هاي‌ وابسته‌ به‌ دانشگاه‌ در صورت‌ داشتن‌ مدرك‌ دوره‌ ده‌ ساله‌ متوسطه از پاکستان، معادل‌ "ديپلم" دبيرستان‌ است.

 2. مدارك‌ Bachelor ، با دو يا سه‌ سال‌ تحصيل، صادره‌ از دانشگاه‌ها در صورت‌ داشتن‌ ديپلم‌ دبيرستان يا پيش‌ دانشگاهي از پاکستان، "كارداني" ارزشيابي‌ مي‌شود.

.3مدارک Bachelor  با چهار تا پنج‌ سال‌ تحصيل، از دانشگاه‌هاي‌ گروه‌ 1 و 2 در صورت‌ داشتن‌ ديپلم‌ دبيرستان‌ يا پيش‌ دانشگاهي، "كارشناسي" ارزشيابي‌ مي‌شود.

‌.4مدارك‌ Bachelor  با دو يا سه‌ سال‌ تحصيل‌ و داشتن مدرك‌Master  در مجموع، از دانشگاه‌هاي‌ گروه‌ 1 و 2 در صورت‌ داشتن‌ ديپلم‌ دبيرستان‌ يا پيش‌ دانشگاهي، "كارشناسي" ارزشيابي‌ مي‌شود.

.5مدارك‌ Master با دو سال‌ تحصيل‌ از دانشگاه‌هاي‌ گروه‌ 1 و 2 ، (موضوع‌ بند 3)، "كارشناسي‌ ارشد" در رشته‌ مربوط‌ ارزشيابي‌ مي‌شود.

.6مدارک M.Phil به شرط‌ داشتن‌ مدرك‌ كارشناسي، "كارشناسي‌ ارشد" ارزشيابي‌ مي‌شود. براي‌ دارندگان‌ مدارك‌M.Phil  بعد از كارشناسي‌ ارشد فقط‌ صحت‌ صدور آن‌ تأييد مي‌شود. 

‌.7مدارك‌Ph.D.   از دانشگاه‌ها و مراكز پژوهشي‌ گروه‌ 1 ، "دكترا" ارزشيابي‌ مي‌شود. 

  ‌‌معرفي‌ دانشگاه‌هاي‌ پاكستان‌

‌الف) دانشگاه ها و مراکز آموزشی عالی، گروه‌ يك  برای کلیه دوره های تحصیلی

1- University of Sindh (SU)

2- University of the Punjab ,Lahore (PU)

3- Quaid-e- Azam University, Islamabad (QAU)

4- North West Frontier Province Agricultural University (NWFPAU)

5- North West Frontier Province University of Engineering & Technology (NWFPUET)

6- National College of Arts (NCA)

7- Water Resources Engineering University of Engineering & Technology, (Lahore)

8- University of Engineering & Technology, Lahore (UETL)

9- University of Peshawar (PUP)

9- صرفا" در رشته های بيوتکنولوژی، فيزيک، باستان شناسی، زمین شناسی و شیمی                                                                            

10- University of Karachi (KU)

  10- صرفا" در رشته های بيولوژی و شیمی، اقتصاد، علوم دریایی و مطالعات اسلامی                                                                     

11- University of Balochistan ,Quetta

11- صرفا" در رشته کانی شناسی

12- International Center for Chemical & Biological Sciences (University of Karachi)

12- صرفا" در رشته شيمي

13- Government College University _Lahore (G.C.U)

13- در دوره دکتری صرفا" در رشته های شيمي و ریاضی

‌ب(  دانشگاه‌ها و مراكز آموزش‌ عالي پاکستان‌، گروه‌ دو که فقط در دوره های کارشناسی (لیسانس) و کارشناسی ارشد (فوق لیسانس) ارزشیابی می شود.

1- University of Karachi.

2- University of Agriculture, Faisalabad.

3- University of Peshawar.

4- NED University of Engineering and Technology, Karachi

5- National University of Sciences and Technology, Karachi.

6- Shaheed Zulfikar Ali Bhutto Institute of Science & Technology ,Karachi.

7- International Islamic University, Islamabad (IIU)

7- برای مقطع دکترا صرفاً در رشته های زبان عربی و مطالعات اسلامی

8- Lahore College for Women University ,Lahore

9- Balochistan University of Information Technology & Management Sciences

10- Lahore University of Management Sciences (LUMS)

10-تامقطع کارشناسی در کلیه رشته ها و مقاطع کارشناسی ارشد صرفا" در رشته های مدیریت بازرگانی و علم کامپیوتر

11- University of Balochistan, Quetta.

11- صرفا" تا مقطع كارشناسي‌ .

12- Punjab College of Commerce (161-C Muslim Town, Lahore) ,University of Central Punjab (UCP)

12- صرفا" تا مقطع کارشناسی

13- Punjab Cllege of Commerce (City Campus, Lahore), Uniiversity of Central Punjab (UCP)

13- صرفا" تا مقطع کارشناسی

14- Faculty of Commerce-M.com Campus (185-Abu Bakar Block, Garden Town, LHR.), University of Central Punjab (UCP)

14- صرفا" تا مقطع کارشناسی

15- Balochistan University of Engineering & Technology (BUET)

15- صرفا" تا مقطع کارشناسی

16- Comsats Institute of Information Technology

16- صرفا" تا مقطع کارشناسی

 


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Thu 8 Apr 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
در پاکستان نوروز را عالم افروز یعنی روز تازه رسیده که با ورود خود جهان را روشن و درخشان می‌کند می‌نامند.

در میان مردم این سرزمین تقویم و روز شمار و یا سالنمای نوروز از اهمیت خاصی برخوردار است. بدین جهت گروه‌ها و دسته‌های مختلف دینی و اجتماعی در صفحات اول تقویم‌های خود به تفسیر و توضیح نوروز و ارزش و اهمیت آن می‌پردازند و این تقویم را در پاکستان (جنتری) می‌نامند.

از آداب و رسوم عید نوروز در میان مردم پاکستان می‌توان به خانه تکانی و یا به عبارتی پاکیزه کردن خانه و کاشانه و پوشیدن لباس و تهیه نمودن انواع شیرینی مثل (لدو) گلاب حامن، رس ملائی، کیک، برفی، شکرپاره، کریم رول، سوهن حلوا، و همچنین پختن غذاهای معروف این ایام و عیدی دادن و گرفتن و دید و بازدید اقوام اشاره نمود.

در ایام نوروز مردم پاکستان از گفتار نا مناسب پرهیز نموده و با نواختن و نوازش یکدیگر با احترام و اخلاص یکدیگر را نام می‌برند. همچنین سرودن اشعار نوروزی به زبان‌های اردو، دری و عربی در این ایام مرسوم است که بیشتر در قالب قصیده و غزل بیان می‌شود.

پاکستانی‌ها بر این باورند که مقصد نوروز، امیدواری و در امن و صلح و آشتی نگهداشتن جهان اسلام و عالم انسانیت است تا آنجا که آزادی و آزادگی، خوشبختی و کامیابی، محبت و دوستی و برادری و برابری همچون بوی خوش گلهای بهاری در دل و جان مردمان جایگزین می‌گردد.

در بلتستان نوروز اهمیت خاصی دارد و از قدیم جشن نوروز را با آداب خاص خود برگزار می کنند


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Sat 3 Apr 2010 | 6 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
پاکستان در جنوب غربی آسیا قرار دارد. این کشور به سه منطقه جغرافیایی اصلی تقسیم می‎¬‎شود: ارتفاعات شمالی، جلگه رود سند و فلات بلوچستان. رود سند از برف کوه‎¬‎های هیمالیا سرچشمه می‎¬‎گیرد و یکی از بزرگ‎¬‎ترین رودهای جهان است. پایتخت پاکستان شهر اسلام‎¬‎آباد است. شهر لاهور مرکز استان پنجاب و مرکز دانش و فرهنگ اسلامی در این کشور است.

اولین دینی که در این منطقه رواج یافت، ایین هندو بود که حدود 2000 سال قبل از میلاد، آریایی ها مبلغ این دین در این منطقه بودند. بودا از دیگر ایین های مهمی بود که از سال 528 قبل از میلاد در این سرزمین رواج یافت. مبارزانی که هند را فتح کردند، مسلمانان غیر عرب آسیای مرکزی بودند که در حوالی سال 1000 میلادی از گذرگاه های خیبر گذشتند. قانون اساسی جدید پاکستان (1973) این کشور را جمهوری اسلامی نامید. پاکستانی ها مانند دیگر مسلمانان از آداب و سنن اسلامی پیروی می کنند.

بیش تر پاکستانی ها به اصول دین اسلام معتقدند و مقید به اجرای احکام اسلامی، مانند نماز، روزه، خمس، زکات و حج هستند. عید فطر در پاکستان به منزله آغاز سال است و سه روز تعطیل است.

25 ‎ ‎درصد مسلمانان پاکستان شیعه هستند و شهر کویته مرکز ایالت بلوچستان، از مراکز مهم شیعیان است. در ناحیه بلتستان و گلگیت در مرز چین و پاکستان و نیز در پنجاب، شیعیان سکونت دارند. شیعیان در استقلال و ثبات سیاسی پاکستان نقش مهمی برعهده دارند. محمدعلی جناح بنیان گذار پاکستان نیز شیعه بوده است ‎.‎

قدیمی ترین سازمان شیعی در این کشور«آل اینه» یا «شیعه کنفرانس» نام دارد که مرکز آن در شهر لکنهو قرار داشت و هدف آن متحد ساختن شیعیان در سراسر هند قدیم بود که بعدها اعضای آن برای استقلال پاکستان کوشیدند. «سازمان پاسداری از حقوق شیعیان»، دومین تشکیلات ب سابقه شیعیان است. گروه های شیعی پاکستان در جهت تحقق اهداف زیر فعالیت کنند‎:‎

الف) صدور مجوز تدریس کتب شیعیان در سطح ابتدایی و متوسطه برای دانش آموزان؛

ب ) تفکیک موقوفات شیعه از اهل سنت؛

ج) آزادی شیعیان در برپایی مراسم عزاداری ماه محرم.

نهضت اجرای فقه جعفری، بزرگ ترین تشکیلات شیعه در پاکستان است. این نهضت بدین صورت پدید آمد که بزرگان شیعه پاکستان، در نشستی که در 24 فروردین 1358 – 12 آوریل 1979 در شهر بهکر (استان پنجاب) داشتند و دو روز به طول انجامید، مسئله حزب و رهبر را در اجتماع بزرگ شیعیان مطرح کردند. شور و هیجان حاکم بر این جمعیت، دوران انقلاب اسلامی ایران را تداعی می کرد. پس از بحث و گفت و گو، سازمانی به نام «نهضت اجرای فقه جعفری» بنیان نهاده شد که علامه مفتی جعفر حسین، نخستین رهبر آن بود.

از قرن پنجم تا قرن سیزدهم، در شبه قاره هند که سرزمین پاکستان هم تا سال 1947م جزو آن بود، زبان فارسی، زبان رسمی بود و در این مدت کتاب های بسیاری به زبان فارسی نوشته شد. در دپارتمان زبان فارسی دانشگاه پنجاب که در سال 1870م تأسیس شده، زبان فارسی تا سطح کارشناسی ارشد تدریس می شود. تعدادی از نسخ خطی ارزش مندی که توسط دانشوران ایرانی تألیف شده، اکنون در کتاب خانه های هند و پاکستان نگهداری می¬ شود. برخی فرهنگ ها و دستور زبان ها هم چون فرهنگ جهانگیری، برهان قاطع و فرهنگ رشیدی در این شبه قاره گردآوری شده است. جلوه فرهنگی و معنوی اسلام را ایرانیان به مردمان هندی نشان دادند و بیش تر مبلغان اسلامی، ایرانی تبار یا دست پرورده ایرانیان هستند.

پس از جدایی پاکستان از هند، محمدعلی جناح، زبان اردو را به عنوان زبان رسمی مردم پاکستان برگزید. پس از ورود بریتانیا به شبه قاره هند، نفوذ فرهنگ غربی در فرهنگ این کشور به چشم می خورد و زبان انگلیسی در سطوح دانشگاهی و عالی رایج شده است. پاکستانی ها زحمت کش، مهمان نواز، سنت گرا، مهربان و پای بند به اصول اخلاقی هستند. آن ها عید فطر و عید قربان و سالروز تولد رسول اکرم (ص) را بسیار مهم می دانند و جشن های با¬ شکوه بسیاری بر گزار می کنند.

بیش تر مردم این کشور یا کشاورزند یا به نوعی با کشاورزی در ارتباط هستند. صادرات این کشور نیز محصولات کشاورزی و منسوجات است



تاريخ : Thu 25 Feb 2010 | 10 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

اسلام آباد-سروزيرمنطقه گلگيت بلتستان پاكستان عصرشنبه
درديدارباسفير ایران تاكيد كرد:عشق وعلاقه مردم آن كشور به جمهوري اسلامي ايران غير قابل وصف است.

به گزارش ايرنا،سيدمهدي شاه دراين ديداربا تشريح وضعيت اجتماعي و سياسي منطقه گلگيت بلتستان افزود:مردم اين منطقه شيعه هستند و ارادت بسياري به دولت ومردم ايران دارند.

وي با بيان اينكه نزديكي و همگرايي دولت وملت پاكستان به نفع منطقه محسوب مي‌شود،تصريح كرد:
ايران و پاكستان درسايه همگرايي بيشتر،صلح وامنيت منطقه را به عنوان دو قدرت منطقه‌اي و مسلمان تضمين كنند.

سروزيرمنطقه گلگيت وبلتستان اظهار داشت:شيعيان پاكستان به ويژه دراين منطقه به حضرت امام(ره)، حضرت آيت ا...خامنه اي( مقام معظم رهبري) دكتراحمدي نژاد رييس جمهوري شجاع فعلي ايران،ارادت ويژه‌اي دارند ومايلندبا گسترش روابط تهران و اسلام آباد،آنها نيزازتوجه و الطاف جمهوري اسلامي ايران به عنوان كشور برادر و دوست واقعي پاكستان بهره مند شوند.

سيدمهدي شاه همچنين با اشاره به وضعيت اجتماعي و بهداشتي منطقه گلگيت بلتستان ازسفير ايران درخواست كرد تا براي سفردكتر مرضيه وحيد دستجردي وزيربهداشت كشورمان،هماهنگي‌هاي لازم را
انجام دهد.

شاكري سفير ايران نيزبا استقبال از اين دعوت،اظهارداشت:گسترش مناسبات گرم و صميمانه بين تهران و اسلام آباد به نفع همه ملتها و دولت‌هاي منطقه است.

وي افزود:جمهوري اسلامي ايران همه تلاش خود را براي گسترش روابط همه جانبه با پاكستان به ويژه بين استانهاي همجوارمانند استان خراسان رضوي و ايالت پنجاب و يا منطقه گلگيت بلتستان بكار خواهد بست.


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Wed 3 Feb 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

جايگاه احزاب وگروه ها در پاكستان

گروه ها و احزاب مذهبي همواره در تاريخ پاكستان از جايگاه ويژه اي برخوردار بوده اند بطوري كه در تاريخ شصت ساله اين كشور به عنوان يكي از بازيگران اصلي در عرصه سياست نقش آفريني كرده اند. البته حضور گروه ها و احزاب مذهبي در عرصه سياست پاكستان در مقاطعي با نوساناتي همراه بوده اما نقطه عطف حضور مذهبي ها در سياست به 10ساله تاريخ اخير اين كشور بازمي گردد. اسلام دين رسمي اين كشور است و 98 درصد جمعيت پاكستان پيرو اين دين هستند. اكثريت مسلمانان پاكستان سني، حنفي مذهب و گروهي نيز شافعي مسلك مي باشند. اقليت قابل توجهي نيز كه حدود 25 درصد جمعيت پاكستان تخمين زده مي شود؛ شيعه هستند. اساس تشكيل پاكستان دين اسلام بود از اين رو اديان ديگر نقش چشمگيري در اوضاع سياسي اين كشور ندارند. قانون اساسي جديد پاكستان (1973) اين كشور را جمهوري اسلامي معرفي مي كند. معهذا براساس قوانين پاكستان هر پاكستاني حق دارد مراسم مذهبي خود را به جا آورد و تبليغ كند. همچنين در فرقه مذهبي مي تواند مؤسسات مذهبي مربوط به خود را تاسيس؛ نگهداري و اداره نمايد.
   
    تركيب مذهبي در پاكستان
    الف- اهل سنت كه شامل فرقه هاي ذيل مي باشند: بريلويان- ديوبنديان- اهل حديث- وهابيان. علماي اهل سنت در پاكستان دو گروه مي باشند و هريك مدارس و مراكز مذهبي متعدد دارند، يكي اهل حديث كه بسيار نزديك به وهابيان هستند و ديگري اهل سنت كه هرچند ممكن است جزو گروهي خاص از صوفيان نباشند ولي به هرحال ايدئولوژي صوفيان را دارند و به اهل تشيع از اين نظر نزديكند.
    ب- تشيع؛ 25 درصد مردم پاكستان را شيعيان تشكيل مي دهند كه بطور عمده از شيعيان اماميه هستند و بقيه نيز از فرقه اسماعيليه و اندكي نيز زيديه هستند. روحانيون در پاكستان دو گروه سني و شيعه مي باشند و هركدام مراكز ديني مخصوص دارند. در اين كشور بسياري از روحانيون؛ صوفيان و اقطابي هستند كه از نظر فرهنگي و ايدئولوژي به اهل تشيع نزديك هستند هرچند نام حنفي دارند. مدارس عمده اهل سنت عبارتند از: جامعه اشرفيه و جامعه نعيميه در لاهور؛ خيرالمدرس و دارالعلوم در ملتان، دارالعلوم حقانيه در اكوره ختك؛ جامعه اشرفيه در مشاور؛ جامعه اسلاميه در بهاولپور و مركز تعليمات اسلامي؛ مدرسه عربيه مظهور العلوم، مدرسه البنات ويژه بانوان جامعه خاروقيه و دارالعلم امجديه در كراچي، اهل تشيع نيز مراكز ديني متعدد در شهرهاي مختلف دارند ازجمله: مركز بزرگ ديني المنتظر در لاهور؛ جامعه اهل بيت در اسلام آباد؛ مدرسه مؤمن، مدرسه آيت الله حكيم در راولپندي؛ مدرسه مشاع العلوم در حيدرآباد و مدرسه امام صادق در كويته. رهبر شيعيان پاكستان پس از شهادت عارف حسين حسيني؛ سيد ساجد علي نقوي مي باشد كه رهبر نهضت نفاذفقه جعفري هم هست. مولانا حامد علي شاه؛ ملقب به حامد الموسوي رئيس مدرسه ديني مؤمن نيز يكي ديگر از رهبران شيعه مي باشد كه برخلاف ساجد نقوي اعتقادي به دخالت دين در سياست ندارد. فرقه اي از شيعيان نيز به نام اسماعيليه در پاكستان بيشتر در ايالت پنجاب و شمال غربي پاكستان وجود دارند كه بطور غالب پيروان آقا محمدخان محلاتي مي باشند.
    فعاليت هاي سياسي احزاب مذهبي تقريباً در 30 سال اول تاسيس پاكستان؛ يگانه حزب مذهبي واقعي؛ جماعت اسلامي بود كه در صحنه سياست فعاليت چنداني نداشت. در دوره حكومت ذوالفقارعلي بوتو يك حزب مذهبي ديگر به نام جمعيت علماي اسلام به رهبري مفتي محمود؛ در ايالت سرحد و بلوچستان مطرح شد. در سال 1947 فقط 137مدرسه در اين كشور وجود داشت كه تا سال 1994 شمار آنان بطور تقريبي به يك هزار و چهارصد مدرسه افزايش يافت. در سال 1979 قانون عشر و زكات در مجلس ملي پاكستان تصويب شد و طلابه هيئت هاي توزيع زكات پيوستند و مسئوليت توزيع پول بين فقرا و مستمندان را برعهده گرفتند و دراين مورد با دستگاه اداري محلي و مسئولان دولت رابطه برقرار كردند و بدين وسيله براي نخستين بار روحانيون تا حدودي داراي نفوذ سياسي و اجتماعي شده و در انتخابات شركت كردند و در سطح شهرداري، اداري و قانونگذاري در تشكيلات دولتي سهيم شدند، اين وضعيت البته با فرقه گرايي مذهبي مقارن شد و دو گروه با عقايد متفاوت احزاب سياسي مخالف يكديگر را تشكيل دادند و هردو باكشورهاي ديگر اسلامي ارتباط برقرار نمودند. درگيري هاي فرقه اي در زمان «ضيا الحق» رشد چشمگيري پيدا كرد. قوانين اسلامي مورداختلاف؛ گرايشات فرقه هاي مختلف جهت اجراي قانون شريعت؛ دسترسي مردم به سلاح وايجاد دادگاه هاي شرعي؛ فضاي تشنج را در جامعه افزايش داد. در اين مقطع تعدادي از رهبران روحاني ازجمله علامه «عارف الحسيني» رئيس نهضت اجراي فقه جعفري؛ رؤساي انجمن سپاه صحابه پاكستان «مولانا حق نواز» و «ضياءالرحمن فاروقي» ترور شدند. در سال 1972 از بين 893 مدرسه مذهبي در پاكستان 254 ديوبندي (وهابي) 267 بريلوي (حنفي)؛ 144اهل حديث (با گرايش وهابي)؛ 41 شيعه و 105 مدرسه از عقايد متفاوت ديگر بودند.
   
    سياست برخي از احزاب و گروه هاي اسلامي پاكستان اعم از شيعه و سني
    حزب جماعت اسلامي پاكستان؛ «ابوالاعلي مودودي» حزب جماعت اسلامي را در سال 1941 تشكيل و هدف خود را تلاش براي ايجاد و استقرار يك دولت اسلامي اعلام كرد. اين حزب نقطه نظرها و مواضعي همچون اخوان المسلمين مصر را پيگيري مي كند. جماعت اسلامي در انتخابات سال 1970 چهار كرسي به دست آورد و در انتخابات 1977 از ائتلاف مزبور كنار گذاشته شد. رهبر فعلي آن قاضي «حسين احمد» است و دفاتر مركزي آن در لاهور قرار دارد. اين حزب در دوران حكومت اوليه «بي نظير بوتو» از «نواز شريف» حمايت كرد تا قوانين اسلامي را پس از رسيدن به قدرت در پاكستان برقرار نمايد. نواز شريف پس از رسيدن به قدرت؛ لايحه شريعت را تصويب نمود ولي جماعت اسلامي؛ نواز شريف را به اجرا نكردن دقيق قوانين اسلام متهم كرد. در اوايل دهه 1990 جماعت اسلامي در اعتراض به تصميم دولت نواز شريف در حمايت از دولت جديد ميانه روهاي مجاهدين در كابل؛ از اتحاد دموكراتيك اسلامي كناره گيري كرد. قاضي حسين احمد دولت نواز شريف را به قطع حمايت از «گلبدين حكمتيار» رهبر حزب اسلامي افغانستان و شكست برنامه اسلامي كردن كامل پاكستان متهم نمود. در انتخابات اكتبر 1993 جماعت اسلامي كه خاطره خوشي از همكاري با حزب مردم و مسلم ليگ؛ نداشت تصميم گرفت كه با عنوان جبهه جديد سياسي به نام امت و جداي از اين دو حزب در انتخابات شركت نمايد؛ ولي نتوانست آراي قابل توجهي كسب نمايد.
   
    جمعيت العلماء اسلام
    اين حزب؛ گروهي حنبلي مذهب و در رشته اصحاب حديث؛ معتقد به مكتب ديوبندي و نزديك به وهابيت مي باشد و همان حزبي است كه در سال 1945 تحت رهبري مولانا «شبير احمد عثماني» براي كسب حمايت از تاسيس پاكستان ايجاد شد. پس از وقفه اي اين حزب در سال 1950 بطور مجدد فعاليت خود را آغاز كرد. جمعيت العلماء اسلام بر تدوين قانون اساسي مبتني بر اصول و ضوابط اسلامي تاكيد مي نمود. رهبر آن مولانا مفتي محمود؛ بنيانگذار و رهبر اتحاد ملي پاكستان بود كه پس از وي مولانا «فضل الرحمن» رهبري اين حزب را برعهده گرفت. اين حزب در انتخابات سال 1977 در اتحاد ملي پاكستان و در مقابل حزب مردم قرار داشت. در ابتداي حكومت ژنرال ضياءالحق؛ با وي همكاري داشتند اما در سال 1981 به جنبش احياي دمكراسي پيوست و رفراندوم 19 مارس 1984 را كه موضوع تجديد رياست جمهوري وي بود؛ تحريم كرد.
   
    جمعيت العلماي پاكستان
    اين حزب در سال 1948 تاسيس شد. حزبي اسلامي؛ عامه پسند و نه چندان نخبه گرا؛ سني مذهب و معتقد به سنت ها و مكتب بريلوي مي باشد و از اصول مترقيانه اسلامي پيروي مي كند. در مجلس ملي در 1970 هفت كرسي به دست آورد. اين حزب نيز از اعضاي اتحاد ملي پاكستان كناره گرفت. در 1981 به نهضت اعاده دمكراسي پيوست اما يك ماه بيشتر در اين نهضت نبود.
    در 1988 به حزب تحريك استقلال پيوست تا اتحاد عوامي پاكستان را ايجاد كند. در نوامبر 1990 به اتحاد دموكراتيك اسلامي پيوست و در مارس 1991 در اعتراض به سياست نوازشريف در مورد جنگ خليج فارس، از اين اتحاد كناره گيري كرد. اين حزب نيز به دو شاخه اصلي تقسيم مي شود؛ جناح تحت رهبري مولانا «احمد شاه نوراني» و جناح تحت رهبري مولانا «عبدالستار نيازي»
   
    سپاه صحابه
    يك گروه سني مذهب نظامي كه پيرو فرقه وهابي است. رهبر آن محمد غياث الدين در 31 مه 1992 در گيلگيت در شمال پاكستان ترور شد. محبوبيت اين گروه در نزد افكار عمومي به دليل اعمال خشونت بار و تروريستي بسيار پايين است. گروه مذكور كه شهر جهنگ در ايالت پنجاب را به عنوان مركز فعاليت هاي خود انتخاب كرده؛ مسئول اكثر فعاليت هاي تروريستي در پاكستان به شمار مي رود. انجمن وهابي سپاه صحابه كه شاخه نظامي آن لشكر جهنگوي نام دارد علاوه بر ترور بسياري از سياستمداران پاكستاني، عداوت شديد با نهضت فقه جعفري دارد.
   
    تحريك نفاذ فقه جعفري
    گروهي شيعه مذهب است كه در سال 1979 تشكيل شد تا با برنامه اسلامي كردن ضياءالحق براساس فقه سني مخالفت نمايد. اين سازمان به عنوان يك حزب سياسي در 1987 ثبت شد. در 1984 يك جناح اصلاح طلب به رهبري عارف حسين الحسيني از جناح سنتي به رهبري «حامدعلي موسوي» جدا شد و گروه تحريك فقه جعفريه پاكستان را تشكيل داد.
    عارف حسين الحسيني در اوت 1988 در پيشاور به شهادت رسيد. پس از عارف حسين الحسيني رئيس اين گروه سيدساجد علي نقوي شد. اين گروه برخلاف گروه اول معتقد به فعاليت هاي سياسي مي باشند اين نهضت در سال 1990 با اتحاد دمكراتيك مردم به رهبري بي نظير بوتو ائتلاف كرد ولي در سال 1993 از اين اتحاد خارج شد. در بيانيه نهضت؛ علت اين جدايي عدم توجه حزب مردم به درخواست نهضت مبني بر اختصاص شش درصد سهميه براي نامزدهاي اين نهضت در مبارزات انتخاباتي ذكر شد. تشكيلات شيعه ديگري نيز وجود دارند كه از جمله مي توان به سازمان دانشجويان اماميه؛ سازمان اماميه (به سرپرستي صفدر نقوي)؛ سازمان اصغريه (تاسيس 1989)؛ سپاه محمد (كه در اوج درگيري هاي فرقه اي در سال 1994 اعلام موجوديت كرد) و وفاق علما و جامعه المنتظر (لاهور) اشاره كرد.
   
    گروه اسلامي اهل حديث
    اين گروه در قبال فعاليت شيعه در دهه 1970 شكل گرفت. ريشه آن در حركت اصلاح طلب محافظه كارانه هندو مسلمان است كه تاريخ آن به قرن 19 باز مي گردد. اين گروه عضوي از اتحاد جمهوري اسلامي بوده و به جناح هاي مختلفي تقسيم شده و رهبر شناخته شده اي ندارد.
   
    پيوند مذهب و سياست در پاكستان
    در پاكستان هيچ سياستمداري قادر به ناديده گرفتن نقش اسلام در تحولات سياسي كشور نيست و اكثر سياستمداران ترجيح مي دهند تا علماي مذهبي را به عنوان يك اهرم حمايتي به سوي خود جلب نمايند. در زمان حكومت ژنرال ضياءالحق وي با جنبه ارزشي دادن به اقدام هاي نظامي خود در حمايت از مجاهدين افغان در مبارزات ضدروسي آنها به طرز چشمگيري موفق شد تا علماي مذهبي را به سمت حمايت از سياست هاي داخلي و خارجي خود جلب نمايد. رژيم هاي پاكستان از حيث جهت گيري سياسي و تعبير و تفسيرشان از ايدئولوژي اسلامي با يكديگر تفاوت داشتند؛ به عنوان مثال؛ رژيم ذوالفقار علي بوتو و حزب مردم پاكستان او تعبيري مردم باورانه از اسلام اختيار كردند. اين حزب زير لواي سوسياليزم اسلامي سياست هاي تعديل اقتصادي- اجتماعي در كشور و سياست هاي عدم تعهد خارجي را در پيش گرفت.
    خطابه هاي سياسي و اصلاح طلبانه رژيم بر مساوات و عدالت اجتماعي به عنوان اصول اساسي اسلامي و ويژگي هاي بنيادي جامعه و نظام حكومتي اسلامي در دوران حكومت حضرت محمد تاكيد مي ورزيد. خط مشي حزب براي انتخابات ماه مارس 1977؛ در مواجهه با ناآرامي هاي فزايندا شهري در اواسط دها 0197 مستلزم اصلاحات اجتماعي و آموزش اسلامي و درك و شناخت بيشتري از نقش علما و مساجد بود اما رژيم بوتو قبلابه حال عقب نشيني درآمده بود و سازمان هاي اسلامي محافظه كار زير چتر اتحاد ملي پاكستان درخواست ها؛ نفوذ و اعتراضات خود را افزايش دادند. سرانجام كودتاي ژوئيه 7197 اين رژيم را برانداخت. رژيم جديد؛ به رهبري ژنرال ضياءالحق قطعاً از لحاظ اقتصادي- اجتماعي محافظه كارتر؛ از لحاظ سياسي قدرتمندتر و در جهت گيري سياست خارجي آشكارا طرفدار غرب و علي الخصوص طرفدار آمريكا بود. وي در خصوص خاستگاه برناما اسلامي كردن كه مشهور به نظام مصطفي (نظام پيامبر يا فرد برگزيده) بود به هدايت الهي متوسل شد. دولت ضياء به ارتباط سرنوشت اسلام و پاكستان با تداوم رژيم نظامي تاكيد مي ورزيد. هدف عمدا رژيم از پيگيري چنين روابط و پيوندي كسب مشروعيت، علي الخصوص در ميان طبقات ميانا فرودست و در صفوف علما و نيز در ميان احزاب سياسي مذهبي محافظه كار بود.
    يكي ديگر از اهداف عمدا چنين ارتباطي؛ از اعتبار انداختن نيروهاي جناح مخالف چپ گرا و ليبرال بود تا آنان را عموم مردم به منزلاجناح غيراسلامي و از اين رو بديل هاي غيرقابل قبول رژيم اسلامي نشان دهند.
    تمايل گروهها و احزاب مذهبي در پاكستان براي اجراي نظام اسلامي در اين كشور به تدريج به گسترش مدارس مذهبي منجر شد. ضياءالحق پس از آن كه ذوالفقار علي بوتو؛ نخست وزير پيشين را به اتهام طرح سوءقصد به جان يكي از رقباي سياسي اش در آوريل 9791 به دار آويخت سعي كرد تا اثرات سياست بوتو را در عرصه بين المللي خنثي كند. بوتو با هدف استقلال بيشتر پاكستان از كشورهاي غربي، سياست نزديكي به كشورهايي مانند چين را در پيش گرفته بود و در مقابل ضياءالحق درست در دوراني كه آمريكا در بحبوحا مقابله با پيشروي كمونيسم در آسياي مركزي به ويژه افغانستان بود سعي كرد به آمريكا نزديك شود در حالي كه بوتو از سياست اسلامگرايي به عنوان ابزاري براي اتحاد بيشتر نيروهاي داخلي پاكستان استفاده كرده بود؛ ضياءالحق از اين جريان براي افزايش محبوبيت خود استفاده كرده و آن را به سمت حركت هاي افراطي سوق داد. ضياءالحق در راستاي حمايت از اين سياست كه كمك هاي نظامي آمريكا را از او در پي داشت به حمايت و گسترش جنبش هاي افراطي و مسلح كردن آن ها دست زد و در مدت كوتاهي شمار زيادي از مدارس مذهبي در سراسر پاكستان پديد آمدند كه در حقيقت مهدكودك جهادگراني به شمار مي رفتند كه در افغانستان مي جنگيدند. به اين ترتيب طي سه دهه هزاران مدرسا مذهبي با كمك هاي مالي دولتي و خارجي در سراسر پاكستان پديد آمدند. مدارس مذهبي در پاكستان از جمله لال مسجد اسلام آباد كه رئيس وقت آن؛ مولانا «محمد عبدالله» (پدر مولانا عبدالعزيز و عبدالرشيد غازي)؛ روابط دوستانه و بسيار نزديكي با ضياءالحق داشت در دوران مبارزا جهادگران عليه كمونيسم، سالانه از هزاران طلبا جديد ثبت نام مي كردند كه طي چند سال به جهادگراني تبديل مي شدند كه دوشادوش سايرين در افغانستان مي جنگيدند ضياءالحق در دوره حاكميت خود بر پاكستان موفق شد سازمان هاي خيريا سعودي را متقاعد كند تا صدها مدرسه آموزش و حفظ قرآن در حاشيه مرز اين كشور با افغانستان احداث كنند. در دوران ضياءالحق براي اولين بار در تاريخ پاكستان حكومت به حمايت مالي از توسعا آموزش هاي مذهبي دست زد و حتي پرداخت زكات در طول دوران حكومت ضياءالحق براي تامين هزينا مدارس مذهبي براي شهروندان پاكستاني اجباري شد. اين بخش از كمك هاي مالي به ويژه در توسعا مدارس ديوبندي ها كه شاخه اي بومي از سني ها هستند؛ به كار گرفته شد. اين شاخه از سني ها كه ريشه هايشان از مدرسه اي مذهبي در هند به همين نام (ديوبندي) مي آيد پيرو فقه ابوحنيفه هستند و ديدگاه هاي بسيار نزديكي به وهابي هاي عربستان دارند. امروزه مدارس مذهبي ديوبندي ها و بريلوي ها كه شاخص بومي ديگري از سني هاي جنوب آسيا هستند؛ در كنار مدارس مذهبي اهل حديث (وهابي ها) و حتي شيعيان در سراسر پاكستان پراكنده هستند. نتيجا سياست ضياءالحق گسترش حركت هاي افراطي و عميق شدن اختلافات مذهبي بود. حمايت ويژا دولت وقت پاكستان از مدارس ديوبندي ها و اختصاص كمك هاي خيرين متمول خارجي به سازمان هاي تندروي وهابي در اين دوران موجب وخيم تر شدن شدت اختلافات شد. سازمان هاي شبه نظامي سني مانند سپاه صحابا پاكستان در همين دوران تنها با هدف مبارزه با شيعيان شكل گرفتند و حركت هاي شيعه نيز در پاسخ جنبش هاي تندرويي مانند حزب «تحريك نفوذ فقه جعفريه» را تاسيس كردند. اوايل دها 0791 تنها چند مدرسا مذهبي در گوشه و كنار پاكستان وجود داشتند كه به شيوا سنتي به آموزش علوم مذهبي مي پرداختند و از لحاظ مديريت و سياست ها نيز فقط تحت نفوذ مساجد كوچك محلي بودند. براساس آمار دولتي هم اكنون 31هزار مدرسا مذهبي ثبت شده در پاكستان مشغول فعاليت هستند و به رغم اين كه آمار دقيقي از مدارس ثبت نشده در دست نيست گفته مي شود كه تعداد آن ها از مدارس ثبت شده بسيار بيشتر است. براساس گزارشي كه اخيراً از سوي «مؤسسه بين المللي بحران ICG» در بروكسل؛ بلژيك منتشر شده تنها در سال 3002؛ 7.1 ميليون طلبه در اين مدارس ثبت نام كرده اند. اكثر اين طلاب بين 5 تا 81 سال سن دارند و از فرزندان خانواده هاي فقير پاكستاني هستند. همچنين به خاطر فقدان سيستم قانوني ناظر بر فعاليت يتيم خانه ها سالانه هزاران تن از كودكان بي سرپرست نيز از اين مدارس سردرمي آورند. تعداد طلبه هاي خارجي نيز كه در اين مدارس تحصيل مي كنند هزاران نفر برآورد مي شود كه اكثريت آن ها را طلبه هاي افغاني تشكيل مي دهند بيشتر اين مدارس كه پيش تر تحت حمايت حكومت قرار داشتند؛ اكنون براي تامين هزينه هايشان به كمك هاي سازمان هاي خيريه مذهبي (كه بخشي از نهادهاي مذهبي هستند) وابسته اند و بخش قابل توجهي از اعانات را از پاكستاني هاي مهاجر در ساير كشورها و سازمان هاي خيريه اسلامي بين المللي دريافت مي كنند. براي مثال جامعا پاكستاني تبارهاي ساكن بريتانيا كه در سال هاي اخير رفته رفته به يكي از منابع اصلي درآمد مدارس مذهبي تبديل شده؛ براساس گزارش ICG سالانه حدود 09 ميليارد روپي (معادل 1.5 ميليارد دلار) به اين مدارس كمك مي كند كه اين مبلغ تقريباً با درآمد سالانه دولت پاكستان از محل ماليات هاي مستقيم برابر است.
    اين واقعيت كه مدارس مذهبي پاكستان بخشي از نظام آموزشي و كارآمدتر از بخش رسمي و دولتي هستند؛ بدرستي مورد توجه قرار نگرفته است. اكنون بيش از دوازده هزار مدرسه مذهبي با گرايش راديكال اسلامي در پاكستان وجود دارند كه به لحاظ مالي به صورت مستقيم به حمايت دولتي وابسته نيستند. اصلي ترين ماده درسي در اين مدارس، جهاد الگوي تركيبي ايدئولوژيكي مكتب ديوبندي و مكتب سلفي است. مكتب ديوبندي ريشه در شكست قيام مسلمانان هند در سال 7581 و انحلال رسمي حكومت گوركانيان و تسلط كامل انگليس دارد. علماي طراز اول در بررسي علل شكست به جهاد رسيدند و با تاسيس مدرسه ديني ديوبند كه در آن زمان دهكده اي كوچك بود؛ آموزش جهاد را براي آزادي دوباره هند در راس مواد درسي قرار دادند. اين مدرسه در عالم اهل سنت تاثيرات بسيارعميقي بر جاي گذاشت و از آنجا كه تدريس هرگونه علوم جديد كه وابسته به قدرت استعماري تلقي مي شد ممنوع اعلام گرديد طلاب و علماي مكتب ديوبندي با ديدگاهي حزبي تربيت شدند و بازگشت به اصل اسلام آن طور كه آنها برداشت مي كردند؛ در اولويت آموزش قرار گرفت. علماي ديوبندي بعدها در استقلال شبه قاره هند و تاسيس پاكستان نقش موثري پيدا كردند، هرچند كه مكاتب فكري ديگري نظير مكتب بريلويي و مكتب يلورودي به وجود آمدند و با مكتب ديوبندي رقابت كردند؛ اما در هر حال ديدگاه جهادي مكتب ديوبندي غلبه يافت. اتفاق مهمي كه باعث شد ديدگاه مكتب ديوبندي در شرايط كنوني تقويت شود تحولات افغانستان و اشغال اين كشور بوسيله ارتش سرخ اتحاد شوروي سابق بود، امر جهاد مورد توجه قرار گرفت و مكتب ديوبندي كه در اساس بر تفكر ضدانگليسي و غربي متكي بود؛ اولويت خود را جهاد در افغانستان قرار داد. مدارس مذهبي پاكستان مورد حمايت دولت اين كشور قرار گرفتند و در تقسيم بين المللي كار در جهاد افغانستان؛ حمايت مالي مدارس مذهبي به كشورهاي ثروتمند عرب حوزه خليج فارس و در راس آنها عربستان سعودي پيوند خوردند. واقعيت آن است كه مدارس مذهبي در پاكستان دردوره جهاد بشدت مورد حمايت دستگاه امنيتي اين كشور موسوم به «آي اس آي» قرار گرفتند و در كنار آموزش ايدئولوژيك؛ آموزش نظامي طلاب و جهادگران در گسترده ترين سطح ممكن مورد توجه بود.
    علماي ديني مسئوليت آموزش ايدئولوژيك طلاب را برعهده داشتند و افسران امنيتي آي اس آي آموزش نظامي آنها را پذيرفتند. هرگاه بدون پيشداوري شرايط كنوني افغانستان و پاكستان و ارتباط آنها با تفكري كه از آن به نام طالبانيزه كردن قدرت ياد مي شود را مورد ارزيابي قرار دهيم؛ محصول پيوند سلفي گري و تفكر ديوبندي نيروئي مهم ايدئولوژيك خواهند بود. طالبان و القاعده بدون شك محصول همين واقعيت هستند. سازمان القاعده كه نماد رهبري آنها در «بن لادن» با تحصيلات دانشگاهي در رشته مهندسي و «ايمن الظواهري» دكتراي پزشكي و جراحي متمركز شده است؛ در حقيقت بوسيله يك اردني فلسطيني تبار به نام «اعظم» در پيشاور بنيانگذاري شده است. تركيب اين سه شخصيت جالب است: فلسطيني و اردني (اعظم)؛ يمني-عربستان سعودي (اسامه بن لادن) و مصري (الظواهري) اين تركيب درست پايگاه ديدگاههاي افراطي جهان عرب را در مصر؛ عربستان سعودي، اردن و يمن نشان مي دهد. يك واقعيت مهم ديگر اين است كه قوميت پشتون در پاكستان و افغانستان به عنوان تقويت كننده و ياري دهنده جهاد براساس الگوي تركيبي مكتب ديوبندي و سلفي هستند.
    سخن پاياني اينكه علت كثرت احزاب و فراواني گروه هاي ديني و سياسي و وجود اختلافات مذهبي و عقيدتي و قومي كه در اين ديار ديده مي شود و پاره اي از آن اختلافات در سطح جامعه بطور كامل محسوس و ملموس و آشكار است؛ يكي به لحاظ جمعيت زياد اين سرزمين است كه افكار مختلف را در پي آورده؛ در نتيجه گروه گرايي مذهبي و سياسي را به دنبال داشته است از طرف ديگر وجود اسلام به عنوان عامل تشكيل كشور پاكستان و همچنين قوانين اساسي كه در چارچوب موازين اسلامي تدوين گرديده باعث كمك به رشد احزاب و گروه هاي اسلامي گرديده است. اما وجود احزاب متعدد و فراوان اسلامي، پراكندگي آنها و وجود عقايد و ديدگاههاي گوناگون درميان مردم پاكستان باعث عدم موفقيت احزاب اسلامي در انتخابات پارلماني شده است و اين احزاب هيچ گاه نتوانسته اند كه به طور مستقل حكومت را به دست گيرند.
    خبرگزاري جمهوري اسلامي


موضوعات مرتبط: آشنایی با پاکستان

تاريخ : Wed 6 Jan 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

سنت‌هاي عزاداري شيعيان پاكستان در محرم در ماه‌ سوگواري سيد و سالار شهيدان، شيعيان پاكستان با رسم و سنت ديرينه خود به سوگ مي‌نشينند. 
به گزارش رهوا به نقل از «توانا»، با آغاز ماه محرم، شور حسيني، تمامي مناطق اعم از شيعي و حتي غيرشيعي در سراسر جهان را فرا مي گيرد و شيعيان در جاي جاي جهان با آداب و رسوم مخصوص به خود، در سوگ و ماتم شقايق‌هاي كربلا به عزاداري مي پردازند.
براساس آمارهاي غيررسمي، 20 درصد مردم كشور پاكستان را شيعيان تشكيل مي‌دهند. سه فرقه شيعه اثني‌عشري، اسماعيلي (آقاخاني) و شش امامي (بُهري‌ها) شيعيان اين كشور را تشكيل مي‌دهند. شيعيان اثني عشري بيشترين تعداد را دارند و عنوان تشيع بيشتر ناظر بر آنها است.
شيعيان پاكستان در مناطق «بلتستان» و «گلگت»‌ و هم‌چنين در مناطق قبيله‌نشين و آزاد «اورگزيچ» و «كرم اجنسي» كه متعلق به اين كشور هستند، تجمع بيشتري دارند.
در پاكستان مرسوم است، دولتمردان اين كشور به مناسبت شهادت امام حسين (ع) و ياران باوفاي آن حضرت پيام‌هاي تسليتي خطاب به مردم ارسال مي‌كنند.
اكثر شيعيان با شروع ماه محرم جامه سياه بر تن مي‌كنند، چراغ‌هاي منازل خود را خاموش مي‌كنند و هنگام خواب از رخت‌خواب استفاده نمي‌كنند.
شيوه‌هاي عزاداري در شهرها و مناطق مختلف پاكستان متفاوت است و مردم هر منطقه طبق آداب و رسوم ديرينه خود به عزاداري مي‌پردازند.
مجالس سخنراني، روضه‌خواني، سينه‌زني، زنجيرزني، تاسوعا و عاشورا از جمله مراسم اين روزها در پاكستان است.

* شيوه‌هاي مختلف عزاداري در پاكستان

در سال‌هاي اخير در مناطق مختلف اين كشور شيوه‌هاي مختلفي متداول شده است. به عنوان مثال در لاهور، جوانان هنگام سينه‌زني يك پا را عقب گذاشته، پاي ديگر را جلو مي‌آورند، برخي به هوا مي‌پرند، عده‌اي پيراهن را از تن بيرون مي‌آورند و يا برخي ديگر با تن‌پوش زيرين سينه‌زني مي‌كنند.
در اكثر مناطق شيعه‌نشين مردم به صورت گروهي و يا دسته‌هاي 5 تا 10 نفري نوحه مي‌خوانند و عده‌اي از عزاداران، در اطراف آنها حلقه مي‌زنند و با تكرار نوحه، ابيات و مرثيه در سوگ سالار شهيدان سينه مي‌زنند.
هيأت زنان به دنبال دسته‌هاي سينه‌زني مردها (در شهرهاي كراچي، لاهور، مولتان و ديگر شهرهاي بزرگ پاكستان) در خيابان‌ها در حال سوگواري، راهپيمايي و سينه‌زني مي‌كنند.

* سينه‌زني

ـ سينه‌زني و مراسم زنانه كه فقط زنان در آن حضور دارند: در اين برنامه‌ها كه اغلب در حسينيه‌ها برگزار مي‌شود زنان نوحه مي‌خوانند و گروهي سينه مي‌زنند.
ـ سينه‌زني هنگام عبور از آتش: سينه زني در روي بستري از آتش در چند شهر پاكستان از جمله شهرهاي جهنگ، فيصل‌آباد، لاهور، مولتان و پاراچنار مرسوم است. مردم ابتدا آتش فراواني مهيا مي‌كنند، پس از اينكه هيزم‌ها خوب بر افروخته شدند و شعله آتش فروكش كرد، هيأت سينه‌زنان با پاي برهنه از روي آنها عبور مي‌كنند.
ـ سينه‌زني با طبل: هيأت‌هاي عزاداري در برنامه‌هاي خود از طبل و سنج استفاده مي‌كنند، شيعيان در شهرهاي كراچي، مولتان و پاراچنار بيشتر به اين شيوه به سوگواري مي‌پردازند.
ـ سينه‌زني با سكوت: در اين نوع سينه‌زني تمام شركت‌كنندگان در حالي‌كه آثار حزن و اندوه بر چهره دارند، ضمن رعايت سكوت، سينه مي‌زنند و پيشاپيش صف عزاداران، علم‌هاي بزرگي را حمل مي‌كنند. اين مراسم در شهرهاي مولتان، كراچي و دير اسماعيل خان مرسوم است.
ـ سينه زني با يك دست: اين نوع سينه زني فقط بين شيعيان اردوزبان اين كشور رايج است. گروه نوحه‌خوان، نوحه مي‌خوانند و عزاداران ضمن پاسخ به آنها، با يك دست سينه مي‌زنند.
ـ ملنگي: نوعي سينه‌زني پرشور و خروش است كه تمام عزاداران بدون پيراهن سينه‌زني مي‌كنند. اين شيوه سينه‌زني در كليه شهرها و مناطق شيعه‌نشين پاكستان رايج است. هم‌چنين به قشري از مردم كه در حسينيه‌ها جمع شده و يك نفر ضمن طبل و فلوت زدن، مصائب اهل بيت (ع ) را مي‌خواند و مردم گريه و شيون مي‌كنند، «ملنگ» مي‌گويند.

* زنجيرزني

مراسم زنجير‌زني با ورود اسلام به هند و پاكستان، وارد اين كشورها شد. اين مراسم، در گذشته به همان شيوه‌اي كه در ايران رواج داشت، برگزار مي‌شد. بعدها مردم پاكستان و هند با اضافه كردن تيغ و چاقو به انتهاي زنجير، در شيوه زنجيرزني تغييراتي ايجاد كردند.
اغلب جوانان شيعه مذهب پس از برآورده شدن نذرشان به اين شيوه زنجير مي‌زنند.
مرسوم است، خانواده‌هايي كه صاحب فرزند نمي‌شوند، در صورت پسردار شدن، وي را همه ساله در هياتِ زنجيرزنان ابا عبدالله حسين (ع) شركت ‌دهند.
زنجيرزني كه منجر به جراحات جسمي سوگواران مي‌شود، مخالفيني نيز دارد كه اين شيوه عزاداري را به دليل آسيب رساندن فرد به خودش حرام مي‌دانند.
مراسم زنجيرزني در تمام شهرهاي پاكستان برپا مي‌شود. حتي برخي جوانان اهل سنت و مسيحي نيز در مجالس عزاداري سيدالشهدا (ع) زنجير‌زني مي‌كنند.

* محتواي سوگواري سالار شهيدان

از روز اول ماه محرم تا روز دهم اين ماه، مراسم و مجالس عزاداري در حسينيه‌هاي اين كشور داير است. علما و ذاكرين در طول اين مدت، هر شب گوشه‌اي از برنامه‌هاي سفر شهادت‌طلبانه امام حسين(ع) و يارانش را به ترتيب زير براي مردم بيان مي‌كنند:
شب اول: حركت امام حسين(ع) براي شركت در مراسم حج و ناتمام گذاشتن آن.
شب دوم: حركت امام حسين(ع) و يارانش از مكه به سوي كربلا.
شب سوم: جدا شدن فاطمه صغري (س) دختر امام حسين (ع) از خانواده.
شب چهارم: شهادت پسران مسلم بن عقيل (ع).
شب پنجم: برخورد حر با امام حسين (ع) و شهادت حر و قاسم بن الحسن(ع).
شب ششم: زندگي و شهادت حضرت علي اكبر (ع).
شب هفتم: زندگي و شهادت ابوالفضل العباس(ع).
شب هشتم: زندگي و شهادت علي اصغر(ع).
شب نهم: (تاسوعا) پيوستن حر رياحي به ياران امام حسين (ع).
شب دهم: (عاشورا) شهادت امام حسين(ع).
تمام اين مراسم مخصوص مردان است و زنان، روزها در حسينيه‌ها به عزاداري مي‌پردازند.
 


موضوعات مرتبط: شيعيان پاكستان

تاريخ : Wed 6 Jan 2010 | 11 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

«فيصل رضا عابدي» مشاور رئيس جمهور و سناتور حزب مردم با آغاز ايام سوگواري و عزاداري سيد‌الشهدا حضرت امام حسين (ع) سراسر شهر كراچي را با نصب پرچم‌هاي مشكي سياه پوش كرد.
سناتور حزب مردم عقيده دارد كه با نصب پرچم‌هاي محرم به ياد شهداي كربلا، انگيزه‌اي در قلب‌هاي مسلمانان ايجاد مي‌شود.
وي افزود: نصب تابلو با محتواي عكس‌هاي حريم مطهر ائمه اطهار عليه‌السلام از سه سال گذشته در سراسر اين شهر آغاز شده است.
عابدي ضمن اشاره به بركات اين كار افزود: زماني كه اين كار عقيدتي را به عنوان يك عبادت آغاز كردم فقط يك تاجر عادي بودم اما از آن زمان تاكنون سال به سال از بركات اين كار فيض برده‌ام و رئيس حزب مردم شهر كراچي و سپس سناتور حزب مردم و مشاور رئيس جمهور «آصف علي زرداري» شدم.
«عابدي» هر سال بيش از 100 هزار پرچم و 10 هزار تابلوي بزرگ محرم با مضامين عاشورا و امام حسين (ع) در سراسر شهر نصب مي‌كند و بابت ايت اقدام بيش از 10 ميليون روپيه پرداخت مي‌كند


موضوعات مرتبط: شيعيان پاكستان

تاريخ : Thu 24 Dec 2009 | 4 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
مقامات و نمايندگان "حزب مردم " در نشستي ويژه، "سيد مهدي شاه " رئيس حزب مردم ايالت گيلگيت - بلتستان و همچنين نماينده مردم شهر بلتستان در "مجلس قانونگذاري " اين ايالت جديد پاكستان را به عنوان نخستين سروزير گيلگيت - بلتستان معرفي كردند.
حزب مردم ايالت گيلگيت - بلتستان داراي 12 كرسي در مجلس قانونگذاري اين است.
سه ماه پيش دولت مركزي پاكستان در يك نشست ويژه كه به رياست "يوسف رضا گيلاني " نخست وزير پاكستان برگزار شد، ضمن به رسميت شناختن مناطق شمالي پاكستان اعلام كرد كه در آينده منطقه گيلگيت-بلتستان، به عنوان يكي از ايالت‌هاي اين كشور به رسميت شناخته خواهد شد.
از اين پس اعضاي مجلس قانونگذار گيلگيت-بلتستان، 24 نفر خواهند بود و اين شوراي قانونگذار، سروزير اين ايالت را انتخاب خواهد كرد اما استاندار اين منطقه كه نماينده دولت مركزي در اين ولايت است، از سوي دولت مركزي منصوب خواهد شد.
دولت محلي اين ولايت داراي شش وزير و سه كارشناس خواهد بود و همين مجلس، بودجه ساليانه اين ولايت جديد را تعيين خواهد كرد.
كميسيون انتخابات پاكستان در جهت برگزاري انتخاباتي شفاف و جلوگيري از هرگونه تقلب، تمامي تداركات لازم را انجام داد و انتخابات عمومي در 12 نوامبر سال جاري در سراسر ايالت مذكور برگزار شد.
ايالت گيلگيت-بلتستان داراي شش منطقه از جمله اسكردو، گهانچه، ديامر، گيلگيت، غذر و استور است و جمعيت اين منطقه 1 ميليون 104 هزار و 19 نفر است در حالي كه شمار راي دهندگان آن، 717 هزار و 285 نفر در اداره انتخابات ثبت شده است.
در مجموع 10 حزب سياسي در انتخابات رقابت دارند و شمار نمايندگان آنان 99 نفر است در حالي كه 165 نفر بطور آزاد و مستقل نامزد شدند.
تعداد نمايندگان احزاب سياسي اين گونه است: حزب مردم 12 نفر، جنبش ملي متحده 1 نفر، حزب مسلم ليگ شاخه نواز 2 نفر، حزب مسلم ليگ شاخه قائد اعظم 1 نفر، حزب جمعيت علماي اسلام شاخه فضل‌الرحمان 1 نفر، و اتحاديه دموكراتيك گيلگيت-بلتستان 3 نفر و چهار نماينده آزاد و غير حزبي
موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Tue 22 Dec 2009 | 8 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے منگل کو سکردو میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے متعدد انتظامی، ترقیاتی اور امدادی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے سکردو کے ہوائی اڈے کا درجہ بڑھا کر انٹرنیشنل ہوائی اڈہ بنانے اور شِگر، گُلتری اور خارمنگ کے علاقوں کو اضلاع بنانے کا اعلان کیا۔ شِگر وادی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں میں کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے سکردو کے ہوائی اڈے کا درجہ بڑھا کر انٹرنیشنل ہوائی اڈہ بنانے اور شِگر، گُلتری اور خارمنگ کے علاقوں کو اضلاع بنانے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت اور بلتستان کو پہلے شمالی علاقہ جات کہا جاتا رہا لیکن حکومتی اصلاحات کے بعد اس خطے کو اپنی شناخت ملی ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کا اپنا گورنر اور وزیراعلیٰ ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا انتخاب چوبیس رکنی اسمبلی کرے گی۔ اس اکائی کا اپنا بجٹ ہوگا، الیکشن کمیشن، آڈیٹر جنرل اور دیگر حکام بھی اس علاقے کے اپنے ہوں گے۔

وزیر اعظم نے رواں سال دو سو سکول اور ایک سو ڈسپینسریز کو فعال بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلباء کے لیے دس کروڑ کی لاگت سے تینتیس بسیں فراہم کی ہیں اور ہدف کے مطابق یہ بعد میں بڑھا کر ایک سو بسیں کر دی جائیں گی۔

سید یوسف رضا گیلانی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ کم سے کم چھ ہزار روپے کرنے اور گریڈ ایک سے پندرہ کے ملازمین کو ہل یا یعنی پہاڑی الاؤنس دینے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں اسلام آباد پولیس کے برابر کرنے اور پانچ ہزار نئے پولیس اہلکار بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق پانچ ہزار کی آسامیوں کا کوٹہ تمام اضلاع کے لیے مختص کیا جائے گا۔

انہوں نے ہر ضلع کی ہسپتال میں مفت کھانا فراہم کرنے اور ہر ضلع میں چار سے چھ سال کے یتیم بچوں کے لیے سوئیٹ ہوم بنانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے پاکستان کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینے والے پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ گلگت بلتستان تک پھیلانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں چالیس ہزار میگا واٹ ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے اور حکومت پہلے ہی بھاشا دیامیر اور بونجی ڈیم بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔



تاريخ : Thu 12 Nov 2009 | 2 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت و بلتستان اور اسکے ملحقہ علاقوں پر حق گلگتی و بلتی لوگوں کا مانتے ہوئے انہیں بالغ رائے دہی کا حق ملنا چاہیے تھا لیکن اسلام آباد نے ان پر ایک وائسرائے گورنر کی شکل میں نازل کر دیا۔ اسی لیے تو گلگت و بلتستان کی ایک سینئر سیاستدان کہتی ہیں 'ہم گلگت و بلتستان کے لوگ اب تک (حکمرانوں کی نظر میں) نابالغ ہیں کہ انہیں ووٹ کا بھی حق حاصل نہیں۔'

گلگت وبلتستان میں 'سیلف رول' کے نام پر اسلام آباد یا 'مضبوط مرکز' نے جو گورنر مقرر کیا ہے وہ بھی غیر بلتی یا غیر گلگتی لیکن صدر آصف علی زرداری کے دوست قمر زمان کائرہ ہیں۔ بالکل ایسے جیسے 'نیٹیِو' ہندوستانیوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے گماشتے بھیجا کرتی تھی۔

سندھ پر مقامی گورنر عشرت العباد، پنجاب پر مقامی پنجابی سلمان تاثیر، بلوچستان پر بلوچ نواب ذوالفقار مگسی، صوبہ سرحد یا پختونخواہ پر اویس غنی لیکن بلتستان و گلگت پر گونر گوجر خان! یاروں کے یار صدر کی یار نوازی کی ایک اور عظیم مثال۔

گلگت و بلتستان اور شمالی علاقہ جات کو پاکستان کے اعلی سول و فوجی حکام یا جنریلوں نے اپنے لیے پولو کے میدان سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہ اور بات ہے کہ گلگت و بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔۔۔ بقول شاعر:

'ہم جیئے بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی

مگر یہ نہ کھل سکا آّپ کی خوشی کیا تھی۔۔۔'

آگر کسی نے محاورتاً نہیں حقیقتاً گھاس کھا کر بھی پاکستان کے لیے دنیا کے برفانی چھت والے حصے یعنی سیاچن (جہاں بقول ڈکٹیٹر ضیاء گھاس بھی نہیں اگتی تھی) کی حفاظت کی تھی تو وہ گلگت و بلتستان کے نوجوان تھے۔ اس کے جواب میں گلگت و بلتستان کا کوئی فوجی برگیڈئير کے عہدے سے شاید ہی آگے بڑھا ہو (اگر بڑھتا بھی تو کیا کرتا!)۔ یہ کشمیر کے کیس میں گروی رکھے لوگ ہیں۔۔۔

'سیلف رول' کے تصور سے اس سے زیادہ بھونڈا مذاق کیا ہوگا کہ گلگت و بلتستان پر پہلے اسلام آباد سے وفاقی وزیر وائسرائے کی طرح حکومت کرتا تھا اور اب وہ اسلام آباد کے 'کیمپ آفس' سے ہی اپنے اس غیر حاضر زمیندارے کو دیکھا کریں گے۔۔۔


موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Tue 15 Sep 2009 | 11 AM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |

صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کی پسماندگی دورکرنے کے لئے ایک بڑا ترقیاتی پیکج دیا جائے گا جس کے تحت علاقے میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے گلگت بلتستان میں قومی دھارے میںلانا اوران علاقوں کوترقی کی شاہراہ پرڈالنا شہیدبے نظیرکی کمٹمنٹ تھی ہم اس کوپورا کریں گے انہوں نے یہ بات ایوان صدرمیںپیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عہدیداروں اورکارکنوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہی صدرسے ملاقات کرنے والوں میںپیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدرسیدمہدی شاہ ،جنرل سیکرٹری غلام محمد، عمران ندیم، محمدجعفر، محمداسماعیل، پیرکرم علی شاہ ، ڈاکٹر علی مدد شیر، چیئرمین ابراہیم، راجہ جلال، شیخ نثار، نصیراستوری، شفا استوری، طارق استوری، خواجہ محمدخان ، ذوالفقارعلی ، حاجت علی ،منظوربگورواور صاحب خان شامل تھے ترقیاتی پیکج کے بارے میں صدرنے موقع پرمتعلقہ حکام کواحکامات جاری کئے اورکہا کہ پیکج کوجلدازجلدحتمی شکل دی جائے صدر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی خوشیوں میںشامل ہونے کے لئے وہ بہت جلدگلگت بلتستان کادورہ بھی کریں گے ترقیاتی پیکج میںگلگت بلتستان میں خواتین کے لئے شہیدبے نظیربھٹویونیورسٹی منصوبہ اوردیگربڑے بڑے منصوبے شامل ہوں گے سکردومیں جدید ائیرپورٹ کی تعمیراوراستورروڈبھی ترقیاتی پیکج کاحصہ ہوں گے صدرنے گلگت بلتستان میں نیشنل بنک، زرعی ترقیاتی بنک ، ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اورنادرا کے ریجنل اورزونل آفس دوبارہ قائم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی بگ بورڈ متاثرین کے مسئلہ بھی زیرغورآیا ہے اورصدرنے ہدایت کی کہ متاثرین کی دادرسی کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔




 







 
 

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Thu 3 Sep 2009 | 7 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
 
 گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے رکن حاجی محمد اقبال نے گلگت بلتستان میں صوبے کی طرز پر انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے گلگت اور بلتستان کے باشندوں کو سیلف گورنمنٹ کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ حکومت کے اس اعلان سے علاقے کے لوگوں کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کے دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد آج یہ کریڈٹ دوبارہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے کھاتے میں گیا ہے۔ انہوں نے کہا گلگت اور بلتستان کے عوام میں اس فیصلے کے بعد خوشیوں کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ اس فیصلے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف پر اس کا کوئی منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت اور بلتستان کو اس کے قانونی اور آئینی حق سے ہمیشہ محروم رکھا گیا اور اس علاقے کے مسائل کو نظرانداز کیا جاتا رہا تاہم اس فیصلے سے یہاں کے عو ام اپنے فیصلوں میں بااختیار ہوگئے ہیں۔


تاريخ : Sun 30 Aug 2009 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
 
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات نثار اے میمن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عو ام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ (ر)جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ان علاقوں کے لئے جوپیکیج دیا تھا اس کی بہت سی مر اعات کو ختم کردیا ”جنگ“ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کی کسی معزز شخصیت کو گورنر نامزد کیا جاتا، قمر زمان کائرہ کی بحیثیت گورنر تقرری کو وہا ں کے لوگ پسند نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گلگت بلتستان میں ہونیو الے انتخابات میں دھاندلی کے لئے اقدامات شروع کردیئے ہیں اقلیتی پارٹی کے چھ وزراء کی نامزدگی دھاندلی کی

موضوعات مرتبط: اخبار بلتستان

تاريخ : Sun 30 Aug 2009 | 12 PM | نویسنده : محمد نظیر عرفانی |
.: Weblog Themes By VatanSkin :.