|
balti | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
[ Wed 6 May 2009 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
به گزارش خبرگزاری مهر: رئیس جمهور پاکستان در دیدار با استاندار خراسان رضوی خواستار ایجاد بنایی به یاد بود بی نظیر بوتو وزیر اسبق و رهبر فقید حزب مردم پاکستان در مشهد شد. آصف علی زرداری شامگاه چهارشنبه در نشستی با استاندار خراسان رضوی در محل فروگاه شهید هاشمی نژاد مشهد ضمن ابراز خرسندی از حضور در مشهد مقدس افزود: هدف من از این سفر زیارت مرقد مطهر حضرت رضا (ع) است.رئیس جمهور پاکستان از استاندار خراسان رضوی خواست تا بنایی به یاد بود بی نظیر بوتو وزیر اسبق و رهبر فقید حزب مردم پاکستان در مشهد ساخته شود.استاندار خراسان رضوی نیز با اشاره به راه اندازی نمایندگی محصولات آستان قدس رضوی در لاهور پاکستان اظهار داشت: ما نیز خواهان برقراری پرواز مستقیم مشهد - پاکستان هستیم. [ Fri 13 Mar 2009 ] [ 10 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
رئيس جمهور پاكستان با پاي برهنه به زيارت مضجع منور هشتمين امام شيعيان شتافت.به گزارش آستان قدس رضوي، آصفعلي زرداري، رئيس جمهوري پاكستان در دقايق عرفاني و ملكوتي بامداد امروز هنگام ورود به صحنهاي مطهر، كفشهاي خود را به نشانه احترام و عرض ارادت به ساحت ملكوتي حضرت ثامنالحجج (ع) از پا در آورد و با حالت خضوع قدم در اين آستان مقدس گذاشت. [ Fri 13 Mar 2009 ] [ 10 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
در منطقه شيعه نشين بلتستان، يك مؤسسه بنام "آسیای مرکزی" Central Asia ، با پشتيباني آمريكا و اسرائيل توسط شخصی بنام « غلام محمد پاروي» فعاليتهاي فرهنگي، آموزشي میکند و در زمینه ایجاد تاسيسات و مدارس غیر انتفاعي فعال شده است. البته رابط اصلی بين آمريكا و غلام محمد پاروي (در شمال پاكستان) آقاي دكتر گريك ميباشد.
مادر دكتر گريك متولد آلمان و پدرش آمريكائي است و نيمي از زندگياش را در اسرائيل گذرانده است. ورود دکتر گریک در ابتداء با استقبال سرد مردم شمال پاکستان مواجه شد؛ ولي آقاي غلام محمد پاروي که دارای افکاری شیطانی است، زمينههايي را براي فعاليت دكتر گريك فراهم ساخت. علماء هم با ورود وی به مخالفت برخاستند ولي آقاي پاروي بعلت ذهنيت يهودي كه داشت، سياستمدار و عالم معروف «سيد عباس موسوي» را با هديه بزرگ قانع ساخت و ايشان طی فتوايي فعاليت دكتر گريك را بدليل وجود فقر در منطقه، جائز دانستند.
بعد از اين ماجرا، دكتر گريك به منطقه شِگَر رفت تا فعالیتش را در آنجا آغاز کند، اما با مخالفت مردم روبرو شد. شخصي بنام اپو علي ايشان را به منزل راه داد و از ايشان پذيرايی گرمي بعمل آورد. وی به آقاي دكتر گريك 3 استكان چايي داد و بعد از آن دكتر گريك موفق به شروع فعاليتهايش شد. دكتر گريك پرسيد فلسفه خوردن 3 استكان چاي چيست؟ اپو علي گفت: در فرهنگ ما اگر كسي يك استكان چاي بدهد شما فكر كن كه با هم دوست شده ايد و اگر بار ديگر چاي داد فكر كن كه از افراد خانواده اش شده ايد و بار سوم اگر اين عمل تكرار شد فكر كن كه با هم همراز شدهايد!
وی تا بحال در منطقه شگر 35 مدرسه غير انتفاعي احداث كرده. همچنين در شهر اسكردو هم آپارتمان سه طبقهاي براي دانشجويان ساخته شده كه بعدا پنج طبقه خواهد شد.
دكتر گريك كتابي نوشته بنام "سه استكان چاي" three cups of tea، كه در حدود 350.000 نسخه آن را به فروش رسانده است. در آمريكا و انگليس و بعبارتي در كشورهاي غربي مورد استقبال فراوانی قرار گرفته است و بايد دانشجویان دانشگاههاي غربي آن را بخوانند و امتحان بدهند.
ايشان چند روز پيش خواهان ترجمه فارسي این کتاب شده و هزینه ترجمه آن را تقبل کرده است.
خبري نيز در دست است مبني بر اين كه، آقاي غلام محمد پاروي يك مؤسسه بنامNGO ، تأسیس کرده و اين مؤسسه با پشتيباني مالی کشور آلمان فعاليت خواهد كرد.
در منطقه گنكهي، خَپُلو، سرمك و اسكردو، وهابيهاي عربستاني فعاليتهاي مختلفي را شروع كردهاند؛ از قبيل كمك به فقرا و مساكين و ايتام و ساختن مساجد. البته قبلا در شهر اسكردو (چون شهر بزرگي ميباشد) هيچ مسجد بزرگي وجود نداشت. در حال حاضر در شهر اسكردو در محله (عمر كالوني) يك مسجد خيلي بزرگ ساختهاند كه در آن اقدامات مشكوكي ميشود و در زیرزمین آن انبار اسلحه قرار دارد.
در منطقه خپلو (در بین پیروان مذهب نور بخشيه) با كمك مالي عقیده بسیاری از مردم را تغيير داده و اين فعاليت را همچنان ادامه ميدهند. اگرا ين فعاليت ادامه پيدا كند در ظرف چند سال آينده وجود تشيع در اين منطقه بطور كلي به خطر ميافتد زيرا مردم اين منطقه در فقر اقتصادي شديدي بسر میبرند.
وهابيها، تحت پوشش كمكهاي بشر دوستانه، مردم را به تغيير عقيده تشويق و يا از مذهب شيعه متنفر ميسازند. سازمانهای خارجي برنامههاي دقيق و غير محسوس را با حمايت ادارات داخلي در سرتاسر منطقه توسعه دادهاند و در تضعيف مكتب تشيع فعال ميباشند و دولت نيز از آنها حمايت ميكند
[ Thu 5 Mar 2009 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
فلسطین کا مسلمان ظلم کا شکار ہوگا تو کراچی کا مسلمان اس کے لیے تڑپ اٹھے گا۔ انڈونیشیا میں زلزلہ آئے تو کراچی‘ ممبئی‘ کلکتہ اور نیویارک تک کا مسلمان ایثار کے لیے کھڑا ہوجائے گا۔ امت ِمسلمہ کی اس خصوصیت سے اب تک صرف چند ایک مواقع پر اس امت کے لیڈروں نے امت کو فائدہ پہنچایا ہے‘ ورنہ ان جذبات کا فائدہ عموماً نہیں اٹھایا جاتا۔ لیکن امت ِمسلمہ کی اس خصوصیت کا فائدہ اس کے دشمن بھی اٹھارہے ہیں۔ کبھی کوئی شوشا چھوڑ کر امت ِمسلمہ کو مشتعل کرکے اپنے ہی ملکوں میں توڑپھوڑ کروا دی جاتی ہے۔ کبھی مسلمانوں کو جذبات میں آپس میں لڑوا دیا جاتا ہے۔ کبھی شیعہ سنّی‘ کبھی دیوبندی بریلوی‘ کبھی مہاجر پٹھان‘ کبھی سندھی پنجابی اور کبھی کچھ.... اور مسلمان جذبات میں آکر اپنا ہی نقصان کربیٹھتے ہیں۔ اب مسلمانوں پر الیکٹرانک اور ٹیکنالوجیکل حملے ہورہے ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ سال چند ملعونوں نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بناکر ان کی تضحیک کی تھی۔ پوری دنیا کے مسلمان اس پر مشتعل ہوئے تھے۔ اس موقع پر مسلمانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھاکر ان کی انتہا پسندوں والی تصویر بنائی گئی۔ دنیا بھر میں توڑپھوڑ کرتے مسلمان دکھائے گئے۔ پھر دنیا بھر میں مسلمانوں نے ڈنمارک‘ ہالینڈ‘ ناروے اور ایسے ہی دیگر شاتم ملکوں اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ اس کا ان ممالک کو نقصان بھی ہوا۔ پھر کچھ دن گزرے کہ الیکٹرانک حملہ ہوا۔ ایک ٹیکسٹ پیغام موبائلوں پر موصول ہونا شروع ہوا کہ ڈنمارک کا وہ صحافی اپنے فلیٹ میں زندہ جل گیا جس نے حضور پاک کی شان میں گستاخی کی تھی اور خاکے بنائے تھے‘ ڈنمارک کی حکومت اس خبر کو چھپارہی ہے‘ آپ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ چنانچہ جذباتی مسلمانوں نے کروڑوں کی تعداد میں یہ پیغام منتقل کردیئے۔ ایک ہی آدمی کو اس کا حلقہ¿ اثر دس دس پیغامات بھیجنے لگا۔ صرف پاکستان کی بات کی جائے تو بھی بلاشبہ اربوں روپے کے پیغامات ایک مہینے کے اندر اِدھر سے اُدھر کردیئے گئے۔ پھر لوگ بھولنے لگے۔ ان اربوں پیغامات کے نتیجے میں کئی کروڑ روپے ان موبائل کمپنیوں کے مالکان کی جیب میں چلے گئے جو شاتم رسول ممالک کے دوست ہیں اور ان کے پیچھے یہی یہودی کمپنیاں ہیں۔ جب سے فلسطین پر اسرائیل کے حملے شروع ہوئے ہیں اُس وقت سے ایک اور میسج چل رہا ہے۔ ایک دن پیغام ملتا ہے کہ ”حماس نے آج رات سورہ الفتح تلاوت کرنے کی اپیل کی ہے‘ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ پھیلائیں“۔ راتوں رات کروڑوں پیغام منتقل ہوئے لیکن حیرت کی انتہا نہ رہی جب ساتویں روز بھی یہی پیغام اسی شکل میں گردش کررہا تھا کہ حماس نے آج رات سورہ الفتح تلاوت کرنے کی اپیل کی ہے۔ آخر یہ ’آج رات‘ کون سی رات تھی! کسی نے زحمت نہیں کی کہ اپیل حماس نے کی ہے یا نہیں۔ آگے چلیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی گردش کررہا تھا کہ ”یہودیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا ہے‘ مسجد اقصیٰ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ آج رات سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھیں اور یہ پیغام آگے بڑھائیں‘ یہ آپ پر امت کا قرض ہے“۔ جذباتی امت نے کروڑوں پیغامات راتوں رات آگے بڑھادیئے۔ منافع ان ہی کمپنیوں کی جیبوں میں گیا جن کے خلاف احتجاج ہورہا ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ فلاں کمپنی تو مسلم ملک کی ہے‘ اس کے نیٹ ورک کو استعمال کرنے سے کیا فرق پڑے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ مسلم ملکوں کی کمپنیوں کے پیچھے بھی ایسا ہی کوئی ملک نکلے گا‘ اور یہ کہ ہر میسج کرنے والا کمپنی دیکھ کر پیغام آگے نہیں بڑھاتا بلکہ جذبات اس کی عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ فی آدمی اوسطاً دس پیغامات آگے بڑھتے ہیں۔ بسااوقات یہ شرح 100 پیغامات بھی ہوجاتی ہے جب کوئی ایس ایم ایس کاسٹر سروس استعمال کرتا ہے۔ اور امت ِمسلمہ کے ان جذباتی معاملات میں ایسا ہی ہورہا ہے۔گزشتہ دنوں تو حد ہی ہوگئی‘ فلسطین کے حوالے سے ایک اور پیغام موبائلوں پر موصول ہونا شروع ہوا‘ آپ سب کو بھی یہ پیغام ملا ہوگا کہ سی این این پر ایک پول ہورہا ہے جس میں سوال پوچھا گیا ہے کہ ”کیا اسرائیل کو فلسطین پر حملے کا اختیار ہے؟“ اس سروے میں ہم 54 کے مقابلے میں 46 فیصد کی شرح سے پیچھے ہیں‘ جلدی کریں اپنا ووٹ بھی ڈالیں۔“اس پیغام کو بھی لوگوں نے اندھادھند آگے بڑھانا شروع کردیا۔ ہم نے سب سے پہلے انٹرنیٹ کھولا‘ سی این این پر گئے‘ یہ پول کہیں نظر نہیں آیا۔ اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ تم تلاش کرو.... اسے بھی نظر نہیں آیا۔ انٹرنیٹ کے ماہرین کو دوڑایا‘ ان کو بھی کہیں نظر نہیں آیا۔ پھر ہم نے اپنے پاس پیغام بھیجنے والے ایک ساتھی کو جواب دیا کہ بھائی کیا آپ نے یہ سروے کہیں دیکھا ہے؟ اور یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سات دن سے یہ پیغام گردش کررہا ہے اور سروے کی شرح 54 کے مقابلے میں 46 فیصد چلی آرہی ہے! امت ِمسلمہ پیغام ہی آگے بڑھا رہی ہے‘ ووٹ کاسٹ نہیں کررہی؟ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے کہ اگر حضور کے خاکے بنانے والا اپنے فلیٹ میں جل مرا تو اس پر پیغامات بھیج کر ہم مغربی کمپنیوں کے منافع میں کیوں اضافہ کریں؟ اگر یہودی افواج نے القدس شریف کا محاصرہ کرلیا ہے تو سورہ اخلاص ضرور پڑھو‘ لیکن امت ِمسلمہ تم پر فلسطینیوں کا یہ قرض نہیں کہ ایک SMS کرکے ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جاﺅ۔ نکلو اپنے گھروں سے‘ ان فلسطینیوں کی جس طرح مدد کرسکتے ہو کرو۔ اگر حماس نے بالفرض سورہ الفتح تلاوت کرنے کی درخواست بھی کی ہے تو ضرور کرو‘ لیکن مجاہدین کے گھوڑے تو تیار کرو۔ شہادت کے لیے خود نہیں جاسکتے تو مجاہد تیار کرنے کے لیے مالی ایثار ہی کرو۔ اگر پاکستان میں دس کروڑ پیغامات روزانہ اِدھر سے اُدھر ہورہے ہیں‘ تو لگ بھگ روزانہ ڈھائی کروڑ روپے ان فون کمپنیوں کو جارہے ہیں۔ ارے ہمارے جذباتی مسلمانو! یہ ایس ایم ایس اُس وقت کے لیے بچاکر رکھو جب سب اپنا رخ اسلام آباد کی طرف کرو گے۔ اگر اسی شرح سے 16 کروڑ میں سے صرف 10 کروڑ عوام روزانہ ایک روپیہ فلسطینیوں کے کسی غیر سرکاری فنڈ میں جمع کرائیں تو ماہانہ تین ارب روپے جمع ہوں گے۔
[ Wed 14 Jan 2009 ] [ 0 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Wed 14 Jan 2009 ] [ 0 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان کوہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔
(1) پیغمبر (ص) کی سنت کو زندہ کرنا: بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانہٴ جاہلیت کے نظام کو جاری کیا جائے۔ یہ بات حضرت کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ ”میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں۔ بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) و اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔“ (2) باطل کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹنا: بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی اسلامی نقاب کوالٹ دیا، تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ نے انسانوں و مسلمانوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور دین کامکھوٹا پہنے فریبکار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ (3) امر بالمعروف کو زندہ رکھنا: حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا ۔ آپنے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکرہے۔ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ : اے اللہ! میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے۔ (4) حقیقی اور ظاہری مسلمانوں کے فرق کو نمایاں کرنا: آزمائش کے بغیر سچے مسلمانون، معمولی دینداروںا ور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے۔ اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی سماج اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگاسکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کوپرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دینا پرست ہیں جب آزمائش کی جاتی ہے تودیندار کم نکلتے ہیں۔ (5) عزت کی حفاظت کرنا: حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت وآزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کرلیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ : ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میںذلت کوقبول کرنے والا نہیں ہوں۔ (6) طاغوتی طاقتوں سے جنگ: امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ا ور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کوحرام کررہا ہو، تواس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی۔“ (7) دین پر ہر چیز کو قربان کردینا چاہئے: دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں ،بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کردینا چاہئے۔ (8) شہادت کے جذبے کو زندہ رکھنا: جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا ،تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایاکہ : میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔ (9)اپنے ہدف پرآخری دم تک باقی رہنا: جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میںیہ ہی کیا ،کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوںکے سامنے ہرگز نہیں جھکنا چاہئے۔ (10)جب حق کے لئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو: کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر س طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ سفید، غلام آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔ (11) افراد کی قلت سے گھبرانا نہیںچاہئے : کربلا ،امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ ”حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعدا د کی قلت سے نہیںگھبرانا چاہئے۔“ جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے تب بھی حق سے دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ یہ لوگ فقط میرے -----۔ (12)ایثار کے ساتھ سماجی تربیت کوملا دینا: کربلا ،تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و وعظ ونصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام پوشیدہ ا ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا،تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔ (1۳) تلوار پر خون کوفتح: مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے۔ یہ احساسات کو جگاتی ہے اور واقعہ کو جاودانی بنادیتی ہے۔ کربلا میں ایک طرف ظالموں کی ننگی تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت۔ ظاہراً امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی شہید ہو گئے۔ لیکن کامیابی انھیں کو حاصل ہوئی۔ ان کے خون نے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی۔ جب مدینہ میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ابراہیم بن طلحہ نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہوگا۔ (14) پابندیوں سے نہیں گھبرانا چاہئے: کربلا کا ایک درس یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے عقید و ایمان پر قائم رہنا چاہئے۔ چاہے تم پر فوجی و اقتصادی پابندیاں ہی کیوں نہ لگی ہوں۔ امام علیہ حسین السلام پر تمام پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ کوئی آپ کی مدد نہ کرسکے اس لئے آپ کے پاس جانے والوں پر پابندی تھی۔ نہر سے پانی لینے پر پابندی تھی۔ مگر ان سب پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کربلا والے نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی دشمن کے سامنے جھکے۔ (15) نظام : حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی پوری تحریک کو ایک نظام کے تحت چلایا۔ جیسے ،بیعت سے انکار کرنا، مدینہ کو چھوڑ کر کچھ مہینے مکہ میں رہنا، کوفہ و بصرے کی کچھ شخصیتوں کو خط لکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے دعوت دینا۔ مکہ، منیٰ اور کربلا کے راستے میں تقریریں کرنا وغیرہ۔ ان سب کاموںکے ذریعہ امام علیہ السلام اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عاشورا کے قیام کا کوئی بھی جز بغیر تدبیر کے پیش نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عاشور کی صبح کو امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے درمیان جو ذمہ داریاں تقسیم کی تھیں وہ بھی ایک نظام کے تحت تھیں۔ (16) خواتین کے کردار سے استفادہ: خواتین نے اس دنیا کی بہت سی تحریکوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم علیہم السلام------ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے واقعات میں بھی خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ علیہا السلام، اسیران اہل بیت اورکربلا کے دیگر شہداء کی بیویوں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہونچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک اسیران کربلا نے ہی پہنچایا ہے۔ (17)میدان جنگ میں بھی یاد خدا: جنگ کی حالت میں بھی اللہ کی عبادت ا ور اس کے ذکرکو نہیں بھولنا چاہئے۔ میدان جنگ میں بھی عبادت و یادخدا ضروری ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور دشمن سے جو مہلت لی تھی، اس کا مقصدتلاوت قرآن کریم ، نماز اور اللہ سے مناجات تھا۔ اسی لئے اپنے فرمایاتھاکہ میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔ شب عاشور آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں۔ عاشور کے دن امام علیہ السلام نے نماز ظہر کو اول وقت پڑھا۔ یہی نہیں بلکہ اس پورے سفر میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب بھی قضا نہ ہوسکی ، چاہے آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو۔ (18) اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا: سب سے اہم بات انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ چاہے اس ذمہداری کو نبہانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے۔ اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کوپورا کرنا ہے ، چاہے اسکا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی، اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھاکہ جو اللہ چاہے گا بہتر ہوگا، چاہے میں قتل ہو جاؤں یا مجھے (بغیر قتل ہوئے) کامیابی مل جائے۔ (19) مکتب کی بقاء کے لئے قربانی: دین کے معیار کے مطابق، مکتب کی اہمیت، پیروان مکتب سے زیادہ ہے۔ مکتب کو باقی رکھنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت دین کے اہداف کے خلاف ہے لہٰذا بیعت سے انکار کردیا اور دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی، اور امت مسلمہ کو سمجھا دیا کہ مکتب کی بقا کے لئے مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاںضروری ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قانون فقط آپ کے زمانہ سے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔ (20) اپنے رہبر کی حمایت ضروری ہے: کربلا ،اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کے سروں سے اپنی بیعت کو اٹھالیا تھااور فرمایا تھا جہاں تمھارا دل چاہے چلے جاؤ۔ مگر آپ کے ساتھی آپ سے جدا نہیں ہوئے اور آپ کو دشمنون کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا۔ شب عاشور آپ کی حمایت کے سلسلہ میں حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑہے ان سے بھی اپنے رہبر کی حمایت ظاہر ہوتی ہے ،جیسے حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے میران داہنا ہاتھ جدا کردیا تو کوئی بات نہیں، میں پھر بھی اپنے امام ودین کی حمایت کروں گا۔ مسلم ابن عوسجہ نے آخری وقت میں جو حبیب کو وصیت کی وہ بھی یہی تھی کہ امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کردنیا۔ (21) دنیا ، خطرناک لغزش گاہ ہے: دنیا کے عیش و آرام و مالو دولت کی محبت تمام سازشوںا ور فتناو فساد کی جڑہے۔ میدان کربلا میں جو لوگ گمراہ ہوئے یا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیںکیا، ان کے دلوں میں دنیا کی محبت سمائی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی محبت ہی تو تھی جس نے ابن زیاد وعمر سعد کو امام حسین علیہ السلام کا خون بہانے پر آمادہ کیا۔ لوگوں نے شہر ری کی حکومت کے لالچ اور امیر سے ملنے والے انعامات کی امید پر امام علیہ السلام کا خون بہا یا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے آپ کی لاش پر گھوڑے دوڑآئے انھوںنے بھی ابن زیاد سے اپنی اس کرتوت کے بدلے انعام چاہا۔ شاید اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا پرست ہوگئے ہیں، دین فقط ان کی زیانوں تک رہ گیا ہے۔ خطرے کے وقت وہ دنیا کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے دلوں میں دنیا کی ذرا برابربھی محبت نہیں تھی ،اس لئے انھوں نے بڑے آرام کے ساتھ اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کردیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن صبح کے وقت جو خطبہ دیا اس میں بھی دشمنوں سے یہی فرمایا کہ تم دنیا کے دھوکہ میں نہ آجانا۔ (22) توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے: توبہ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا، انسان جب بھی توبہ کرکے صحیح راستے پر آ جائے بہتر ہے۔ حر جو امام علیہ السلام کو گھیرکر کربلا کے میدان میں لایا تھا، عاشور کے دن صبح کے وقت باطل راستے سے ہٹ کر حق کی راہ پر آگیا۔ حر امام حسین علیہ السلام کے قدموں پر اپنی جان کو قربان کرکے، کربلا کے عظیم ترین شہیدوں میں داخل ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ہر حالت میں اور ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ (23) آزادی: کربلا ،آزادی کا مکتب ہے اور امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے معلم ہیں۔ آزادی وہ اہم چیز ہے جسے ہر انسان پسندکرتا ہے۔ امام علیہ السلام نے عمر سعد کی فوج سے کہا کہ اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے اور تم قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ہو تو کم سے کم آزاد انسان بن کر تو جیو۔ (24) جنگ میں ابتداء نہیں کرنی چاہئے: اسلام میں جنگ کو اولویت نہیں ہے۔ بلکہ جنگ، ہمیشہ انسانوںکی ہدایت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ ک دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی، کہ بغیر جنگ کے معاملہ حل ہوجائے۔ اسی لئے آپنے کبھی بھی جنگ میں ابتداء نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ہم ان سے جنگ میں ابتداء نہیں کرےں گے۔ (25)انسانی حقوق کی حمایت: کربلا جنگ کا میدان تھا ،مگر امام علیہ السلام نے انسانوں کے مالی حقوق کی مکمل حمایت کی۔ کربلا کی زمین کو اس کے مالکوں سے خرید کر وقف کیا۔ امام علیہ السلام نے جو زمین خریدی اس کا حدود اربع چارضر ب چار میل تھا۔ اسی طرح امام علیہ السلام نے عاشور کے دن فرمایا کہ اعلان کردو کہ جو انسان مقروض ہو وہ میرے ساتھ نہ رہے۔ (26) اللہ سے راضی رہنا: انسان کا سب سے بڑا کمال، ہر حال میں اللہ سے راضی رہنا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ ہم اہل بیت کی رضا وہی ہے جو اللہ کی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں بھی اللہ سے یہی مناجات کی کہ پالنے والے! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔ [ Sat 3 Jan 2009 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
گلگت بلتستان سکردو میں حکومت بے روزگاری کے خاتمے کے لئے خصوصی اقدامات کر یں۔سکردو کے اےک بے روزگار ایکشن کمیٹی کے ا ےک وفد نے کے پی این سے انٹرویو دےتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہور ہا ہے۔اس کے علاوہ مہنگائی، غربت اور ذہنی امراض ایک اور مسئلہ ہے۔ اس وقت موجودہ حکومت کو چاہےے کہ وہ سب سے پہلے گلگت بلتستان میں بے روزگاری کے خاتمے کے لئے خصوصی کام کرے۔اس قت بلتستان میں بے روزگاری کے شرح میں کافی حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری محکموں کے اندر خانہ بھرتیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ جس کی وجہ سے حقداروں کو حق نہیں ملتا۔اس وقت قابل اور ذہین افراد روزگار کی تلاش مین ذلیل ہو رہا ہے ۔ لےکن نااہل افراد بھرتی ہو رہیں۔ اس قت سرکاری محکموں میں عارضی ملازمین کی تعداد بہت زیاد ہ ہے ایسی عارضی ملازمین جو کہ اس وقت سخت مہنگائی میں صرف 250روپے سے 500تک کے لئے سرکاری محکموں میں نوکری کر رہا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے اعلان کیا تھا کہ سرکاری دفتروں میں کارم کرنے والے ملازمین کی تنخواہ چھے ہزار روپے سے کم نہیں ہوگا۔لےکن ابھی تک اس اعلان کا اطلاق گلگت بلتستان کے سرکاری دفاتر مین کام کرنے والے ملازمین کو وہ مراعات اور اضافی تنخواہوں سے محروم ہیں اس کے علاوہ گلگت بلتستان مین بے روزگاری کی روک تھام کے لئے حکومت فوری طور پر کارخانے اور فیکٹریاں لگانے کی منصوبے تیار کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان سے بے روزگاری اور مہنگائی اور غربت کا خاتمہ ہو سکے۔
[ Sat 3 Jan 2009 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
امام جمعہ والجماعت مرکزی امامیہ مسجد گلگت آغا راحت حسین الحسینی نے کہا ہے کہ علاقے میں امن وامان کے مکمل قیام کیلئے تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اتحاد واتفاق کا عملی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ شرپسند عناصر کے مذموم مقاصد خاک میں مل سکیں انہوں نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیس سال قبل علاقے کے عوام آپس میں شیروشکر تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی اجتماعات میں گرمجوشی سے شرکت کرتے تھے مگر ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر نے مذہبی فسادات کرا کر ایک دوسرے سے دور کرانے کی کوشش کی انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جب فسادات ہو رہے تھے تو یہاں کے عوام امن اور بھائی چارے سے رہ رہے تھے مگر محرم الحرام سے چند روز قبل ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو قتل کرا کر ایک دفعہ پھر اس علاقے کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی مگر اس علاقے کے تمام باشعور عوام سمجھ چکے ہیں کہ علاقے میں فساد کرانے والے مقامی افراد نہیں بلکہ اسلام دشمن اور استعمار کے ایجنٹ ہیں آغا راحت نے کہا کہ آج علاقے میں بسنے والے تمام شیعہ ، سنی اور اسماعیلیوں کو تیس سال قبل کے اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے اور علاقے میں ملک اور اسلام کے خلاف بننے والی سازشوں کو پارہ پارہ کر کے آپس میں اتحاد پیدا کر کے استعماری طاقتوں کے مقاصد کو خاک میں ملایا جائے انہوں نے گزشتہ روز جیل میں پیش آنیوالے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک کی دیگر جیلوں کی طرح گلگت میں بھی تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو اپنی مذہبی رسومات منانے کی اجازت دی جائے
[ Sat 3 Jan 2009 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sat 3 Jan 2009 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
اشرار و نواصب تروریست موسوم به طالبان که از مناطق مختلف به منطقه شیعهنشین "کرم ایجنسی" لشگرکشی کردهاند دو روز پیش از نواصب محلی خواستند که به هریک از آنها ـ که با طناب نواصب محلی به چاه کرم ایجنسی فرو رفتهاند ـ مبلغ یکصد هزار روپیه پول نقد پرداخت کنند. آنها همچنین اعلام کردهاند که هر قبیله سنی باید 100 مرد مسلح را در اختیار به اصطلاح جنگجویان طالبان قرار دهد. به گزارش شيعه آنلاين به نقل از ابنا، تروریستها همچنین به یک موضع شیعیان در منطقه "تبی مقام" واقع در مجاورت روستاهای شیعه نشین "انجیری" حمله کردند و آن را تصرف نمودند ؛ ولی امروز بعد از ظهر جوانان شیعه موضع مذکور را با به هلاکت رساندن حدود 25 نفر از تروریستها بازپس گرفتند. طالبان و ناصبیان محلی پس از فرار از این موضع، مقادیر زیادی سلاح و مهمات نیز برجای گذاشتند. در همین حال هیأتی متشکل از زعماء قبائل شیعه و سنی مناطق "تیراه"، "کوهات" و "هنگو" که تقریبا 10 روز پیش به منطقه اعزام شده بود با رهبران شیعه در شهر "پاراچنار" و با رهبران قبایل سنی در شهرک "صده" دیدار و گفتگو کرد. مذاکرات هیأت با شیعیان در همان دو روز اول به نتیجه رسید و همزمان دولت نیز اعلام کرد که چنانچه طرفین در این منطقه تن به ایجاد صلح و برقرار آتشبس ندهند نیروهای دولتی علیه هر دو طرف درگیر وارد عمل خواهند شد ؛ ولی با این وجود سران قبایل سنی پاسخ قانعکنندهای به هیأت نداد و هیأت مزبور دولت از دولت مهلت بیشتری درخواست نمود. ولی با گذشت زمان تعیین شده و ضربالاجل دولت و مهلت درخواستی سه روزه، سران قبایل سنی به هیأت اعلام کردند که با توجه به سلطه نواصب و گروه طالبان بر اوضاع، این قبایل توان سپردن هیچگونه تعهدی را به دولت ندارند و اکنون هیچ کاری از آنها ساخته نیست! در پی این اعلام، هیأت اعزامی به "اسلام آباد" بازگشت ولی دولت هنوز هیچ اقدامی علیه تروریستها و طالبان صورت نداده است. برخی سازمان های امنیتی پاکستانی به جای عمل به وظایف رسمی خود علیه شیعیان وارد جنگ تبلیغاتی شده اند و شایع کردهاند که «شیعیان از کمکهای تسلیحاتی دولت افغانستان برخوردارند و دخالت افغانستان باعث ادامه درگیری در این منطقه شده است». در واکنش به این شایعه، «دبیر انجمن حسینی پاراچنار» ضمن رد القائات سازمانهای اطلاعاتی پاکستان گفت: «دولت افغانستان که حتی قادر نیست امنیت را در پایتخت این کشور "کابل" برقرار کند چگونه میتواند در جای دیگری به دیگران کمک کند که با طالبان مقابله کنند... سازمانهای اطلاعاتی ـ که اشاره ای به لشگرکشیهای تروریستها از مناطق مختلف به منطقه کرم ایجنسی نمیکنند ـ برای توجیه شکستهای خود از طالبان در این منطقه دست به اینگونه شایعهپراکنیها زدهاند». قابل ذکر است که سازمان های اطلاعاتی پاکستان که آتش بیار این معرکه و آغازگر جنگ و ادامه محاصره پاراچنار شناخته میشوند، هرگز انتظار نداشتند که شیعیان تا این مدت با حملات تروریستها، محاصره و گرسنگی و نبود امکانات دست و پنجه نرم کنند و منطقه خود را از تعرضات و تجاوزها حفظ کنند. به اعتراف «سلیم خان» فرماندار اسبق و «سپهبد بازنشسته علی محمدجان اورکزئی» حکمران پیشین ایالت سرحد، قرار بود نقشه پاراچنار در سال 2007 با وارد شدن "آفات غیرطبیعی" تغییر کند! آنها به اندازهای از اقدامات آتی و نتائج آن مطمئن بودند که آنچه طراحی شده بود را براحتی بر زبان آوردند! اما اینک «ظهیرالاسلام» فرماندار پیشین منطقه - که انتظار داشت شیعیان هرچه زودتر شکست بخورند و جنگ «نتایج مطلوب» را برای او همفکرانش در پیشاور و اسلام آباد به دنبال داشته باشد ـ با مشاهده مقاومت شیعیان مدعی شده است که این جنگ به دلیل دخالتهای خارجی ادامه پیدا کرده است. [ Thu 9 Oct 2008 ] [ 10 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Thu 9 Oct 2008 ] [ 10 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
اوضاع پاکستان رو به بهبود نیست و آنچه را در روزهای گذشته اتفاق افتاده نمی توان دموکراسی نام نهاد. [ Thu 4 Sep 2008 ] [ 9 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Fri 22 Aug 2008 ] [ 8 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Fri 15 Aug 2008 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Wed 4 Jun 2008 ] [ 8 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Wed 4 Jun 2008 ] [ 8 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
ڈاکٹر قدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـ ڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ـ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـ مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ادارے نے پچیس کلو میٹر تک مارکرنے والے ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سینسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کے لئے جدید دفاعی آلات کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کیلئے متعدد آلات بھی بنائےـ انیس سو چھتیس میں ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والےڈاکٹر خان نے ایک کتابچے میں خود لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـ ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیںـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیا تھاـ ڈاکٹر قدیر خان نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب کہوٹہ میں ریسرچ لیبارٹری زیر تعمیر تھی تو وہ سہالہ میں پائلٹ پروجیکٹ چلارہے تھے اور اس وقت فرانسیسی فرسٹ سیکرٹری فوکو کہوٹہ کے ممنوعہ علاقے میں بغیر اجازت گھس آئے تھے جس پر ان کی مارکٹائی ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ سی آئی اے کے لیے کام کرتے تھے۔ انہوں نے تہران میں اپنے سی آئی اے باس کو لکھا کہ ’ کہوٹہ میں کچھ عجیب و غریب ہورہا ہے۔‘ ڈاکٹر خان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا اور جب جمالی حکومت آئی تو بھی وہ اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم کے مشیر کا عہدہ لکھتے ہیں لیکن 19 دسمبر 2004ء کو سینیٹ میں ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے سوال پر کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے اس میں وزیراعظم کے مشیروں کی فہرست میں ڈاکٹر قدیر خان کا نام شامل نہیں تھاـ ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور اب تو ڈاکٹر قدیر خان نانا بن گئے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔ چودہ اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان نےسیچٹ sachet کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ [ Thu 6 Mar 2008 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
مطابق پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر 1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے 18 فروری 2008ء کو 9 ویں انتخابات تھے ۔ انتخابات کے بعد نئی جمہوری حکومتوں کے قیام میں سب سے زیادہ عرصہ 1970ء میں لگا جب 2سال 8ماہ 18 دن بعد مرکز میں حکومت قائم ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ 1990ء کے انتخابات میں نئی حکومت کے قیام میں سب سے کم عرصہ لگا اور صرف 11 دن بعد میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا کر مرکز میں حکومت قائم کی ۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حکومت میں تاخیر کا بنیادی سبب مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھی۔ 7/ دسمبر 1970ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جبکہ 17 دسمبر 1970ء کوصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن حکومت کے قیام پر اتفاق نہ ہونے سے اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا جاسکا۔ 16/ دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکا کا سانحہ رونما ہوا۔ 20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے باقیماندہ پاکستان کے صدر اور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سنبھالے۔ انتخابات کے ایک سال 3 ماہ 18 دن بعد بالآخر 14 اپریل 1972ء قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں باقیماندہ پاکستان کے ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا ۔ حلف اٹھانے والوں میں مغربی پاکستان کے 114 اور مشرقی پاکستان کے دو ارکان قومی اسمبلی نور الامین اور راجہ تری دیورائے شامل تھے۔ بعدازاں 30 اپریل 1972ء کو صوبائی اسمبلیوں کے بھی اجلاس منعقد کئے گئے اور یکم مئی 1972ء کو سندھ اور سرحد میں اور 2مئی 1972ء کو پنجاب اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں قائم کر دی گئیں۔پنجاب میں ملک معراج خالد، سندھ میں ممتاز علی بھٹو، سرحد میں مفتی محمود اور بلوچستان میں سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ بنے۔ 17/ اپریل 1972ء کو عبوری آئین منظور کیا گیا جس کے تحت 14 اگست 1973ء سے پہلے اسمبلی کو نہیں توڑا جا سکتا تھا۔10/اگست 1973ء کو اسمبلی نے متفقہ آئین کی منظوری دی۔ 12/اگست کو اس کی توثیق کی اور 14/اگست 1973ء کو یہ متفقہ دستور نافذ ہوا۔ اُسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے وزارت عظمٰی کا حلف اٹھایا۔ 15/اگست 1973ء کو صاحبزادہ فاروق علی قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام میں تاریخ پاکستان کے دولخت ہونے کا عظیم سانحہ تھا۔ 1988، 1990، 1993اور 1997کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومتوں کے قیام میں کوئی زیادہ تاخیر نہیں ہوئی اور 1سے 16دنوں کے اندر مرکز میں حکومتیں بن گئیں البتہ کچھ صوبوں میں مزید ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ کی تاخیر سے حکومتیں قائم ہوئیں کیونکہ ان چاروں انتخابات کے بعد کوئی زیادہ سیاسی جوڑ توڑ کی ضرورت نہیں پڑی۔ البتہ اس سے قبل 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد حکومتوں کے قیام میں خاصی تاخیر ہوگئی۔ 25/فروری 1985ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور 28/فروری 1985ء کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مرکز میں حکومت تقریباً 26 دن بعد 23/مارچ 1985ء کو قائم ہوئی اور محمد خان جونیجو نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ پنجاب میں ایک ماہ 8دن بعد یعنی 9/اپریل 1985ء کو میاں محمد نوازشریف نے وزارت اعلیٰ کا حلف لے کر حکومت تشکیل دی۔ سندھ میں سید غوث علی شاہ نے 6/اپریل1985ء کو، سرحد میں جہانگیر ترین نے 7/اپریل 1985ء کو اور بلوچستان میں جام میر غلام قادر نے 6/اپریل1985ء کو وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھاکر صوبائی حکومتیں قائم کیں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حکومتیں قائم کرنے میں سب سے زیادہ تاخیر2002ء کے عام انتخابات کے بعد ہوئی کیونکہ مسلم لیگ (ق) کو مرکز میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی۔ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی اور دیگر آزاد ارکان کو توڑنے کے لیے خاصا وقت لگ گیا اور تقریباً ایک ماہ 13دن بعد 23/نومبر2002ء کو میر ظفر اللہ خان جمالی نے وزارت عظمٰی کا حلف اُٹھاکر وفاقی حکومت تشکیل دی۔ دو دن بعد 25/نومبر2002ء کو متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی نے سرحد میں اور 6 دن بعد 29/نومبر2002ء کو مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں صوبائی حکومتوں کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ سندھ میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کو حکومت نہیں بنانے دی گئی اور جوڑ توڑ کی وجہ سے یہاں حکومت بنانے میں اور زیادہ تاخیر ہوگئی۔ بالاخر 2ماہ 6دن کی تاخیر کے بعد 16/دسمبر 2002ء کو سردار علی محمد خان مہر نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ 1988ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 16/نومبر جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 19/نومبر کو منعقد ہوئے۔ صرف 16/دن بعد 2/دسمبر1988ء محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا جبکہ 2/دسمبر1988ء کو ہی پنجاب میں میاں محمد نوازشریف نے، سندھ میں سید قائم علی شاہ نے اور آفتاب احمد شیرپاؤ نے سرحد کے وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ البتہ بلوچستان میں حکومت بنانے میں تاخیر ہوگئی۔ انتخابات کے تقریباً 2/ماہ 16/دن بعد نواب اکبر بگٹی وزیراعلیٰ بنے۔ 1990ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 24/اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 27/اکتوبر کو منعقد ہوئے۔صرف 11دن کے بعد 6/نومبر1990ء میں میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کا حلف اُٹھاکر مرکز میں حکومت قائم کی۔ اُسی دن سید مظفر حسین شاہ نے سندھ کے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ 8/نومبر کو غلام حیدر وائین نے پنجاب اور 7/نومبر کو میر افضل خان نے سرحد کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ اس مرتبہ بھی بلوچستان حکومت کی تشکیل میں قدرے تاخیر ہوگئی اور تقریباً 20/دن بعد تاج محمد خان جمالی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھاکر بلوچستان کی حکومت تشکیل دی۔ تاخیر کی وجہ مطلوبہ اکثریت کا نہ ہونا اور سیاسی جوڑ توڑ تھی۔ 1993ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 6/اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 9/اکتوبر کو منعقد ہوئے۔ اس مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف 13دن بعد 19/نومبر 1993ء کو وزارت عظمٰی کا حلف اُٹھایا اور 11سے 12دن میں چاروں صوبائی حکومتیں بھی قائم ہوگئیں۔ 20/نومبر1993ء کو میاں منظور وٹو نے پنجاب میں، اُسی دن سید صابر علی شاہ نے سرحد میں اور میر ذوالفقار علی مگسی نے بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ 21/نومبر1993ء کو سید عبداللہ شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔1997ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پہلی مرتبہ ایک ہی دن 3/فروری1997ء کو منعقد ہوئے۔ 17/فروری1997ء کو میاں نوازشریف نے دوبارہ وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ 20/فروری کو میاں شہباز شریف نے پنجاب میں، 22/فروری کو لیاقت علی خان جتوئی نے سندھ میں، 21/فروری کو سردار مہتاب احمد خان عباسی نے سرحد میں اور 22/فروری 1997ء کو سردار اختر خان مینگل نے بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھاکر حکومتیں تشکیل دیں۔ 18/فروری 2008ء کو منعقد ہونے والے 9/ویں عام انتخابات کے نتائج کا سرکاری اعلان جمعہ 22کو متوقع ہے لیکن انتخابات میں جس طرح تقسیم شدہ مینڈیٹ آیا ہے اس سے کسی بھی سیاسی جماعت کو مرکز میں حکومت تشکیل دینے کے لیے سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو اگرچہ نشستوں کی تعداد کے حوالے سے برتری حاصل ہے لیکن مرکز میں حکومت کے قیام کے لیے اُسے بہت سی ایسی مشکلات کا سامنا ہے، جو شاید پہلے کسی بھی سیاسی جماعت کو نہیں کرنا پڑا۔ حالات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نئی منتخب حکومتوں کے قیام میں غیرمعمولی تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔ [ Thu 28 Feb 2008 ] [ 11 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار عظیم سرور اپنے کالم ‘یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟‘ میں لکھتے ہیں کہ لندن میں 10دن قیام کے بعد شکاگو کے لئے روانہ ہوا تو ایک بار پھر کوپن ہیگن آنا ہوا۔ اس مرتبہ ایئرلائن نے ایک دن کے لئے ہوٹل میں ٹھہرایا یہ ہوٹل سچا فائیو اسٹار ہوٹل تھا۔ اس کے کمرے میں دنیا بھر کی آرام و خوبصورت کتابچہ ”ڈنمارک میں رہنے کے آداب“ رکھا تھا۔ یہ کتابچہ انگریزی، ڈینش، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں تھا جو ڈنمارک کے محکمہ سیاحت کی طرف سے شائع ہوا تھا۔ [ Thu 28 Feb 2008 ] [ 11 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
انسانی معاشرے میں نقل مکانی، مختلف تہذیبوں کی جانب ہجرت اور آبادکاری ایک طرف تہذیبوں کے ملاپ کا باعث بنی تودوسری جانب اس ادغام سے رفتہ رفتہ کئی تہذیبوں کا خاتمہ بھی ہوا جس کا اثر وہاں بولی جانے والی زبانوں پر بھی پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی 6912 زبانوں میں سے 516 ناپید ہوچکی ہیں۔ زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔ [ Thu 28 Feb 2008 ] [ 10 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
انتخابات ہوگئے ہیں۔ حسب توقع سرکاری لیگ کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ اس کا وہی حال ہوا ہے جو 2002 میں نواز لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ پچاس سیٹیں بھی لے سکیں قومی اسمبلی میں۔ اب آگے دیکھنا ہے۔ نئی حکومت بنے گی۔ لیکن یہ نئی حکومت کیسے بنے گی؟؟؟؟؟؟؟ اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان ہیں۔ جو ٹرینڈ اب تک نظر آرہا ہے اس کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں پی پی پی کو۔ غالب امکان ہے کہ بلوچستان سے بھی پی پی پی کو اچھا حصہ مل جائے گا اور سرحد سے بھی حسب توفیق اچھی نشستیں کھینچ لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پی پی پی اکثریت میں تو ہوگی لیکن جماعت سازی اس کے بس کا کام نہیں ہوگا۔ اس کو کم از کم نواز لیگ یا پھر ایم کیو ایم سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ یا پھر ق لیگ سے اتحاد۔۔۔ مرحومہ نے بھی اپنی زندگی میں آئیں بائیں شائیں کی اور کسی منڈیر پر ٹک کر نہیں بیٹھی۔ یہی حال اب لیڈروں کا ہے۔ زرداری نے کسی بھی جماعت کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ تک نہیں دیا۔ اگرچہ نوازلیگ کے ساتھ ان کی گاڑھی چھن رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پندرہ سال تک ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین رہنے والے اتنی جلدی حکومت میں بیٹھ جائیں گے۔ نئی حکومت جو بھی بنی نواز لیگ اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بہت کم ہوگی۔ جس کے نتیجیے میں ججوں کی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس وقت مجھے بہت افسوس ہورہا ہے اگر تحریک انصاف وغیرہ بھی اس میں شامل ہوجاتیں تو آج ججوں کی بحالی کے لیے زیادہ امکانات ہوتے۔ پیپلز پارٹی ایسے کسی بھی فیصلے کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ زرداری صاحب مفاہمتی آرڈیننس کے صدقے ہی جیل سے باہر ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی یا؟ پچھلے کئی ادوار سے تو ہم پچھلی حکومت کی ہر نشانی پر سرخ لکیر پھرتا دیکھتے آرہے ہیں۔ یہ مشرف ہی تھا جس نے فوجی صدر ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوائی۔ مشرف کتنا ہی برا ہو لیکن اس نے اعلٰی تعلیم کو جتنا فنڈ فراہم کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ممکن ہی نہ تھا۔ بے تحاشا سکالرشپس دی گئیں جس کے بل پر ہزاروں طلبا ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے ڈھیر لگ گئے اور نئے نئے کورسز پڑھائے جانے لگے۔ اگرچہ اس میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں جیسے تعلیم کا معیار وغیرہ۔ لیکن اس پالیسی میں پہلی بار ایک سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کو اعلٰی تعلیم کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا۔ اعلٰی تعلیم کا بجٹ ایک بار کٹ بھی چکا ہے لیکن ایوان صدر نے اس کی کمی پوری کردی تھی۔ چونکہ اس وقت فوجی وردی موجود تھی۔ لیکن اب کیا ہوگا؟ ہمارے ہاں جو شعبہ سب سے متاثر ہوتا ہے وہ تعلیم ہے۔ نئی حکومت میں یہ لگ رہا ہے کہ اعلٰی تعلیم کا بجٹ بہت سکیڑ دیا جائے گا۔ شاید پچھلے آٹھ سالوں کی “کارکردگی” کی بنیاد پر ڈاکٹر عطاءالرحمٰن کو بھی احتساب عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں۔ یہی ایک جمہوری حکومت میں اور آمریت میں فرق ہوتا ہے۔ آمر کے پاس جو وژن ہوتا ہے وہ اسے لاگو کردیتا ہے اور ہر حال میں لاگو کرتا ہے۔ جمہوریت ایسا ہجوم بن جاتا ہے جس میں جتنے منہ اتنی آوازیں۔ لیکن یہ آوازیں اپنے کھابوں کے لیے ہمیشہ یک آواز ہوتی ہیں۔ مجھے اعلٰی تعلیم کے لیے وقف شدہ فنڈز غرب مکاؤ یا ایسے ہی کسی دوسرے زمرے میں منتقل ہوتے نظر آرہے ہین۔ چلتے چلتے ایک اور بات ق لیگ والوں نے اپنے پیشرؤوں کے لیے بڑے مناسب قمسم کے ایشوز چھوڑے ہیں۔ جیسے کہ تیل کی قیمتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیل کی قیمتیں ایک دو روپے لیٹر نہیں کم از کم دس روپے لیٹر بڑھ جائیں گی۔ عالمی مارکیٹ میں تو آپ کو ریٹس کا اندازہ ہی ہے۔ بھارت میں بھی کچھ دن پہلے تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب لگتا ہے کہ پٹرول کم از کم 80 روہے لیٹر اور ڈیزل 50 روپے لیٹر ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی ایک اور شدید لہر اٹھے گی۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہوجائے گی۔ بشمول بجلی جس کے فی یونٹ اضافے کی درخواست فورًا کردی جائے گی۔ ایک پرآزمائش گرما ہمارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [ Thu 28 Feb 2008 ] [ 10 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
با کنار کشیدن هند از طرح خط لوله صلح که گاز ایران را از خاک پاکستان به هند انتقال می داد همکنون دولت چین که در حال تعمیر شاهراه مهم قراقروم می باشد اعلام کرده است که تمایل دارد گاز ایران از طریق شاهراه قراقروم به چین انتقال یابد .
با توجه به نیاز شدید چین و از طرفی پاکستان امید می رود این قرارداد به سرنوشت قرارداد با هند منجر نشود اما نکته مهم برای بلتستان این است که با انتقال گاز از طریق شاهراه قراقروم احتمال گاز دار شدن این منطقه بسیار زیاد است . [ Wed 27 Feb 2008 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
یوں تو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں چھوٹی بڑی ان گنت جھیلیں موجود ہیں لیکن اپنے ماحولیاتی نظام اور قدرتی حسن کے باعث چند ہی جھیلیں ایسی ہیں کہ جو مسافر کا دامن دل اپنی جانب کھینچتی ہیں۔
انہیں میں سے ایک سد پارہ جھیل بھی ہے۔ دشوار گزار راستوں سے گزر کر جب آپ سکردو پہنچیں تو اس جھیل تک رسائی کے لیے مزید آٹھ کلو میٹر کی مسافت آڑھے ترچھے اور تنگ پہاڑی گزرگاہوں پر جیپ کے ذریعے طے کرنا پڑتی ہے۔ اور ہوتا یوں ہے کہ اچانک سنگلاخ پہاڑوں پر سفر کرتے کرتے آپ کی نگاہوں کے سامنے نیلے پانی کی جھلمل کرتی چادر لہرانے لگتی ہے اور سیاح حیرت کے عالم میں اپنی گاڑی روکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بلندی سے نیچے جھانکتے ہوئے پہاڑوں کے دامن میں آباد جھیل پر نظر ڈالیں تو اس کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا ہرا بھرا جزیرہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے کناروں پر سرو قد درخت اس طرح ایستادہ نظر آتے ہیں کہ جیسے وہ اس خوبصورت جھیل کو نامحرم نگاہوں سے بچانے کے لیے بطور محافظ کھڑے ہیں۔
شمالی علاقہ جات کا خطہ دیو مالائی کہانیوں سے مالامال ہے اور سدپارہ جھیل بھی اس سے مثتثنیٰ نہیں۔ عارف حسین بلتستان کے رہنے والے ہیں اور یہاں کی دیومالائی کہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جس جگہ یہ جھیل ہے وہاں صدیوں پہلے ایک گاؤں ہوا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک دن اس گاؤں میں کوئی بزرگ فقیر کے بھیس میں لوگوں کو آزمانے کے لیے آئے۔انہوں نے بستی والوں سے کھانے پینے کی چیزیں مانگی۔سوائے ایک بڑھیا کے کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ اس بزرگ نے بستی والوں سے ناراض ہو کر انہیں بددعا دی لیکن ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کی نیک بڑھیا جس نے ان کی مدد کی تھی، اسے کچھ نقصان نہ پہنچے۔ دعا قبول ہوئی اور راتوں رات گاؤں الٹ گیا اور اس کی جگہ پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پانی ایک بڑی جھیل میں تبدیل ہو گیا۔ البتہ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ جس جگہ نیک دل بڑھیا کا گھر تھا وہاں پانی اس سے دور رہا۔ یوں یہ جزیرہ آج بھی سلامت ہے‘۔ جب میں ان سے پوچھا کہ سدپارہ کے معنی کیا ہیں تو عارف کا جواب تھا ’سات دروازے! اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جھیل تک پہنچنے والا پانی جن راستوں سے گزرتا تھا اس گزرگاہ میں سات راجاؤں کے ریاستوں کی حدود آتی تھیں، اسی لیے یہ جھیل سدپارہ جھیل کہلائی‘۔
دیومالائی کہانیاں اور علمی بحث اپنی جگہ تاہم ٹھوس یہ حقیقت ہے کہ سطح سمندر سے آٹھ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع یہ خوبصورت جھیل میٹھے پانی سے لبریز ہے اور اس کے دو تین سمت سنگلاخ چٹانیں ہیں۔ موسم سرما میں ان پہاڑوں پر برف پڑتی ہے اور جب گرمیوں کے آغاز میں یہ برف پگھلنا شروع ہوتی ہے تو نہ صرف ان کا بلکہ چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع دیوسائی نیشنل پارک سے نکلنے والے قدرتی ندی نالوں کا پانی بھی بہتا ہوا اس میں جا گرتا ہے اور یہ پانی پن بجلی کی تیاری اور اسکردو کے شہریوں کی ضرورت آب پوری کرنے کے علاوہ قریب واقع سدپارہ گاؤں سمیت قرب و جوار کی دوجنوں چھوٹی چھوٹی بستیوں کے مکینوں کی زرعی پانی کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے۔ اسکردو کی زراعت بڑی حد تک بارش پر انحصار کرتی ہے، یوں یہ پانی بارانی علاقوں کی مقامی آباد گاروں کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ صرف یہی نہیں، جھیل متعدد مقامی اور ہجرت کر کے آنے والے موسمی پرندوں کا بھی ٹھکانا ہے جو اس کی کوکھ میں موجود آبی حیات سے خوراک کی ضرورت پوری کر لیتے ہیں۔ حسن فطرت آنکھوں کو تازگی بخشنے کے علاوہ اپنے اندر ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی رکھتا ہے اس طرح یہ جھیل بھی مختلف چرند و پرند کی آماجگاہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں قلت آب کی صورتحال نے حکومت پاکستان کو اس بات کا احساس دلایا کہ ملک میں چھوتے بڑے ڈیم تعمیر کیے جائیں ۔ کالا باغ اور بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبے تو شدید تنقید کی زد میں ہیں لیکن چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے حکومت کو کسی رکاوٹ کا سامنا کرنے کی بجائے مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اسی لیے جب سدپارہ جھیل پر ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آیا تو جہاں ایک طرف ماہرین ماحولیات نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو وہیں مقامی لوگوں نے زیادہ بجلی اور پانی ملنے کی نوید سن کر منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ سدپارہ جھیل پر ڈیم کا منصوبہ 2003 میں شروع ہوا جو اب تیزی سے تکمیل پا رہا ہے۔ امید ہے کہ منصوبہ 2006 تک مکمل ہوجائے گا۔ تاہم 2005 سے ہی یہ ابتدائی سطح پر کام کا آغاز کر دے گا۔ ڈیم کی تعمیر کی ذمہ داری پاکستان میں پانی اور بجلی کے نگران ادارے واپڈا کو سونپی گئی ہے اور اس کی نگرانی میں ایک نجی تعمیراتی ادارہ منصوبے کو عملی شکل دے رہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ڈیم کے مکمل ہونے پر جھیل کے پانی کی موجودہ سطح مزید 133 فٹ بلند ہو جائے گی۔ اسکردو کو لگ بھگ 13 میگا واٹ اضافی پن بجلی مہیا ہوگی جب کہ شہریوں کو یومیہ 30 لاکھ گیلن پینے کا پانی فراہم کرنے کے علاوہ 20 ہزار کینال زرعی رقبہ بھی زیر کاشت لایا جا سکے گا۔ منصوبے کے مطابق ڈیم کو بھرنے کے لیے موسم سرما کی برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی کے علاوہ دیوسائی نیشنل پارک میں بہنے والے قدرتی نالے جسے شتونگ کہا جاتا ہے ، کا رخ موڑ کر ایک نالہ ڈیم تک لایا جائے گا۔ دیوسائی کو بھورے ریچھوں، برفانی چیتوں اور دیگر نایاب جانوروں اور پرندوں کی موجودگی کے باعث 1993 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا اور اس حیثیت میں اسے ان تمام ملکی اور غیر ملکی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے جن کا اطلاق محفوظ قرار دیے گئے علاقوں پر ہوتا ہے اور حکومت پاکستان بھی جنہیں تسلیم کرتی ہے۔ ڈیم کی تعمیر کے وقتی فائدے اپنی جگہ لیکن اسکردو سے بہت دور کراچی میں بیٹھے ہوئے ماہر ماحول ڈاکٹر نجم خورشید اس سے متفق نہیں ہیں۔ ڈاکٹر نجم خورشید رامسر کنوینشن ہیڈکوارٹڑ سوئزرلینڈ میں کئی سالوں تک بطور کوآرڈینیٹر ایشیا بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کسی بھی جھیل کو ڈیم میں تبدیل کر دینے سے بے شک قلیل المدت فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ طویل المدت تناظر میں وہ خود ہی ان زمینوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جنہیں آباد کرنے کے لیے یہ تعمیر کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہر آب گاہ کا اپنا ایک ماحولیاتی نظام ہوتا ہے اور جب اس طرح کے منصوبوں کو عملی شکل دی جاتی ہے تو نہ صرف یہ آبی حیات بلکہ جھیل کے پورے قدرتی ماحولیاتی نظام کو بھی تہہ وبالا کر دیتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ نقصان کی کسی طرح بھی تلافی نہیں کی جاسکتی۔ [ Wed 27 Feb 2008 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Wed 27 Feb 2008 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
چند هفته است که آخرین جنگ در پاراچنار پایان یافته ؛ ولی ابعاد گوناگون آن هر روز بیشتر روشن میشود و تاسف همگان را بر میانگیزد. [ Mon 18 Feb 2008 ] [ 2 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
بينظير بوتو، نخستوزير سابق پاكستان و رهبر ترور شدهي حزب مردم اين كشور در كتاب خود به نام "آشتي: اسلام ، دموكراسي و غرب" كه امروز(سهشنبه) در سراسر جهان عرضه ميگردد، نوشته است كه مقامهاي پاكستاني به وي گفته بودند، چهار تيم بمب گذار انتحاري از سوي بيتالله محسود، سركردهي طالبان در پاكستان، حمزه، پسر اسامه بن لادن و دو گروه شبه نظامي براي كشتن وي اعزام شدهاند. بينظير بوتو كه در كتابش پرويز مشرف، رييس جمهور پاكستان را به عدم حمايت كافي و تحقيق در زمينهي اين تهديدها متهم كرده، نوشت: در واقع من اسامي و شماره تلفن همراه تروريستهاي تعيين شده را از دولتهاي خارجي مسلمان دلسوز گرفتهام. بوتو در كتابش اعلام كرده كه در ماه اكتبر(مهر) پيش از بازگشت به كشور نامهاي براي مشرف فرستاده كه در آن از افرادي در سرويسهاي اطلاعاتي پاكستان نام برده كه احتمالا اقدام به ترور وي خواهند كرد. بوتو در صفحهي 318 كتابش كه از سوي نهاد خبري "هارپر كولينز" منتشر شده، نوشته است: من به او (مشرف) گفتم كه اگر توسط شبه نظاميان ترور شوم، براساس خواستهي طرفداران شبهنظاميان در رژيم او خواهد بود كه به گمانم قصد حذف من يا كنار زدن تهديد من عليه اعمال قدرت خود را داشتهاند. بوتو پس از بازگشت به پاكستان در ماه اكتبر(مهر) پس از هشت سال تبعيد خود خواسته از يك بمب گذاري كه يكي از مرگبارترين حملات در تاريخ پاكستان بود، جان سالم به در برد. اما در راهپيمايي 27 دسامبر(6 دي) بر اثر شليك گلوله و بمب گذاري انتحاري كشته شد. وي در بخش ديگري از كتابش نوشته است: زماني كه بازگشتم نميدانستم كه زنده خواهم ماند يا ميميرم. از بچههايم و نيز از همسر، مادر، خدمه، دوستان و خانوادهام خداحافظي كردم. نميدانستم كه آيا دوباره صورتهاي آنها را خواهم ديد يا خير. بوتو كه پدرش اولين نخست وزير مشهور پاكستان بود و در اواخر دههي 1970 از سوي نظاميان به دار آويخته شد، نوشته است: ميخواستم به آنها اطمينان خاطر بدهم و نيز به آنها گفتم "به ياد داشته باشيد خدا زندگي ميدهد و خدا آن را ميگيرد. من تا زمانيكه فرصتم تمام نشده باشد، سالم خواهم ماند". دولت مشرف كه حامي وفادار آمريكا در رهبري عمليات نظامي عليه شبه نظاميان تروريست است، القاعده را عامل قتل بوتو ميداند، اما بسياري از مردم پاكستان به ديگر دشمنان بوتو احتمالا از درون سازمانهاي امنيتي پشت پرده، مظنون هستند. بوتو پس از اولين سوء قصد به جانش، نوشته است: از همان لحظات اوليهي حمله، مخفيكاريها آغاز شد تا حملات به صورت انتحاري و به سبك القاعده نمايان شود. وي در ادامه آورده است: در پاكستان كارها تقريبا آن طور كه به نظر ميرسند نيستند. هميشه دايرههايي درون دايرهها وجود دارد و به ندرت خطوط صاف پديدار ميشود. عمليات بايد شبيه كارهاي القاعده و طالبان ميبود؛ من شك ندارم كه پاي آنها (دولت) نيز در ميان است. بوتو در ادامه نوشته است: اما پيچيدگي نقشه، توطئهي بزرگتري را نشان ميدهد. عناصر سرويسهاي اطلاعاتي پاكستان كه طالبان را در دههي 1980 به وجود آوردند و برخي از عناصر مشخص دوستدار ايدئولوژي و تئوري القاعده، در حال جذب نيروي جديد براي اجراي نقشهي تازهاي هستند. آصف علي زرداري، همسر بي نظير بوتو كه عملا رهبر حزب مردم پاكستان شده همراه با پسر و دخترش در مقدمهي كتاب بوتو نوشتهاند: اين كتاب دربارهي چيزي است كه كساني كه او را كشتند، هرگز آن را درك نخواهند كرد؛ دموكراسي، صبر، منطق، اميد و بالاتر از همهي اينها پيام حقيقي اسلام. يا شايد آنها اين حقايق را درك كردهاند و از آن ميترسند و بنابراين از او نيز ترسيدند. او بدترين كابوس ديوانه كنندهي آنها بود [ Tue 12 Feb 2008 ] [ 11 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sun 13 Jan 2008 ] [ 0 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
مشیر مالیات مرزا حسین نے کہا ہے کہ ایوان صدر نے وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی ہےں کہ شمالی علاقوں کو اختیارات اورحیثیت کے لحاظ سے بتدریج صوبے کی سطح پر لایا جائے ۔ مرزا حسین نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایوان صدر کی طرف سے وزارت امور کشمیر کو موصول ہونے والی ہدایات میں سب سے اہم بات کارگل سکردو روڈ کو کھولنا ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں آڈیٹر جنرل اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی تقرری ¾ زرعی قرضوں کی معافی اور پبلک اکاﺅنٹس کے قیام سمیت اہم معاملات شامل ہیں ۔ایل ایف او میںترامیم کے نتیجے میں چیف ایگزیکٹو کو بہت سارے اختیارات مل گئے ہیں ۔ پہلے وہ صرف گریڈ 18کے افسروں کا تبادلہ کرسکتے تھے ۔ اب انہیں مالیاتی اختیارات بھی مل گئے ہیں اوراب وہ نئی تقرریاں بھی کرسکتے ہیں ۔ مرزا حسین نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کو ایل ایف او میں مزید ترامیم کابھی حق مل گیا ہے ۔ اوراب ہم اس میں وہ تمام ترامیم کرسکتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ کوئی ترمیم آئین پاکستان سے متصادم نہ ہو ۔ اس وقت تحریک عدم اعتماد کےلئے دوتہائی اکثریت کی شرط رکھی گئی ہے ۔ دوتہائی کو سادہ اکثریت میں تبدیل کرنے کےلئے دوبارہ سمری بھی جھی جارہی ہےں ۔ اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی خود بھی اس میں ترمیم کرسکتی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ قانون ساز اسمبلی کو عدم اعتماد کی تحریک لانے کا بھی حق ملنا چاہےے جو دیگر صوبوں اور قومی اسمبلی کے ارکان کو حاصل ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم صدر جنرل پرویز مشرف کے شکر گزار ہیں کہ انہوںنے ہمارے مسائل حل کرنے میں دلچسپی لی ہمیں امید ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ذاتی دلچسپی کے پیش نظر ہم بہت جلد شمالی علاقوں کو صوبہ کا درجہ دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے [ Sun 25 Nov 2007 ] [ 6 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
یوٹیلٹی سٹورز شمالی علاقہ جات کے انچارج چنگیزخان سکردو کے مختلف یوٹیلٹی سٹورز کا تفصیلی دورہ کیااس موقع پر انہوں نے یہاں کے چند عوامی نمائندے اورعوام سے بھی ملاقات کی اورانہوں نے کہا کہ سردیاں شروع ہونے سے قبل بلتستان میںموجود یوٹیلٹی سٹوروں کے اندر سامان کی قلت کومکمل طورپر ختم کردیاجائے گا تاکہ گلگت سکردو روڈ بلاک ہونے کی صورت میں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ آنا پڑے ہماری کوشش ہے کہ یوٹیلٹی سٹوروں میں معیاری اور اچھی کوالٹی کی اشیاءخوردنوش عوام الناس تک پہنچاسکےں عوام الناس سے بھی ہماری گزارش ہے کہ جہاں جہاں یوٹیلٹی سٹوروں کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہویا کوئی کمی ہو براہ کرم ہمیں آگاہ کریں ہم خامیوںکودور کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کرینگے ہمارا نعرہ ہے کہ عوام الناس کوگھر کی دیلیز پراچھی کوالٹی اور معیاری سامان کم ریٹ پرمل سکے اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہماری کوشش ہے کہ شمالی علاقہ جات خصوصاً بلتستان کے مختلف اضلاع میں مزید یوٹیلٹی سٹورز کھولیں جائیں گے چنگیزخان کے ساتھ یوٹیلٹی سٹورز شمالی علاقہ جات کے اکاﺅنٹ آفیسر محبت امین نے بھی بلتستان کے مختلف یوٹیلٹی سٹوروں کا تفصیلی دورہ کیا اور چیکنگ وغیرہ کی چنگیز خان کے مزید یوٹیلٹی سٹورز کھولنے کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیاگیا ہے اور ان کی کارکردگی کوسراہا گیا ہے [ Thu 22 Nov 2007 ] [ 3 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sat 17 Nov 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sat 17 Nov 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sat 17 Nov 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sat 17 Nov 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
صدر مشرف کی گیارہ نومبر کی تقریر کے بعد سے ابتک بہت سارا پانی پل کے نیچے سے گزرچکا ہے بلکہ ابتک گزررہا ہے اور اس وقت تک اسی سرعت سے گزرتا رہے گا جب تک ایمرجنسی کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہیں جاتا۔ ویسے جناب صدر نے سنیٹ کے چیئرمین میاں محمد سومرو کو نگراں وزیراعظم مقرر کردیا ہے اور انکی قیادت میں ایک چوبیس رکنی کابینہ نے حلف بھی اٹھالیا ہے۔حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور محترمہ بینظیر نے تو نگراں کابینہ کی پی سی او کے تحت حلف برداری کو غداری سے تعبیر کیا ہے۔ صدر کے اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی مصالحت کے موڈ میں نہیں ہیں بلکہ حزب اختلاف کوللکار رہے ہیں کہ ہم تو اپنی سی کریں گے آپ جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ زمانے میں پنپنے والی باتیں نہیں ہیں۔ ممکن ہے صدر محترم کو وکلاء، صحافیوں اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج میں کچھ دم خم محسوس نہ ہوتا ہو لیکن یہ تو انکو یقینی اندازہ ہوگا کہ وہ اب عوام میں اتنے مقبول نہیں ہیں جتنے کہ 12 اکتوبر 1999 کے روز تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں تصادم کے بجائے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اس لئے کہ وہ اقتدار میں رہیں یا مستعفی ہونے کا فیصلہ کریں باعزت طریقہ مصالحت کا ہی ہے۔ادھر یہ اطلاع بھی ہے کہ جیو ٹی وی چینل کی عالمی نشریات بھی بند کردی گئی ہیں اور یہ پاکستان کی حکومت کے دباؤ کے تحت کیا گیا ہے۔ [ Sat 17 Nov 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Sat 17 Nov 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
پاکستان کے قیام کے ساٹھ برسوں میں تین صدور اور تین وزراء اعظم سمیت اہم سیاسی شخصیات پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ ان قاتلانہ حملوں میں ایک صدر اور ایک وزیراعظم ہلاک ہوئے جبکہ دیگر بال بال بچ گئے۔
قیام پاکستان کے بعد چار برس بعد ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم کو قتل کردیا گیا۔ لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر سنہ انیس سو اکیاون میں اس وقت گولی مار کرکے ہلا ک کیا گیا جب وہ راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔
صدر جنرل ایوب خان ملک کے پہلے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ صدر جنرل ایوب پر آٹھ نومبر سنہ انیس سو اڑسٹھ میں پشاور یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ کرکے ان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تاہم صدر ایوب اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔ صدر جنرل ضیاء الحق پاکستان کے دوسرے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملے ہوئے تاہم ان کی ہلاکت سترہ اگست سنہ انیس سو اٹھاسی میں فوجی طیارے کی تباہی سے ہوئی۔ اس حادثہ سے صدر جنرل ضیاء الحق کے علاوہ اعلیْ فوجی افسر اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر بھی ہلاک ہوگئے۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو بھی اپنی بہن کے دورے حکومت میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو اپنے سات ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ سے اپنے آبائی اقامت گاہ سترہ کلفٹن کے باہر ہلاک ہوئے تھے۔ نواز شریف ملک کے دوسرے وزیر اعظم تھے جن پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں واقع اپنے فارم پر جارہے تھے اور ان کے راستے میں ایک پل کے نیچے رکھا گیا بم ان کی گاڑی گزرنے کے بعد پھٹا اور اس طرح نواز شریف محفوظ رہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سنہ دوہزار تین میں یکے بعد دیگرے دو انتہائی خطرناک حملے ہوئے۔ تاہم صدر مشرف معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ صدر جنرل مشرف پر پہلا حملہ چودہ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا لیکن صدر کے قافلے کی گاڑیوں میں نصب شدہ ’سگنل سینسرنگ‘ آلات کی وجہ یہ بم اس وقت نہیں پھٹ سکا تھا جب گاڑیاں پل سے گزر رہی تھیں۔ اس واقعہ کے دس دنوں بعد صدر مشرف پرپچیس دسمبر کو دوسرا حملہ کیا گیا اور ان کو خودکش حملہ کے ذریعےہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف کے قافلے پر اس خطرناک خود کش حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ صدر مشرف کے قافلے پر دو مختلف اوقات پر دو گاڑیوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ گاڑیاں دو پیٹرول سٹیشنوں سے باہر نکلی تھیں۔ اس حملے میں صدر مشرف بال بال بچ گئے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز پر بھی تیس جولائی سنہ دو ہزار چار میں ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ تاہم اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اس سال سترہ جولائی کی شام اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں بال بال بچے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی معطلی کے دوران ایک جلوس کی شکل میں وکلا کنونشن میں خطاب کے لیے آرہے تھے اور ان کا قافلہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر تھا جب پنڈال میں بم دھماکا ہوا۔ اس دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن بھی شامل تھے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو آٹھ برسوں کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپسی پر ان کے استقبالیہ جلوس میں خودکش حملے میں ایک سوانتالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ بینظیر بھٹو کے ٹرک سے کچھ فاصلے پر ہوئے۔ تاہم بینظیر بھٹو اس انتہائی خطرناک حملے میں محفوظ رہیں۔ [ Fri 26 Oct 2007 ] [ 10 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
پيروزي در ظاهر قاطع ژنرال پرويز مشرف در انتخابات را- كه نقطه اوج هفتهها چالش سياسي امنيتي در اين كشور بود - به هيچ وجه نميتوان به معني تثبيت اوضاع سياسي در پاكستان قلمداد كرد، بلكه بايد از اين رويداد بهعنوان نخستين گام در روند پيچيده تقسيم قدرت ياد كرد. اين روند با تأييد مشروعيت انتخابات از سوي ديوان عالي پاكستان كليد ميخورد و كشور در مسير تحولات و شايد دگرگوني سياسي قرار خواهد گرفت. اهميت اين تأييد زماني آشكار ميشود كه بدانيم همين ديوان عالي چند هفته قبل و درست در آستانه انتخابات، مشرف را تهديد كرده بود درصورتي كه وي بهعنوان يك نظامي در اين انتخابات شركت كند نتايج رأي گيري را غيرقانوني اعلام خواهد كرد. از جمله تحولات مهم ديگر پيش از انتخابات بايد به امضاي حكم بخشش بينظير بوتو توسط مشرف اشاره كرد كه بر اساس آن از تمامي اتهامات مربوط به فساد مالي نخست وزير سابق پاكستان صرفنظر شد و بدين ترتيب با زمينهسازي براي بازگشت وي به كشور، زمزمههاي تقسيم قدرت بين وي و مشرف بيش از پيش تقويت شد. اتفاق مهم ديگر پيش از انتخابات، تعيين جانشين پرويز مشرف در ارتش پاكستان بود. وي براي حفظ منافع حياتي خود در ارتش، يكي از نزديكترين دستياران خود به نام سرهنگ اشفق كياني (رئيس سابق سازمان اطلاعات پاكستان) را در راس امور نظامي كشور قرار داد. همانگونه كه اشاره شد بسياري از كارشناسان بر اين باورند پيروزي مشرف در اين انتخابات را نبايد به معني تثبيت اوضاع در پاكستان قلمداد كرد. روزنامه واشنگتن پست در شماره چند روز پيش خود نوشت: ارتش پاكستان درخصوص دكترين نظامي مورد حمايت كاخ سفيد موسوم به جنگ عليه تروريسم، با مشكلات بسياري مواجه است. اين روزنامه ميافزايد: درحاليكه تروريستهاي القاعده و جنگجويان طالبان توانستهاند جايگاهي مناسب در بين قبايل و در اطراف مرزهاي پاكستان براي خود دست و پا كنند و حتي در برخي مناطق كنترل امور را از اختيار نيروهاي امنيتي پاكستان خارج كنند، ارتش اسلامآباد همانند مردم اين كشور براي مبارزه با اين نيروها دچار دودستگي است. نشريه آتلانتيك نيز با درج مقالهاي، به نقل از يك سرگرد بازنشسته ارتش پاكستان نوشت: جنگ عليه تروريسم، جنگ ما نيست زيرا طالبان و القاعده در پاكستان جنايتكار محسوب نميشوند. چرا بايد پاكستان براي خوشايند واشنگتن بجنگد و با بازخواست افكار عمومي در داخل مواجه شود؟ سليق هريسون، كارشناس امور آسيا در مركز سياست بينالملل واشنگتن نيز با اشاره به افتراق آرا در بين فرماندهان ارتش و همچنين افكار عمومي در پاكستان، هشدار داده ادامه اين روند ميتواند به تكرار حوادثي مشابه مسجد لعل بيانجامد و حتي در ابعاد گستردهتر افراطي گري را در كشور تقويت كند. اما مشكل در پاكستان ابعاد گسترده تري دارد. اين كشور داراي بمب هستهاي كه از يك نظام آموزشي ناكارآمد بهرهمند است و نهادهاي تجاري در آن وضعيت بسيار متزلزلي دارند و در نهايت كشوري كه به سختي ميتواند ثبات اقتصادي خود را حفظ كند، اكنون بايد با مشكلي ديگر يعني هم پيماني با واشنگتن در جريان جنگ عليه تروريسم و نارضايتي داخلي دست و پنجه نرم كند. بر اساس آخرين نظر سنجي انجام شده توسط مؤسسه تحقيقاتي فرداي بدون ترور، 46 درصد مردم پاكستان نظري مثبت درخصوص اسامه بن لادن دارند و اين در حالياست كه مشرف و بوش از محبوبيت بسيار اندكي در پاكستان برخوردارند. جالب آن كه بينظير بوتو با 63 درصد از بيشترين ميزان محبوبيت در بين مردم پاكستان برخوردار است. اين موضوع سبب شده است تا مركز مطالعات راهبردي و بينالملل آمريكا در گزارش اخير خود، بوتو را بهترين گزينه واشنگتن براي تضمين گذر پاكستان به سوي دمكراسي معرفي ميكند. بوتو نيز با آگاهي از اين موضوع، تلاش ميكند تا با جلب حمايت واشنگتن، خود را تنها اميد نجات پاكستان براي رهايي از خطر افراطي گري معرفي كند. البته آمريكا در اين مورد و اعلام حمايت از بوتو يا مشرف به تنهايي، جانب احتياط را رعايت و تنها به تأكيد اهميت بسيار اين انتخابات در آينده سياسي پاكستان بسنده كرد.البته هيچ كس نميتواند منكر حمايت آشكار آمريكا از دولت مشرف و همچنين ارتش و تركيب جديد اين نهاد قدرتمند در پاكستان شود. آخرين گزارش مؤسسه تحقيقاتي رند آمريكا نيز با اشاره به اين موضوع خاطر نشان ميكند: به استثناي كمكهاي امدادي زلزله سال 2005، بيشتر 10 ميليارد دلار كمك مالي واشنگتن به اسلام آباد از سال 2001 تا كنون، با نيت تحقق اهداف كوتاه مدت ضد تروريسم اعطا شده است. نگارندگان در اين گزارش توصيه كردهاند كاخ سفيد با تعريف مجدد راهبردهاي خود توجه بيشتري به امور اجتماعي و تعامل با تشكلهاي مدني پاكستان داشته باشد [ Tue 9 Oct 2007 ] [ 9 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
هجدهم اکتبر به پاکستان برمي گردم تا کشور را متحول کنم. ثبات، کارايي و امنيت پاکستان در گرو قدرت بخشيدن به مردم آن و پايه ريزي قوانين سياسي مدون است. هدف من اثبات اين مدعا است که تنها تلاش و مبارزه اساسي در راه مردم از طريق دموکراسي حاصل مي شود. مساله اصلي که پاکستان با آن روبه رو است تقابل اعتدال گرايي و افراط گرايي است. در صورت حل اين مساله، آثار آن همه جهان، به خصوص جنوب آسيا و آسياي مرکزي و تمامي ملت هاي مسلمان را تحت تاثير قرار خواهد داد. راديکاليسم تنها در فضايي فرصت رشد و شکوفايي مي يابد که مسووليت هاي اساسي دولت در قبال رفاه و آسايش مردم مورد غفلت قرار گرفته و ناديده انگاشته شود. ديکتاتوري سياسي و نااميدي اجتماعي نوعي افسردگي به وجود مي آورد که در بستر آن تندروها فرصت رشد و نمو پيدا مي کنند. در تاريخ شصت سال اخير پاکستان، با وجود ديکتاتوري و دموکراسي و به رغم برگزاري انتخابات آزاد و انتخابات تقلبي و حتي زماني که هيچ انتخاباتي در کار نبود، بنيادگرايان مذهبي هرگز جايگاه قابل توجهي در ساختار سياسي پاکستان نداشته اند. ملت پاکستان، ذاتاً ملتي ميانه رو و اعتدال گرا است. از لحاظ تاريخي، احزاب مذهبي پاکستان هرگز نتوانسته اند در انتخابات عمومي پاکستان بيشتر از يازده درصد آرا را به خود اختصاص دهند. بزرگترين حزب سياسي پاکستان، يعني حزب مردم، متعلق به من است. چشم انداز سياسي پاکستان پيش از همه توسط حزب مردم اشباع شده است که حمايت کامل خود را از توده هاي مردم و رهبران آنها اعلام کرده است. تندروها به مثابه يک تهديد هستند اما اگر ميانه روها، همانند گذشته، عليه تعصب به پا خيزند، اين تهديد برطرف خواهد شد و من براي رهبري چنين مبارزه يي بازمي گردم. من زندگي غيرعادي داشته ام. شاهد دفن پدرم که در پنجاه سالگي کشته شد بودم و دو برادرم هم در اوان جواني کشته شدند. زماني که همسرم به اتهاماتي که هيچ وقت ثابت نشد، هشت سال را در زندان سپري کرد، به تنهايي کودکانم را بزرگ کردم. در واقع شوهرم را در آن هشت سال به عنوان گروگاني در عوض فعاليت سياسي من گرفته بودند. زماني تصميم به قبول دعوت مردم کردم که مسووليت رهبري سياسي مردم پس از مرگ پدرم بر دوشم سنگيني کرد. من از مسووليت فرار نکردم و امروز نيز چنين کاري نخواهم کرد. مي دانم که برخي در پاکستان گفت وگوهاي من و ژنرال مشرف را در چند ماه اخير مورد انتقاد قرار داده اند. به اين اميد با مشرف مذاکره کردم که او از ارتش استعفا دهد و دموکراسي را به پاکستان بازگرداند. هدف من از گفت وگوهايم با مشرف هرگز شخصي نبوده بلکه همواره در راستاي اين مهم بوده است که از برگزاري انتخاباتي آزاد و منصفانه در پاکستان به منظور نجات دموکراسي اطمينان حاصل کنم. براي مبارزه با افراط گرايي نيازمند تلاشي ملي هستيم که تنها از طريق برگزاري انتخاباتي قانوني حاصل مي شود. در دستگاه اطلاعاتي و نظامي ما عواملي هستند که از تندروها حمايت مي کنند. اگر اين افراد در جايگاه پاسخ به پارلمان و دولت انتخابي قرار نگيرند؛ مبارزه با نظامي گري مذهبي و مبارزه براي نجات پاکستان و آينده اين کشور، مي تواند به شکست بينجامد. ارتش بايد بخشي از مبارزه با افراط گرايي باشد اما آن گونه که در شش سالي که از حادثه 11 سپتامبر مي گذرد ديده ايم، ارتش نمي تواند در برابر تندرو بايستد. بسياري از مسائل در ساختار سياسي ما حل نشده باقي مانده اند. از انتخاب مجدد مشرف در پست رياست جمهوري، چه يونيفورم پوش باشد چه نباشد جلوگيري شده است. قانون پاکستان تصريح کرده است که براي انتخاب يک عضو ارتش به رياست جمهوري پاکستان، گذشت دو سال ضروري است. ژنرال مشرف مي تواند به درخواست مردم براي برگزاري انتخابات رياست جمهوري و پارلمان پاسخ گويد يا به نوعي در خصوص قانون مذکور زد و بند کند. اگر مشرف دومين گزينه را انتخاب کند، خطر تقابل و کشمکش ميان نهادهاي قانوني و احزاب سياسي شدت خواهد گرفت. چنين تقابلي مي تواند بار ديگر قانون نظامي گري و ناآرامي هاي داخلي را به پاکستان بازگرداند. ناآرامي هاي داخلي همان چيزي است که تندروها مي خواهند. هرج و مرج و آشوب دقيقاً به نفع آنهاست. از سال 1996 که دولت من سرنگون شد، عوامل سياسي در حزب ژنرال مشرف که عهده دار رشد و قدرت يافتن تندروها بودند با هر دولتي که در پاکستان بر سر کار آمده همکاري کرده اند. آنها مانع تمام تغييرات دموکراتيک شده اند که من سعي کردم در مذاکراتم با مشرف به آنها دست يابم. آنها از اين بيم دارند که با برقراري دموکراسي نتوانند به منافع راديکال و نظامي خود دست يابند. هدف من از گفت وگو با مشرف اين بود که کشور از مسير ديکتاتوري خارج شود. ديکتاتوري که نتوانست از تبديل شدن نواحي قبيله يي پاکستان به بهشت تروريست ها خودداري کند. امروز تندروها سعي مي کنند تا دامنه نفوذ خود را در شهرهاي پاکستان نيز گسترش دهند. حزب من خواستار برگزاري انتخاباتي آزاد و منصفانه توسط کميته مستقل برگزاري انتخابات تحت يک دولت موقت ملي است. ما خواستار فضايي باز و رقابتي براي همه کانديداها و احزاب هستيم. جمله يي هست که آن را به استالين نسبت مي دهند. او مي گويد؛ «آنها که راي مي دهند هيچ کس را انتخاب نمي کنند. آنها که راي ها را مي شمارند، انتخاب مي کنند.» به همين دليل است که ما خواهان اصلاحات در انتخابات هستيم. اگرچه تلاش هايمان نتيجه نداشته باشد. ماه آينده، وقتي هواپيماي من در خاک پاکستان بر زمين بنشيند، مي دانم که مردم استقبال گرمي از من خواهند کرد. اما نمي دانم زماني که فرودگاه را ترک مي کنم، از لحاظ شخصي و سياسي، چه چيزي در انتظارم خواهد بود. من براي اتفاقات خوش دعا مي کنم و خود را براي اتفاقات بد مهيا. اما در هر صورت من براي بازگرداندن پاکستان به جمع ملت هاي دموکراتيک به کشور بازمي گردم. [ Tue 9 Oct 2007 ] [ 9 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
پاکستان میں فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ہونے والی ترامیم نے صدر مملکت کے پروقار نمائشی منصب کو ایک طاقتور اور با اختیار عہدے میں تبدیل کردیا ہے۔
انیس سو تہتر کے آئین میں صدر مملکت کا عہدہ ایک نمائشی لیکن پروقار تھا لیکن جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومتوں میں ہونے والی ترامیم نے اس رسمی اور نمائشی عہدے کو ملک کے طاقتور عہدے میں تبدیل کردیا۔ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کی وجہ سے انیس سو پچاسی سے انیس سو چھیانوے کوئی منتخب اسمبلی اپنی معیاد مکمل نہیں کرسکی۔ صدر جنرل ضیا الحق نے ترمیم کر کے صدر کے منصب کو طاقتور بنایا تھا جبکہ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرکے اس عہدے کو دوبارہ نمائشی بنادیا تھا۔
پاکستان میں ساٹھ برسوں میں مختلف شخصیت صدر کے منصب پر براجمان ہوئیں۔ انیس سو چھپن کے آئین کے نافذ کے بعد پاکستان میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے۔ نئے آئین کے بعد
جنرل محمد ایوب خان ملک کے دوسرے صدر تھے جو گیارہ سال اس منصب پرفائز رہنے کے بعد صدارت سے الگ ہوئے۔ صدر جنرل ایوب خان نے ستائیس جنوری سنہ انیس سو اٹھاون کو صدر کا عہدہ سنبھالا۔ صدر جنرل ایوب خان کے دور میں نیا دستور بنایاگیا جس کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ صدارتی طرزِ حکومت قائم کردیا گیا۔ انیس سو چونسٹھ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جنرل ایوب خان کا مقابلہ حزب مخالف کی جماعتوں کی امیدوار اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ ہوا تھا۔ ایوب خان منتخب ہوگئے۔ صدر جنرل ایوب خان نے انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت اقتدار سپیکر کو سپرد کرنے کی شِق پر عمل نہیں کیا اور پچیس مارچ انیس سو انہتر کو اقتدار جنرل یحیْ خان کے سپرد کردیا۔ صدر جنرل یحیْ خان نے سقوط ڈھاکہ کے چار روز بعد بیس دسمبر سنہ انیس سواکہتر کو اقتدار چھوڑ دیا اور اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو ملک کے چوتھے صدر بنے۔
ذوالفقار علی بھٹو چودہ اگست انیس سو تہتر کو ملک کا نیا آئین منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم بن گئے اور اپنی جگہ قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری فضل الہیْ کو صدر منتخب کرایا۔ چودھری فضل الہیْ کے عہدے کی معیاد کے دوران اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے پانچ جولائی سنہ انیس سو ستتر کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اور اسی مارشل لاء کے دوران صدر فضل الہیْ سولہ ستمبر سنہ انیس سواٹھتر کو اپنے منصب کی آئینی معیاد مکمل ہونے پر عہدے سے الگ ہوگئے۔ صدر فضل الہیْ چودھری کے منصب سے الگ ہونے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالیا۔ ضیاء الحق ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخاب سے قبل انیس دسمبر سنہ انیس سو چوراسی کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائزہ ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق صدر مملکت کے عہدے پر دس سال اور گیارہ ماہ تک فائز رہے اور اپنی عہدے کے معیاد مکمل ہونے سے قبل سترہ اگست سنہ انیس کو اٹھاسی کو طیارے کی تباہی میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو آئین کے تحت قائم مقام صدر بنادیا گیا۔
انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد غلام اسحاق کو دسمبر اٹھاسی میں ملک کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ صدر غلام اسحاق خان نے اپنے مدمقابل معمر سیاست دان نواب زادہ نصراللہ خان کو شکست دی۔ غلام اسحاق خان نےانیس نوے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرکے نئے انتخابات کرائے اور نوازشریف وزیر اعظم بن گئے۔ غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو برطرف کر کے اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے نواز شریف کو ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان تنازعے کی وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف نے مداخلت کی جس کے بعد غلام اسحاق خان اور نواز شریف اقتدار سے الگ ہوگئے۔غلام اسحاق کی جگہ اس وقت کے چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کو قائم مقام صدر بنایا گیا۔ انیس سو ترانوے میں بے نظیر بھٹو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد سردار فاروق احمد خان لغاری کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور فاروق لغاری حزب مخالف کے امیدوار وسیم سجاد کو شکست دیکر صدر منتخب ہوگئے۔
سنہ انیس سوستانوے میں حکومت اور اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان سید سجاد علیشاہ کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں سردار فاروق لغاری دو دسمبر انیس سو ستانوے کو صدارت کے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے اور وسیم سجاد ایک بار پھر قائم مقام صدر پاکستان بن گئے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) نے سپریم کورٹ کے سابق جج اور سینیٹر رفیق تارڑ کو صدر کے منصب کے لیے نامزد کیا لیکن چیف الیکشن کمشنر جسٹس مختار جونیجو نے رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی ان کے عدلیہ کے بارے میں ’توہین آمیز بیان‘ دینے پر مسترد کردیئے جس سے رفیق تارڑ نااہل ہوگئے۔ رفیق تارڑ نےاس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس پر موجودہ اٹارنی جنرل اور اس وقت کے ہائیکورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم کی سربراہی میں قائم ایک بنچ نے رفیق تارڑ کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی اور نتائج کو عدالتی فیصلے کے ساتھ مشروط قرار دیدیا رفیق تارڑ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے رہنما آفتاب شعبان میرانی کے ساتھ ہوا تاہم رفیق تارڑ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔ بارہ اکتوبر ننانوے کو جنرل پرویز مشرف نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے بعدچیف ایگزیکٹو بن گئے جبکہ صدر رفیق تارڑ بیس جون سنہ دو ہزار ایک تک صدر مملکت رہے۔ جنرل مشرف نے بھارت یاترا سے قبل بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو خود صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ صدر جنرل مشرف تیس اپریل سنہ دوہزار دو کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر بن گئے اور دسمبر سنہ دو ہزار تین میں سترہویں ترمیم کی منظور کے بعد موجودہ اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ صدر مشرف ملک کے پہلے صدر ہیں جو وردی میں صدارتی امیدوار بنے جبکہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب ملک کےدوسرے صدارتی انتخابات ہیں جن کے نتائج عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔ [ Tue 9 Oct 2007 ] [ 1 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
جنرل مشرف کی صدارت میں چلنے والی حکومت پاکستان کا دعوٰی ہے کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں جس تیز رفتاری سے ملک نے اقتصادی ترقی کی ہے اتنی ساٹھ سالوں میں نہیں ہوئی۔
حکومت کے مطابق سن دو ہزار سات کے مالی سال کے پہلے چند ماہ کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح چھ اعشاریہ چھ فیصد رہی اور اس سال گندم اور کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے مگر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پرگرام کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پچھہتر فیصد آْبادی اب بھی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور ایک شخص کی یومیہ آمدنی محض دو ڈالر ہے جو کئی برسوں سے بڑھ نہیں پائی ہے۔ پاکستان کی تیسری نسل سے وابستہ معاشیات کی طالبہ شافعہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں یقینی طور پر بہتری آئی ہے مگر ملک کے اقتصادی وسائل کو مناسب اور مساوی طور پر تقسیم نہ کیے جانے کی وجہ سے اس کا فائدہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کو نہیں ہوا اور اس ترقی کے نتیجے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ آمدنی میں کسی حد تک ضرور اضافہ ہوا ہے مگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گرہستی چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ ایک سرسری اندازے کے مطابق متوسط گھرانے کی ایک خاتون ِخانہ پانچ سے دس ہزار روپےگھر گرہستی پر خرچ کرتی ہے اور وہ اس رقم سے صرف چار افراد پر مشتمل خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکتی ہے۔
معاشیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو اب تک دس ارب ڈالر کی امداد حاصل ہوئی ہے جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا بیشتر حصہ ترقیاتی کاموں پر صرف کیا گیا البتہ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ملک کی ترقی سے مراد ہے کہ ہزاروں دیہات میں سڑک، پانی اور بجلی کی سہولیات میسر کی گئی ہوں مگر پاکستان کے دور دراز علاقے ابھی تک ان سہولیات سے محروم ہیں حتٰی کہ ہزاروں دیہاتوں میں انتظامیہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی موجود نہیں۔ اسلام آباد میں خواتین کے ایک کالج کے پرنسپل پروفیسر نعیم قاسم کہتے ہیں کہ دیہاتوں میں آج بھی غریب خاندان سرداروں، زمینداروں اور وڈیروں کے ہاں کام کاج کر کے گھرگرہستی پال رہے ہیں جس طرح بھارت میں آزادی کے چند برسوں بعد ہی سرداری اور وڈیرہ نظام ختم ہوا پاکستان میں اس کے برعکس یہ نظام مضبوط ہوتا گیا جس کی بعض حکومتوں نے کھل کر حمایت کی۔ پاکستان کے قومی سروے کے مطابق قومی بجٹ کا چار فیصد حصہ ملک کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے جس میں صفر اعشاریہ نو فیصد صحت اور دو اعشاریہ ایک فیصد تعلیم کے شعبے کے لیے مختص ہے جبکہ ملکی دفاع پر بجٹ کا چالیس فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔
پروفیسر نعیم کہتے ہیں’پاکستان کی دو فیصد امیر ترین آبادی گذشتہ ساٹھ برسوں سے ملکی نظام چلا رہی ہے چاہے یہاں فوجی حکومت رہی یا سِول۔اٹھانوے فیصد غریب آبادی جن کی نہ آواز ہے اور نہ حقوق اس دو فیصد کی غلام ہے‘۔ عالمی بنک کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ عوام خطِ غربت سے نیچےگذر بسر کر رہے ہیں اور یومیہ ایک ڈالر سے کم کما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ملک میں سیاسی اداروں کی ناکامی کا اثر معاشی اداروں کے قیام پرگہرا پڑا تاہم پچھلے چند برسوں میں بعض معاشی ادارے نہ صرف مضبوط ہوگئے ہیں بلکہ ان کے استحکام سے ملکی معیشت بھی بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کے شہروں کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ گذشتہ ساٹھ برسوں میں شہری زندگی میں کافی بہتری آئی ہے اور بنیادی سہولیات کسی حد تک میسر بھی ہیں مگر دیہات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاید ابھی یہ تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہیں۔ حکومت نام کی کوئی چیز یہاں موجود نہیں اور عوام بھی حقوق کے حصول کی جنگ لڑتے لڑتے تھک ہارچکے ہیں [ Tue 9 Oct 2007 ] [ 12 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے دن مشرقی پاکستان کا بنگالی، مغربی پاکستان کا پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی، کھوکھراپار اور واہگہ پار کرنے والا مہاجر، سیالکوٹ میں بسنے والا عیسائی، لاہور میں مقیم احمدی اور تھرپارکر کا ہندو ایک آزاد ملک کے برابر کے شہری تھے۔
اس روز کسی مسلمان فرقے نے دوسرے ہم مذہب فرقے کو دائرہ اسلام سے خارج کرکے نہ تو اس سے نکاح حرام قرار دیا اور نہ ہی اسکے جوشیلے ماننے والوں نے دیواروں پر کافر کافر کی چاکنگ کی اور نوآزاد ملک کے طول و عرض میں کسی عبادت گاہ یا مذہبی اجتماع میں کوئی بم بھی نہیں پھٹا۔ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود کسی سیاستداں، زمیندار یا صنعتکار کو چودہ اگست کے دن اپنے تحفظ کے لئے بندوقوں سے مسلح کرائے کے محافظوں کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس دن کسی وزیر یا دستور ساز اسمبلی کے رکن نے اپنے مخالف کو غدارِ پاکستان کے لقب سے بھی نہیں نوازا۔ کوئی صحافی رپورٹنگ کرتے ہوئے کسی سرکاری ادارے، سیاسی و مذہبی تنظیم کے مشتعل کارکنوں یا اپنے ہی اخبار کے مالک کے غیض و غضب کا نشانہ نہیں بنا۔ کسی پریس فوٹوگرافر کا کیمرہ اور سر بھی نہیں ٹوٹا۔ اس دن نئے ملک میں کہیں بھی کسی عورت کو انتقاماً سرِ بازار عریاں بھی نہیں گھمایا گیا۔کسی مفرور ملزم کے اہلِ خانہ کو کسی پولیس تھانے میں دھوپ میں بٹھا کر رسوا بھی نہیں کیا گیا۔کوئی ملزم پولیس کی گرفت سے فرار ہونے کے جواز میں پولیس مقابلے میں بھی نہیں مارا گیا۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے روز خطِ غربت، جعلی ادویات، جعلی کھاد، جعلی سگریٹ اور دو نمبر آدمی کی اصطلاح سے بھی آزاد ملک کا کوئی شہری آشنا نہیں پایا گیا۔ اس روز کسی پاکستانی شہری نے معاشی جبر کے نتیجے میں نیا نیا ملک چھوڑ کر اجنبی سرزمین کا سفر اختیار نہیں کیا۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو امریکی ایف بی آئی کا کوئی ایجنٹ، حکومتِ امریکہ کا کوئی ایلچی یا عالمی مالیاتی اداروں کا کوئی وفد دارلحکومت کراچی نہیں پہنچا۔ اور اس دن پاکستانی مسلح افواج کا صرف ایک دستہ بیرکوں سے باہر تھا اور وہ بھی نئے گورنر جنرل کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے لئے۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس واقعی یومِ آزادی تھا۔ [ Wed 15 Aug 2007 ] [ 7 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
پاکستان کے ساٹھ سال ایک ایسی کشمکش کی داستان ہیں جس میں ایک سطح پر سویلین اور فوجی حکمران اور دوسری سطح پر اعتدال پسند اور مذہبی قوتیں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔
اس کشمکش میں پاکستان نہ تو جمہوریت بن سکا، اور نہ ہی قدامت پسند ریاست یا مستقل فوجی ڈِکٹیرشِپ۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ریاستی اداروں، قانون کی بالادستی اور قومی اتحاد کے عمل کو پہنچا ہے۔ سِول سوسائٹی کے لیے بھی اس کے سنگین نتائج پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان کا مشرقی حصہ، جہاں ملک کی اکثریت بستی تھی، سن 1971 کی خانہ جنگی کے نتیجے میں اب بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ باقی ملک کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ پاکستان کا عدم استحکام شمال مغربی علاقوں میں ’طالبانائزیشن‘ کی شکل میں یا جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں قوم پرستوں کی علیحدگی پسندوں کی نہ ختم ہونے والی تحریک بن کر سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب فرقہ واریت اور قومیت کے تنازعات ملک کے دو بڑے صوبوں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ پنجاب جو کہ غذائی پیداوار کے لیے زرخیز ہے اور سندھ جو کہ تجارت اور صنعت کے لیے اہم ہے عدم استحکام کا شکار ہیں۔ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا؟ سن 1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت دو راستے کھلے تھے۔ پاکستان جمہوریت بن سکتا تھا۔ برطانوی سامراج سے اسے حکمرانی کا تجربہ اور جمہوری ادارے وراثت میں ملے تھے۔ پاکستان خود قومی انتخابات، پارلیمانی قراردادوں اور ریفرنڈم جیسے جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ پاکستان ایک اسلامی امارات بھی بن سکتا تھا۔ تحریکِ پاکستان اس نظریے پر مبنی تھا کہ ہندوستانی مسلمان ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے، لہذا انہیں ایک علیحدہ ریاست کا حق تھا۔ انہیں برطانیہ سے جداگانہ انتخاب کا حق ملا تھا اور 1937 اور 1946 کے انتخابات میں انہوں نے اپنی اسلامی شناخت کو انتخابی نعروں کی حیثیت سے استعمال کیا۔ لیکن اس وقت کے پاکستانی رہنماؤں نے کسی واضح راستے کو منتخب کرنے کے بجائے جمہوریت اور اسلامی امارات دونوں راستوں پر چلنے کی کوشش کی اور غیردانستہ طور پر مذہبی، قانونی اور سیاسی ناکامیوں کی ایک ایسی سیریز شروع کردی جو آج پاکستان کے تشخص کی وجہ بنی ہوئی ہے۔
ان دونوں راستوں کو اپنانے سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بانی پاکستان اور پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح کے دو متنازعہ فیصلوں نے جمہوریت کی بنیادیں بکھیر دیں۔ محمد علی جناح نے ایک حکم نامے کے ذریعے صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت کو برخاست کردیا اور نئے انتخابات کرانے کی بجائے وہاں مسلم لیگ کے ایک رہنما کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔ جبکہ انہوں نے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگالی بولنے والے سامعین سے خطاب میں اردو کو واحد ریاستی زبان قرار دینے کا دوسرا اہم فیصلہ کیا۔ محمد علی جناح کے پہلے فیصلے سے 1953 میں اس وقت کے گورنر جنرل اور سابق بیوروکریٹ غلام محمد کو ملک کی پہلی سویلین حکومت کو برخاست کرنے کا جواز مل گیا۔ تب سے ستائیس برسوں کے دوران ملک کے گورنر جنرلوں، صدور اور فوجی سربراہوں نے دس سویلین حکومتوں کو برخاست کیا جبکہ پاکستان کے تاریخ باقی تینتیس سال براہ راست فوجی حکومت کے سائے میں گزرے ہیں۔ مسٹر جناح کے دوسرے فیصلے کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے بنگالی قومی دھارے سے کٹ گئے اور ساتھ ہی مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو قانونی اور سیاسی داؤ پیچ کے ذریعے بےاثر بناتے رہے۔ سن 1971 میں مشرقی پاکستان کے الگ ہوجانے کے بعد فوجی حکمران بار بار سن 1973 کے آئین کے پارلیمانی اور وفاقی تشخص کو نقصان پہنچاتے رہے جس کے نتیجے میں بقیہ ملک کے تین چھوٹے صوبے بھی بےگانہ ہوگئے۔
ڈِکٹیٹرشِپ کے خلاف قانونی تحفظ کی اس وقت دھجیاں اڑگئیں جب سن 1954 میں سپریم کورٹ نے گورنر جنرل کے ہاتھوں سویلین حکومت کی برخاستگی کو ’نظریۂ ضرورت‘ کے اصول کے تحت جائز قرار دیا۔ نظریۂ ضرورت کا یہ اصول قائم رہا ہے اور لگ بھگ ہر سویلین حکومت کی برخاستگی یا فوجی بغاوت کو اس کے تحت جواز فراہم کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جمہوری اقدار پامال ہوتے گئے۔ دوسری سطح پر دیکھا جائے تو فوجی حکمران کٹھ پتلے سیاستدانوں اور مذہبی انتہاپسندوں کو قومی سکیورٹی پالیسی اور سیاسی لائحۂ عمل کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ اس طرح کے سیاست دان فوجی حکومتوں کو سویلین چہرے فراہم کرتے رہے جبکہ مذہبی انتہاپسند سیکولر حکومتوں کو غیرمستحکم بناتے رہے۔ پاکستان کے اس سفر میں امریکی کردار بھی اہم رہا ہے۔ امریکہ نے اپنی فوجی اور مالی امداد کو جمہوری حکومتوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ پہلی بار بڑے پیمانے پر امریکی غذائی اور فوجی امداد سن 1953 کے اواخر میں پاکستان آنا شروع ہوئی، یعنی پہلی سویلین حکومت کی برخاستگی کے بعد۔ اس طرح کی امداد ایک عشرے تک جاری رہی اور پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکی قیادت میں طے پانے والے مختلف فوجی معاہدوں میں شامل ہوتا رہا۔ لیکن سن 1972 میں ایک سویلین حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کو پاکستان سے مسائل کا سامنا ہونے لگا۔ لیکن امریکہ نے سن 1977 سے پاکستان میں بےتحاشہ پیسہ لگانا شروع کیا جب فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے کو تیار ہوگیا۔
جبکہ 1988 سے 1999 کے دوران بننے والی سویلین حکومتوں کو ایک عشرے تک امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اور پھر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو 1999 سے امریکی امداد دستیاب رہی ہے تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ لڑیں۔ لیکن اب اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ شاید امریکہ جنرل مشرف سے بیزار ہوگیا ہے۔ بالکل اسی طرح جب ہندوستان سے 1965 کی جنگ کے بعد جنرل ایوب خان سوویت یونین کے قریب ہونے لگے تھے اور امریکہ بیزار ہوگیا تھا۔ یا پھر 1987 میں افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی امریکہ جنرل ضیاء الحق سے بیزار ہوگیا تھا۔ پاکستان کے سیاسی افق پر پھر ایک سیاسی طوفان اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جیسا کہ ملک کے سیاسی موسم کا نہ ختم ہونے والا کوئی بھنور ہو۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں جلاوطن رہنما بینظیر بھٹو اور نواز شریف ملک واپسی کی باتیں کر رہے ہیں، بالخصوص اقتدار میں تبدیلی کی خاطر۔ لیکن جنرل مشرف اپنے پیش رو فوجی حکمرانوں کی طرح اپنی فوجی کرسی اور آئین کے تحت اسمبلیاں اور حکومتیں برخواست کرنے کے اپنے خصوصی اختیارات بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہذا پاکستان کی مختصر داستان یہ ہے کہ یہاں بدعنوان حکمران سیکولر جمہوری قوتوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے مذہبی انتہاپسندوں اور غیرملکی حمایت کا سہارا لیتے رہے ہیں اور جب یہ قوتیں زور پکڑتیں ہیں تو حکمران انہیں قانونی داؤ پیچ میں پھنسا کر ان کی ناکامی کو یقنی بناتے رہے ہیں۔ اور پاکستان گزشتہ ساٹھ برسوں سے اسی بھنور کی گرفت میں ہے۔ [ Tue 14 Aug 2007 ] [ 7 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے موسمِ گل میں سرِ شاخِ گلاب شعلہ بھڑکے تو بجا لگتا ہے مسکراتا ہے جو اس عالم میں بخدا مجھے خدا لگتا ہے اتنا مانوس ہوں سناٹے سے کوئی بولے تو برا لگتا ہے ان سے مل کر بھی نہ کافور ہوا درد سے سب سے جدا لگتا ہے نطق کا ساتھ نہیں دیتا ذہن شکر کرتا ہوں گِلہ لگتا ہے اس قدر تند ہے رفتارِ حیات وقت بھی رشتہ بپا لگتا ہے __________________
[ Thu 2 Aug 2007 ] [ 7 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ افراد پھانسی کے منتظر ہیں۔
ایمنسٹی کے مطابق دنیا بھر کی جیلوں میں اس وقت چوبیس ہزار افراد سزائے موت کے منتظر ہیں اور ان میں سے ایک تہائی پاکستان میں ہیں۔ تنظیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قید سزائے موت کے منتظر افراد کی تعداد سات ہزار دو سو سے زائد ہے جن کی اکثریت برے حالات میں پرہجوم جیلوں میں قید ہے۔ رپورٹ کے مطابق’کچھ جگہ پر سزائے موت کے بارہ قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک چار میٹر ضرب تین میٹر کی اس کوٹھری میں بند کیا گیا جو صرف ایک فرد کے لیے بنائی گئی تھی‘۔
رپورٹ پر بات کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے برطانوی چیپٹر کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا تھا’ ضرورت اس بات کی ہے کہ سزائے موت دینے والی حکومتوں خصوصاً پاکستانی صدر جنرل مشرف پر زور ڈالا جائے کہ وہ اس سزا پر فوراً پابندی لگائیں‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا’ہمارے اپنے قوانین ہیں جو برٹش دور سے ہمیں ورثے میں ملے ہیں اور ان کا اطلاق منصفانہ طریقے کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک موت کی سزا کے خاتمے سے سنگین جرائم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے‘۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2006 میں دنیا بھر میں عدالتوں کے ذریعہ سزائے موت سنانے کے واقعات میں کمی آئی تھی لیکن اس سال کے اواخر تک کم از کم انیس ہزار افراد موت کے منتظر تھے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1591 افراد کو پھانسی دی گئی، جن میں سب سے زیادہ تعداد چین میں تھی۔ اٹلی میں جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس چین میں 1051 افراد کو پھانسی دی گئی لیکن خدشہ ہے کہ اصل تعداد سات سے آٹھ ہزار رہی ہوگی‘۔ چین کے بعد 177 کے ساتھ ایران دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان میں 82 لوگوں کو سزائے موت دی گئی جبکہ عراق اور سوڈان میں 65 اور امریکہ میں سزائے موت کے 53 فیصلے کیے گئے۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ حالانکہ دنیا میں سزائے موت کے نظام کو ختم کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔پھر بھی 2006 میں 25 ممالک میں موت کی سزائیں دی گئیں جبکہ 2005 میں 22 ملکوں میں ایسا ہوا۔
براعظم امریکہ میں صرف امریکہ ہی میں سزائے موت کا قانون ہے جبکہ دوسرے تمام ممالک اسے ختم کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق موت کی سزا کے منتظر انیس ہزار سے چوبیس ہزار لوگ جیلوں میں انتہائی برے حالات میں رہ رہے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق’ جاپان میں سزائے موت کے منتظر زیادہ ترلوگوں کی عمر 75 سے 81 سال ہے‘۔ افریقہ میں چار ممالک سزائے موت میں یقین رکھتے ہیں جبکہ یورپ میں صرف ایک ملک بیلا روس میں یہ سزا برقرار ہے۔ [ Wed 1 Aug 2007 ] [ 5 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
باری تعالی : مخدوم و محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صحتِ کاملہ عطا فرما کینسر جیسے موذی مرض کے کراچی میں آپریشن کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اب اسلام آباد میں اپنے گھر میں مسلسل نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے اور ابھی تک مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کی نظر بندی کو آج 1250 دن ہوگئے ہیں۔ یہ پیغام 1250دن سے مسلسل روزنامہ نوائے وقت میں آرہا ہے اور ہماری بے حسی کو مسلسل للکار رہا ہے۔ کیا ہم بے حس ہی رہیں گے [ Wed 1 Aug 2007 ] [ 5 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
Capital of Baltistan is perched 2,438 metres above sea level in the backdrop of the great peaks of the Karakoram mountain range. Baltistan is known as the "Tibet-e-Khurd" or Little Tibet since its life-style reflects that of the roof of the World and Land of Lamas.It borders on the Chinese province of Xinjiang and Indian-occupied Kashmir. Places to Visit Apart from its incomparable cluster of mountain peaks and glaciers Baltistan's five valleys - Shigar, Skardu, Khaplu, Rondu and Kharmang are noted for their luscious peaches, apricots, apples and pears. Shigar valley, 32 kms by jeep from Skardu is the gateway to the mountain peaks of the Karakorams. Skardu has a historic Fort atop a ridge known as the Mindoq-Khar or Castle of Queen Mindoq and three lovely lakes. The two - Kachura Lake 29 kms and Stapra Lake 8 kms from Sakrdu are ideal for fishing. See for some beautiful pictures of Skardu and Satpara Lake. Deosai Plains The Deosai Plains are 32 km south of Skardu. This plateau is the habitat of the greatly threatened Himalayan Brown Bear and many other wild animals. At an average elevation of 3500 metres, Deosai is now a National Park and protected area for wildlife. The rolling grassland here supports no trees or shrubs and the area is snow covered for seven months of the year. Spring comes to Deosai in August when millions of wild flowers begin to bloom all over the lush green grassland. This is a time when Deosai looks like a paradise with a landscape full of wild flowers on green rolling hills and crystal clear water streams with snow covered peaks in the background. An adventure jeep safari will take you right across the beautiful mountain ranges of the Himalayas and the Karakorams Travelling on KKH, you will enjoy the most spectacular scenery on earth. Before reaching Deosai, you will also witness the magical views of Nanga Parbat (8126 m), the ninth highest peak of the world. At Deosai, you first stop will be at Sheosar Lake. This place offers beautiful views of south fact of Nanga Parbat and a panoramic view of Deosai Plains. At Bara Pani, you can spend one day and visit the core of the National Park for Bear watching or you may enjoy fishing in the cold waters or Barwai Stream. From Deosai, you can travel back via Skardu and Gilgit to enjoy the most thrilling drive along the Indus River [ Tue 24 Jul 2007 ] [ 12 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
ہمارے ملک کی موجودہ حکومت نے جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں پانچ سال مکمل کرلئے ہیں اور اب الیکشن کی آمد آمد ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ نئے چہروں اور پرانے چہروں کو نئے انداز سے لانے کے تذکرے بھی ہورہے ہیں۔ حکومتی دعوے ہیں کہ انہوں نے عوام کے بے شمار مسائل حل کردئیے اس میں شک نہیں کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی طرف واقعی توجہ دی گئی ہزاروں افراد کو ملازمتیں بھی ملیں لیکن ترقی کا گراف اتنا بلند نہیں جتنا کہ ہونا چاہئے تھا عوام کو نئی پولیس کا تحفہ بھی مل گیا۔ کچھ سیاسی مسائل ایسے بھی ہیں جنہیں سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی حل نہیں کرسکی۔ یہ سیاسی مسئلہ پچھلے ساٹھ سال ہے التواء میں پڑا ہوا ہے ہر حکومت گلگت اور بلتستان کے لاکھوں افراد کو یہ خوش خبری ضرور دیتی ہے کہ ان کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ اس مسئلے کی بھی کچھ کڑیاں مسئلہ کشمیر کے ساتھ متعلق ہیں اور شاید یہ کہا جاتا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا گلگت اور بلتستان کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔گلگت اور بلتستان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ بلتستان میں چھٹی صدی میں پولولو سلطنت قائم تھی اور یہ حکومت737 تک قائم رہی۔ گلگت پر سکھوں، انگریزوں اور ڈوگروں کا قصبہ بھی رہا ہے اور مقامی حکمران بھی یہاں پر حکومت کرتے رہے۔ بلتستان پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم 14اگست 1948ء کو قیام پاکستان کے پورے ایک سال بعد لہرایا گیا کیونکہ اس سے پہلے وہاں پر گورنر گھنسارا سنگھ کا قبضہ تھا۔پاکستان کے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ سردار محمد عالم خان نے گلگت کا انتظام و انصرام سنبھالا تھا جس کے بعد یہاں پر حکومت پاکستان کا مکمل کنٹرول ہوا اگرچہ آج بھی بعض لوگ گلگت اوربلتستان کو متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ انیسویں صدی میں گلگت، بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہے ہیں اور یہاں پر ڈوگروں نے حکومت کی تھی اگر اس دلیل کو مانا لیا جائے تو اس طرح دنیا کے بے شمار خطے ایسے ہیں جہاں پر مختلف قوموں نے حکومت کی ہے اور بعض علاقوں پر جبراً غیر ملکیوں نے حکومت کی ہے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ علاقے ان کے ہوگئے اور مقامی لوگ جو صدیوں سے اس خطے کے رہنے والے ہیں ان کا اس علاقے پر کوئی حق نہیں رہا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ گلگت، بلتستان اور اس کے ارد گرد کے ہزاروں لوگ الحاق پاکستان کی دہائی دے رہے ہوں اور اس کے لئے قربانیاں بھی دے چکے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو آئینی اور سیاسی حقوق نہ دئیے جائیں۔ پاکستان کے ارباب اختیار نے اپنے موہوم تجزیوں کی بنیاد پر گلگت ، بلتستان کے مطالبے کو کبھی بھی پذیرائی نہیں بخشی حالانکہ شمالی علاقہ جات کے عوام نے خود جنگ آزادی لڑ کر اس سرزمین کو آزاد کرایا اور پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کیا مگر پاکستان میں آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھی ان علاقوں کو ان کے آئینی و بنیادی حقوق نہ دئیے اور انہیں حق حکومت سے محروم رکھا۔ دوسری طرف قبائلی علاقوں کے وہ شہری جو اپنے آپ کو علاقہ غیر اور آزاد علاقہ خیال کرتے ہیں اور پاکستان کی فوج کو کئی مرتبہ وہاں پر آپریشن کرنے پڑے ان کو خصوصی مراعات اور نمائندگی دی جاتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں کئی ایسے کام بھی کئے ہیں جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھے چنانچہ انہیں گلگت اور بلتستان کے عوام کی خواہشات کا احتر ام کرتے ہوئے اس مسئلے کا فوری حل کرنا چاہئے۔ڈوگروں کی آمد بھی بلتستان میں ایک بلتسی شہزادے کی بغاوت پر فوجی جارحیت کے انداز میں ہوئی تھی لہٰذا فوجی جارحیت کو بنیاد بنا کر اس خطے کو کشمیر کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا اگر ہم گلگت اور بلتستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس خطے کے لوگوں نے بڑی طویل آزادی کی جنگ لڑی ہے اور جب یہ علاقے پاکستان کی تحویل میں آئے تو یہاں کے لوگوں نے جشن منایا۔ لیفٹیننٹ کرنل سکندر خان بلوچ اپنی کتاب"The Wonder land of Asia Gilgit and Baltistan"میں لکھتے ہیں کہ In the morning Gilgit was declared an independent state designated as the "Independent Republic of Gilgit" the Dogra flag was lowered from the Agency house, never to be raised again and the Pakistan flag amidt cheers shouts and dances was hoisted cere moniously the honour of housting the flag went to Subedar Major Muhammad Babar Khan. The spirit of this movement. It was a moving scene, people were becoming hysteric with happiness the old faces were wet with tears, the tears of happiness. Mosques were crowded and special prayers were offored every where in the valley. 7دسمبر1947 ء کو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے شمالی علاقوں کے پاکستان سے الحاق کی دستاویز کو قبول کرکے ان علاقوں کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرلیا تھا۔سابق صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اور ان کے بعد آنے والے کئی حکمرانوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ گلگت اور بلتستان متنازعہ خطہ نہیں بلکہ پاکستان کا آئینی و قانونی حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اپنے مارشل لاء کے دور میں گلگت اوربلتستان کو مارشل لاء زون ای قرار دیا تھا۔1958ء میں صدر ایوب خاں مرحوم نے جب ملک میں دیہات سدھار کے نام سے پروگرام کا آغاز کیا تھا تو اس کا دائرہ گلگت و بلتستان تک بڑھا دیا تھا۔ صدر یحییٰ خان نے1970ء میں پہلی مرتبہ شمالی علاقوں کی مشاورتی کونسل تشکیل دی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے 13نومبر1973ء کو کابینہ کے اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ گلگت و بلتستان پاکستان کا لازمی حصہ ہیں۔بینظیر بھٹو اور نواز شرف نے بھی اپنے دور اقتدار میں ان علاقوں کے لوگوں کو حقوق دینے کیلئے اپنے اپنے انداز میں کام کیا۔2005 ء میں مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے بیٹے اور راج سبھا کے رکن ڈاکٹرکرن سنگھ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت تسلیم کرلیں کہ گلگت ، بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں چنانچہ اب موجودہ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گلگت ، بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی حقوق دے اور پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی دے۔ [ Wed 11 Jul 2007 ] [ 8 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
[ Wed 11 Jul 2007 ] [ 9 AM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
جنرل پرويز مشرف (ولادت: 11 اگست 1943ء، دہلي) پاکستان کے موجودہ فوجي صدر ہيں جنہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کو وزير اعظم نواز شريف کو معزول کر ديا اور پھر 20 جون 2001ء کو ايک صدارتي ريفرينڈم کے ذريعے صدر کا عہدہ اختيار کيا? خانداني پسِ منظر تعليم فوجي تربيت فوجي دور سياسي دور ريفرينڈم 2002 اکتوبر 2002 عام انتخابات [ Mon 25 Jun 2007 ] [ 6 PM ] [ محمد نظیر عرفانی ]
| | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| فالب وبلاگ : dailyshia | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||