X
تبلیغات
شیـعیان هیــــــــــــمالیـــــــــــــا
شیـعیان هیــــــــــــمالیـــــــــــــا
 
غا سید عبدالحسین بڈگامی
ہندوستان کا کہنا کہ آزادی سے کمتر کشمیری سب کچھ مانگ سکتے ہیں، ہندوستان کی طرف سےایک مدبرانہ سلیقہ اختیار کرنے  کی نشاندہی کررہا ہے  لیکن یہاں قیادت کے صفوں میں کھڑے ہونے والے حضرات نے اپنی سنت بنائی ہے کہ اپنے حریف کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جائیں  چاہے وہ ہندوستان الحاقی سیاستمدار ہوں  یا پاکستان الحاقی سیاستمدار ،یا اعتدال الحاق سیاستمدار ہوں یا الحاق مخالف سیاستمدار سب کے سب ایک ہی سلیقہ کو ظاہر ا ایک سیاسی اصول کے طور پر سیاست کررہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی سادہ اور آسان مسئلہ  ، مسئلہ کشمیر بن کر رہ گیا ہے۔

          میں نے گرچہ علوم سیاسی بھی پڑھی ہے لیکن اصل میں اسلامیات کا طالب علم ہوں اور میری کوشش یہی رہتی ہے کہ کسی بھی موضوع کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سیکھوں  اور سمجھوں۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں جس قدر بھی غور فکر کرتا ہوں اسے صرف ایک  قانونی انسانی مسئلہ پاتا ہوں نہ کہ کوئی اسلامی یا مذھبی مسئلہ ۔ مسئلہ کشمیر کو ایک اسلامی مسئلہ یا مسلمانوں کا مسئلہ عنوان کرنے کے بدلے اسےصرف ایک قانونی انسانی مسئلہ قرار دینے سے میری مراد یہ ہے کہ کشمیر کو مذھبی رنگ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ مذھبی رنگ دینے سے اس مسئلہ  کو حل کرنے کے لئے نہ  آسانی ہوتی ہے نہ ہی پیچیدگیاں بڑتی ہے  بلکہ مذھبی رنگ اسکا طبیعی رنگ ہے ۔ کیونکہ یہ پیرء وار ہے ۔ کشمیر میں جس کسی مذھب کے ماننے والوں کی اکثریت ہوتی مسئلے کو اسی مذھب کا نام دیا جاسکتا تھا ۔ ہندو ہوتے ہندوں کا مسئلہ کہلاتا ، سیکھ ہوتے سیکھوں کا مسئلہ کہلاتا، بودھ ہوتے ، بودھوں کا مسئلہ کہلاتا ۔ ۔ ۔ ۔ اب چونکہ یہاں اکثریت مسلمانوں کی  ہے اس لئے اسے ایک اسلامی اور مسلمانوں کا مسئلہ عنوان کرنا  نہ شدت پسندی ہے نہ ہی انتہا پسندی بلکہ عقلی اور منطقی عنوان ہے ۔

آپ مسئلہ کشمیر پر غور کریں جو کہ ایک عقد کے سوا کچھ نہیں اور آپ  اسے ایک نکاح سے تعبیر کریں ، اور نکاح کو اپنے اپنے سلیقے کے ساتھ کسی بھی مذھب کے آداب و رسوم  کے ذاویے سے پرکھ لیں کہ ہندوستان کا کشمیر کے ساتھ عقد کے علاوہ  کوئی اور عنوان دیا جاسکتا ہے جسے سیاسی لوگ الحاق کہتے ہیں اورمیں اسے عقد کہتا ہوں ،کیا آپ کو ان  دو لفظوں میں کوئی فرق نظر آتا ہے؟۔اگر فرق نظر نہیں آتا تو اس غیر قانونی اور ناجائز عقد اور اس شادی کے بارے  انصاف دیں ، اور بتائيں کہ کون سا مذھب کون سی عقل  اس شادی کو قانونی اور جائز شادی قرار دیتا ہے ۔ ایک آزاد گھر میں  ایک کنواری لڑکی اس گھر کی مالکن بن بیٹھی ہے جبکہ سب گھر والے اسکے گھر کی مالکن بننے سے راضی نہیں ہیں اور اس پر اعتراض کا اظہار کرنے پر تلے ہوئے ہیں  ۔اسی دوراں ایک ہمسایہ اس کے گھر پر حملہ کرتا ہے اور وہ لڑکی چلا کر دوسرے ہمسایہ سے کہتی ہے کہ مجھے پناہ دو، اور  ہمسایہ پناہ دیتا ہے ۔اس حالت میں اس لڑکی کا پناہ مانگنا کس عقلی یا مذھبی دلیل سے جائز عقد اور شادی ،قبول کیا جائے ۔

 کشمیر کا مہاراجہ خود سرانہ کشمیر کے تاج و تخت کا مالک بن بیٹھا تھا اور لوگ اس سے تاج و تخت چھیننے کے لئے کمر بستہ ہوئے تھے ، اس بیچ پاکستان کی طرف سے قبائلوں نے حملہ کیا مہاراجہ نے ہندوستان سے پناہ مانگی ، ہندوستان نے پناہ دے کے اسے بعد میں الحاق کا نام دیا ! کیا یہ عقد الحاق جائز ہے؟۔

معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر نہ تکمیل پاکستان کا مسئلہ ہے نہ ہی ہندوستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے بلکہ عقد کا معاملہ ہےمتنازعہ عقد نکاح بن چکا ہے اور صرف عقد نکاح کا جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں انصاف دینا ہے ۔اگر ہندوستان کا ماننا ہے کہ کشمیر کے ساتھ کیا ہوا  عقد  الحاق جائز ہے تو کوئی انصاف دےیہ  ہندوستان کی کون سی مردانگی ہوئی کہ جس سے کشمیر کے ساتھ بقول اسکے عقد الحاق  کیا ہے ،۔ اسے بسانے کا کونسا رویہ اپنایا ہے ۔کبھی اسکے بال نوچ دیتا ہے  اور کبھی ہاتھ توڑتا ہے کبھی پاؤں توڑتا ہے ، بار بار آنکھیں دکھاتا ہے ، بات بات پر تمانچہ مارتا ہے اور جب اس(کشمیر) کے بدن کے کسی بھی عضو سے  آہ  نکلے تو اس عضو کو ناکارہ بنانے پر اتر آتا ہے  شکنجے کرتا ہے وغیرہ ۔۔۔۔ اس  پردنیابھر میں  ڈنڈورا پیٹتا پھرتا رہتا ہےکہ میری جان کشمیر ، میرا تاج کشمیر  میری ملکہ کشمیر  وغیرہ ۔ ۔ ۔ کیا ایسا کرنا  دوہرا معیار نہیں ہے ؟ظلم اور ناانصافی نہیں ہے؟ ۔تو پھر آپ سب ہمارے ساتھ ہمصدا کیوں نہیں ہوتے۔  تو کیا آب بھی ظالم کا ساتھ دے کر ظالم بننا پسند کرتے ہیں ۔

ہندوستان کا اب کہنا کہ آزادی سے کم کشمیر کچھ بھی مانگ سکتا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کہنا چاہتا ہے کہ ہم  کشمیری عقد الحاق کو جائز مان لیں اور ہندوستان سے طلاق کا تقاضا نہ کریں ۔ٹھیک  ہے یہ ایک مدبرانہ عمل ہے۔ اب اگر ہندوستان اپنے ظالمانہ  اور دوہری معیار کو چھوڑ کر ایک مثالی شوہر بننے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے اپنے آپ کو ثابت کرنا ہوگا ۔ جو جو وعدہ کشمیر کے ساتھ کیا ہے اس پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ کشمیر کا خصوصی مقام ہندوستان کے داخلی اور خارجی امور میں تسلیم کرکے عملانا ہوگا ۔ یعنی خارجی امور میں اپنی ہر سفارت میں کشمیر  کے لئے کشمیرکونسل قائم کرنا اور کشمیر میں ہر ملک کا کونسل خانہ قائم کرنے کی اجازت دینا شامل ہو ۔ ہندوستان  اپنے  دفاع اور موصلات جیسے حساس معاملات کو چھوڑ کر کشمیر کو دنیا بھر کے ساتھ دو طرفہ  روابط قائم کرنے کا  قانون بناکر لاگو کرے ،تب جاکر ہندوستان پر کشمیری عوام دلی طور پر اعتماد کرنے کے لئے آمادہ ہوسکتی ہے ۔ نہیں تو  ہندوستان کی طرف سے کشمیر کے نسبت  دیرینہ ظالمانہ سیاست   کے بدولت ہندوستان  اسقدر بکھر جائے گا کہ پھر ہندوستان کی جغرافیائی عظمت تاریخ کی کتابوں میں ایک عبرت کے  عنوان سے تدریس کی جائے گی ۔ایسا نہ ہو کہ  ہندوستان کے لئے ایک ایسا دن آجائے جس دن ہندوستان کشمیر کو آزادی کی پیش کرنے کے بجائے پورے ہندوستان کو ہی کشمیر  کے نام سے چلانے کی دعوت دے اور پھر بھی کچھ حاصل ہو سکے ۔ کیونکہ مظلوم کی آہ میں اثر ہے ۔

اللہ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ ہم سب کو انسانی شکل میں ہر درندہ ظالم کو سمجھنے اور اس کے خلاف نبرد آزما ہونے کی توفیق عطا فرمائے  اور مظلوموں ناصر و مددگار قرار دے۔ آمین ۔


نوشته شده در تاريخ Fri 24 Jun 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
توجه: بنده خودم با سخنان آصف زرداری موافقم (نظیر عرفانی)

ہر مہذب معاشرے کی ایک پہچان ہوتی ہے،شائستگی اور برد باری جس معاشرے کی اُٹھان میں ہو وہ ہی معاشرے دنیا میں زندہ قومو ں کی علامت بنتے ہیں۔معاشرتی پہچان کے بغیر کسی معاشرے کی اقدار کا اندازہ لگانا ہر ایک کے لئے نہایت ہی مشکل امر ہوتا ہے۔ بازار ی معاشروں میں امراءو فقراءپھکڑ پن کا مظاہرہ زبان و بیان سے کر رہے ہوتے ہیں ۔جہاں سے تہذیب و تمدن کا گذر تک نہیںہوا ہوتا ہے۔ایسے معاشرو ں کو دنیا کے لوگ نفرت و حقارت سے دیکھتے اور ان سے تعلق پید کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ہر گھر کی شناخت اُس کے بڑے یا بزرگ ہوا کر تے ہیں۔ اسی طرح ہر ملک کی شناخت اس کے سربراہ مملکت یا وزیر اعظم اور وزرءسے کی جاسکتی ہے۔ان کے رویوں سے ہی مملکتیں ان مما لک سے اپنے تعلقات استور یا ختم کرتی ہیں۔


  کسی ملک کا سربراہ ِمملکت اُس کی تہذیب و شائستگی کا عکاس ہوتا ہے۔ساری دنیا اس کے کہے ہوے الفاظ کو اہمیت دیتی ہے۔اگر وہ سنجیدہ اور پُر وقار ہے تو قوم کا وقار ویسے ہی بلند ہوجاتا ہے۔اگر وہ سنجیدگی کا پیکر نہ ہو تو ہر جانب سے سوالیہ نظریں اُس کا تعاقب کر رہی ہو تی ہیں۔اور شرمندگی اُس کی قوم کا مقدر ٹہرتی ہے۔ماضی میں پاکستان کی تاریخ کے جتنے بھی صدور آئے اُن سب کا ایک وقار تھا۔چاہے وہ قائد اعظم گورنر جنرل کے روپ میں ہوں یا وہ رفیق تارڑہوں سب میں ایک قسم کی بزرگی اور وقار نمایاں نظر آتا تھا۔

  ہم بھی ایک صدر اور ایک وزیر اعظم رکھتے ہیں۔جن کی زبان کی شائستگی سے کون واقف نہیںہے ؟ایک زمانہ ہوا کرتا تھا کہ عوام صدر کی شکل یا خطاب سالوں میں دیکھتے اور سُنتے تھے، جو نہایت ہی پر وقار ہوا کرتا تھا۔ جس پر فخر کرنے کو دل چاہتا تھا۔جب صدر خطاب فرما تے تھے تو نپے تُلے لہجے اور شائستہ الفاظ میں نہایت ہی دھیمے انداز میں ہوتا تھا۔جس کو سن کر لگتا تھا کہ کوئی بڑا اپنے بڑے پن کا اظہار کر رہا ہے آج ہم روزانہ کی بنیاد پر بھی صدرِ مملکت کے خطابات ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔جن میں بڑے پن کے علاوہ سبھی کچھ موجود ہوتا ہے۔کئی لوگ تو اس پر وقار خطاب کو سن کر سر پیٹتے اور اپنی قسمت کو کوستے دکھائی دیتے ہیں۔ہمارے صدر اور وزیر اعظم ایسی پُر مغز تقاریر کرتے ہیں کہ سننے والا سنتا ہی رہ جائے مگر پلے اُس کے کچھ بھی نہ پڑتا ہو،سوائے اتہام طرازی اور پگ پائی کے۔وہ کہیں اورسُنا کرے کوئی!!!

  آج ہم صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی اُس تقریر پر تبصرہ کرنے کی جراءت کر رہے ہیں جس میںجواب آں غزل کے مصدا ق مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی کشمیر کے ضلع بھمبر میں 20جون2011کو کی گئی تقریرجس میں انہوں نے صدر زرداری کے کرپشن کو ہائی لائٹ کیا تھا۔ نواز شریف کی اس تقریر سے پوری پیپلز پارٹی کی قیادت بھونچال کا شکار ہوگئی تھی۔اور صدر زرداری نے طیش میں آکر بے نظیر کی سالگراہ کا فائدہ اٹھاتے ہوے نواز شریف کے وہ بخیے ادھیڑے کہ وہ بھی قیامت تک یاد رکھیں کہ کسی بھٹو زرداری سے ان کا واسطہ پڑا تھا۔اس خطاب میں بے نظیر کے تذکرے کے علاوہ ہر وہ بات کی جو صدرِ مملکت کے شایانِ شان ہر گز نہ تھی۔ جو زبان وبیان، اخلاقیات کی انتہائی نچلی سطح پر دیکھنے میں آئی۔جناب زرداری اس موقع پر نچلے درجے کا عوامی لہجہ اپنا کرآپ اپنے قد کاٹھ میں اضافہ نہیں کر رہے تھے۔دانشوروں نے کیا ایک عام پاکستانی نے اس خطاب کو استعجاب اور حیرت کےساتھ سُنا!!!ًاور سب دانتوں اُنگلیاں دے گئے۔پیپلز پارٹی میں بھی شائد بعض لیارائڈ تو خوش ہوے ہوں مگر عام پیپلا بھی حیرت کی تصویر بنا ہوا محسوس ہوا کہ یہ صدر کا خطاب ہے یا؟؟؟

  صدر آصف علی زرداری نے بڑے غصے اور ڈانٹ ڈپٹ والے لہجے میں نواز شریف کو لتاڑنے کی کوشش کی۔انہوں نے جگہ جگہ نواز شریف کے لئے حقارت کے انداز میں مولوی کا لفظ استعمال کر کے علماءکرام سے ایک جانب نفرت کا اظہار کیا تو دوسری جانب نواز شریف کو ہدفِ تنقید بنایا۔وہ کہتے ہیں کہ ”میرے خلاف تمام مقدمات نواز شریف نے بنائے تھے“ان کریمنل مقدمات کی وجہ سے صدر زرداری کو گیارہ سال جیلوں کی ہوا کھانی پرٰی تھی جن میں کوئی ایک مقدمہ بھی سیاسی نہ تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی اداکاروں کا ایک دن خاتمہ ہو جائے گا۔صدر زرداری بار بار اداکاری کا ذکر کر کے ماضی میں اپنی نام کام فلمی اداکاری کا غالباََ نوحہ دہراتے ہیں۔کیونکہ انہیں کسی پروڈیوسر یا ہدایت کار نے ہیرو بنانے پر آمادگی ظاہر نہیں کی تھی جس کا انہیں آج تک قلق ہے۔اس کے بعد میڈیا پر صدر برسے اور فرمایا کہ وہ دن جلد آئے گا جب چینلز پر ادا کار نہیں بلکہ دانشور بیٹھیں گے۔آپ کے دانشور تو آج بھی سرکاری چینلز پر بیٹھے ہیں مگر انہیں کوئی سُنتاہی نہیں ہےتو اس میں قصور میڈیا اینکرز کا تو نہیں ہے۔ایک بہت اہم بات صدرمملکت نے نواز شریف سے کہی کہ” نواز شریف مجھے استاد بنالیں بہت کچھ سکھا دوں گا“ یہ تو سب ہی کو معلوم آپ لوٹ مار دھوکہ فریب اور کرپٹ ڈیل کے بڑے ماہر استاد ہیں۔جو اپنے فن کے میدان کے اچھے اساتذہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں آپ کی شاگردی میں نواز شریف کا آجانا فی زمانہ ماحول میںمہنگا سودا نہیں ہوگا!!! صدر نے یہ بھی کہا کہ لندن اور ہندوستان میں بجلی جاتی ہے تو وہاں کا میڈیا نہیں دکھاتا؟؟؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوامی مسائل سے وہ بھی ہماری طرح بے خبر ہیں؟صدر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ وہاں بارہ پندرہ گھنٹے کےلئے بجلی نہیں جاتی ہے اور وہاں کرائے کے بجلی گھر ہیں نہ صدر کی بہن ان بجلی گھروں میں حصہ دار ہے!!!میڈیا اگر عوامی مسائل نہیں دکھائے گا تو آپ کے دانشور ہی میڈیا پر لعن طعن شروع کر دیں گے۔صدر مملکت کہتے ہیں کہ مولوی نواز شریف آپ جنرلوں سے نفرت اور سپاہیوں سے محبت کرتے ہیں!!!جناؓب ِصدرآپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے توہمیشہ ہی جنرلوں کی مخالفت کی ہے۔بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اب آپ کا ٹولہ جنرلز کی حمایت کی بین کیوں بجا رہا ہے؟ شائد اس لئے کہ گرتی ہوئی دیواروں کو ان جنرلوں نے ہی سہارے دیئے ہیں!!! صدرفرمائیں کہ کیا سپاہیوں میں روح،جسم اور جان نہیں ہوتی ہے؟ مگر یہ حقیقت ہے ہمارا سپاہی کرپٹ نہیں ہے ۔ جس کو سلیوٹ کیا جانا چاہئےجبکہ ہمارے بعض جنرلز کرپٹ ہیں۔کرپٹ لوگوں سے نفرت کا ہر ایک کو حق صاصل ہے۔ہمارا سپاہی صرف جان دینے کے لئے ہے جبکہ ہمارا جنرل دفاع کے بر عکس ہر بزنس اور کاروبار میںہی دکھائی دے رہا ہے۔

  لگتا یوں ہے کہ بعض جنرلوں نے بہت پہلے سے صدر کی شاگردی قبول کی ہوئی ہے۔آج ایسادکھائی دیتا ہے کہ بعض جنرل وطن کے بجائے خالص حکمرانوں کے وفادار بنتے جا رہے ہیں۔جیسا کہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ آپ کی حکومت کی گرتی ہوئی دیواروں کو بعض جنرلز نے سہارا دے کر سنبھالا ہے۔ورنہ بجٹ سیشن میں ہی آپ کی حکومت کا کام تما م ہوگیا ہوتا۔نواز شریف کو دھمکی آمیز لہجے میں بتایا گیا کہ ”اگر میں نے لیاری کو کہہ دیا ہوتا کہ ضیاءالحق کی باقیات آئی ہے انہیں جانے نہیں دینا تو آپ کا کیا حال ہوتا؟؟؟گویا زرداری چاہتے تو نواز شریف کو لیارائڈ کے ہاتھوں ملکِ عدم بھیج دیتےبڑی معذرت کے ساتھ یہ لہجہ صدر مملکت کا سا نہیں ہے جناب۔مائنڈ یور لینگوج سر!!!صدر صاحب کم ازکم اپنے عہدے کا ہی پاس کر لیتے کسی قومی رہنما کے منہ سے ایسی باتیں شوبھا نہیں دیتی ہیں۔دولت کے معاملے میں صدر زرداری نے زور دے کر کہا ہے کہ ”اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ تمہاری دولت کہاں ہے۔دولت تو ہاتھ کا میل ہے تم اس دولت کی خاطراس ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہو؟؟؟یہ بھی ہر پاکستانی کو علم ہے کہ دولت کے لئے کون پا کستان تباہ کرنا چاہتا ہے؟صدر زرداری نے نہایت ہی غصے میںکہا کہ ”پاکستان کو اس سوچ سے خطرہ ہے۔جس کی مولوی صاحب پیداوار ہیں۔اس ضمن ایک مشہور پاکستانی دانشور عطاالحق قاسمی نے کیا خوب تحریر کیا ہے کہ” انہوں نے میاں صاحب کو مولوی قرار دے کر کہیں ان پر پھبتی نہ کسی ہوکیونکہ مے نوشوں کے حلقے میں اُس شخص کو مولوی کہا جاتا ہے جو مے نوش نہ ہو ڈانس نہ کرتا ہو ۔حسینوں کے جھر مٹ میں نہ رہتا ہو۔جس نے ایک پورا حرم آباد نہ کیا ۔جو موسیقی کی لہروں پر نرم و نازک بازووں میں جھومتا نہ ہو“ جو در حقیقت جیالوں کا تو مزاج ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو تو نہیں ہاں صدر صاحب کو اس سوچ سے زبردست خطرہ ہے کہ یہ لوگ میڈیا پر آآ کر کہتے ہیں کہ پاکستان کی لوٹی گئی دولت واپس پاکستان لاﺅ۔جو بقول ان کا باپ بھی واپس نہیں لا سکتا ہے!!صدر زرداری کی یہ بات بھی معنی خیز ہے جس میں ان کا ارشاد ہے کہ ”نواز شریف کے دل میں ذرا بھی پاکستان کی محبت ہوتی تو وہ پاکستان سے نہیں جاتے ہمیں بھی باہر جانے کا راستہ دیا جا رہا تھامگر ہم نے نہیں لیا؟؟؟صدر فرمائیں اسی دوران ان کی لیڈر بے نظیر کے پاس پاکستان سے خودساختہ جلا وطنی کے انداز میں پاکستان سے فِلی کا کیا جوز تھا؟آپ کی لیڈر تو خود عوام کو فوجیوں کے رحم و کرم پر چھوڑبیرونی دنیا میں اپنی لائف انجوائے کر رہی تھی۔

   صدر کہتے ہیں کہ ”نواز شریف اگر بوٹوں کو ساتھ ملا لیں تو وہ صحیح ہے اگر ہم ان کے ساتھ قانونی معاہدہ کر یں اور انہیں بطور پارٹی قبول کرلیںتو کہتے ہیں کہ آپ نے ایسے بندے لے لئے ہیںاگر میں نے یہ قدم اٹھایا ہے تو آپ نے مجبور کیاہماری وجہ سے آپ زمینی خدا بنے ہوے تھے۔آپ نے ہمیں دھتکار دیا (تو ہم نے اُن کا ساتھ پکڑا)صدر صاحب ’جو چاہیں سو آپ کریں ہمکو عبث بد نام کیا ‘ میڈیا ور صحافیوں پر برسنا چھوڑ کر اپنی سیٹ کا خیال کریں کہ یہ آپ سے کیا تقاضہ کر رہی ہے۔

 ” آپ ہی اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی!! جنابِ صدرآپ سے نہایت معدبانہ گذارش ہے کہ اس قوم کو مزید ذلیل نہ ہونے دیں ادب و احترام کا رشتہ بر قرار رہنا چاہئے۔آپ کا عہدہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ بازری زبان استعمال کریں ۔اس سے ناصرف آپ کی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے بلکہ ہمارا قومی کردار بھی نکھر کر دنیا کے سامنے آجاتا ہے۔

  شبیر احمد خورشید


نوشته شده در تاريخ Fri 24 Jun 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
ماہرین نفسیات کا قصہ مختلف ہے' مگر جب عام آدمی کسی شخص کا نفسیاتی مطالعہ کرتا ہے تو پس منظر میں اپنے حالات اور ماضی کی فلم بھی دماغ کے پردۂ سیمیں پر تیرتی رہتی ہے۔نفسیاتی حوالوں سے پیچیدہ افراد' سادہ لوگوں کا تجزیہ کرتے ہوئے بھی ان میں ایسی پیچیدگیاں تلاش کرتے رہتے ہیں کہ اگر اس شخص کو بتادیا جائے جس کے بارے میں تجزیہ کیا جارہا ہے تو وہ خود دنگ رہ جائے۔ اس لیے کسی بھی طور پر عام آدمی کے نفسیاتی تجزیوں کو اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔ لیکن شاعر' مصور اور تخلیق کار کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ وہ انہی نفسیاتی پیچیدگیوں کو ملحوظ رکھ کر دوسرے لوگوں کے نفسیاتی مسائل کو فنی شاہ پاروں میں تبدیل کرتا ہے۔یہ نفسیاتی پیچیدگی عام لوگوں کے لیے مرض لیکن تخلیق کار کے لیے لازوال خزانہ ہوتی ہے۔
 اُردو د ان طبقہ بجا طور پر غالب کو اُردو غزل کا سب سے بڑا شاعر تسلیم کرتا ہے ۔ غالب نفسیاتی لحاظ سے پیچیدہ تھے مگر یہ نفسیاتی پیچیدگی مرض نہیں تخلیق کا گنجینہ ثابت ہوئی۔ غالب کی غزلیںاس کی اپنی نفسیاتی زندگی کی تصویریں ہیں۔شاید اسی نفسیاتی پیچیدگی ہی نے غالب میں مشکل پسندی کوٹ کوٹ کر بھردی' شعر کا نفس مضمون ہو یا تراکیب و تماثیل' اسلوب ہو یابحروں کا چنائو' غالب مشکل پسندی کو آسانی سے برتنا جانتے تھے۔ علم نفسیات کی روشنی میں غالب کے کلام کا جائزہ یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ ان میں نرگسیت کاواضح رجحان تھا۔ اس نرگسیت نے جہاں ان کے شعروں میںتعلی بھردی  وہاں  عشق کی جہت میں بھی ایک اضافہ ہو گیا۔روایتی غزل کے برعکس غالب کے شعروں میں جلوہ گر عاشق انا پسندہے۔غالبا اُلفتِ ذات اور جبّ تفوق کی چاہ نے غالب میں مشکل پسندی کے خدوخال اُبھارے کہ اس طرح وہ اپنی علمیت' عظمت اور برتری کا خود بھی احساس کرتا اور دنیا کو بھی احساس کراتا۔
ابتدائے شاعری میں ہی مشکل پسندی اور شعور ولا شعور میں پیدا ہوتے پیچیدہ سوالات سے شعروں کی تخلیق اور فارسی الفاظ و تراکیب کا محابا استعمال کی وجہ سے غالب اپنی علمیت اور برتری کا سکہ جمانے کی کوشش میں منہمک نظر آتے ہیں۔ بیدل کے رنگ میں شعر کو مشکل الفاظ و مضامین سے مزین کرنے والے غالب معتقدِ میر بنے تو سادگی اور سہل پسندی کی حدوں کو چھونے لگے۔ ایک وقت میں غالب کہتے تھے کہ ان کا اصل کلام تو فارسی میں ہے' اُردو میں تو میں نے ''فضول کلام'' لکھا ہے' مگر جب اُردو غزل میں ان کے نام کا ڈنکا ہر سو بجنے لگا تو غالب کو فارسی مشکل پسندی سے میر کی سادگی کی طرف مراجعت کرنا پڑی۔ اس مراجعت نے اُردو غزل کو اُردو کا سب سے بڑا شاعر عطا کردیا۔اس دور میں کہ جب ذوق کی محاورہ بندی اور نصیر کی سنگلاخ زمینوں کا چرچا تھا، غالب مشکل گوئی سے سادہ گوئی کی طرف پلٹ آئے۔ یہ امر بذات خود نرگسی انا کا اظہار ہے کہ اُلفتِ ذات کا مبتلا فنکار زمانے کی روش سے ہٹ کر چلنے کا ہی قائل ہوتا ہے۔ مگر رمز کا مارا دل مشکل گوئی ترک کرنے کے باوجود رمزیت کے ماحول کو الوداع نہ کہہ سکا۔ آل احمد سرور کا یہ تجزیہ کیسا حسبِ حال ہے:
''غالب بیدل کے چکر سے نکلنے کے باوجود بھی بیدل کی رمزیت کو نہ چھوڑ سکے۔ اسی رمزیت نے ان کی شاعری میں عجیب عجیب گل کھلائے۔ یہ معمولی بات نہیں کہ بیدل کے بعد غالب، حزین' ظہوری' عرفی اور نظیری کی طرف متوجہ ہوئے اور میر کی طرف سب سے آخر میں۔ یہ ترتیب ان کی شاعری کے ارتقا میں بڑی اہمیت رکھتی ہے''۔
ادبی تحریکوں اور دبستانوں کی زبان و ادب کے رجحانات طے کرنے میں بڑی اہمیت ہوتی۔ تحریکیں ادبی گروہوں کو جنم دیتی ہیں' ادبی گروہ اپنے تصورات و نظریات سے ہم آہنگ ماضی کے ادیبوںکے مقام کا تعین کرتے ہی۔ اس کوشش میں کبھی کوئی ادیب بری طرح سے نظر انداز کردیا جاتا ہے تو کوئی گمنامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے شہرت کے آسمان کا روشن ستارہ بن جاتا ہے۔
غالب کی نمایاں خصوصیت میں ایک یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری کو جدید دور کے تنقیدی معیارات پر پرکھا گیا' وہ سر خرورہا' ادبی تحریکوں نے اپنی کسوٹیاں اور ترازو ہوا میں بلند کیے' وہ بھاری رہا' جدید تخلیقی تصورات نے زور پکڑا ،وہ سرخرو رہا۔ غالب کی شہرت کو گہنایا جاسکا نہ اُردو اددب کی تاریخ میں انکی اہمیت کم ہوسکی۔ غالب کا ادبی دشمن بھی انکی عظمت اور فہرست میں اولیت سے انکار نہ کرسکا۔ اپنے عصر سے دورِ حاضر تک غالب کی شمع شہرت کی لو تاباں ہی نہیں شعلے کی مانند لپکتی اور روشنی کے پھیلائو میں وسعت اختیار کرتی جارہی ہے۔ کس مقامی زبان میں غالب کا ترجمہ نہ ہوا' کس بڑی بین الاقوامی زبان میں غالب بصورتِ ترجمہ نہ گھسا اور کس زبان کے نقادوں نے اپنا قلم غالب کی مداح سرائی میں نہ چلایا۔
آگرہ میں 27 دسمبر1797ء میں پیدا ہونے والا اسد اللہ کی 13 سال کی عمر میں شادی کردی گئی۔ نسلی برتری اور خاندانی عظمت کا احساس' جو نرگسی انا کو تسکین دیتا ہوگا' ہمیشہ غالب کو رہا۔عاشقانہ مزاج تو خیر غالب کی فطرت کا ناقابل تبدیل جزو تھا ہی ۔ شادی کے بعد دہلی میں مقیم ہوے تو کرایے کے مکان میںرہنے کے باوجود رئیسانہ ٹھاٹھ سے رہے۔ مستقل آمدنی تھی نہیں، اس لیے قرض کی مے پی کر اکثر گو نہ بے خودی سے لطف اندوز ہوتے رہے ، کے مے سے غرضِ نشاط انہیں کہاں تھی۔
''ستم پیشہ ڈومنی'' سے عشق بھی فرمایا۔ 1847ء میں جوئے کے الزام میں گرفتار بھی ہوئے اور تین ماہ سزا کاٹی۔ حصولِ پنشن کی کوششیں بے ثمر رہیں۔ مغل دربار سے وابستہ اور بہادر شاہ ظفر کے اُستاد رہے مگر ڈوبتا مغل خاندان کہاں ان کی ''عیاشیوں'' کی تکمیل کا سامان کرسکتا تھا۔ انگریزوں سے راہ و رسم بڑھانے کی کوششوں میں ملکۂ وکٹوریہ کا سینکڑوں اشعار پر مشتمل قصیدہ لکھا اور درخواست کی کہ انہیںملکہ کا درباری شاعر متعین کیا جائے' مگر کامیابی نہ ہوئی۔ گھریلو زندگی تو ہمیشہ ہی سلجھنے کا نہ سلجھانے کا معمہ بنی رہی' نہ وہ بیوی سے خوش نہ بیوی ان سے ۔ غالب کے متعلق لطیفوں کو ذہن میں لایئے اندازہ ہوجائے گا۔ الغرض مفلوک الحال' مقروض' خود پسندو حسن پرست' نفسیاتی اُلجھنوں کو بیان کرتا' محرومیوں' پژمردگیوں کے ساتھ زندہ دلی سے زندگی کرتا یہ عظیم فنکار شاہراہ ادب پرانمٹ نشان چھوڑ گیا۔ یہ نشان آنے والے کے لیے راہ نما ہیں تو غالب کے مقام کا تعین بھی کرتے ہیں۔یہ مقام ہی وہ  منزل ہے  جس تک اردو شاعر پہنچنے کی کوشش تو کر سکتا ہے مگر یہ رتبہ بلند جسے مل گیا' سو مل گیا۔
غزل کے علاوہ مکاتیب کے حوالے سے بھی غالب کی اہمیت بانیان جیسی ہے۔ جدید اُردو نثر کی پہلی اینٹ رکھنے کا شرف بھی اسی بادہ خوار کے حصے میں آئی۔ ادب آداب' تکلفات میں ڈوبا فارسی زدہ خط غالب کی بیٹھک سے اُٹھا تو ''آدھی ملاقات'' کا لقب حاصل کرچکا تھا۔ افسانہ و ناول سے پہلے غالب نے مکالمہ نگاری کا کام اپنے خطوں میں کردکھایا تھا۔ اس عظیم شاعر نے 15 فروری 1869 کو اپنے آشفتہ سری سمیت دار فانی سے کوچ کیا۔ نیچے درج کلامِ غالب کو پڑھیے اور سر دھنیے:
درد منت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا ' برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اِک تماشا ہوا ' گِلا نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
ہے خبر گرم اُن کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا
……٭٭٭……
مدت ہوئی یار کو مہماں کیے ہوئے
جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو
عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے
پھر وضعِ احتیاط سے رُکنے لگا ہے دم
برسوں ہوئے ہیں چاکِ گریباں کیے ہوئے
باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رُخ پہ پریشاں کیے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
……٭٭٭……
کب سے ہوں کیا بتائوں ' جہانِ خراب میں
شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے ، آئے جو خواب میں
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
میں اور حظّ وِصل ' خدا ساز بات ہے
جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
غالب چھٹی شراب پر اَب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے تو یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جیے ہم ' تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے ' اگر اعتبار ہوتا
کوئی مرے دل سے پوچھے ' ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی ' جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا ' کوئی غم گسار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے ! شبِ غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا ' اگر ایک بار ہوتا؟
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا ' ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا ' نہ کہیں مزار ہوتا
یہ مسائلِ تصوّف ' یہ ترا بیان ' غالب!
تجھے ہم ولی سمجھتے ' جو نہ بادہ خوار ہوتا


نوشته شده در تاريخ Fri 24 Jun 2011 توسط محمد نظیر عرفانی

  آج کل یہ کہنا فیشن بن گیا ہے کے” ہمیں اس ملک نے کیا دیا ہے جو ہم اس کو کچھ دیں” ۔ آئیے زرا اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں کے پاکستان کو کچھ دینا اور اس کے لیئے کچھ کرنا محض قومی فریضہ ہی نہیں بحثیت مسلمان ہم پر لازم بھی ہے۔

آپ نے اکثرعلما ء و صاحبان علم کو ایک لفظ “مملکت خداداد” استعمال کرتے ہوئے سُنا ہوگا۔ اس لفظ کا آسان سا مطلب ایک ایسا ملک ہے جسے اللہ عزوجل کی پشت پناہی(اس لفظ کو محاورة استعمال کیا ہے، کیونکہ اللہ عزوجل پشت ہونے کی علت سے پاک ہے) حاصل ہو۔ کیا آپ یقین کریں گے کے اس ملک کی تشکیل سے لے کر اب تک مسلسل اللہ عزوجل کی خاص رحمتیں اس ملک پر نازل ہوتیں رہیں ہیں۔

یاد کیجیئے وہ وقت جب “وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ”جیسے شعر کہنے والا ایک کلین شیو شخص ایک کمرے میں بیٹھا یہ لکھ رہا تھا:

“میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے”

یاد کیجیئے وہ وقت جب خود مسلمانوں میں غیر مسلم سمجھے جانے والے اسماعیلی فرقے کا امام “مسلم لیگ” بنانے کا اعلان کررہا تھا۔

یاد کیجیئے وہ ووقت جب” لنکن اِن “سے سب سے کم عمری میں قانون کی ڈگری لینے ولا پہلا ہندوستانی کا اعزاز حاصل کرنے والا پکا کانگریسی رہنما اپنی جماعت سے استعفیٰ دے کر مسلم لیگ جیسی “نو مولود” تنظیم کا ممبر بنا۔

یاد کیجیئے وہ وقت جب اُنیس سو تینتیس میں”اب یا کبھی نہیں” (Now or Neve) نامی پمفلٹ لکھتے ہوئے ایک چھتیس سالہ نوجوان کے قلم کی سیاہی سے لفظ “پاکستان” نکلا۔

وہ وقت یاد کیجیئے جب لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے 14 اور 15اگست کی درمیانی رات کو “تقسیم ہند” کے لیئے تجویز کیا۔

وہ وقت یاد کیجیئے جب انڈئین وائسرائے کی جانب سے عشائیے کی دعوت کو قائد اعظم نے “تھینک یو” کہہ کر ٹھکرادیا۔

یہ اور ان جیسے سینکڑوں واقعات از خود نہیں ہوگئے تھے ان سب کے پیچھے قدرت الہیٰ کارگر تھی یعنی یہ سب قدرت الہیٰ کے مجوزہ پلان کا حصہ تھا ۔
دیکھ لیجیئے تاریخ گواہ ہے کے پاکستان کو کسی بھی طور سے نقصان پہچانے یا اس کے خلاف سازشوں کا حصہ بنے والے اس طرح قدرت الہی کے عذاب کا شکار ہوئے کے اُن کی عبرت آمیز داستانیں آج تاریخ کے صفحات پر سنگ و خشت کی طرح بکھری پڑی ہیں۔

برصغیر کی تقسیم کا ذمہ دار انگریز آفیسرجسے لندن واپسی پر “کرپشن”کا الزام لگا بے عزتی سے ایوان سے نکالا گیا ، “گاندھی “کو ایک ہندو ناتھو رام گاڈسے نے ہلاک کردیا، غلام محمد معذوری کی حالت میں اس دُنیا سے رخصت ہوا، سانحہ مشرقی پاکستان کے تمام ذمہ داران، مجیب، اندرا گاندھی، بھٹو اپنے ہی وفاداروں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوئے۔ فرنگیوں سے” گندم” کے طور پر بھیک لینے والے کو “کتا” کہہ کر پکارا گیا، خود ساختہ “امیر المومنین” کہلانے کا شوق رکھنے ولااور خلوت میں شتروگن سہنا کی فلمیں دیکھنے والا جرنیل فضاءہی میں قضائے الہیٰ کا شکار ہوا۔ سکھوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے والے راجیو گاندھی اور بے نظیر اپنے ہی ملک میں اپنے سینکڑوں حامیوں کے سامنے قاتلانا حملوں میں ہلاک ہوئے۔

اور آج کا حال دیکھ لیجیئے دُنیا کے (بظاہر) “طاقتور ترین شخص” کودرجنوں لوگوں کے سامنے جوتے کھانے پڑے، امپورٹ کیا گیا “ڈمی” وزیر اعظم اس ملک میں داخل نہیں ہو سکتا،مشرف کے اقدامات کے حمایتی “رضا قصوری” کاسب کے سامنے منہ کالا کیا گیا ، محمد علی درانی کو جوتے پڑے، دوسروں کو “مکہ” دکھانے اور مسلمانوں/پاکستانیوں کو پیسوں کے عوض فروخت کرنے والا “جرنیل” آج کسانوں کو حاصل رعایتی بجلی استعمال کرنے جیسے گھٹیا الزامات سے منہ چھپا رہا ہے ۔ ان لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اس ملک سے کسی بھی طور سے غداری کے مرتکب ہوئے اور پھر اپنے اعمال کی سزا بھگتے گئے کتنے ہی اور نام اس فہرست میں درج ہونے والے ہیں۔

اس طویل تمھید کے بات یہ ثابت ہوجاتی ہے کے اس ملک کی خدمت کرنا یا اس کے کام آنا ایک ملی ہی نہیں مذہبی فریضہ بھی ہے۔ آپ، میں اور ہم جیسے کروڑوں افراد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری نہیں کررہے ہیں۔ ہم تھانوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور دیگر حکومتی اور نجی اداروں وغیرہ میں اپنا کام نکالنے کے لیئے رشوت دینے کے عادی ہوچکے ہیں۔
زکواة ادا نہ کرنا، نمازوں میں کوتاہی کرنا، غیر مسلموں کی نقالی، شعائر اللہ کا مذاق اُڑانا ، بلاوجہ جھوٹ بولنا، دوسروں کی غیبت اور چغلی کرنا، فحش مناظر دیکھنا، ٹریفک سگنلز کو توڑنا، بجلی چوری کرنا، میرٹ پر شفارش کو ترجیح دینا، فضول رسومات پر لاکھوں روپے خرچ کرنا، تعیشات کا ڈھیر جمع کرنا، نااہلوں کی خاشامد کرنا، ہم وطنوں‌سے تعصب کرنا جیسے سینکڑوں عیبوں کا ہم شکار ہو گئے ہیں۔

میں نے کچھ عرصہ قبل اللہ کی رحمت و کرم سے اپنا محاسبہ کرتے ہوئے یہ عہد کیا تھا کے میں ان تمام عیبوں سے خود کو دور رکھوں گا اور حتی الامکان ان برائیوں سے دوسرے مسلمانوں کو بھی دور رہنے کی تلقین کروں گا۔
میں آج اپنے پیارے وطن سے وعدہ کرتا ہوں کے اے ارض پاک:
1۔ میں تجھے نقصان پہچانے والی کسی سازش میں ہرگز معاونت نہیں کروں گا!
2۔ میں تیرے دیدہ و نادیدہ دشمنوں سے ہمیشہ نفرت کا اظہار کروں گا!
3۔ میں تیرے دشمنوں کا مقابلہ اپنی تمام تر طاقت اور قوت کے ساتھ کروں گا!
4۔ میں اپنی ذات کی وجہ سے تیرا پاک دامن کبھی داغدار نہیں ہونے دوں گا!
5۔ میں تیری بقا کے لیئے اپنے مال و جان سے جہاد کروں گا!

اے پاک وطن مجھ سے پوچھا گیا ہے کے میں نے “پاکستان کوکیا دیا” اے دلرُبا، میری سب سے قیمتی چیز میرے دو ننھے پھول، میری بیٹیاں ہیں۔ میں سنت ابراھیمی کی نقل کرتے ہوئے اُنہیں تجھ پر وارنے کا عہد کرتا ہوں اور یہ وعدہ کرتا ہوں کے اُن کی تربیت ایک سچے اور مخلص پاکستانی کی سی کروں گا۔ اے میرے وطن میری یہ ننھی بیٹیاں آج سے تیری امانت ہیں۔

شاید کل کا کوئی اقبال اِن کے کے لیئے بھی “فاطمہ بنت عبداللہ”جیسی نظم لکھے اور دیکھنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کے:

“ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی!”


نوشته شده در تاريخ Fri 10 Jun 2011 توسط محمد نظیر عرفانی

بھارت نےجب 1974میں ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا تو خطےمیں دفاعی سطح کوبرابر کرنےکیلئےپاکستان کو بھی مجبوراً اپنےایٹمی پروگرام کو شروع کرنا پڑا۔ ایٹم بم بنانا کو ئی آسان کام نہیں اور وہ بھی ایسےوقت جب آپ معاشی طور پر مستحکم بھی نہ ہوں اور اس منصوبےمیں دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کے جتنا بھی قریب ہو مدد نہیں کرتی کیونکہ وہ ایٹمی عدم پھیلائو کے بین الاقوامی قوانین کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے اور آپ کو یہ کام انے بل بوتے پر کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا باقاعدہ طور پر آغاز زوالفقار علی بھٹو کی نگرانی میں شروع کیا جو اس وقت ملک کےوزیراعظم تھے۔ انھوں نےپاکستان اٹامک انرجی کمیشن کےچئیرمین منیراحمد خان کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم میں ڈاکٹرعبدالقدیر، زاہد علی خان، ڈاکٹر ثمرمبارک مند جیسی عظیم شخصیات شامل تھیں جنہوں نےکے آر ایل کی بنیاد رکھی۔ زوالفقار علی بھٹو نے 20 جنوری 1972 میں ملتان میں ان تمام افراد کےساتھ ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ملکی سلامتی کی خاطر ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی جائےگی۔ انھوں نےمنیر احمد کان کواس پراجیکٹ کا لیڈر بنایا اور اس پراجیکٹ کو پراجیکٹ 706 کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد اس ٹیم نےاس پراجیکٹ پر کام کرنا شروع کر دیا۔ سائنسدانوں اور انجینئیروں کی سات سال کی شب و روز محنت کےبعد 1983میں پاکستان نےایٹم بم کا پہلا کولڈ ٹیسٹ کیا جو کامیاب رہا۔ جس نے اس بات کو یقینی بنا دیا کہ اب پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں ایٹمی تجربات پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ ایٹم بم بنانے میں سب سے مشکل مرحلہ یورینیم کی افزودگی ہےجس کو مکمل کرنے میں مزید چار سال کا وقت لگا۔ 1987میں پاکستان ایٹمی دھماکےکرنے کےقابل ہوچکا تھا۔
بھارت نے گیارہ اور تیرہ مئی 1998 کو جب ایٹمی دھماکے کئے تو اس کے انداز میں یکسر تبدیلی آگئی اور وہ برصغیر میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارت کا رویہ دھمکی آمیزانہ ہوگیا اور اس نے خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا واضح اعلان بھی کر دیا۔ بھارت کے دھماکوں کے بعد اگلے ہی دن چودہ مئی کو ملک کی ڈیفنس کیبینٹ کمیٹی کا اجلاس اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں ہوا جس میں باہمی اتفاقِ رائے سے اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں ایٹمی دھماکے ضرور کرنے چاہئیں اور بھارت کی ہٹ دھرمی اور جارھیت کا بھرپور جواب دینا چاہئیے۔ اس اعلان کے بعد اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے نواز شریف کو فون کر کے انھیں دھماکے کرنے سے منع کیا اور انھیں ایٹمی تحفظ کی گارنٹی دینے اور اربوں ڈالر کی امداد دینے کا کہا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ قرضے معاف کرنے اور ایف سولہ طیارے فراہم کرنےکی لالچ بھی دی۔ مگر نواز شریف نے بل کلنٹن کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ نواز شریف کے اس جرات مندانہ فیصلے کو پاکستانی عوام نےنہ صرف سراہا بلکہ اسے پوری طرح سپورٹ فراہم کی۔ اس کےساتھ ساتھ حکومت پاکستان کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ اگر اس وقت ایٹمی دھماکے نہ کئے گئےتو پھر اس کا ایٹمی طاقت بننےکا جواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا اور اس کےساتھ ساتھ پاکستان کو بھارت کی بالادستی بھی قبول کرنا پڑے گی اور بھارت نےتو ایٹمی دھماکوں کےبعد یہاں تک کہہ دیا تھا کہ آئندہ پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی بھارت بنایا کرے گا۔ یہ سب کچھ ایک غیرت مند اور باوقار قوم کو کسی بھی طور پر قبول نہیں تھا اور ایک آزاد اور مسلم ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس پر بمسایہ ملک کی چودھراہٹ قائم ہو۔ چنانچہ بیس مئی 1998 کو ملکی ایٹمی ٹیسٹ ٹیم اور ایٹمی سازو سامان سی ون تھرٹی کی اسپیشل پروازوں کے زریعے بلوچستان کےعلاقے چاغی اور خاران پہنچایا گیا۔ اس ٹیسٹ ٹیم میں ایک سو چالیس کے لگ بھگ افراد شامل تھے جن میں سائنس دان ،انجینئیرز اور ٹیکنیشنز شامل تھے۔ اس ٹیم کو دو حصون میں تقسیم کر کے چاغی اور خاران میں متعین کیا گیا۔ ان دونوں ٹیموں کی سربراہی ڈاکٹر ثمر مبارک مند کر رہے تھے۔ 27 مئی کو ایٹم بم چاغی کے پہاڑ میں نصب کر کے سرنگوں کو بند کرنے کا کام مکمل کیا گیا۔ اس کام کے مکمل ہونے کے بعد تمام آلات کو باقاعدہ طور پر چیک کیا گیا۔
جہاں ایک طرف ایٹمی ددھماکوں کی تیاریاں جاری تھیں وہیں دوسری طرف ہمیں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے ہماری ایٹمی تنصیبات پرحملے کی دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں۔ اس صورت حال کی اطلاع ڈاکٹر ثمر مبارک کو فون پہ دی گئی اور انھیں کہا گیا کہ ٹیسٹ کو فی الحال ملتوی کیا جائےاور تمام ٹیم کو ٹیسٹ سائیڈ سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ ڈاکٹر ثمرجانتے تھے اگر اس وقت اس کام کو ملتوی کر دیا تو یہ اس پراجیکٹ کے خاتمے کےمترادف ہوگا۔ انھوں نےکہا کہ ایٹم بم بنانےمیں اللّٰہ نے ہماری مدد کی ہے اور وہی ہماری حفاظت کرے گا۔  چنانچہ ہماری پاک فضائیہ کو اس منصوبے کی حفاظت کی زمہ داری سونپی گئی اور انھوں نے اس زمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ اس پورے ٹیسٹ کی پاک فضائیہ کے طیاروں نے ہوائی نگرانی کی۔
28 مئی 1998کی دوپہر کوڈاکٹر ثمر مبارک اپنی ایٹم بم چلانے والی ٹیم کے ہمراہ ٹیسٹ سائیٹ پر موجود تھے۔ تین بج کر سولہ منٹ پر چاغی کا علاقہ اللّٰہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا اور اس کے بعد ایٹم بم ٹیسٹ کرنے کیلئے ریموٹ کنٹرول بٹن دبا دیا گیا۔ بٹن دباتے ہی کمیوٹرائزڈ سسٹم کے زریعے ایٹم بم کا دھماکہ ہوگیا۔
کہنے کو تو ایٹم ایک چھوٹی سی چیز ہو جسے آنکھ سے بھی نہیں دیکھا جا سکتا مگر اس میں قدرت نے اتنی طاقت رکھی ہےکہ پینتیس کلومیٹر طویل چاغی کا سیاہ پہاڑ ی سلسلہ صرف پانچ سیکنڈز میں ہی سفید ہوگیا جو آج تک سفید ہے۔ ایٹمی دھماکے کے پانچ سیکنڈز گزرنے کے فوراً بعد ہی شدید زلزلےکا جھٹکا آیا جو ایٹمی ٹیسٹ کی کامیابی کا ثبوت تھا۔ اس دھماکے کے شواہد ماسکو، ناروے اور امریکہ کی زلزلہ پیما کے اداروں نے زلزلے کی صورت میں ریکارڈ کئے۔ جس نے پوری دنیا میں اس بات کی گواہی دی کہ پاکستان دنیائے اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا ہے۔ اس دھماکےبعد سائیٹ پر موجود آلات اور علاقے کےحالات کا جائزہ لیا گیا جسے بالکل محفوظ پایا گیا۔ اس کامیابی نے پوری ٹیم کو سجدہ ریز کردیا اور وہاں پر موجود تمام افراد کی آنکھوں میں مسرت کے آنسو تھے۔ اس کے بعد یہ ٹیم خاران پہنچی اور وہاں پر ایک اور ایٹم بم کا ٹیسٹ کیا گیا اور اس دھماکےکو بھی پوری دنیا میں ریکارڈ کیا گیا۔ یہ دھماکہ بھی کامیاب رہا۔
 ان دھماکوں سے پورے ملک میں خوشیاں منائی گئیں اور مٹھائیاں تقسیم کی گئی۔ ایٹمی قوت بننے کے بعد پاکستان کو پوری امت مسلمہ میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جانےلگا اور کئی اسلامی ممالک میں اس پرمسرت موقع پر چراغاں کیا گیا اور خوشیاں منائیں گئیں۔ ایٹمی دھماکوں کی ٹیم 31 مئی کو جب واپس پہنچی تو انھیں معلوم ہوا کہ دشمن کے طیارے سری نگر کے ہوائی اڈے پر ہمارے ایٹمی پروگرام کے اوپر حملے کرنے کیلئے تیار کھڑے تھے۔ اس وقت وزیراعظم نواز شریف کی دھمکی کہ دشمن کی کسی بھی قسم کی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا نے دشمن کے طیاروں کو پرواز کرنے کی ہمت نہ ہونے دی اور ہمارا پراجیکٹ اللّٰہ کے فضل و کرم سے بخیر و خوبی پورا ہوا۔
آج پاکستان دنیا کے نقشےمیں ایک ایٹمی طاقت سے جانا جاتا ہے۔ اس کا ایٹم بم ڈیلیوری سسٹم اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دنیا کے بہترین سسٹم میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان وقتاً فوقتاً میزائل تجربے بھی کرتا رہا جن میں شاہین، غوری، حتف میزائل شامل ہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتےہیں۔
 اب ہم اللّٰہ کےفضل و کرم سے ایک ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بن چکے ہیں اور کوئی بھی ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے پاکستان کے ساتھ پنگا انھیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی دشمن ہماری اس قوت کوختم کرنے پہ تلا ہوا ہےاور اب وہ ملکی کو اندرونی طور پر کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے کیونکہ اس کے پاس اب ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کو اندر سے کمزور اور غیر مستحکم کرے تاکہ اسے ناکام ریاست بنایا جائے اور اس کےخلاف پراپیگنڈہ کیا جائےکہ اس ملک کے لوگ غیر زمہ دار ہیں اور وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے اہل نہیں ہیں۔
آج کل ہمارے ملک کو اسی قسم کی صورت حال کا سامنا ہے۔ ملک کےمختلف حصوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں نے ہماری بین الاقوامی ساکھ کو بہت متاثر کیا ہے اور حالیہ ہونے والے ایبٹ آباد آپریشن، پی این ایس مہران میں ہونے والی دہشت گردوں کی کارروائی نے ہمارے اوپر دبائو میں مزید اضافہ کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری آئے دن ہمارے اوپر الزامات اور توہمات لگا رہی ہے اور ملک و قوم کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس نازک موقع پر پوری قوم کو اتحاد و اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے اور 28 مئی کے اس پر مسرت دن کے موقع پر ہمیں ا س بات کا عہد کرنا چاہئیے کہ ملکی سلامتی کیلئے  بیرونی طاقتوں کےساتھ اپنی صفوں میں شامل میر جعفر اور میر صادق کے خاتمے کیلئےمل جل کر کام کریں۔


نوشته شده در تاريخ Sat 28 May 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
امریکی اخبار نیوز ٹائم کے مطابق
سن انيس سو اسی میں جنرل ضيا کےاسلامائزیشن‘ عمل نے اور پھر بعدازاں اسی ضیائی باقیات نے صوفی نظریات کو کتابوں، رسالوں، اخباروں، میڈیا، ہر جگہ سے غائب کر رکھا ہے، صوفی بزرگوں کی درگاہوں پر حملوں کے ذریعے دہشتگرد پانچ مقاصد چاہتے ہیں،اول، عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، مذہب و عبادات سے دور رہنے کی تلقین کرنا، چونکہ لگ بھگ تمام مزاروں کا تعلق سنی فرقہ سے ہے، لہذا کچھ عجب نہیں کہ حملوں کے پیچھے مقصد ’سعودی ازم‘ بذریعہ طاقت لانا ہو۔
، قصہ سن انيس سو اسی سے شروع ہوتا ہے جب جہاد افغانستان کے ليے جنرل ضيا نے امريکہ اور سعودی تعاون کے ساتھ لوگوں کو مسلح کرنا شروع کيا۔ مجلس عزا پر حملوں کا سلسلہ تو تيس برس سے جاری تھا اب يہ لوگ صوفيوں کے مزارون پر بھی حملے کرنا شروع ہوگئے ہيں۔
وہابی علمائوں کی کوشش ہے کہ مزاروں کو منہدم کيا جائے جیسے سعودی عرب میں حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء،جنت البقیع، جنت المعلی کو منہدم اور حجاز کی مسجدوں کو شہید کردیا تھا۔
پاکستان میں کسی صوفی بزرگ کی درگاہ پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل اسلام آباد میں بری امام کی درگاہ پر خودکش حملہ، خیبر پختون خواہ میں رحمان بابا کے مزار پر دھماکہ، لاہور میں داتا گنج بخش کی درگاہ پر خودکش حملے، کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دھماکوں کے علاوہ کئی دیگر صوفی شعار پر حملے ہو چکے ہیں۔
یہ حملے عوام میں غم و غصہ تو پیدا کر رہے ۔
پاکستان کے عوام سوال کرتےہیں اگر يہ حملے طالبان کر رہے ہيں تو يہ کونسا اسلام ہے؟ رسول اللہ کےلائے ہوئے دين ميں يہ بربريت نہيں ؟
ان حملہ آوروں کو جنت کی بشارت کون دےتاہے۔


نوشته شده در تاريخ Wed 20 Apr 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
جب بھی لفظ پاکستان کی تخلیق کا ذکر چھڑتا ہے، تان اسی بات پر آکر ٹوٹتی ہے کہ اس مملکت خداداد کا یہ خوب صورت نام چوہدری رحمت علی نے وضع کیا تھا۔ اور یہ کہ یہ نام پنجاب کا پ، شمالی مغربی سرحدی (افغانیہ) کا الف، کشمیر کا ک، سندھ کا س اور بلوچستان کے تان کا مرکب ہے۔ چوہدری رحمت علی نے یہ نام اپنے مشہور کتابچے نو آر نیور (اب یا کبھی نہیں) میں تجویز کیا تھا جو 28جنوری 1933ء کو3 ہمبر اسٹون روڈ، کیمبرج سے شائع ہوا تھا۔ اس کتابچے پر چوہدری رحمت علی کے علاوہ محمد اسلم خان خٹک (صدر، خیبر یونین)، شیخ محمد صادق (صاحبزادہ) اور عنایت علی خان (آف چار سدہ) (سیکریٹری، خیبر یونین) نے دستخط کیے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ لفظ پاکستان چوہدری رحمت علی کی تخلیق ہے۔ خود کیمبرج میں چوہدری رحمت علی کی لوح مزار پر بھی یہی تحریر ہے:
 ''بانیٔ تحریک پاکستان، خالق لفظ 'پاکستان'''
مشہور صحافی اور ماہر لسانیات خالد احمد نے اپنی کتاب''دی برج آف ورڈز''میں بھی لفظ پاکستان کی شروعات کے حوالے سے دو ابواب تحریر کیے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کا لفظ سب سے پہلے خواجہ عبدالرحیم نے اختراع کیا تھا جو سابق گورنر پنجاب، خواجہ طارق رحیم کے والد تھے۔ خالد احمد کا کہنا ہے انہیں یہ بات سید افضل حسین کے صاحبزادے عظیم حسین نے بتائی تھی۔ خالد احمد کے مطابق عظیم حسین کا کہنا تھا جب خواجہ عبدالرحیم لندن میں مقیم تھے تو ایک دن سر اولف کیرو کی کتاب'' سوویت سلطنت'' کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی نظریں ایک نقشہ پر ٹک گئیں جس میں وسطی ایشیا کی ایک ریاست کا نام قراقل پاک ستان تحریر تھا۔ یہیں سے انہوں نے لفظ پاکستان اخذ کیا۔
خالد احمد نے اس بات کی تصدیق کے لیے سر اولف کیرو کی محولہ بالا کتاب تلاش کی۔ انہیں اس کتاب کا 1950ء کا ایڈیشن دستیاب ہوا۔ خالد احمد کہتے ہیں کہ اس کتاب میں وہ نقشہ بھی موجود تھا اور اس نقشہ میں وہ نام بھی موجود تھا۔
اشفاق بخاری نے اپنی کتاب چناب کلب۔ فیصل آباد میں خواجہ عبدالرحیم کے حوالے سے جو13 نومبر 1942ء سے 7جولائی 1945ء تک لائل پور(موجودہ فیصل آباد) کے ڈپٹی کمشنر رہے تحریرکیا ہے:
''خواجہ عبدالرحیم آئی سی ایس جب شہر میں وارد ہوئے تو اپنے ہمراہ ایک تاریخی حوالہ کی پوشیدہ تاریخ بھی لائے۔ ان دنوں  انڈین سول سروس کے حکام کی سول سروس اکیڈمی میں تربیت کا کچھ عرصہ انگلستان میں قیام بھی ہوا کرتا تھا۔ خواجہ صاحب کی خوش قسمتی کہ کیمبرج یونیورسٹی انگلستان میں انہیں چوہدری رحمت علی کی رفاقت میسر ہوئی۔ یہ بھی روایت ہے وہ اور ایک اور صاحب تینوں ہی کمرہ میں فروکش تھے۔ چوہدری صاحب ان دنوں ہندوستان میں سرگرم مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے نام کی جستجو میں رہتے تھے۔ ایک اتفاق یہ رونما ہوا کہ خواجہ عبدالرحیم کے زیر مطالعہ وسط ایشیا کی ریاستوں کے بارے میں مشہور انگریز مستشرق سر اولف کیرو کی کتاب قراقل پاک ستان آئی چونکہ مطالعہ کے دوران دونوں نام آپس میں جڑے ہوئے تھے اس وجہ سے ان کا دھیان اس طرف نہ گیا مگر جونہی انہوں نے کتاب کی جلد کی پشت کا بغور مطالعہ کیا تو لفظ پاک ستان کی صورت میں نئے ملک کا نام ان کے سامنے تھا۔ خواجہ صاحب نے اس انکشاف کا اظہار چوہدری رحمت علی کے سامنے کیا۔ چوہدری صاحب کو تحریک ملی انہوں نے''نائو اور نیور''  کے عنوان سے پمفلٹ شائع کردیا اور پاک ستان کے نام سے الگ وطن قائم کیے جانے کا مطالبہ کیا اس میں "I" (آئی) کا اضافہ بعد میں کیا گیا۔''
اشفاق بخاری کو کتاب کے نام میں تسامح ہوا ہے۔ اس کتاب کا درست نام'' سوویت سلطنت ''ہی تھا۔ دوسری طرف خالد احمد نے لکھا ہے کہ عظیم حسین سے یہ واقعہ سن کر انہیں قراقل پاک قوم کے بارے میں تجسس ہوا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ایک ترک النسل قومیت تھی جو ازبکستان کے آمو دریا کے ڈیلٹا پر رہتی تھی۔ اس خطے کوقراقل پاک کی خود مختار ریاست کہا جاتا ہے۔ ان کی اپنی زبان اور سم الخط ہے جس کی پہلی کتاب سوویت یونین کے دور میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں بھی اس خطے کا نام قراقل پاک ستان لکھا ہے۔خالد احمد مزید بتاتے ہیں کہ مشہور سائنسدان، سیاح اور مؤرخ البیرونی کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا۔ قراقل پاک کے معنی ہیں سیاہ ٹوپی۔ اردو میں قراقلی ٹوپی کا لفظ بھی اسی خطے سے آیا ہے۔ قراقل پاک قوم کو یہ ریاست 1925ء میں ملی۔ آج ان کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔خالد احمد نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر خواجہ عبدالرحیم نے کسی نقشے پر قراقل پاک ستان کا نام دیکھا ہے تو وہ ممکن ہے اولف کیرو کی کتاب نہیں بلکہ رائل سینٹرل ایشین سوسائٹی کا جاری کردہ کوئی دوسرا نقشہ ہو۔
قراقل پاک ستان کی موجودہ جغرافیائی صورت حال کے حوالے سے انٹرنیٹ پر موجود انسائیکلو پیڈیا وکی پیڈیا سے بھی مدد لی گئی۔ اس انسائیکلو پیڈیا کے مطابق یہ خطہ آج بھی موجود ہے اور ازبکستان کا حصہ ہے۔ اس کا رقبہ 160000 مربع کلو میٹر (61776 مربع میل) اور آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں جو زبان بولی جاتی ہے اس کا نام بھی قراقل پاک ہے اور یہ زبان قازق اور ازبک زبانوں سے بھی ملتی جلتی ہے۔  یہ خطہ بحر ارل کے کنارے واقع ہے۔

خالد احمد نے اپنے مضمون میں مشہور کرکٹر جہانگیر خان کے دو انٹرویوز کا ذکر بھی کیا ہے جس میں انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ لفظ پاکستان چوہدری رحمت علی کی اختراع نہیں تھا۔ (ڈاکٹر محمد منیر سلیچ کی کتاب وفیاتِ ناموران پاکستان کے مطابق ان میں سے ایک انٹرویو ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ کے مارچ 1978ء کے شمارے میں شائع ہواتھا) خالد احمد نے کے کے عزیز کی کتاب میں جہانگیر خان کے انٹرویو کا حوالہ دیا ہے۔ اس انٹرویو میں جہانگیر خان نے بتایا تھا کہ لفظ پاکستان دراصل خواجہ عبدالرحیم کا سوچا ہوا نام تھا۔ 1964ء میں میاں عبدالحق نے بھی ایک اردو روزنامے کوانٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ 1932ء میں کیمبرج کی نہر کے کنارے خواجہ عبدالرحیم اور پیر احسن الدین چہل قدمی کررہے تھے۔ خواجہ صاحب نے تجویز کیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنا چاہیے جو پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور کشمیر پر مشتمل ہو۔ یہ خیال سبھی کو پسند آیا۔ جب علامہ اقبال سے مشورہ کیا گیا تو انہوں نے خیال سے اتفاق کرنے کے باوجود اسے گول میز کانفرنس میں پیش کرنے سے انکار کردیا۔ پھر ایک دن لندن کے گولڈرز گرین کے علاقے میں بس پر سفر کے دوران خواجہ عبدالرحیم نے چوہدری رحمت علی سے کہاکہ اس ریاست کا نام ''پاکستان'' ہونا چاہیے۔ چوہدری رحمت علی اس پر رضا مند ہوگئے اور بعدازاں علامہ اقبال نے بھی اس کی تائید کردی۔جون 1970ء میں میاں عبدالحق نے ندائے ملت لاہور میں بھی یہی تحریر کیا کہ لفظ پاکستان خواجہ عبدالرحیم کی تخلیق تھا اور انہیں اس نام کے سلسلے میں علامہ اقبال کی تائید حاصل تھی۔ میاں عبدالحق ساہیوال کے جاگیردار تھے اور ایوب خان کے دور میں قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔
خواجہ عبدالرحیم کا انتقال 5 نومبر 1974ء کو ہوا۔ وہ میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔خود انہوں نے بھی اپنی زندگی میں ایوان نوائے وقت راولپنڈی میں ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ لفظ پاکستان کے خالق وہ ہیں اور انہوں نے یہ لفظ پہلی مرتبہ خیبر یونین آف اسٹوڈنٹس کے ایک اجلاس میں استعمال کیا تھا، جس کی صدارت بھی خود انہوں نے کی تھی۔
اس حوالے سے مشہور مؤرخ اور چوہدری رحمت علی کے سوانح نگار خورشید کمال (کے کے) عزیز کا مؤقف تھا کہ'' نائو اور نیور ''کا پورا مسودہ چوہدری رحمت علی نے تن تنہا تحریر کیا تھا۔ ان کے اس مسودے پر کوئی شخص دستخط کرنے کو تیار نہیں تھا بالآخر انہوں نے لندن میں تین ایسے طالب علم ڈھونڈھ نکالے جنہوں نے ان کے ساتھ اس مسودے پر دستخط کیے۔انہوں نے اپنی کتاب میں ڈاکٹر جہانگیر خان کے محولہ بالا انٹرویوز کا حوالہ تو دیا مگر اس بات پر کوئی گفتگو نہیں کہ لفظ پاکستان کا اصل خالق کون تھا، چوہدری رحمت علی یا خواجہ عبدالرحیم۔
یہ تو سارا تذکرہ اس بحث کا تھا جس کے مطابق لفظ پاکستان چوہدری رحمت علی یا خواجہ عبدالرحیم کا تجویز کردہ تھا۔ لفظ پاکستان کے حوالے سے ہماری تاریخ کی تمام بحثیں اسی نقطے پر آکر ختم ہوجاتی ہیں اور اس بات کو ایک طے شدہ حقیقت سمجھا جاتا ہے کہ لفظ پاکستان پہلی مرتبہ 28 جنوری 1933ء کو جاری کیے جانے والے چوہدری رحمت علی کے کتابچے ''نائو اور نیور'' میں شائع ہوا اور یہ کہ یہ لفظ چوہدری رحمت علی یا زیادہ سے زیادہ ان کے دوست خواجہ عبدالرحیم کا وضع کردہ ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ حقیقت یہ نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لفظ پاکستان 1933ء سے کوئی پانچ سال پہلے استعمال میں آچکا تھا۔ یہ لفظ کس نے اور کہاں استعمال کیا اس کے لیے ہمیں ماضی کا سفر کرنا پڑے گااور 24 ستمبر 1905ء کو طوری شریف ضلع ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والے علامہ سید علامہ غلام حسن شاہ کاظمی کے حالات سے آگاہی حاصل کرنی ہوگی۔
علامہ سید غلام حسن کاظمی کا تعلق کشمیر کی سرزمین سے تھا۔ انہوں نے تعلیم و تربیت کے مراحل اترمچھی پورہ میں طے کیے۔ یہ مقام آج ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہنڈوارہ کہلاتی ہے، جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی ضلع بارہ مولا میں واقع ہے۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد علامہ سید غلام حسن شاہ کاظمی لاہور چلے گئے جہاں انہوں نے مزید تعلیم حاصل کی۔
علامہ سید غلام حسن شاہ کاظمی کے اساتذہ میں میاں جان محمد قادری، مولانا میاں عبدالرحمن نقش بندی اور مولانا اصغر علی شامل تھے۔ علامہ غلام حسن شاہ کاظمی لاہور میں اپنے ماموں سید لعل حسین کاظمی کے پاس قیام پذیر ہوئے۔ سید لعل حسین کاظمی ابتدا میں سرکاری ملازم تھے مگر اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے ہزارہ بدر کردیئے گئے تھے۔ ہزارہ بدری کی بعد سید لعل حسین کاظمی لاہور آگئے اور مولانا ظفر علی خان کے مشہور اخبار زمیندار سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا ظفر علی خان، زمیندار کے مالک و مختار تھے، مگر اپنی صحافتی سرگرمیاں آزادانہ طور پر برقرار رکھنے کے لیے زمیندار پر بطور مدیر، کسی اور بہادر شخص کا نام درج کرتے تھے۔ تاکہ اگر کسی مرحلے پر ان کی کسی تحریر پر اعتراض ہو تو گرفت اس ڈمی ایڈیٹر کی ہو اور مولانا ظفر علی خان اپنا مجاہدانہ کام آزادی سے جاری رکھ سکیں۔ ڈمی ایڈیٹر کو سال دو سال کی سزا ہوجاتی جسے وہ ہنسی خوشی قبول کرلیتا اور زمیندار کی آزادانہ اشاعت کا سلسلہ جاری رہتا۔ چنانچہ ایسے ہی ایک موقع پر جب سید غلام حسین شاہ کاظمی، سید لعل حسین کاظمی کے پاس اقامت پذیر تھے، سید لعل حسین کاظمی جیل چلے گئے۔ ان کے جیل جانے کے بعد مولانا ظفر علی خان نے سید غلام حسن شاہ کاظمی کو زمیندار کی مجلس ادارت میں شامل کرلیا۔ اسی ادارت کے دوران انہوں نے زمیندار میں افغانستان میں انگریزوں کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک اداریہ تحریر کیا اور حکومت وقت پر سخت تنقید کی۔ حکومت نے سید غلام حسن شاہ کاظمی کو گرفتار کرلیا اور ان کو دو سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ غلام حسن شاہ کاظمی نے یہ ایام اسیری لاہور، کیمبل پور (اٹک) اور ملتان کی جیلوں میں بسر کیے۔ رہائی کے بعد غلام حسن شاہ کاظمی صاحب سری نگر آگئے اور ایک اخبار حقیقت سے وابستہ ہوگئے۔ پھر وہ بمبئی چلے گئے اور ایک ناشر مظفری اینڈ کمپنی، تاجران کتب، بھنڈی بازار کے پاس ملازم ہوگئے۔ جن دنوں مولانا غلام حسن شاہ کاظمی بمبئی میں مقیم تھے، انہی دنوں انہوں نے یکم جولائی 1928ء کو ایبٹ آباد سے ایک ہفت روزہ اخبار کے اجرا کے لیے ڈیکلریشن کی درخواست دی۔ یہ پہلا موقع تھا جب برصغیر پاک و ہند کے کسی شخص نے لفظ پاکستان استعمال کیا تھا۔
مولانا غلام حسن شاہ کاظمی صاحب نے یہ درخواست ایس اے عزیز چشتی کے توسط سے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کی خدمت میں روانہ کی تھی۔ ایس اے عزیز چشتی ضلعی مجلس اتحاد ملت ایبٹ آباد کے صدر، ضلعی مسلم لیگ ایبٹ آباد کے پروپیگنڈا سیکریٹری اور سٹی مسلم لیگ ایبٹ آباد کے سیکریٹری تھے۔ ایس اے عزیز چشتی نے اس درخواست کے ساتھ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کے نام ایک خط بھی تحریر کیا جس میں تحریر تھا:
''میں آپ کا انتہائی شکر گزار ہوں گا اگر آپ مجھے سید غلام حسن شاہ کاظمی، کی اس درخواست کے حوالے سے ،جو انہوں نے ہفت روزہ اخبار پاکستان کے ڈیکلریشن کے لیے جمع کی ہے، گفتگو کے لیے چند منٹ کی ملاقات کا وقت عطا فرمادیں''۔
یہ درخواست ڈپٹی کمشنر ہزارہ کے دفتر میں یکم جولائی 1928ء کو موصول ہوئی مگر اسی روز اس جوابی خط کے ساتھ واپس لوٹا دی گئی۔
''درخواست گزار کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی مزید تفتیش اور تحقیق کا متقاضی ہے۔ جونہی اس درخواست پر کوئی فیصلہ ہوا، درخواست گزار کو مطلع کردیا جائے گا۔''
اس خط پر ڈپٹی کمشنر ہزارہ کے سپرنٹنڈنٹ کے دستخط موجود ہیں، مگر لگتا یہ ہے کہ سید غلام حسن شاہ کاظمی کا مجاہدانہ ماضی، درخواست کی منظوری میں رکاوٹ بن گیا اور ڈپٹی کمشنر ہزارہ نے  ہفت روزہ پاکستان کے ڈیکلریشن کی درخواست مسترد کردی۔
21 مئی 1929ء کو سید غلام حسن شاہ کاظمی کے بھائی سید میرن شاہ نے انہیں مطلع کیا کہ پاکستان اخبار کے اجرا کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔ (سید میرن شاہ کا یہ خط اور اس کا لفافہ دونوں آج بھی محفوظ ہیں اور ان کا عکس اس فیچر کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔) سید میرن شاہ نے اپنے مکتوب میں تحریر کیا تھا:
''برادر مکرم! السلام علیکم و رحمتہ اللہ علیہ! شجرہ شریف چھپ گئی ہے، میں ایبٹ آباد گیا تھا، حسب الحکم پتہ کیا ہے ،پاکستان اخبار کی درخواست منظوری نہیں مل سکی ہے، آپ کی اہلیہ کی صحت ٹھیک نہیں ہے، آغا جی نے بتایا ہے کہ وہ کافی پریشان ہیں، عزیزی نذیر حسین دوائیوں کے لیے جارہا ہے، یہ خط اسے دے رہا ہوں، راستہ سے بھیج دے گا، پیسے بھی دے دیئے ہیں، آپ جلدی آنے کی کوشش کریں، بہتر یہی ہے کہ چٹھی ملتے ہی آجائیں۔
21 مئی 1929ئ         تابعدار سید میرن شاہ''۔
سید غلام حسن شاہ کاظمی نے جب  ہفت روزہ پاکستان کے اجرا کی درخواست روانہ کی تو اس زمانے میں چوہدری رحمت علی، ہندوستان ہی میں مقیم تھے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کسی خبر یا کسی اور ذریعہ سے غلام حسن شاہ کاظمی کی اس درخواست یا لفظ پاکستان کے حوالے سے کچھ سنا ہو اور یہ لفظ ان کے حافظے کا حصہ بن گیا ہو۔جنوری 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے اپنے مشہور کتابچے نائو اور نیور میں یہ لفظ پہلی بار استعمال کیا اور یوں دنیا انہی کو اس لفظ کا خالق سمجھ بیٹھی۔
سید غلام حسن شاہ کاظمی اپنی پہلی درخواست کے استرداد سے مایوس نہیں ہوئے اور انہوں نے 1935ء میں انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد ایک مرتبہ پھر  ہفت روزہ پاکستان کے اجرا کی درخواست داخل کردی۔ اس مرتبہ وہ کامیاب رہے اور یوں یکم مئی 1936ء کو ایبٹ آباد سے  ہفت روزہ پاکستان کی اشاعت کا آغاز ہوگیا۔ (اس پہلے شمارے کی لوح کا عکس اس  فیچر کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے)۔
سید غلام حسن شاہ کاظمی نے ہفت روزہ پاکستان کے دوسرے شمارے (مؤرخہ 8مئی 1936ئ) میں  ہفت روزہ کا نام پاکستان رکھنے کا سبب ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
''اخبار کا نام ہم نے پاکستان کیوں پسند کیا؟ یہ نام اس لیے اختیار کیا گیا کہ غیر مسلم اس سے بہت گھبراتے ہیں…
انہیں بتایا جائے یہ کوئی خطرناک نام نہیں۔ انہیں عقل و فکر کی دعوت دینا مقصود ہے تاکہ جو نامانوسی انہیں پاکستان سے ہے مانوسیت سے بدل سکے''۔
اس کے پہلے شمارے میں پاکستان اخبار جاری کرنے کے حسب ذیل اغراض و مقاصد بیان کیے گئے۔
''ہفت روزہ پاکستان کا کیا عقیدہ ہے کہ اسلامی تہذیب، تمدن، سیاست و معاشرت اور اخلاق و روحانیت مقدس مذہب کے اجزا میں۔ عصر حاضر کے کورباطن جہلا نے جو نیا عقیدہ وضع کیا ہے کہ مذہب جدا ہے اور سیاست جدا۔ ہمارے نزدیک یہ عقیدہ مردود ہے کیونکہ اگر مذہب اسلام سے متذکرہ فرق اجزا سے الگ کرلیے جائیں تو پھر معلوم نہیں کہ اسلام کے لیے کونسی خوبی باقی رہ جاتی ہے''۔
اخبار  ہفت روزہ پاکستان کے اجرا کی مزید وضاحت ان الفاظ میں کی گئی:
''سب سے بڑا مقصد اسلام کی خدمت، مسلمانوں کا اتحاد اور ان کی سرخروئی ہے۔ اگر یہ کام ہوجاتا ہے تو زہے قسمت!''
اخبار کے پہلے ہی اداریہ میں اپنی پالیسیوں کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ
''کانگریس کو ہم ایک فعال اور ہندوستان کی سب سے بڑی سرمایہ دار جماعت سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے اجزائے ترکیبی میں ہندو پن کی ذہنیت کی بہت زیادہ کار فرمائی ہے…
کانگریس کا ساتھ ہی یہ بھی عزم ہے کہ ہندوستان کی کمزور اور چھوٹی چھوٹی اقوام کو اکثریت والی قوم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
مسلمان، ایک قوم کی غلامی کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ ملکی اور غیر ملکی حکومت کا سوال بے معنی ہے۔ غلامی بہرحال غلامی ہے، خواہ وہ ہندو کی ہو یا کسی اور کی…! نجات و حریت اور تعمیر و فلاح کے دروازے ہر کسی پر نہیں کھل سکتے جب تک وہ اپنی تنظیم نہ کریں''۔
 ہفت روزہ پاکستان نے بہت کم زندگی پائی۔ 1937ء میں ہندوستان بھر میں انتخابات کا انعقاد ہوا۔ جس کے نتیجے میں صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت قائم ہوگئی اور ڈاکٹر خان صاحب صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ انہوں نے اپنی وزارت کے قائم ہوتے ہی 1938ء میں  ہفت روزہ پاکستان کی ضمانت ضبط کرلی اور یوں یہ جریدہ بند ہوگیا۔
علامہ غلام حسن شاہ کاظمی نے 1939ء میں سری نگر سے شائع ہونے والے ہفت روزہ حقیقت سری نگر کی ادارت سنبھال لی۔ بعدازاں وہ مظفرآباد کے ایک موضوع ٹھنگر شریف میں جابسے۔ یہاں بھی انہوں نے اپنی علمی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔علامہ غلام حسن شاہ کاظمی کو انگریزی، عربی، فارسی، اردو، ہندی، گورمکھی، پنجابی، پشتو اور ہندکو زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے مختلف مذہبی موضوعات اور انساب کے موضوع پر 127 کتابیں تحریر کیں، جن میں متعدد کتابیں ہنوز تشنہ طباعت ہیں۔14 ستمبر 1984ء کو اس مرد قلندر کا انتقال ہوگیا۔ وہ مظفرآباد کے مضافاتی گائوں ٹھنگر شریف میں آسودۂ خاک ہیں۔

تحریر: عقیل عباس جعفری


نوشته شده در تاريخ Sat 9 Apr 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست گاہ میں آئے اور چھا گئے ۔ ابھی تک وہ ہماری سیاست کے افق پر محیط نظر آتے ہیں ۔ انہوںنے سیاست میں وہ مقام حاصل کیا کہ اب ان کے مخالف بھی انہی کے انداز میں سیاست کرتے نظر آتے ہیں ۔ انہی کے سے نعرے الاپتے ہیں ۔ انہی کے لب ولہجہ اور انداز واطوار کو اپنانے کی  کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ ان کے مخالفین ان کی ہر بات پر تنقید کرتے تھے اورہر بات کو ناپسند کرکے مسترد کرتے دکھائی دیتے تھے ۔ وہ جلسہ عام میں عوام کو ہاتھ ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیتے تھے ۔ان کی پارٹی کے لوگ ہے جمالو کا نعرہ لگاتے تھے اور لڈی ڈالتے تھے ۔ یہ سب باتیں ان کے اکثر مخالفوں کو سخت ناپسند تھیں ۔ ان کی دونو ںیہی باتیں نا خوب سے خوب بن گئیں ۔ ان کے مخالفین نے چپکے چپکے یہی باتیں اپنا لیں ۔ گویا آج ہر سیاست دان سیاست میں انہی کی طرز کا پیرو دکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہ بات ہے جو سیاست کے ہرطالب علم کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاست کا مطالعہ کرے ۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی عوام سے1965ء کی جنگ میں متعارف ہوئے ۔ ان کی سلامتی کونسل میں کی گئی تقریروں نے عوام کو مسحور کردیا تھا۔ 1965ء کی جنگ شروع ہوئی تو ایوب خاں کی تقریر نے پوری قوم کو نہال کردیا ، مگر چند دنوں کے اندر اندر ایوب خاں کی تقریر پرانی ہو گئی ۔ اس کی شخصیت چند دنوں میں اس کپڑے جیسی ہو گئی جس کا رنگ کچا نکلے اور پہلی دھلائی میں مختلف رنگ ایک دوسرے پر مسلط ہو کر کپڑے کو بھدا اور بدرنگ بنا دیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سلامتی کونسل میں کی گئی تقریروں نے عوام پر ایسا سحر طاری کیا کہ تادیر باقی رہا ،مگر اس وقت میرے بچپن نے ان تقریروں سے جذبات اور جذباتیت پائے تھے ۔ جوش کا دریا تھا کہ پھر اترا ہی نہیں ۔ شاید ہمارے اجتماعی لاشعور میں جنگ اور فتوحات کا جذبہ اتنا شدید ہے جس نے ان تقریروں کو دلوں کے بہت قریب محسوس کیا ۔ ان کا یہ جملہ ہماری تاریخ سیاست کا حصہ بن گیا :
ہم ہزار سال تک لڑیں گے
1965ء کی جنگ کے ہیرو ذوالفقار علی بھٹو 1970ء کے الیکشن میں آئے تو بہت سے طبقات اور جماعتیں ان کے خلاف ہوچکے تھے ۔ ابھی ان کی پارٹی کا منشور سامنے نہ آیا تھا کہ 113علما کا فتویٰ بھی آگیا ۔ اس فتویٰ میں پیپلزپارٹی، عوامی لیگ، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام کو ووٹ دینا ممنوع قرار دیاگیا :
واجب القتل اس نے کیا ثابت
آیتوں سے روایتوں سے مجھے
یہ انتخاب ہماری تاریخ میں بہت کٹھن رہا تھا ۔ پورا معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا تھا ۔ اسلام پسند اور ترقی پسند دو دھڑے تھے کہ ہر جگہ نظر آتے تھے ۔ ایک دراڑتھی جو معاشرے میں ہر جگہ دور سے نظر آتی تھی ۔ یہ عمودی تقسیم ایسی خوفناک تھی جس نے افقی سطح پر بھی ملک کو تقسیم کردیا ۔ ملک دو حصوں میں بٹ گیا ۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور ہم یہ سوچتے رہے کہ وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہو ئے اور وہ ساحلوں پر گانے والے کیا ہوئے ۔ ناصر کاظمی یہ دکھ لے کر دنیا سے چل دئیے :
یہ ہم آپ تو بوجھ ہیں زمیں کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
1970ء کے الیکشن سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کے چار اصول طے کیے :
اسلام ہمارا دین ہے۔
جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
سوشلزم ہماری معیشت ہے ۔
طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔
جماعت اسلامی کے لوگوں کو موخرالذکر تینوں اصول کفر اور شرک نظر آئے کیونکہ ان کی نظر میں اسلام کا مقصد ہی ایک خاص نظام حکومت کا قیام ہے ۔ ان کی دینی تعبیر اسلام کو دین نہیں سمجھتی ، سیاست ہی سمجھتی ہے ۔ سیاست بھی وہ جو ان کے مفاد کی ہو۔ بھٹو کا سارا فلسفہ سیاست ہی ان کے نزدیک ممنوعات کے ذیل میں آتا تھا ۔ انہوں نے مخالفت کرنا تھی ، کرتے رہے ، البتہ ان کا لہجہ اور انداز جنگ کسی حوالے سے بھی اسلام کے مطابق تو خیر کیا ہوتا شرافت کے عام اصولوں پر بھی پورا نہیں اترتا تھا ۔ یہ لوگ دعائیں کرتے کہ پاکستان پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے جیسے انڈونیشیا کے مسلمانوں پر ہوا ہے ۔ مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک سوہارتو عطا کرے ۔ ان صاحب کے طویل دور حکومت میں جمہوریت ویسے ہی ممنوع رہی تھی جیسے ہمارے ہاں ضیا الحق کے دور میں ۔ ان بزرگوں کی دعائیں قبول ہوئیں یا ان سے کیے گئے وعدے ایفا ہوئے کہ سات سال بعد انہیں ضیاالحق کی صورت میں ایک سوہارتو مل گیا ۔
جماعت اسلامی اورپیپلزپارٹی کی فلاسفی میں بنیادی تضاد تھا ، لہٰذا ٹکرائو یقینی تھا مگر لطف یہ کہ کونسل مسلم لیگ ، کنونشن مسلم لیگ ، قیوم لیگ ، پی۔ ڈی ۔ پی اور تحریک استقلال جیسی جماعتیں بھی اسلام کی دہائی دینے لگیں ۔ ان سب جماعتوں کو اعتراض تھا پیپلزپارٹی کے سوشلزم پر، انہیں اس لفظ سے کوئی ایسی کد نہیں تھی ، بس ڈر تھا کہ کہیں ان کی بے حدو حساب دولت اور جائیداد میں کوئی دوسرا حصہ دار نہ بن جائے ۔ ذاتی ملکیت کچھ ایسی مقدس ٹھہری تھی کہ یہ جماعتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ہنگامہ آرا نظر آتی تھیں ۔ ان جماعتوں کو فتوے کی تائیدبھی میسر تھی ، اسلام کا نعرہ بھی موجود تھا، الیکشن میں کامیابی کے امکانات خاصے روشن نظر آئے ۔ اسی لیے یہ جماعتیں مل بیٹھ کر اتحاد کا سوچتیں، مگر اتحاد کر نہ پاتی تھیں کہ کوئی جماعت بھی جیتا جتایا الیکشن دوسری جماعت کی جھولی میں ڈا لنے کو تیار نظر نہ آتی تھی۔ الیکشن ہوا تو یہ جماعتیں آسمان سے زمین پرآرہیں۔
الیکشن میں ریڈیو ، ٹی ۔ وی تو سرکاری تھے اور سرکار مارشل لا کی تھی ۔ الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی باتیں شجر ممنوعہ کے ذیل میں آتی تھیں۔ نوابزادہ شیر علی خاں وزیر اطلاعات تھے ۔ پاکستان میں نظریہ پاکستان انہی نے متعارف کرایا تھا ۔ ریڈیو ۔ ٹی وی پر اس کی باز گشت سنائی دیتی تھی ۔ سنا تو یہ بھی تھا کہ نوابزادہ شیر علی خاں نے دائیںبازو کی جماعتوں کو خاصی مدد فراہم کی لیکن الیکشن کے نتائج ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے ۔
الیکشن ہو چکا تو نتائج مارشل لا حاکم کی مرضی کے خلاف نکلے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان سے جو نتائج سامنے آئے ، وہ بڑے پلان کے عین مطابق تھے ۔ ایوب خاں مرحوم کتنے ہی لوگوں سے کہہ چکے تھے کہ مشرقی پاکستان والے چاہیں تو الگ ہو جائیں ۔ جسٹس منیر بھی یہی روایت کرتے ہیں ، الطاف گوہر بھی ۔ الطاف گوہر نے یہ بات بار بار کہی ہے کہ ایوب خاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے خواہاں تھے ۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تو تھا نہیں ۔ اس میں کچھ بڑی قوتیں بھی شامل حال تھیں ۔ عالمی قوتوں کی رضا بھی ایسے ہی ہوگی ۔ مسئلہ تھا ذمہ داری کس پر ڈالی جائے ۔ اس مقصد کے لیے بھی کردار میسر آگئے ۔مجیب الرحمن غدار قرار پائے ۔ ملٹری ایکشن شروع ہوا ۔ جماعت اسلامی آمریت کی شراکت دار تھی ۔ وہ فوراً شریک اقتدار ہو گئی ۔ الیکشن ہار کر شریک اقتدار ہونا کیسا پر لطف تجربہ ہے ۔ یہ تو جماعت اسلامی والے بتا سکتے ہیں ۔ پھر رائو فرمان نے مشرقی پاکستان سے کچھ سیٹیں خالی کیں اور ان کی تقسیم یوں کی کہ اندھے کی ریوڑیاں بھول گئیں ۔ صفر پر آئوٹ ہونے والے بلا مقابلہ جیت رہے تھے ۔ قیوم لیگ ، کنونشن لیگ ، پی ۔ ڈی ۔ پی ، کونسل لیگ وغیرہ بھی مشرقی پاکستان سے بلا مقابلہ جیت رہی ہیں ۔ ایسے الیکشن ہمیشہ مذاق ہی ٹھہرتے ہیں ۔ آخر البدر اور الشمس کی رفاقت کے باوجود اے ۔ کے نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ جنرل یحییٰ خاں نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کیا اور خود چلتے بنے، مگر ان کی رخصتی کی رات ،شب بھر آتش دان میں آتش فروزاں رہی ۔ کے۔ کے عزیز نے ذوالفقار علی بھٹو سے کچھ ریکارڈ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یحییٰ خان کمپنی اور آتش دان کی طرف اشارہ کردیا۔ جب سچائی کا اظہار اشاروں اور استعاروں میں ہو تو جھوٹ سکہ رائج الوقت بن جاتا ہے ۔ بس کچھ ایسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو سقوط ڈھاکہ کے ملزموں میں شامل کیاگیا ۔ فیصلہ کرنے والے وہی تھے جو البدر اور الشمس کے نام بنگالیوں کی نسل کشی میں ہم نوائی کررہے تھے ۔

ہاں جرم وفا دیکھیے کس کس پہ ہے ثابت
بیٹھے ہیں ذوالعدل گنہگار کھڑے ہیں
حمود الرحمن کمشن رپورٹ آئی تو حقائق ، تہمتوں سے متضاد نظر آنے لگے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق کہا گیا کہ انہوں نے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا ۔ جس تقریر سے یہ جملہ برآمد کیا جاتا ہے ، اس میں یہ چار لفظ کہیں موجودنہیں ۔ پیپلزپارٹی نے مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن کی مخالفت نہیں کی تو البدر الشمس بناکر حمایت بھی تو نہیں کی تھی، مگر مارشل لائوں کو سقوط ڈھاکہ کا ایک عدد مجرم درکار تھا سو یہ رو سیاہی شہید بھٹو کے نام لکھی تھی ، مگر تاریخ ایسی تہمتوں کو تادیر برقرار نہیں رکھتی ۔ آخر کار یہ افسانہ قدیم ہوا اور سچ کا سورج طلوع ہوکر رہا ۔
ذوالفقار علی بھٹو سقوط مشرقی پاکستان کے بعد اقتدار میں آئے۔انتقال اقتدار رات کی تاریکی میں ہوا تھا ۔ ضابطوں کے بغیر ، قانونی تقاضوں کے بغیر ، ملک کو یحییٰ خان کمپنی سے نجات دلانا مقصود تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایسے میں ایک شکست خوردہ قوم کی قیادت سنبھالی چند ماہ بعد ایک عبوری آئین دے کر ملک کو جمہوریت دی اور پھر 1973ء کا آئین دے کر پہلا متفقہ قومی آئین دیا ۔ یہ پاکستانی قوم کا پہلا تحریری میثاق تھا ، جو ہمیشہ مارشل لائوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا ۔ ہر آمر اس آئین پر شب خون مارتا تھا ۔ نتیجہ یہ کہ آج اس کی شکل پہچاننا مشکل ہو رہا ہے ۔
ذوالفقار علی بھٹو جب انتخابی مہم پر نکلے تھے تو اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں صرف اخبار اور رسائل موجود تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تب میڈیا ٹرائل شروع ہوا جو کم از کم چوتھائی صدی چلا ۔1970ء میں زندگی اور چٹان دیکھنے کی چیز تھے ۔ لفظ لفظ گالی اور دشنام کا رنگ لیے ہوئے تھا ۔ حرف حرف اتہام اور دشنام تھا ۔ جب مرحوم بھٹو اقتدار میں آئے تو زندگی، اردو ڈائجسٹ وغیرہ نے وہی طرز ملامت جاری رکھی ۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے ، مگر کسی کا جعلی شجرہ چھاپنے والے اختلاف کرنا نہیں جانتے حکم دیتے ہیں ۔ یہی کام آج کل بعض اینکر پرسن کرتے ہیں ۔ فیصلے صادر کرتے ہیں ۔ حکم نافذ کرتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو جمہوری حاکم تھے ۔ ان کے فرمانبردار کیسے بنتے ۔
ذوالفقار علی بھٹو کے ساڑھے پانچ سال میں اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے اختلاف اور دشمنی کو ہم معنی بنا دیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آتے ہی بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلی ۔ یہ تحریک جن لوگوں نے چلائی تھی وہ پراسرار غازی بے تیغ لڑنا چاہتے تھے اور مومنوں کو شہادت کی تعلیم دے رہے تھے ۔ اب بندہ پوچھے کہ ایک مسلمان مملکت کو آپ نہ مانیں گے تو کیا وہ کل کلاں آپ میں ضم ہو جائے گی ۔ خیربڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ ایسے ہی بڑے خواب دیکھنے والوں کے اپنے خواب ۔
عوامی اقتدار کے مخالفین دن گنتے رہے اور حکومت کو ناکام کرنے کے لیے سازشیں بھی کرتے ر ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا اور اسمبلیاں توڑ دیں ۔ یہ موقع عوامی اقتدار کے مخالفین کے بہت سنہری تھا ۔ اپوزیشن کی وہ جماعتیں بھی یکجا کردی گئیں جو ایک دوسرے کو سلام کہنا اور مصافحہ کرنا ممنوعات میں سے خیال کرتی تھیں ۔ان کی یکجائی کو بعض سادہ لوح یک جہتی سمجھتے تھے ۔ ہمارے بعض انقلابی دوست بھی اس اتحاد میں جا بیٹھے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اس طرح انقلاب برپا ہوسکے گا ۔ نام تو اس اتحاد کا پاکستان قومی اتحاد تھا ، مگر اس کے اندر نفاق کی بھی خاصی گنجائش تھی ۔ الیکشن ہوا۔ پیپلزپارٹی الیکشن جیت گئی ، مگر ہار گئی ۔ پاکستان قومی اتحاد نے تحریک چلانے کا اعلان کیا اور نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر کا راستہ ہموار کردیا ۔ جنرل ضیا نوے دن کے وعدے پر اقتدار میں آئے ، مگر یہ نوے دن تب بھی نوے دن ہی تھے جب وہ گیارہ سال گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے۔
جنرل ضیانے ادھر تو نظام مصطفی کا نعرہ بلند کیا، ادھرپیپلزپارٹی کے لیے وہ غیظ وغضب ہو گیا ۔ ان کے گیارہ سالوں میں قرآن مجید کی اس آیت کا تذکرہ بہت کم سننے میں :اور ہم نے نہیں بھیجا ، مگر آپ کو رحمت للعالمین بنا کر ۔ اس دور میں حضور سرور کونین کا خطبہ حجة الوداع سنسر ہوا تھا۔ کسی کی کیا مجال جو کہہ سکتا کہ حضور تو
رحمت عالم رحمت عالمین تھے ۔ آپ کے نظام میں غیظ و غضب کیسا۔ اس عہد میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ایسے شخص کے قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیاگیا ، جو اب بھی زندہ ہے ۔ لوگ حیران ہیں کہ بھٹو مرحوم پرا لزام تھا کہ انہوں نے احمد رضا قصوری کے قتل کا حکم صادر کیا ۔ مقدمے کا دعویٰ تھا کہ محمد احمد خاں غلطی سے قتل ہوا ۔ نظام مصطفیٰ میں یہ قانون تسلیم شدہ ہے کہ قتل خطا کا قصاص نہیں ہوتا ، مگر یہاں تو صورتحال ہی عجیب تھی ۔ بھٹو مرحوم پر الزام جھوٹ کا پلندہ تھے اور نفرت کے جذبوں سے پھوٹے تھے ۔ ایسے سوالوں کا جواب کون دے اور ایسے الزامات کی صفائی کون دے :
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
ذوالفقار علی بھٹو پر جس عدالت میں مقدمہ چلا ، اس عدالت کا جج اپنی ہی عدالت کی توہین کیے جاتا تھا ۔ اس کی نفرت چھپائے نہ چھپتی تھی ۔ وہ سوال بھی کرتا اور الزام بھی عائد کرتا ۔ جن باتوں کا مقدمے میں تذکرہ تک نہیں تھا، وہ باتیں جج صاحب کیے جاتے۔ یوں نظر آتا تھا جیسے جج صاحب ذاتی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ جن لوگوں نے عدل کی کرسی کی توہین کی ، وہ دنیا سے جاچکے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ اپنی کوتاہ قامتی کا چلتا پھرتا اشتہار ہیں ۔ آخر ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لے جایاگیا ۔ وہ اس شان سے چلے کہ فیض کا شعر پہلی بار اپنے معنوں سے آشنا ہوا :
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو سوئے دار سے نکلے تو سوئے دار چلے
بھٹو نے کہا تھا کہ مجھے ہمالہ روئے گا ۔ہمالہ آج بھی انہیں رو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں چلا جائوں گا تو میری روح حکومت کرے گی ۔ وہ اس شان سے چل رہاتھا کہ اس کے ساتھ تاریخ محو خرام تھی ۔ وہ تختہ دار پر چڑھا تو سربلند ہو گیا ۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد سیاست میں قوم کو کیا دیا ۔ ہر شخص اپنے فہم کے مطابق اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہے ۔ میں اپنے انداز سے اس کا جواب ڈھونڈتا ہوں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے پہلے سیاست ڈرائنگ روم میں محدود تھی۔ وہ اسے میدانوں ، کھیتوں، کھلیانوں اور گلی کوچوں میں لے آئے ۔ زمیں دار سیاست کا حصہ بن گئے ۔

تحریر:امجد علی شاکر


نوشته شده در تاريخ Sat 9 Apr 2011 توسط محمد نظیر عرفانی

یہ بات بہت پرانی ہے کہ جب انسان بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسکی نیند کم ہوجاتی ہے۔ کچھ ماضی کی غلطیاں اسے سونے نہیں دیتی ہیں اور کچھ مستقبل میں ہونے کا خوف اسے ہراساں رکھتا ہے۔ اس بیچ کے عرصہ میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ اتنا یاد نہیں رہتا ہے۔ اس عرصہ میں بڑے ہوتے ہوئے بچے اس سے دور ہوجاتے ہیں اور وہ ان ہی بچوں میں شبیہہ ڈھونڈتا رہ جاتا ہے۔
یہی حال کچھ اپنے پاکستان کا ہے۔ 63 سال کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا ہے۔ کئی حکومتیں آئیں اور کتنی چلی گئیں۔ کتنے لوگوں کی جانیں گئیں۔ کتنے ہی لوگوں نے مرمر کے اس پودے کو سینچا، پانی ڈالا اور ہرا بھرا رکھنے کی کوششیں کیں اور کتنے ہی لوگوں نے اسکے ہرے بھرے پتوں کو پیڑوں سے توڑ کر زمین پر پھینک دیا، کتنی ہی کلیوں کو روندا گیا اور تناور درخت بنتے بنتے اس پودے کی جڑیں سوکھنے لگیں۔ وجہ ہماری ہی غلطی ہے جس کا خمیازہ ہماری آنیوالی نسلیں بھگتیں گی۔ اس پودے کے پتے جب اپنے درخت سے ٹوٹ کر بکھرنے لگے تو اڑ اڑ کر دوسرے ملکوں میں جاکر بس گئے کہ کم از کم ہرے بھرے تو رہیں گے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔
آج کل ٹی وی پر ہر طرف اٹھو، جاگو، پاکستان'' اور نہ جانے کتنے ایسے ہی پروگرام دکھائے جا رہے ہیں۔ شائستہ واحدی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ صبح صبح اس پروگرام کو دیکھ کر خوش ہوں۔ مختلف لوگوں کی محاذ آرائی، خودنمائی، اچھے میک اپ اور اچھے کپڑوں کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔ خواتین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اینکر کے نت نئے ڈیزائن اور کپڑے دیکھ کر خوش ہوں۔ مختلف شوز میں ''لان میلہ'' کے پرنٹ دیکھنا دل کو خوش کر جاتا ہے مگر ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ اس پروگرام میں ''پاکستان کیسے جاگ گیا''… کیا  صرف ہنسی مذاق، باتیں، تبصرے پاکستان کو جگا دینگے۔ ہم کہاں سے اٹھ کر پاکستان کی قسمت بدل دینگے، کیونکہ پاکستان کی قسمت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ تو سو رہے ہیں۔ اچھا طرزعمل، اچھی تعلیم، اچھی سوچ، اچھے لوگ اور اچھی حکومت ہی پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے مگر لوگ ہی بیچارے کیا کریں جن کے پاس مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ جن کے پاس روٹی، کپڑا اور مکان جیسے وسائل کی کمی ہے۔ جن کے پاس اچھی عدالتیں نہیں، جن کے پاس قانون کے رکھوالے نہیں، جن کے پاس تعلیم نہیں، بلکہ تعلیم کے نام پر مذاق ہورہا ہے۔ جن کے چولہے بجھے رہتے ہیں۔ جن کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ جہاں پانی کی کمی رہتی ہے۔ ان ساری چیزوں کی کمی کے بعد بھی پاکستان کو جگائے رکھنا بہت ہمت کی بات ہے۔
ہم سب کو پتہ ہے کہ ساری چیزیں ناپید ہونے کے باوجود ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیونکہ ابھی آگے نہ جانے کتنی بڑی زندگی پڑی ہے جس کو صرف جھیلنا ہے اور 63 سال کے پاکستان کو ہلا ہلا کر جگانا ہے۔ اسکی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو سینچنا ہے اور کچھ کرنے کا وقت ہے۔
ابھی تھوڑے دن پہلے جاپان کے شہر سینڈائی میں اندوہناک زلزلہ اور پھر سونامی نے تو پورے شہر کو نیست و نابود کردیا۔ ایک قیامت بپا ہوئی اور ابھی تک اندازے کے مطابق تقریباً 18 ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔ ابھی تک نہ جانے کتنے لوگ غائب ہیں جن کو سمندر کی لہریں کھا گئیں۔ ایسی خبریں دیکھ کر تو دل تقریباً دھڑکنا بھول جاتا ہے مگر بعد میں مختلف کلپس میں لوگوں کا حوصلہ، انکی خاموش ہمت اور متحد ہو کر ایک جگہ کھڑے ہو کر انکی کارکردگی دیکھ کر دل عش عش کر اٹھا۔ تقریباً پندرہ ممالک کے بھیجے ہوئے امدادی کارکن اور امداد انکو حوصلہ دینے کیلئے موجود ہیں۔ ان حالات میں لوگ نہ کسی کو لوٹ رہے ہیں نہ جیبیں کاٹ رہے ہیں نہ سامان لیکر بھاگ رہے ہیں نہ ہی بے حوصلگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ قدرتی آفات ہر جگہ ہر ملک ہر شہر میں بپا ہوسکتی ہیں، ان پر تو کسی کا بس نہیں کیونکہ اللہ کے سامنے ہم سب مجبور ہیں۔ اسکی قدرت کب حساب دہ ہوجائے، کسی کو نہیں پتہ، سوائے ''توبہ'' کے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ مگر پاکستان میں سونامی جیسی چھوٹی چھوٹی آفات آرہی ہیں جو سب کو کھا رہی ہیں۔ کسی بھی وقت دھماکہ ہوجاتا ہے۔ چالیس سے پچاس لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ میں کتنے ہی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں اور اپنے پیچھے پورے خاندان کو مرنے کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔ کتنے ہی غربت کے ہاتھوں خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، کتنے ہی نوجوان جیلوں میں پولیس کے ہاتھوں مر جاتے ہیں مگر ان سب آفات کو ختم کرنے کیلئے باہر سے کوئی امداد نہیں آئیگی۔ ہم اپنے گھر کو ختم کرنے کیلئے خود ہی مجرم ہیں۔ تو پھر باہر سے کسی مدد کا انتظار کیوں؟
پاکستان میں زلزلہ آیا، طوفان آیا، سیلاب آیا، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے اصولوں پر سب کام کئے مگر ان میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے مدد کے نام پر خوب نوچا کھسوٹا، غریبوں کو تو شاید چار آنے کا بھی فائدہ نہیں ہوا مگر نہ جانے کتنے لوگوں کی تجوریاں بھر گئیں۔ جن کے گھر بنے تھے بہہ گئے مگر دوسری طرف لوگوں کے گھر اور اونچے ہوگئے اور بیچارے جو ان چیزوں کا شکار ہوئے وہ ابھی تک کسمپرسی کی زندگی گزار ر ہے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو کیسے جگایا جائے؟ جہاں کے وزیر پارلیمنٹ میں بیٹھے بیٹھے سو جاتے ہیں۔ جن کو کسی آفات کا ڈر نہیں، جن کو کسی مسئلہ سے دلچسپی نہیں، انہیں ایسی ہی نیند آجاتی ہے۔ ''اٹھو، جاگو پاکستان'' جیسے کسی پروگرام میں یہ کلپس دکھائی گئیں اور سوال تھا کہ کون گہری نیند سو رہا ہے؟ یہ دیکھ کر شرم تو آئی مگر افسوس زیادہ ہوا کہ جب پورا پاکستان بھوک، غربت، بیروزگاری، لاچاری، بے کسی سے جاگ رہا ہے تو یہ کیوں سو رہے ہیں؟ اسکو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ''اٹھو، جاگو پاکستان'' جیسے پروگرام بار بار دکھائے جائیں کہ شاید یہ کبھی جاگ جائیں۔


نوشته شده در تاريخ Wed 30 Mar 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
چائے کے کپ کے ساتھ ورلڈ کپ کو ملانا ایسا ہی ہے جیسے شہزادہ سلیم کے ساتھ زرداری کا نام لینا۔ قذافی،حسنی مبارک،ریمنڈ ڈیوس،نواز شریف کا10 نکاتی ایجنڈا،شاہ محمود قریشی سب کو ڈالو بھاڑ میں اور بس دیکھو ورلڈ کپ۔جہاں کرکٹ شروع وہاں باقی سب کوڑا کرکٹ۔جب تک پاکستان جیتتا رہے تالیاں،جہاں ہارا وہیں گالیاں۔انقلاب نہیں لانا ابھی تو صرف ورلڈ کپ لانا ہے۔حکمراں خزانہ لوٹیں،پنجاب اسمبلی لوٹے خریدے،قوم کو فکر نہیں۔عمران خان نوجوانوں کو سڑکوں پر لانے کیلئے بے چین ہیں تو نوجوان آفریدی کے چھکے دیکھنے کیلئے بیتاب۔الطاف حسین ،عمران اور نواز کو نہ پٹا سکے تو چلو سرفراز نواز ہی سہی،سرفراز کے پاس پہلے فلموں کی رانی تھی تو اب سیاست کا راجہ ہے۔سب خوش کہ چلو کرکٹ کے سیزن میں ایک سابق کپتان ہی ہاتھ لگ گیا۔اب ایم کیو ایم سرفرازنواز سے عمران خان کے چھکے چھڑوائے گی۔کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ کوئی نئی بات نہیں۔دونوں میں سات خون معاف۔ اب تو ”ایک ہی نعرہ ہے --- ورلڈکپ ہمارا ہے“۔ ورلڈکپ کے آتے آتے دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے ہمیں کیا۔ سیلاب کے متاثرین ٹھنڈ سے مرجائیں،ورلڈکپ کے بعد دیکھیں گے،ریکوڈک معاہدہ ہو جائے گا،فائنل کے بعد سوچیں گے،امریکہ ریمنڈ کو نسوار میں زہر دے دیگا،سیمی فائنل کے بعد احتجاج کرلیں گے ،ڈرون حملوں اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ،خیال رکھنا میچ متاثر نہ ہو ورنہ عوام بدک جائے گی۔کرکٹ میں جیت کیلئے کروڑوں ہاتھ دعا مانگنے کیلئے اٹھ گئے،ٹارگٹ کلرز کومارنے کیلئے ایک بھی آہنی ہاتھ نہ اٹھا۔ زرداری کو جاپانیوں سے مطلوبہ "بھیک" حاصل کرنے میں ناکامی،کوء بات نہیں ہمارا حدف تو کامران اکمل کو کامران دیکھنا ہے۔ (مرزا یاسین بیگ ، کینیڈا)
نوشته شده در تاريخ Thu 3 Mar 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
"محمد علي دوراني " *و عضو مجلس سناي پاکستان با اشاره به تاثير رهبري امام خميني (ره) در شكل‌گيري انقلاب اسلامي در ايران، ايشان را يكي از بزرگترين رهبران طول تاريخ خواند.
سناتور پاكستاني در پاسخ به اين سئوال كه بعد از حدود 3 دهه از عمر انقلاب اسلامي ايران آن را چگونه ارزيابي مي‌كنيد، پاسخ داد: انقلاب ايران همچنان موفق عمل مي‌كند و مردم ايران نيز از آن سود مي‌برند.
وي افزود: ملت ظلم ديده و سركوب شده ايران براي احقاق حقوق خود بسيج شدند و اين منجر به انقلاب در اين كشور شد و تاريخ ثابت كرده است رهبران انقلابي آن در مسير صحيحي حركت مي‌كنند.
عضو مجلس سناي پاكستان تصريح كرد: بدون رهبري امام خميني فكر نمي‌كنم هيچ انقلابي در ايران صورت مي‌گرفت و شخصيت دورانديش امام خميني مردم ايران را در مسير صحيحي هدايت كرد.
وزير سابق اطلاع رساني پاكستان گفت: اگر جهان اسلام بخواهد با احترام و عزت زندگي كند، انقلاب اسلامي ايران درس‌هاي زيادي دارد كه به آنها بياموزد.
وي تاكيد كرد: ايران ثابت كرد يك كشور مي‌تواند بدون حمايت ابرقدرت‌ها راه خود را ادامه دهد و كشورهاي مسلمان بايد ايران را در اين رابطه الگو قرار دهند.
دوراني در پايان گفت: با وجود اعمال تحريم‌هاي مختلف عليه ايران، اين كشور نه تنها توانسته است مشكلات را پشت سر بگذارد بلكه با غرور و سرافرازي نيز به راه خود ادامه مي‌دهد.

نوشته شده در تاريخ Fri 4 Feb 2011 توسط محمد نظیر عرفانی
هیلاری کلینتون  وزیر امور خارجه آمریکا، در یک تلگراف سری، اعلام کرد که عربستان  سعودی از پدید آمدن مثلث شیعی متشکل  از ایران، پاکستان،) که ریاست جمهوری آن را آصف علی زرداری شیعی مذهب بر عهده دارد( و عراق تحت حکومت دولت نوری المالکی، هراس دارد.

روزنامه عراقی "المراقب" در همین رابطه با اشاره به اطلاعات منتشر شده توسط پایگاه ویکی لیکس نوشت:کلینتون در این تلگراف که عبارت است از گزارش دیدار وی با مسؤولان امارات در آوریل 2009، یادآور شد که شیخ عبد الله بن زاید وزیر امور خارجه امارات متحده عربی، به وی اطلاع داده که سعودی‌ها حتی یک روز از بابت حزب "مردم" پاکستان که ریاست آن را زرداری بر عهده دارد، آسوده‌خاطر نبوده‌اند.

شیخ زاید همچنین گفت: سعودی‌ها احتمال می‌دهند که زرداری گرایش شیعی داشته باشد و در راستای تقویت روابط خود با ایران و در نتیجه تشکیل مثلث شیعی تلاش کند.

خاطرنشان  می‌شود تلگراف‌های دیپلماسی که پایگاه ویکی لیس مورد بررسی قرار داده، نشان می‌دهد که ملک عبد الله بن عبد العزیز به زرداری اعتماد ندارد  و ترجیح می‌دهد که پاکستان  رهبر دیگری داشته باشد.

ملک عبدالله در دیدار با جیمز جونز، مشاور  امنیت ملی رئیس جمهور آمریکا در ژانویه 2009، زرداری را سر فاسدی توصیف  کرد که اثر آن به تمام بدن سرایت خواهد کرد.

در تلگراف دیگری به عنوان خلاصه‌ای از گزارش  این دیدار، آمریکایی‌ها نگرش ملک  عبد الله و سعودی‌ها به اوضاع  پاکستان را این گونه ارزیابی کرده‌اند: به نظر می‌رسد که آن‌ها به دنبال رهبر دیگری هستند، یعنی حاکم و رهبری نیرومند و قاطع که نسبت به وی شناخت داشته باشند  و بتوانند به او اعتماد کنند.

بر اساس تلگراف‌ها، سعودی‌ها خواهان آن هستند  که ارتش پاکستان همچنان در رأس قدرت باقی بماند. مطابق یکی از تلگراف‌ها،  وزیر کشور عربستان، امیر محمد بن نایف،  ارتش پاکستان را این گونه توصیف  کرده است: اسب بَرنده عربستان در پاکستان.

سفیر پاکستان  در ریاض، به تردید سعودی‌ها در خصوص گرایش‌های  مذهبی زرداری و نزدیکی وی به ایران  اشاره کرد و گفت: سعودی‌ها به رئیس جمهور زرداری اعتماد ندارند، زیرا او رابطه نزدیکی با ایران دارد.

زرداری پیش  از این هنگامی که دوره ریاست جمهوری‌اش را با سفر به چین و اروپا و آمریکا آغاز کرد، با اشاره آشکاری به دوری‌اش از عربستان، سعودی‌ها را خشمگین کرده بود. عربستان سعودی نیز در مقابل، با در پیش گرفتن سیاست تأمل تا روشن شدن امور، کمک‌های نفتی خود به پاکستان را قطع کرد و مساعدات مالی‌اش را کاهش داد


نوشته شده در تاريخ Sat 25 Dec 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
پيام مقام معظم رهبري به حجاج بيت‌الله‌الحرام: " وظیفه‌ی بزرگِ آن هم، فرمان دادن به نیكی و بازداشتن از بدی و ایمان راسخ به خداست.  هیچ معروفی برتر از نجات ملت‌ها از چنگال قدرت اهریمنی استكبار و هیچ منكری زشت‌تر از وابستگی و خدمت به مستكبران نیست. امروز كمك به ملت فلسطین و محاصره شوندگان غزه، همدردی و همراهی با ملت‌های افغانستان و پاكستان و عراق و كشمیر، مجاهدت و مقاومت در برابر تعدی آمریكا و رژیم صهیونیستی، پاسداری از اتحاد مسلمانان و مبارزه با دست‌های آلوده و زبان‌های مزدوری كه به این اتحاد ضربه می‌زنند و گستردن بیداری و احساس تعهد و مسئولیت در میان جوانان مسلمان در همه‌ی اقطار اسلامی، وظایف بزرگی است كه متوجه خواص امت است."

چر مقام معظم رهبري در پيامشان به حجاج بيت الله الحرام به كشتار مردم كشمير اشاره فرمودند؟

كشتار در كشمیر، چرا؟

كشمیر در ماه های گذشته روز های پر التهابی را پشت سر گذاشته است. اهالی مسلمان كشمیر علی رغم برقراری مقررات منع رفع و آمد در روز های گذشته تظاهرات های اعتراض آمیزی را جهت محكوم كردن اهانت به قرآن برنامه ریزی كردند كه به درگیری با پلیس و بر جای ماندن چند كشته و زخمی منجر شد. مردم این منطقه علی رغم فشارهای زیادی مانند برقراری حكومت نظامی، هر روز تظاهرات خود را برای عقب نشینی نیروهای نظامی و شبه نظامی هند و همچنین رسیدن به خواسته های خود ادامه می دهد كه البته تظاهرات های سه ماهه گذشته در این منطقه 105 كشته برجای گذاشته است. تظاهرات كنندگان خواستار استقلال کشمیر، رسیدگی به وضعیت بد زندگی مردم و تبعیض‌های اعمال شده علیه مسلمانان در این منطقه و عقب نشینی نیروهای نظامی هند هستند.

ریشه این بحران در كجاست؟‌

ریشه بحران کشمیر به زمان تقسیم شبه قاره (اوت سال 1947م) برمی گردد که انگلستان در طرح تقسیم این منطقه وسیع تکلیف این منطقه را در هاله ای از ابهام باقی گذاشت و زمینه را برای شکل گیری نزاع مستمر بین پاکستان و هند فراهم نمود، به طوری که تاکنون این دو کشور بر سر مسائل مربوط به كشمیر چهار بار (سالهای 1948، 1965، 1971 و 1999)  با یکدیگر درگیری نظامی پیدا کرده و در طول این مدت نیز بارها درگیری های پراکنده مرزی در منطقه کشمیر داشته اند. از سوی دیگر، این بحران به رقابت تسلیحاتی گسترده در جنوب آسیا و دو قدرت مزبور کمک نموده و نوعی تکامل سلاح هسته ای و اتمی را در این دو كشور باعث گردیده است. همچنین دولت های هند و پاکستان بارها با یکدیگر بر سر اختلافات دو جانبه مذاکره نموده و حتی پس از جنگ 1971 موافقت نامه معروف "سیملا" را در 1972  امضا كردند و سازمان ملل متحد نیز طی دو قطعنامه در سال های 1948 و 1949، سرنوشت مردم کشمیر را به عهده خود آن ها گذاشت اما هند كه بحران كشمیر را جزء مسائل داخلی خود تلقی می كند از انجام موافقت نامه ها و قطعنامه ها سر باز زده و هر نوع دخالت دولت ها و مجامع بین المللی را در امور کشمیر رد نموده است.

تیرگی روابط بین هند و پاکستان به مدت دو سال ادامه داشت و به کاهش سطح روابط سیاسی و حتی ارتباطات ترابری و اقتصاد آنها انجامید.
شورش و نا آرامی در کشمیر از سال 1989 شروع شده است و پیوسته تا كنون ادامه داشته است. شبه نظامیان مسلمان مخالف حکومت هند در کشمیر با هدف الحاق دو بخش این سرزمین به پاكستان و یا استقلال آن از هند در سال 1989 میلادی دست به شورش مسلحانه زدند که از آن زمان تا كنون بیش از 40 هزار نفر در این راه کشته شده‌اند. از آن زمان تا کنون ادعای مقامات هندی این است که پاکستان به شورشیان منطقه که خواستار جدایی کشمیر هستند کمک می‌کند. اما مقامات اسلام آباد می‌گویند که پاکستان فقط از این افراد حمایت معنوی به عمل می‌آورد.

روابط هند و پاكستان

اگر چه تحت تأثیر تحولات این منطقه، دولت های هند و پاكستان دوره های پر تنشی را از سال 1989 سپری كرده بودند اما جریان هایی در این دو دولت طی سال های 1996 م و 1997 م. سعی در حل اختلافات از طریق مذاكرات نمودند. مذاكراتی كه به علت بهره مندی هر دو كشور از سلاح هسته ای جهان به نتیجه بخش بودن آن بسیار امیدوار بود . نه تنها تنش در روابط دو کشور، که جدایی طلبان کشمیر  به آن دامن می‌زدند، به طور کامل رفع نشد بلكه در دسامبر سال 2001، در پی حمله مسلحانه به پارلمان هند كه 14 كشته بر جای گذاشت هند جدایی‌طلبان مسلمان کشمیر تحت حاکمیت هند را عامل این انفجار دانست و به دلیل حمایت پاكستان از این منطقه روابط دو کشور به شدت تیره شد. از سوی دیگر، صف آرایی نظامی و تبادل آتش بین نیروهای مسلح هند و پاکستان مستقر در خط کنترل کشمیر احتمال بروز جنگ تمام عیار بین دو کشور را تشدید کرد.

دولت های هند و پاکستان بارها با یکدیگر بر سر اختلافات دو جانبه مذاکره نموده و حتی پس از جنگ 1971 موافقت نامه معروف "سیملا" را در 1972  امضا كردند.تیرگی روابط بین هند و پاکستان به مدت دو سال ادامه داشت و به کاهش سطح روابط سیاسی و حتی ارتباطات ترابری و اقتصاد آنها انجامید و در مواردی، تبادل آتش توپخانه از دو سوی مرز به نگرانی در مورد بروز جنگ دیگری بین دو کشور دامن زد و حتی  میانجیگری های بین المللی، از جمله میانجیگری توسط دولت ایالات متحده امریكا، نیز به رفع تنش کمکی نکرد.

مذاكرات صلح پیرامون منطقه كشمیر

در ماه آوریل سال 2003، آتال بیهاری واجپایی، نخست وزیر هند، طی ملاقاتی با پرویز مشرف، رئیس جمهور پاکستان با وی در مورد عادی‌سازی روابط و خاتمه بحران در روابط دو کشور گفتگو نمود. در دور دوم گفتگوهای صلح كه در سال 2004 م. شروع شد بین هند و پاکستان در مورد محوریت بحران کشمیر در این گفتگوها اختلاف نظر وجود داشت. پاکستان تمایل داشت که مساله کشمیر به موضوع اصلی مذاکرات تبدیل شود، در حالی که هند با محوریت بخشیدن به موضوع کشمیر در مذاکرات صلح، مخالف بود و مترصد بود تا با استفاده از این فرصت به بررسی جنبه‌های دیگر روابط دوجانبه، مانند تجارت و مبادلات فرهنگی، بپردازد كه البته در پایان نیز بحران كشمیر موضوعی حل نشده باقی ماند.

شایان ذکر است که هند با به‌ کارگیری دیپلماسی پیچیده و بسیار دقیق، تاکنون توانسته است در ارتباط با مسئله کشمیر که اغلب جمعیت آن را مسلمانان تشکیل می‌دهند، در مقابل کشورهای مسلمان قرار نگیرد و حتی رابطه خوبی با بسیاری از آنها داشته باشد. همچنین هند پیوسته سعی نموده است تا از بین‌المللی شدن موضوع کشمیر جلوگیری كرده و آن را در حد یك اختلاف مرزی صرف بین دو كشور نگاه دارد تا ا از ارجاع این موضوع به سازمان‌ها و مجامع بین‌المللی جلوگیری کند و  تاکنون نیز در این امر، موفق بوده است اما تشدید بحران استقلال این منطقه در ماه های اخیر و همچنین كشته شدن تعداد زیادی از مسلمانان آن سبب اعتراض برخی از كشور ها و سازمان ها نظیر سازمان عفو بین الملل شده است. لازم به ذكر است تحلیل گران اعتراضات گسترده چند ماه گذشته در این ایالت را جزو بزرگترین چالش های دولت هند در زمینه كشمیر دانسته اند.


نوشته شده در تاريخ Sat 25 Dec 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
سخنگوی وزارت امور خارجه پاکستان در پاسخ به سئوالی، حمایت روشن و قاطع رهبر جمهوری اسلامی ایران حضرت آیت الله خامنه ای را در راستای حقوق مردم کشمیر دانست.
"عبدالباسط " همچنین گفت که مردم شجاع جامو و کشمیر فقط در حال مبارزه برای بدست آوردن حقوق مدنی خود هستند.
مقام معظم رهبری در پیام حج خود خطاب به امت اسلامی بیان فرمودند: «امروز کمک به ملت فلسطین و محاصره شوندگان غزه، همدردی و همراهی با ملت های افغانستان و پاکستان و عراق و کشمیر، مجاهدت و مقاومت در برابر تعدی آمریکا و رژیم صهیونیستی، پاسداری از اتحاد مسلمانان و مبارزه با دست های آلوده و زبان های مزدوری که به این اتحاد ضربه می زنند و گستردن بیداری و احساس تعهد و مسئولیت در میان جوانان مسلمان در همه ی اقطار اسلامی، وظایف بزرگی است که متوجه خواص امت است.»



نوشته شده در تاريخ Sat 25 Dec 2010 توسط محمد نظیر عرفانی

حجت‌الاسلام رحيميان به‌عنوان فرستاده رهبر معظم انقلاب به مناطق سيل‌زده در پاكستان در گزارشي به تشريح وضعيت مناطق سيل‌زده و ابلاغ پيام رهبر انقلاب براي كمك به مردم پاكستان پرداخته است.

به گزارش پايگاه اطلاع‌رساني دفتر حفظ و نشر آثار آيت‌الله خامنه‌اي، حادثه‌ سيل پاكستان همان‌طور كه رهبر معظم انقلاب اشاره كردند، به عنوان بلاي عظيم و مصيبت بزرگ، فوري‌ترين مسئله جهان اسلام است.

 از همين رو معظم‌له به حجت‌‌الاسلام و المسلمين رحيميان مأموريت دادند تا به عنوان نماينده‌ ايشان به پاكستان رفته گزارشي از مناطق سيل‌زده تهيه و ارائه كند. نماينده‌ رهبر انقلاب در بنياد شهيد و امور ايثارگران نيز پس از بازگشت از پاكستان و قبل از خطبه‌هاي نماز عيد فطر گزارش خود را خدمت رهبري ارائه كرد. قبل از «روز ملي همدردي با سيل‌زدگان پاكستان» به ساختمان بنياد شهيد و امور ايثارگران رفتيم تا او درباره نحوه‌ تهيه‌ گزارش براي رهبر انقلاب براي‌مان بگويد. متن زير سفرنامه‌اي كوتاه است از سفر نماينده‌ رهبر انقلاب به پاكستان.

* ابلاغ دستور

در ماه رمضان از دفتر مقام معظم رهبري با من تماس گرفتند و دستور رهبر انقلاب مبني بر سفر بنده و ديگر همراهان به پاكستان را ابلاغ كردند. بايد مي‌رفتيم و ابعاد سيل پاكستان را بررسي مي‌كرديم و خدمت ايشان گزارش مي‌داديم.

* ورود به كشور سيل‌زده

برنامه‌ ما اين بود كه چند ملاقات رسمي با مقامات پاكستاني داشته باشيم. ميزبان هيأت همراه ما وزارت كشور پاكستان بود. تقريباً در طول سفرمان وزير كشور پاكستان ما را همراهي مي‌كرد. در بدو ورودمان جلسه‌ مختصري برگزار شد، ولي چون شب بود، مراسم احياء را در سفارت برگزار كرديم و فردا صبح اول وقت، اولين جلسه‌ مفصل با مسئولان ذي‌ربط پاكستاني را تشكيل داديم. بعد از آن جلسه هم با بالگرد بازديد هوايي داشتيم از مناطق شمالي پاكستان.

پس از برگشت به اسلام‌آباد، جلسه‌‌اي با نخست‌وزير صورت داديم. شب هم مجموعه‌ علماي بزرگ پاكستان و شخصيت‌هاي معتبر منطقه‌ مركزي و شمالي پاكستان به سفارت جمهوري اسلامي ايران دعوت شده بودند. بعد از نماز جماعت و صرف افطار، بنده آنجا صحبت مفصلي كردم و سلام رهبر معظم انقلاب و ابراز محبت‌هاي ايشان را نسبت به پاكستان و عنايت ايشان به حادثه‌ سيل را به آن‌ها ابلاغ كردم. بعد هم تا آخر شب و حدود چندين ساعت، يكايك علما كه هر كدام از منطقه‌اي بودند، گزارشي از وضعيت آسيب‌ديدگان سيل ارائه كردند. خوب اين اطلاعات دقيق و خوبي براي ما بود و علاوه بر اطلاعاتي بود كه دولت پاكستان داده بود.

فردا صبح در سفارت و با حضور مسئولان و كارگزاران جمهوري اسلامي در پاكستان و نيز هيأت اعزامي، جلسه‌ جمع‌بندي گذاشتيم. بعد از اين جلسه عازم كراچي شديم. در آنجا باز ما جلسه‌ مفصلي با تعدادي از كارگزاران جمهوري اسلامي در آن منطقه و علماي آن منطقه و نماينده‌ مقام معظم رهبري در كراچي داشتيم. ايشان هم اطلاعات جديدي را مخصوصاً درباره‌ مناطق جنوب پاكستان و بخش‌هاي مجاور ايالت سِند ارائه كرد.

تا قبل از سفر ما چيزي از ايران مطرح نشده بود. پس از اينكه يك نفر از طرف ولي امر مسلمين و چند نفر از طرف دولت ما رفتند و ملاقات ما با رياست‌جمهوري و نخست‌وزير پاكستان كه چندان قابل سانسور هم نبود، خودبه‌خود انعكاس خبري داشت.

بازديد هوايي از جنوب - كه وضعيتي بدتر از شمال داشت- هم انجام شد. بعدازظهر هم ملاقاتي با رئيس‌جمهور پاكستان داشتيم. مجموعه‌ مسئولان پاكستاني، هم نخست‌وزير و هم رئيس‌جمهور نسبت به رهبر معظم انقلاب و دولت جمهوري اسلامي ايران قدرداني و تشكر داشتند و بسيار استقبال خوبي كردند.

باز يك جلسه‌ مجددي در كنسولگري جمهوري اسلامي در كراچي انجام شد. اطلاعات را جمع‌بندي كرديم و راه‌كارهاي كمك‌رساني و شيوه‌هاي آن را بررسي نموديم. نتيجه‌ آن را هم بنده بلافاصله پس از بازگشت و طي گزارشي خدمت رهبر معظم انقلاب تقديم كردم. پيشنهادهايي را هم مطرح كردم‌ مبني بر اينكه ابعاد اين فاجعه به‌صورت گسترده‌تري در سطح جامعه مطرح شود و مردم نسبت به اين حادثه‌ توجه‌ بيشتري بكنند كه فاجعه‌اي دلخراش براي يك ملت و جمعيت انبوهي از مسلمانان است كه بخش عظيمي از آنها هم شيعيان هستند.

* ابعاد فاجعه

اما در باب ابعاد اين فاجعه عظيم بايد تصريح كنم كه وقتي گفته مي‌شود حدود يك‌پنجم زمين‌هاي تحت كشت پاكستان بر اثر اين سيل آسيب‌ ديده است، در يك كشوري كه 150 ميليون نفر جمعيت دارد، معنايش اين است كه يك‌پنجم جمعيت آسيب ديده‌اند. در واقع يعني يك‌پنجم تأسيسات، خانه‌ها و مساجد،‌ درمانگاه‌ها، ده‌ها هزار مدرسه و مسجد و حسينيه و مراكز عام‌المنفعه نابود شده است. حداكثر توانايي كه مردم داشته‌اند، اين بوده كه خودشان را از اين سيل نجات بدهند.

زمين‌هاي پاكستان عمدتاً مسطح است و سيل هم آن‌چنان تند نبوده كه جريان آب انسان را با خودش ببرد و چون جريان آب از شمال به جنوب بوده، اكثر افراد از معرض سيل خارج شده‌اند. لذا تلفات انساني نسبتاً كم بوده، اما خانه و كاشانه‌شان را گذاشته‌اند و فرار كرده‌اند و آب خانه‌ و همه‌ وسايلشان را برده است. سرمايه‌ آنها هم عموماً در مناطق روستايي و شهرهاي كوچك مجاور رودخانه‌ها كه عمدتاً كشاورز بوده‌اند، همين زمين‌ها بوده است. درآمد اصلي‌شان از كشاورزي بوده و اين يعني كل منبع درآمدشان را آب برده است. ضمن اينكه عموماً هم مردم فقيري هستند.

نكته‌ جالب توجه اين است كه مردم پاكستان، اعم از شيعه و سني، همان‌طور كه رهبر انقلاب فرمودند، مردمي مذهبي هستند. چه شيعيان و چه اهل سنت، ملتزم به اسلام و ‌اهل نماز و روزه هستند. حتي وجه غالب اهل سنت علاقمند به اهل بيت(ع) هستند. نبايد ذهن را مشغول به جريان محدود سپاه صحابه، طالبان و وهابي‌ها كرد. جنايت‌ها و فعاليت‌هاي اين گروه‌ها را نبايد به حساب مردم گذاشت. مردم پاكستان طرفدار جمهوري اسلامي هستند و شايد در ميان اهل سنت در كشورهاي اسلامي كمتر داشته باشيم كه تا اين اندازه علاقه‌مند به جمهوري اسلامي و اهل بيت باشند. علاوه بر اين، تقريباً 20 الي 30 درصد هم شيعيان هستند.

* حضور تأمل‌برانگيز آمريكايي‌ها

اين در حالي است كه آمريكايي‌ها صرفاً در راستاي اهداف پليدشان و در پي ترميم آن چهره‌ كريهي كه نزد ملت پاكستان دارند به سبب كشتارهاي جمعي و تجاوزهاشان انبوه كمك‌ها را به آنجا گسيل داشته‌اند. طبق نظرسنجي‌ها حدود 80 درصد از مردم پاكستان از آمريكا منزجر هستند، اما آن‌طور كه گفته شده، سربازان‌ آمريكايي به‌عنوان كمك‌رساني، حدود 30 هلي‌كوپتر و چند هواپيماي غول‌پيكر را به كار گرفته‌اند؛ خصوصاً در مناطق شيعه‌نشين و در جاهايي كه مردمش به‌شدت علاقه‌مند به جمهوري اسلامي و انقلاب و امام هستند و مقلد رهبر معظم انقلاب هستند.

آمريكايي‌ها اين كارها را انجام مي‌دهند كه جاي پايي براي خود باز كنند. حتي گفته شده كه يكي از هنرپيشه‌هاي سينماي غرب به پاكستان آمده و حدود 25 ميليون دلار (راست و دروغش را نمي‌دانيم) كمك كرده است. يعني علاوه بر اهداف نظامي و سياسي پليدشان در آنجا و حتي در اين موقعيت، از شبيخون فرهنگي و ناتوي فرهنگي هم غفلت نكرده‌اند. عربستان سعودي هم به صورت گسترده‌اي در اين صحنه فعال است. از اين طرف هم تبليغات و تريبون‌ها و دوربين‌ها دست خودشان است. راست و دروغ را با هم يكي كرده‌اند و با بزرگ‌نمايي و بزرگ جلوه دادن كارهايشان، افكار عمومي را تحت تأثير قرار داده‌اند.

* ارائه گزارش

پس از پايان سفر، بنده گزارشي را در چهار صفحه خدمت رهبر معظم انقلاب تقديم كردم. پس از ارائه‌ گزارش عرض كردم كه لُبّ مطلب را من مكتوب نوشته‌ام و زياد مُصدِّع نمي‌شوم و خداحافظي كردم. بعد هم كه صحبت‌هاي رهبر انقلاب در خطبه‌ها را دقت كردم؛ بسياري از فرازهايش ناظر بر همين محورها بود كه بنده نوشته بودم. البته گزارش‌هاي ديگري هم رسيده بود كه البته مجموع اين گزارش‌ها هم‌سو بود و مؤيد نكاتي بود كه بنده خدمتشان عرض كرده بودم.

رهبري در برابر حوادث بسيار باصلابت هستند و به اين سادگي كنترل خودشان را از دست نمي‌دهند.امام(ره) هم همين‌طور بودند. اينجا ولي عجيب بود كه براي اولين بار بابت يك قضيه‌اي غير از ذكر مصيبت ائمه و حالات معنوي، اين‌طور منقلب و متأثر شدند. واقعاً عجيب بود.

از نگاه من اين سفر دو نتيجه داشت؛ يكي اينكه آنجا تا قبل از سفر ما چيزي از ايران مطرح نشده بود. پس از اينكه يك نفر از طرف ولي امر مسلمين و چند نفر از طرف دولت ما رفتند و ملاقات ما با رياست‌جمهوري و نخست‌وزير پاكستان كه چندان قابل سانسور هم نبود، خودبه‌خود انعكاس خبري داشت. علاوه بر اينكه ملاقات‌هايي هم كه در طول سفر با طيف‌هاي مختلف مسئولان عالي‌رتبه و علما داشتيم و ابلاغ سلام و پيام رهبر معظم به آنها، بازتاب ويژه‌اي به اين سفر ‌داد و موجبات دلگرمي آنها را فراهم ‌كرد.

نتيجه‌ ديگر آن هم اين بود كه بالأخره عمق و ابعاد اين فاجعه از طريق نماينده‌ اعزامي از سوي رهبر معظم انقلاب دقيقاً براي ايشان گزارش مي‌شد.

* خطبه‌هاي نماز عيد

رهبر معظم انقلاب واقعاً در خطبه‌هاي نماز عيد فطر حق مطلب را ادا كردند و اين براي من خيلي تازه و جالب بود. من صحنه‌هاي زيادي را ديده بودم كه همه از شدت تأثر به گريه مي‌افتادند و نمي‌توانستند خودشان را كنترل كنند. ولي رهبر معظم انقلاب كه مثل كوه استوارند، غير از مواقعي كه مصيبت اهل بيت عليهم‌السلام خوانده مي‌شود، در برابر حوادث بسيار باصلابت هستند و به اين سادگي كنترل خودشان را از دست نمي‌دهند و آشكارا تأثر خود را نشان نمي‌دهند. امام(ره) هم همين‌طور بودند. اينجا ولي عجيب بود كه براي اولين بار بابت يك قضيه‌اي غير از ذكر مصيبت ائمه و حالات معنوي، اين‌طور منقلب و متأثر شدند. واقعاً عجيب بود.
من معتقدم رهبر انقلاب نگاه اصلي‌شان و ملاك اصلي حركت‌شان و اشكي كه در خطبه‌هاي نماز ريختند، براي آن بُعد انساني و اسلامي و اخلاقي ملت پاكستان بود. اصل قضيه به نظر من اين بود. بُعد انساني و اخلاقي و اسلامي آن از همه پررنگ‌تر است.

* آيا كمك‌ها به دست مردم مي‌رسد؟

پيامبر اكرم (ص) مي‌فرمايند: "من سَمع رجلاً ينادي يا للمسلمين فلَم‎يجَبه فليس بِمسلم1 " يعني هر مسلماني كه صداي شخصي را كه فرياد مي‌زند مسلمانان به فرياد من برسيد بشنود و او را كمك نكند، مسلمان نيست. شرط مسلماني ما اين است كه اگر مسلماني در هر گوشه‌ دنيا فرياد كمك‌خواهي و امدادرساني‌اش بلند شود، ما وظيفه‌ انساني و اخلاقي كمك به او را ادا كنيم.

من در مصاحبه‌اي كه پس از بازگشتم با شبكه‌ خبر داشتم، يك نكته‌اي را به مردم ابلاغ كردم كه جزو نتايح اين سفر است. نكته‌ مهمي هم هست و آن اينكه معمولاً كمك‌هايي كه براي حوادث مي‌شود، گاهي در آنها شبهه به‌وجود مي‌آيد كه به دست مردم مي‌رسد يا نمي‌رسد؟ آيا حفظ امانت مي‌شود يا يك‌باره ‌مسيرش عوض مي‌شود؟ البته احتمال اين مسائل هم مطرح مي‌شود و هم وجود دارد، چون ممكن است در شلوغي‌هاي زياد يك چيزي به مقصد اصلي نرسد.


از دستاوردهاي مهم اين سفر اين بود كه ما در جمع‌بندي نهايي سازوكاري را پيش‌بيني كرديم و تصويب كرديم كه آنچه را از ايران ارسال مي‌شود، به دست هيچ واسطه‌اي ندهيم، بلكه همه‌ آن از طُرق صددرصد مورد اعتماد يا با مباشرت واسطه‌هاي مورد اعتماد جمهوري اسلامي و در حقيقت دل‌بسته و عاشق جمهوري اسلامي، از طريق آنها كمك‌ها را به مردم برسا

نوشته شده در تاريخ Mon 20 Sep 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
یک فعال ضدجنگ و کارشناس عدم اشاعه هسته‌ای در انگلیس می‌گوید ، وزارت دفاع آمریکا بخش زیادی از بودجه خود را به توسعه سیستم‌های نظارتی و اطلاعاتی مرتبط با تغییرات آب و هوایی از جمله طرح هارپ اختصاص داده است سم آکاکی به خبرنگار ایرنا گفت: ناسا و آژانس نقشه برداری و تصویربرداری ملی آمریکا که زیر نظر وزارت دفاع فعالیت می‌کنند اکنون در حال تحقیق بر روی تصویربرداری برای مطالعات آب و هوایی هستند تا امکان استفاده نظامی از آنها را بررسی کنند.وی افزود: کارشناسان آمریکایی در حال تحقیق برروی محیط زیست طبیعی و پدیده‌هایی نظیر سیل، توفان، زلزله، رانش زمین و پیش بینی‌های آب و هوا و تغییرات جوی در قالب پروژه هارپ هستند.ادامه…

وی تاکید کرد:من هیچ شکی ندارم که هارپ در سال‌های اخیر به گستردگی برای به وجود آوردن بلایای طبیعی همچون زلزله هاییتی و سیل پاکستان مورد استفاده قرار گرفته است.

این کارشناس انگلیسی افزود: نکته قابل توجه این است که مکان‌هایی که با بلایای طبیعی مواجه شده‌اند از نظر منابع طبیعی بسیار غنی هستند و می توانند آمریکا را برای انجام هر اقدامی وسوسه کنند.

آکاکی با اشاره به برخی از مطالعات انجام شده درباره هارپ، گفت: دکتر روسالی برتل از دانشمندان مشهور اذعان کرده است که کارشناسان ارتش آمریکا در حال تحقیق بر روی سیستم‌های آب و هوایی به عنوان یک سلاح بالقوه هستند دکتر برتل همچنین گفته است که روشهای ارتش آمریکا شامل ایجاد توفانهای شدید و سیلاب و خشک سالی‌های هدفمند است.

آکاکی گفت: نیکلاس بگیچ یکی دیگر از دانشمندانی است که سالها برای مقابله با هارپ زحمت کشیده است زیرا او می‌داند که این سلاح عظیم می‌تواند اختلالات زیادی در طبیعت به وجود آورد.

وی افزود: بسیاری از کارشناسان سیاسی معتقدند هارپ یک سلاح جدید در دست ارتش آمریکاست تا با آن بتواند به سیطره خود بر دنیا ادامه دهد.

آکاکی گفت: شاید رضایت دادن آمریکا به نابودی برخی سلاح‌های هسته‌ای خود به این دلیل باشد که جایگزینی برای سلاح‌های هسته‌ای خود پیدا کرده است و آن احتمالا همان هارپ است.

هارپ به ظاهر یک پروژه تحقیقاتی است که توسط آمریکا برای تحقیق درباره لایه یونوسفر (‪ )Ionosphere‬که بالایی‌ترین لایه جو می‌باشد و همچنین مطالعه درباره معادن زیر زمینی با استفاده از امواج رادیویی تاسیس شده است.

برخی معتقدند زلزله ‪ ۷/۳‬ریشتری هاییتی، موج سرمای سال گذشته در اروپا و حتی سیل اخیر در پاکستان ممکن است از پروژه هارپ آمریکا متاثر شده باشند.

آنان می‌گویند هارپ از طریق ارسال یک انرژی فوق‌العاده به لایه یونوسفر، مولکول‌های آن را به تپش انداخته و به بازتاب قدرتمند این انرژی وادار می سازد. این انرژی پس از کانالیزه شدن می‌تواند اختلالاتی مانند خشکسالی، بارش برف و باران، سرمای شدید، سونامی، توفان، زلزله و… در نقاط تعیین شده به وجود آورد

نظر شخصی نظیر: این حرفها اثبات نشده است همچون داستان سفر ماه امریکایی ها که روسها چند بار گفتند اگر دهه 60 میلادی به فضا رفتید الان که علم پیشرفت فراوانی کرده چرا نمی روید که آمریکایی ها جوابی برایش ندارند همه اینها فیلم های هالیوود است و لا غیر


نوشته شده در تاريخ Fri 17 Sep 2010 توسط محمد نظیر عرفانی

آيت‌الله مکارم شيرازي خطاب به سفير پاکستان گفت: سلام مرا به دولتمردان و علماي برجسته پاکستان برسانيد و بگوئيد که ما در اين غم و اندوه با شما سهيم هستيم و انشا الله مسئوليت خودمان را انجام مي‌دهيم.


مهر: آيت‌الله مکارم شيرازي 50 هزار دلار به سيل زدگان پاکستان کمک کرد.

آيت‌الله ناصر مکارم شيرازي عصر دوشنبه در ديدار سفير پاکستان اظهار داشت: من 50 هزار دلار به حساب سيل زدگان پاکستان واريز مي‌کنم و به مردم هم سفارش مي‌کنم که بخشي از وجوهات شرعي خودشان را براي کمک به سيل زدگان پاکستان اختصاص دهند.

اين مرجع تقليد عمق فاجعه سيل در پاکستان را گسترده توصيف کرد و افزود: من از اين فاجعه دردناکي که براي برادران و خواهران ما در پاکستان واقع شده بسيار نگران هستم و شب‌ها و روزهاي متوالي از فکر سيل زدگان بيرون نمي‌روم.

آيت‌الله مکارم شيرازي اضافه کرد: اين فاجعه بسيار وسيع و گسترده است و بر همه مسلمانان و آزادگان دنيا لازم است که به کمک برادران و خواهران پاکستاني بشتابند.

وي اظهار داشت: ما از خدا مي‌خواهيم که آثار اين فاجعه هر چه زودتر برچيده شود و دعا مي‌کنيم که ديگر امثال اين فجايع براي برادران ما در پاکستان واقع نشود.

استاد برجسته حوزه علميه خطاب به سفير پاکستان اظهار داشت: آنچه که باعث تأسف شماست موجب تأسف ماست و آنچه که باعث خوشبختي شما مي‌باشد موجب خوشبختي ماست.

آيت‌الله مکارم شيرازي گفت: يقين داشته باشيد که ما در مسائلي که براي شما در پاکستان واقع شده، با شما شريک و سهيم هستيم و انشا الله تلاش مي‌کنيم مسئوليت خودمان را در مقابل اين فاجعه انجام دهيم.

آنهايي که دم از دوستي بشر مي‌زنند احساس مسئوليت کنند

وي ادامه داد: اميدواريم آنهايي که دم از دوستي بشر (غيرمسلمانان) مي‌زنند احساس مسئوليت و تنها به اظهار تأسف قناعت نکنند و به قول‌هايي که مطابق آن عمل نمي‌کنند قناعت نکنند، بلکه قولي بدهند که در کنار آن بايستند و عمل کنند.

آيت‌الله مکارم شيرازي خطاب به سفير پاکستان گفت: سلام مرا به دولتمردان و علماي برجسته پاکستان برسانيد و بگوئيد که ما در اين غم و اندوه با شما سهيم هستيم و انشا الله مسئوليت خودمان را انجام مي‌دهيم.

پاکستان به تروريست‌ها مجال ندهد

اين مرجع تقليد در بخش ديگري از سخنان خود با اشاره به توقع نظام جمهوري اسلامي از دولت پاکستان تصريح کرد: ما مي‌توانيم اين خواسته را از دولتمردان پاکستان داشته باشيم که به تروريست‌ها مجال ندهند که اين دو کشور همسايه برادر را نسبت به هم بدبين کنند.

وي اضافه کرد: دولتمردان پاکستان بايد آنچه در توان دارند از کمک‌هاي اطلاعاتي و غير اطلاعاتي به ما بدهند تا بتوانيم مرزهاي خودمان را امن کنيم و ملت ما دچار فاجعه انساني به وسيله تروريست‌ها نشود.

آيت‌الله مکارم شيرازي با اشاره به مشترکات فرهنگي بين پاکستان و ايران اظهار داشت: ما با پاکستاني‌ها جهات مشترک فراواني داريم. سزاوار است در دنياي طوفان زده امروز در کنار هم باشيم و متحد هم باشيم و اجازه ندهيم افراد فاسد اين اتحاد و صميميت ما را بهم بزنند.

وي اظهار داشت: معتقدم ريشه ترورها در تعليمات مدارس ديني وهابي‌هاست بايد بر برنامه‌هاي مدارس وهابي‌ها نظارت بيشتري انجام شود.

همچنین آیت الله صافی گلپایگانی با صدور اطلاعیه‌ای اجازه استفاده از یک سوم سهم مبارک امام جهت کمک به سیل زدگان پاکستانی را صادر کرد.

به گزارش خبرنگار مهر در قم، در اطلاعیه آیت الله لطف الله صافی آمده است: در پی وقوع سیل در کشور اسلامی پاکستان و تلفات و خسارات جانی و مالی فراوانی که به مردم مسلمان آن کشور وارد گردیده است، ضمن ابراز تأسف شدید و هم‌دردی با خانواده‌های داغدار و سانحه دیده به اطلاع می‌رساند: مرجع عالیقدر شیعه حضرت آیت الله العظمی صافی اجازه مصرف یک سوم سهم مبارک امام (علیه السلام) را برای کمک به این امر انسانی و اسلامی صادر کرده است.
 
در ادامه اطلاعیه آمده است: مؤمنان می‌توانند از راه‌های مورد اعتماد، کمک‌های خود را برای سانحه‌دیدگان ارسال دارند.
نوشته شده در تاريخ Tue 17 Aug 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
نخست وزير پاكستان اعلام كرد: تعداد آسيب ديدگان سيل شديد در اين كشور به به مرز 20 ميليون نفر رسيده است.

به گزارش بي بي سي، يوسف رضا گيلاني، نخست وزير پاكستان در سخناني به مناسبت سالگرد استقلال پاكستان اعلام كرد: تعداد آسيب ديدگان سيل شديد در اين كشور به 20 ميليون نفر رسيده است.

از سوي ديگر وزير اطلاع رساني پاكستان نيز با تأييد اين خبر، تأكيد كرده است كه امكان دسترسي سريع به تمام مناطق سيل زده و كمك به آسيب ديدگاه در شرايط كنوني نيست.

همچنين يوسف رضا گيلاني در ادامه اظهاراتش تصريح كرده كه با نواز شريف رهبر حزب مسلم ليگ درباره هماهنگي در كمك رساني به آسيب ديدگان هماهنگي هايي انجام شده است.

وي گفت كه با همكاري نواز شريف قرار است يك نهاد مستقل براي جذب كمك هاي مالي و نظارت به هزينه هاي مربوط به امداد رساني تشكيل شود.

بر اساس آخرين گزارش ها تعداد كشته هاي ناشي از سيل شمال پاكستان و اقليم كشمير و شمال شرق افغانستان به بيش از 2هزار و 600 نفر رسيده است كه يك هزار و 600 نفر آن متعلق به مناطق شمال غربي پاكستان است.

جاري شدن سيل كه موجب طغيان رودخانه ها، آبگرفتگي و رانش زمين در روستا هاي شمال غربي و مركزي و جنوبي شده، بسياري از محصولات و زمين هاي زراعي را تخريب كرده است. اين سيل در ايالت سرحد پاكستان شديدترين سيلاب از سال 1929 بوده است.

نوشته شده در تاريخ Tue 17 Aug 2010 توسط محمد نظیر عرفانی

نام کوه: کی2، چوگوری، گادوین آستین

ارتفاع: ۸۶۱۱ متر 

موقعیت جغرافیایی: ۳۵،۸۸ عرض شمالی _ ۷۶،۵۱ طول شرقی

محل قرار گیری: قراقروم، مابین پاکستان و چین

بهترین ماههای صعود: ژوئن، جولای، آگوست 

اولین صعود: ۱۹۵۴ میلادی

نزدیکترین فرودگاه بین المللی: راولپندی پاکستان 

کوه کی2 دومین کوه مرتفع دنیا و بی شک سرسختترین قله ۸۰۰۰ متری می باشد که هدف غایی بسیاری از کوهنوردان است.

 این هرم غول آسا، برجی است تنها واقع در منطقه قراقروم پاکستان و در راس یخچال بالترو قرار دارد. کی ۲، ۵۴۹ متر از بلندترین کوههای اطرافش رفیعتر است و این امر موجب شده از دوردستها بتوان این غول را مشاهده و خداوند را تحسین نمود. ارتفاع بلندکوه و قرار داشتن آن در عرض شمالی ۳۵ درجه موجب شده تا کی۲ دارای آب و هوایی متمایز از سایر کوههای قراقروم باشد از این رو قله ای است از سنگ پوشیده از یخ و برف با ۶ یال مخوف.

در ۱۸۵۶ برای نخستین بار تی جی مونتگومری که یک مساح بود این کوه را از فاصله حدود ۲۰۰ کیلومتری (احتمالا از هاراموش) مشاهده نمود. کوه در میان رشته ای از کوههای رفیع قرار داشت به همین دلیل نیز از هیچ منطقه مسطحی در هند و چین قابل مشاهده نبود(در آن زمان هنوز پاکستان بخشی از خاک هند بود). مونت گومری بدون داشتن اطلاعاتی دقیق از نام کوههای منطقه قلل رفیع آنرا به نامهای قراقروم ۱ تا ۷ نامگذاری کرد، و نام کی۱ تا کی ۷ را برآنها نهاد که برگرفته از حرف اول karakoram بود. اما بعدها تنها نام کی ۲ به عنوان تنها کوه مرتفعی که یک مساح آنرا نامگذاری کرده بود بر روی دومین قله رفیع جهان باقی ماند و سایر نامها تغییر کرد و نام چوگوری که نامی بود محلی و کوه کوهها معنا می داد بعدها به فراموشی سپرده شد. البته نام دیگر کوه گادوین آستین می باشد که به افتخار هنری هاورشام گادوین استین بر این کوه نهاده شده بود، اما هیچگاه رسمیت نیافت.

در ۱۸۹۲ مارتین گانوی کاشف انگلیسی گروهی از محققان کوه ها را تا بر روی یخچال بالترو رهبری نمود. آنها تا ابتدای محلی که امروزه به یخچال کنکوردیها معروف است بالا آمدند.

در ۱۹۰۲ برای نخستین بار اسکار اکنسین بر روی جبهه شمالی کوه تلاشی را صورت داد. وی از طریق یال شمال شرقی تا ارتفاع ۶۵۲۵ متری بالا رفت.

اما راه قابل صعود کوه یعنی مسیر جنوب شرقی در ۱۹۰۹ توسط توسط هیئتی ایتالیائی به سرپرستی لوئیجی آمودئو کشف گردید. از آن تیم دوک ابروزی تا ارتفاع ۶۲۵۰ متری یال جنوب شرقی صعود نمود. پس از این تلاش این مسیر بنام یال ابروزی شناخته شد. ویکتور سلا عکاس این تیم، عکسی از کوه انداخت که بی شک قدیمی ترین عکس کی۲ به شمار می رود که همچنان موجود است.

در ۱۹۳۸ تیمی آمریکایی به سرپرستی دکتر چارلز هوستون توانست تا ارتفاع ۷۹۲۵ متری کوه بالا رود.

یک سال بعد تیم دیگری از آمریکا به رهبری فریتز ویسنر رکورد ارتفاع جدیدی برپا کرد. آنها تا ۸۳۸۲ متری کوه از مسیر یال ابروزی بالا رفتند، که بعد از صعود نورتون تا ارتفاع ۸۵۷۰ متری جبهه شمالی اورست در سال ۱۹۲۴ بلندترین ارتفاع صعود شده توسط انسان بود.

در ۱۹۵۳ تیمی ۷ نفره به سرپرستی دکتر چارلز هوستون توانست تا ارتفاع ۷۵۰۰متری کوه بالا رود. اما خرابی هوا و وخامت حال گیکلی، یکی از اعضای جوان تیم که به ارتفاع زدگی شدید دچار شده بود موجب شد تا آنها راه بازگشت را پیش گیرند. هنگام بازگشت و پائین آوردن گیکلی، ۵ عضو تیم بدلیل شیب تند مسیر سقوط کردند، اما کارگاه مستحکمی که پت شوئینگ برپا نموده بود مانع از سقوط بیشتر آنها به اعماق دره های کی۲ گردید اما لحظاتی بعد بهمن گیلکی را با خود به اعماق دره ها برد تا تیم ناکام به پائین باز گردد.

سال ۱۹۵۴ کی۲ تلاش موفقی را از کوهنوردان ایتالیایی شاهد بود. آشیل کامپاگنونی و لینولاسیدلی دو کوهنوردی بودند که در ۳۱ جولای موفق شدند بعنوان نخستین انسانها گام بر فراز این کوه سرسخت بگذارند. آنها اعضای تیم بزرگ و مجهزی به سرپرستی آردیو دزیو بودند. تیمی با بیش از ۵۰۰ باربر محلی، ۱۱ کوهنورد و ۶ دانشمند. آنها برای صعود قله ۹ کمپ برپا کرد. یکی از کوهنوردان بر اثر ذات الریه جان خود را از دست داد. پس از این صعود چیزی که بیش از فتح قله جلب توجه کرد تلاشهای کوهنورد بزرگ ایتالیایی والتر بوناتی و باربر پاکستانی مهدی بود. که ظاهرا بازیرکی سایرین از صعود قله بازماندند. فاتحان قله همچنین مدعی بودند بوناتی و مهدی زمانیکه کپسولهای اکسیژن را به کمپ آخر حمل می کردند، بدلیل شب مانی در ارتفاع بخشی از اکسیژن را مصرف کرده بودند و تیم قله بخشهای پایانی را بدون اکسیژن طی نمود. گرچه بودن ماسک اکسیژن بر صورت آنها که در تصاویر قله قابل رویت است، این ادعا را توام با شک نمود. بعدها بوناتی در کتابی تحت عنوان "کوههای زندگی من" از خودش دفاع کرد.

پس از صعود ایتالیائیها، کوه تا ۱۹۷۷ صعودی بر خود ندید، تا اینکه در این سال تیمی از کشور ژاپن متشکل از ۵۲ کوهنورد و ۱۵۰۰ باربر موفق شد دومین صعود قله را صورت دهند. در این تیم اشرف امان کوهنورد پاکستانی نیز بعنوان راهنما و باربر ارتفاع عضویت داشت که موفق به فتح قله گردید.

یکسال بعد تیمی از آمریکا توانست از یال شمال غربی قله را فتح نماید. این تیم صعود خود را از مسیر یال شمال شرقی آغاز نمود (این یال امروزه به مسیر لهستانیها معروف است)، سپس در ارتفاع ۷۷۰۰ متری به طرف یال ابروزی تراورس کردند. در اینجا بحث بر سر آن شکل گرفت که چه کسی نخستین صعود بدون اکسیژن را بر روی قله صورت دهد. بدین ترتیب لوئیس ریچارد نخستین داوطلب اجباری این امر بود. وی کپسول اکسیژن خود را در میان راه دفن کرد، زیرا سیستمش دچار مشکل بود و عمل نمی کرد. جان روسکلی پس از لوئیس دومین شخصی بود که قله را بدون اکسیژن صعود کرد، اما نه بدلیل خربی سیستم اکسیژن بلکه از ابتدا به این نیت بالا آمده بود.

در ۱۹۸۱ ترئو موستورا تلاش موفقی را از یال جنوب غربی رهبری کرد. در ۷ آگوست آیهو اوهتانی به همراه راهنمای پاکستانی نظیر صبیر موفق شدند نخستین صعود این مسیر را صورت دهند.

در سال ۱۹۸۲ نخستین صعود جبهه شمالی توسط تیمی ژاپنی به رهبری ایسائو شینکای صورت گرفت. ۷ عضو این تیم همگی بدون کپسول اکسیژن به قله رسیدند. در همین سال تیمی لهستانی به رهبری یانوس کورزب بدون داشتن اجازه صعود از مسیر صعود نشده شمال غربی بالا رفتند. اما پس از مشاهده این تیم توسط مقامات محلی مجبور به بازگشت از ارتفاع ۸۲۰۰ متری شدند.

در ۱۹۸۶ نخستین صعود زنان بر روی کی۲ را وندا رتکوویچ کوهنورد زن لهستانی، لیلین بارارد از فرانسه و جولیا تولیس از انگلستان هر سه بدون کمک کپسول اکسیژن صورت دادند. آنها نیز از یال آبروزی به این مهم دست یافتند. گرچه جولیا و لیلین بر اثر طوفان کشته شده و برای همیشه در دل کی۲ آرام گرفتند.

در سال ۱۹۸۶ بنیو شامو کوهنورد معروف فرانسوی توانست کی۲ را در مدت زمان ۲۲ ساعت و ۳۰ دقیقه از کمپ پیشرفته ABC صعود نماید. این در شرایطی بود که تازه چند روز از صعود ۱۶ ساعته او به برودپیک می گذشت. همچنین اریک اسکوفیر دیگر کوهنورد فرانسوی موفق شد پس از صعود قلل گاشربروم I و II ، کی۲ را نیز صعود نماید. اسکوفیر این سه قله را تنها در مدت ۲۱ روز صعمد کرد که کاری بس قابل توجه بود.

در این سال همچنین کاکوشکا و پتروفسکی کوهنوردان شایسته لهستانی موفق به گشایش مسیری دشوار در جبهه جنوبی شدند. متاسفانه کاکوسکا پس از صعود به تنهایی به خانه بازگشت و پتروفسکی برای همیشه در دل کی۲ آرام گرفت.

در مجموع در سال ۱۹۸۶ با مرگ ۱۳ کوهنورد بر روی کی۲ فاجعه ای در کوهنوردی رقم خورد.

در سال ۱۹۹۰ تیمی از ژاپن به رهبری تومای اوکی توانست مسیری جدید در رخ شمال غربی باز کند. بخشهای پایانی مسیر در ارتفاع ۸۰۰۰ متری با یال شمالی مشترک بود.

در ۱۹۹۱ پیربگین و کریستوف پروفی کوهنوردان بزرگ فرانسوی توانست در مدت ۴۸ ساعت بدون کمک باربر ارتفاع و کپسول اکسیژن و کمک طنابهای ثابت مسیر جدیدی را بر روی جبهه شمال غربی کی۲ باز کنند. صعود آنها نمایش قابل تحسینی از کوهنوردی فنی به شمار می رفت.

در بهار ۹۶ یکی از پرتلفات ترین صعودهای کی۲ رغم خورد و این زمانی بود که ۶کوهنورد از جمله آلیسون هرگریوز پس از صعود قله دچار طوفانی سهمگین شده و همگی مفقود شدند.

از نظر میزان صعودها به کشته شدگان این کوهبا نسبت ۴ به ۱ پس از آناپورنا و نانگا پاربات در رده سوم قلل ۸۰۰۰ متری قرار دارد. از این رو این کوه را گاها کوه قاتل یا کوه بی رحم نیز می خوانند.

یکی از فاکتورهایی که صعود به کی۲ را به مبارزه تبدیل نموده فنی بودن کوه می باشد. بیش از ۴۵ درجه شیب در اکثر نقاط کوه آنرا نیازمند ثابت گذاری در اغلب نقاط صعود نموده. نیاز به ۲۵۰۰ متر طناب در جبهه جنوبی و ۵۰۰۰ متر در جبهه شمالی باعث شده تا اغلب تیمها به قصد صعود سبک به کوه بیایند از طرفی عدم فعالیت باربرهای توانمند ارتفاع بر روی این کوه مجب می شود تا خود کوهنوردان مجبور به آماده کردن مسیر گردند و این امر بر خطرات صعود افزوده.


نوشته شده در تاريخ Thu 1 Jul 2010 توسط محمد نظیر عرفانی


مقدمه

به نظر نمي رسد جغرافي دانهاي آكادميك در مورد توصيف دقيق يخچالها كاملا متفق باشند. ما بايد يخچالها را به مانند توده هاي عظيم برف به صورت رود خانه هاي يخ زده در دره هاي كوهستاني توصيف كنيم كه از بالاي مسير برفي سرچشمه گرفته اند. نواحي قطبي (قطب شمال و جنوب)، بخاطر داشتن بزرگترين يخچالهاي كره زمين شناخته شده اند قطبین مسيرهاي عبور دريايي را طي قرنها بر هم زده اند. زيرا توده هاي عظيم يخبندان از بدنه اصلي شكسته و به درون اقيانوس لغزيده اند، و به شكل كوه يخي شناور در آمده اند.

در تاريخ كشتيراني دنيا صدها واقعه ثبت شده كه دال بر تصادف كشتي ها با كوههاي يخ شناور است و نتيجه آن مفقود شدن انسانها و سرمايه هاي زيادي است.

بجزمناطق قطبي درکمتر نقطه ای از جهان می توان به یخچالهایی نظیر یخچالهای منطقه قره قروم پاكستان اشاره نمود. البته اغلب این یخچالها بصورت سطحی بررسی شده اند.

در اين مقاله سعي شده نخست سرگذشت اين منطقه، و سپس يخچالهاي آن و نيز برخي كمپ سايتهاي موجود معرفي گردد. عكسهاي موجود همگي از اينترنت و كتاب كوههاي پاكستان(مراجعه به معرفي منابع) گرفته شده است.

يخچالهاي طبيعي پاكستان

محققان مي گويند كار بررسي در قره قروم ساده نيست. آنجا صدها مشكل وجود دارد. مناطق، غير قابل دسترسي، مسيرها خيلي مشكل و آبهاي منجمد، عدم سهولت در حمل و نقل و ارتباطات، منابع ناكافي در تهيه تجهيزات و افراد آموزش ديده، فقدان تصميم گيري و فداكاري، برنامه ريزي ضعيف و مديريت بد، كار بررسي را در آنجا مشكل كرده است.

در هر صورت بايد پذيرفت كه در هر حال كارهايي انجام شده كه در حال حاضر ما مي توانيم اين يخچالها را توصيف كنيم. اصلي ترين تفاوت بين يخچالهاي قطبي و يخچالهاي منطقه پاكستان اين است كه يخچالهاي مناطق قطبي در درياها واقع شده اند، در حالي كه يخچالهاي پاكستان در ارتفاعات 20هزار تا 27 هزار پايي بالاي سطح دريا، تقريباً در آسمان معلق اند.

در میان صدها يخچال پاكستان، يخچال سياشن جایگاه ویژه ای دارد.

يخچال سياشن 46مايل/74 كيلومتر طول داشته و عرض آن از 2 تا 4 مايل می باشد. اين يخچال در ارتفاع 17 تا 20 هزار پايي بالاي سطح دريا واقع شده و با تعدادي يخچال كوچكتر محاصره شده، از جمله بيلافوند، چوميك، لولوفند، ترام، شر، سيالا و...

اين يخچالها در شرق قره قروم قرار گرفته اند، در آنسوي دره هوشی و دانسوم، ميان سياشن موزتاق و رشته كوه بالتورو كه كوهها بزرگي با ارتفاع متغير از 18 هزار تا 24 هزار پايي بالاي سطح دريا قرار دارد.

پيش از 1982، اين محل امن ترين منطقه اي بود كه حركتي به جز رقص آرام پوسته هاي برفي و نغمه بادها نداشت. براي سالها گوشه و كنار صخره ها، تپه هايي پوشيده از برف باقي مانده بود. طي سالهاي3-1982 نيروهاي هندي، به آرامي بوسيله هلي كوپتر و سپس از طريق راههاي پر شيب زميني به منطقه وارد شدند.

آنها تقريباً همه ارتفاعات كليدي كوهها و تمام بخش جنوب غربي را اشغال كردند. اين كار بسيار برنامه ريزي شده و دقيق بود. آنها منطقه اي را كه متعلق به خاك پاكستان بود، اشغال كردند. رفت و آمد به آن منطقه را ممنوع اعلام كرده بودند، اين درحالي بودكه پاكستان ارتش منظمي براي سركشي به آنجا نداشت.

اما به محض اينكه خبر حركت هندي ها منتشر شد، ابعاد اثر بخشي به خود گرفت و همه چيز به يك تباني در پايان سال 1983 منتهي شد. پاكستان تلاش كرد منطقه را برگرداند. اما هندي ها استحكامات و جانپناه هاي خوبي داشتند و بواسطه آن تمام نقاط مرتفع كليدي را اشغال كرده، چنانچه تمام تلاش پاكستان در بيرون راندن آنها بي نتيجه ماند.

از آنجايي كه هيچ كشوري روي زمين نمي تواند تحمل كند بخشي از خاكش بوسيله دیگری اشغال شود (هر چند آن زمين بي استفاده هم باشد)، پاكستان گامهاي ديگري را در بيرون راندن آنها در پيش گرفت، و اين چنين جنگ در گرفت. البته هيچ انسان عاقلي گمان نمي كند در 18 هزار پايي بالاي سطح دريا بتوان جنگيد.

در چنين فرايندي، در هر صورت هزاران زندگي پرارزش از دست رفت، نه بخاطر شليك اسلحه يا حمله یکی از طرفین، بلكه بخاطر طوفانهاي برف، سرماي گزنده، بادهاي سرد كشنده، نبود اكسيژن و ساير عوارض مربوط به آن.

شكي وجود ندارد كه سيستم بسيار پيچيده يخچالها، دنياي ناشناخته اي است، كه براي مردم عادي به هيچ وجه آشنا نيست. اين يخچالهاي بيرحم و وحشي، اغلب در نگاه اول روح با شكوه شان را در مقابل بشريت آشكار مي كنند كه بطور قطع از هر جهت شيطاني است. گاهي براي ماه ها و گاه براي سالها آنها برنامه ريزي و طرح حركت هایشان را به آرامي و بصورت محرمانه ادامه مي دهند، مانند حركت يك مار بزرگ پيش از حمله به قرباني اش.

پس از مدتي ساكت و بي حركت ماندن، آنها بيك باره از هم پاشيده و همه چيز را درسر راه خود از بين مي برند. آنها اغلب چندين روستا را از بين برده، راهها را مي بندند و مسير رود خانه ها براي چندين روز بسته ميشود. و فجايع باور نكردني به بار مي آورند.

شكي نيست كه اين يخچالها براي مردمي كه در كوهستان و دره ها زندگي مي كنند، سرچشمه دائمي ترس و خطر هستند. اما آنها در عين حال منابع دائمي جريان آب هستند كه كاميابي را براي مردمي كه در جلگه ها زندگي مي كنند به همراه دارد. آنها در اين زمين ها زندگي مي كنند و كشاورزي و باغاتشان در آنجا قرار دارد. كه آنجا را با آب يخچالها زه كشي كرده و در سراسر منطقه رودخانه ها و نهرهاي متعددي جريان مي يابد.

ترديدي نيست در سياشن وضعيت جنگي وجود دارد. بازديد كنندگان با سرماي بينهايت و تنفر فوق العاده اي در طي چندين روز روبرو مي شوند.

انحصاري كردن بلندي كوهستان، به نظر خصومت شخصي با بازديدكنندگان است، نه تنها براي صعود طولاني مدت از مسيرهاي صعب العبور تر، انسان را از پا در ميآورد، حتي فواصل كوتاه بسيار بلند و غير قابل عبور به نظر مي آيد. بخاطر نبود اكسيژن، بدن و مغز كوهنورد ضعيف مي شود، واكنش هاي بدن بطور خطرناكي به آرامي كاسته مي شود و انرژي انسان گرفته مي شود، در نتيجه توان زندگي از دست مي رود.

من بايد اعتبار و اعتقاد كاملي به سربازان پاكستاني بدهم كه براي دفاع از بخش مهمي از پاكستان در چنين شرايط نامناسبي تلاش مي كنند.

اين حقيقت را بايد پذيرفت كه ميليونها شهروند هندي رنج گرسنگي و قحطي را تحمل كردند، ميليونها نفر در پياده روها به دنيا مي آيند، در پياده روها مي خوابند، زندگي شان را در پياده روها مي گذرانند و در همانجايي كه بدنيا مي آيند، مي ميرند؛ ميليونها نفر ديگر هر سال بخاطر بيماريهاي واگيردار و گرسنگي مي ميرند. بخش كوچكي از مبلغي كه هندي ها براي تلاش در سياشن مي پردازند، اگر معطوف رفاه اجتماعي شان گردد، مي تواند هزاران شهروند هندي را نجات دهد.


يخچال اولتار

يخچالهاي منطقه قره قروم

برخي از يخچالهاي مهم واقع شده در كوه هاي پاكستان در زير آورده شده است:

    1. بالتورو: 36 مايل(58 كيلومتر) طول و که از طویلترین یخچالهای دنیا در خارج از مناطق قطبي است. تعداد زيادي از قله هاي قره قروم در دوسوي آن قرار داشته و همچنين تعدادي يخچال فرعي در اطراف آن وجود دارد.

    2. بارپو: در دره ناگار.

    3. باتورا: 36مايل (58 كيلومترطول). در دره هونزاي عليا كه در نزديكي دوست داشتني ترين قلل دنيا قرار گرفته: باتورا موزتاق، كمپير و ديور و ...

   4. بيافو: حدود 37مايل (59 كيلومتر)، واقع در بخش مركزي قره قروم. اينجا محل تلاقي بزرگترين يخچالهاي كوههاي آسياست. بيافو و هيسپار در پهنه ای حدود 60 مايل(10 كيلومتر) در جهت شرقي - غربي چشم انداز پر ابهت ترين و دورنماي باشكوه را رقم زده. مارتين كانوي جغرافي دان بريتانيايي اين پديده را چنين توصيف مي كند: "شگفتي هاي زمين به خاطر می آورند كه زندگي ادامه دارد."

   5. بيانگ: نزديك برج موزتاق و قله بيانگ

    6. بيارچدي: نزديك قله بيار‌چدي ژاكورا، كه به بالتورو مي پيوندد.

    7. بيلافوند: نزديك قله K-13.

    8. برالدو: يكي از تغذيه كننده هاي رود شاكس گام.

      9. چوگولانگما: با 11مايل (17كيلومتر) طول. نزديك قله هاي مارلوبيتينگ و هاراموش، تغذيه كننده بوشا از شعبه هاي ايندوس.


        10. چولونگ: يكي از تغديه كنندهاي رود دانسوم.

          11. چوميك: نزديك گيونگ لا، به يخچال بيلافوند مي پيوندد.

          12. گاشربروم: 12 مايل(17كيلومتر). ميان يخچال اوردك و سينقي.

         13. قاندر شيش: در دره ناگار


        14. گوندو كورو: نزديك قله ماشربروم.

    15 هيسپر: 36:63مايل(59 كيلومتر) طول. تا نوك گذرگاه هيسپر ادامه يافته. پهناي آن در حدود 3مايل(4كيلومتر) است. يكي از 4 يخچال كوه است كه بوسيله تعداد كوچكتري، به شكل متوازي الاضلاع احاطه شده است. بخشي از يخچال هيسپر در ارتفاع 17500پا(5334 متري) قرار گرفته است. كه در پايان به يخچال بيافو مي پيوندد. هيسپر و بيافو در كنار هم بزرگترين يخچال خارج از ناحيه قطب شمال را تشكيل مي دهد (لازم به ذکر است مولف نسبت به یخچالهای طویل منطقه پامیر اطلاعات جامعی نداشته).

17. خابري: نزديك قله چوگوليسا و K-6 و K-7 تغذيه كننده رود كندوس.

18. خال خال: به يخچال گادوين آستن در نزديكي قله هاي ماربل و كريستال مي پيوندد.

19. خين يانگ چيش: در دره ناگار.

20. خورد پين: 26مايل(41كيلومتر) طول در شمال شرقي دره هانزا.

21. كون يانگ: در دره ناگار.

22. كوتيا: در كوهستان هاراموش.

23. ماندو: نزديك به يخچال يرمانندو.

24. ماشربروم: نزديك قله ماشربروم، تغذيه كننده هاشه.

25. ميار: در دره ناگار.

26. ميناپين: در دره ناگار.

27. پيسان: در دره ناگار.

28. موم هيل سر: در دره ناگار.

29. پورماري كيش: در دره ناگار.

30. ميتر: نزديك قله ميتر. قبل از اينكه به بالتورو بپيوندند به يخچالهاي بيارجدي و گادوين آستن، ملحق مي شود.

31. ريمو: در قره قروم شرقي واقع شده است. در رودخانه شيوك در هندوستان تقسيم مي شود.

32. ساويا: نزديك K-2 و به يخچال گادوين آستن مي پيوندد.

33. سياشن: 46مايل(47كيلومتر) طول دارد. در قره قروم شرقي ميان ارتفاعات سياشن موزتاق و بالتورو.


34. سكامري: نزديك قله كراون . تغذيه كننده شاكس گام.

35. سكي يانگ: 7مايل(11كيلومتر).

36. ترينيتي: نزديك قله ترينيتي

37. ويگن: نزديك قله ميتره و بريد. در نزديكي كونكورديا به يخچالهاي بالتورو و گادوين آستن مي پيوندد.

38. ويرجداگ: 24مايل(38كيلومتر) طول دارد. در شمال شرقي دره هانزا واقع است.

39. يازگيل: 18 مايل(29كيلومتر) طول دارد. در شمال شرقي دره هانزا و شيمشال واقع شده است.

40. ين گوتز: دردره ناگار.

البته چندين يخچال ديگر وجود دارد كه در اينجا ذكر نشده اند. چرا كه خيلي از اين يخچالها غير قابل دسترسي اند و اطلاعات قابل اعتماد و موثقي درمورد آنها در دست نيست.


نوشته شده در تاريخ Thu 1 Jul 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
بازیکن تیم ملی کریکت پاکستان ( شعیب ملک) با ( ثانیه میرزا) تنیسور حرفه ای هندوستان ازدواج کرد این ازدواج باعث شادی و احساس دوستی هر چه بیشتر ملت های هند و پاکستان شده است گرچه برخی  از هندوهای افراطی علیه این اقدام دست به آتش زدن تصاویر ثانیه میرزا نمودند ولی عموم مردم از این امر استقبال نموده اند لازم به ذکر است ثانیه میرزا مسلمان بوده و در سطح جهان بین بازیکنان مطرح تنیس رتبه ۲۷ را دارد


نوشته شده در تاريخ Sun 25 Apr 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
 
آصف علی زرداری متولد 21 جولای 1956 سیاستمدار پاکستانی و همسر بی‌نظیر بوتو نخست وزیر فقید پاکستان است.

آصف علي زرداري  متولد استان جنوبي سند و فرزند يك خانواده زمين دار است. وي در رشته تجارت، اقتصاد و بازرگانی تحصیل كرده و فارغ التحصیل دانشگاه لندن است. وی در 18 دسامبر 1987 با بی نظیر بوتو ازدواج کرد و حاصل زندگی مشترک آنها 3 فرزند به نام‌های بیلاوال، بختاور و آصفه است.

آصف علی زرداری از اعضای برجسته طایفه زرداری است. وی همچنین در زمان نخست‌وزیری همسرش سمت وزیر سرمایه‌داری پاكستان را بر عهده داشت. وي پس از ترور خانم بوتو معاونت رهبری حزب مردم پاکستان را بر عهده گرفت.

وی پس از کشته شدن همسرش رهبری حزب مردم را به عهده گرفت و به این ترتیب توانست از همدردی‌ای که مردم با وی در خصوص همسرش داشتند، استفاده کند و قدرت و نفوذ خود را گسترش دهد.

زرداری در کشمکشی که با رقبای خود و از جمله نوازشریف، رهبر حزب مسلم لیگ شاخه نواز و نخست وزیر سابق پاکستان داشت، توانست گوی رقابت را از وی و قضات طرفدارش برباید و در سال 2008 رئیس جمهور پاکستان شود.

وي که دارای ثروت قابل توجهی دارد، شیعه مذهب است و با اتهاماتی در خصوص فساد مالی روبرو بوده‌است. زرداری به اتهام فساد مالی سال‌ها در زندان به سر برده و آخرین دوره محکومیت وی 8 سال بوده و تا سال 2004 به طول انجامید.

وی پس از یک دوره تبعید با عفو عمومی پرويزمشرف پس از گفت‌وگو با بی نظیر بوتو، بخشیده شد.

زرداری همچنین یک بار هم درپی انحلال دولت بی نظیر بوتو، در شب چهار نوامبر 1996 به دستور فرماندار پنجاب دستگیر شد، اتهام وی قتل میرمرتضی بوتو، برادر بی نظیر بوتو و همچنین عدول از قوانین دولتی بود.

او در دهه 1990 در كابينه دومي كه همسرش تشكيل داد در راس يكي از وزارتخانه‌ها قرار گرفت. زرداري همچنين تا سال 1999 عضو سناي پاكستان بود. اما از زماني كه زرداري متهم به گرفتن پورسانت از معاملات دولتي شد، وي را آقاي ده درصد ناميدند.

اگر چه زرداري همواره اتهامات مطروحه عليه خود را رد مي‌كرد و در دادگاه نيز گناهكاريش اثبات نشده بود  طي دوران فعاليت سياسي خويش، به اتهام فساد مالي و قتل به زندان رفت و 11 سال را در حبس سپري كرد. او در سال 2004 با سپردن وثيقه از زندان آزاد شد.

برخي از پزشكان پيش از برگزاري انتخابات رياست جمهوري پاكستان ادعا مي‌كردند كه زرداري از افسردگي ناشي از شكنجه در دوران زندان رنج مي‌برد اما حزب مردم با رد اين ادعا، زرداري را به عنوان كانديداي خود براي تصدي مقام رياست جمهوري پاكستان برگزيد.

زرداري در نهايت در روز 6 سپتامبر 2008 از سوي پارلمان و چهار مجلس استاني به عنوان رئيس جمهور پاكستان انتخاب شد.


نوشته شده در تاريخ Thu 8 Apr 2010 توسط محمد نظیر عرفانی

تحصيلات‌ پيش‌ دانشگاهي‌

‌ تحصيلات‌ ابتدايي‌ با يك‌ دوره‌ پنج‌ ساله‌ (Grades 1-5)  از پنج‌ سالگي‌ آغاز مي‌شود. سپس‌ دانش‌آموزان‌ وارد دوره‌اي‌ دو مرحله‌اي‌ مي‌شوند. مرحله‌ اول، سه‌ سال‌ (Grades 6-8)   و مرحله‌ دوم‌ كه‌ تحصيل‌ در دبيرستان‌هاست‌Grades 9-10)  ) دو سال‌ طول‌ مي‌كشد. در مجموع‌ در پايان‌ اين‌ دوره‌ها و بعد از گذراندن‌ امتحانات‌ دوره‌ ده‌ ساله‌ دانش‌آموزان‌ موفق‌ به‌ دريافت‌ گواهي‌ Secondary School Certificate (SSC)  مي‌شوند. پس‌ از دريافت‌ اين‌ گواهي‌ دانش‌آموزان، مي‌توانند مستقيماً‌ وارد كالج‌هاي‌ وابسته‌ به‌ دانشگاه‌ها شوند و پس‌ از چهار سال‌ تحصيل‌ مدرك‌ Bachelor Degree دريافت‌ كنند يا اين‌ كه‌ با گواهي‌SSC   دو سال‌ دوره‌ پيش‌ دانشگاهي‌ را بگذرانند (Grades 11-12) و در مجموع‌ پس‌ از 12 سال‌ تحصيل‌ با شركت‌ در امتحانات‌ نهايي‌ براي‌ دريافت‌ مدرك‌ ديپلم‌ دبيرستان‌Higher Secondary Certificate (HSC)   توانايي‌ خود را براي‌ ورود به‌ دانشگاه‌ بيازمايند.

 ‌‌تحصيلات‌ دانشگاهي‌

‌براي‌ ورود به‌ دانشگاه‌ها و مؤ‌سسات‌ آموزش‌ عالي‌ پاكستان‌ داشتن‌ مدرك‌ ديپلم‌ دبيرستان‌ Intermediate Certificate ياHSC   الزامي‌ است. داشتن‌ معدل‌ بالا شرط‌ ورود به‌ دانشگاه‌هاي‌ خوب‌ براي‌ تحصيل‌ در رشته‌هاي‌ مهندسي‌ و پزشكي‌ است. نظام‌ تحصيلي‌ در اكثر دانشگاه‌هاي‌ پاكستان‌ ساليانه‌ و نيم‌ سالي‌ است. در نظام‌ آموزشي‌ Carry Over  ادامه‌ تحصيل‌ به‌ سال‌هاي‌ بالاتر با وجود مردودي‌ در چند درس‌ از دروس‌ سال‌هاي‌ قبل‌ نيز ممكن‌ است.

دوره‌هاي‌ تحصيلي‌

‌: Bachelor . 1شامل‌ دو سال‌ تحصيل‌ بعد از ديپلم‌ دبيرستان‌ يا چهار سال‌ تحصيل‌ بعد از دوره‌ ده‌ ساله‌ متوسطه‌(Matriculation)   يا SSC  است. اين‌ دوره‌ اكثراً‌ در كالج‌هاي‌ وابسته‌ به‌ دانشگاه‌ها گذرانده‌ مي‌شود.

 : Bachelor . 2 شامل‌ چهار تا پنج‌ سال‌  تحصيل‌ در دانشگاه‌هاي‌ معتبر بعد از ديپلم‌  دبيرستان يا پيش‌ دانشگاهيIntermediate Certificate) ) یا  Hsc است.

 : Master .3شامل‌ دو سال‌ تحصيل‌ به‌ صورت‌ آموزشي‌ و پژوهشي‌ در رشته‌هاي‌ گوناگون‌ است.

‌: M.Phil .4 شامل دو سال‌ تحصيل‌ بعد از دريافت‌Master   است.

: Ph.D .5 شامل‌ سه‌ سال‌ پژوهش‌ پس‌ از Master است.

 Doctor of Law (LL.D.), Doctor of Science (D.Sc), Doctor of Literature .( D.Liit).6   

شامل‌ پنج‌ تا هفت‌ سال‌ تحصيل‌ پس‌ ازMaster  است. 

‌‌نحوه‌ ارزشيابي‌ مدارك‌ تحصيلي‌

‌.1 مدارك‌Bachelor  ،با دو سال‌ تحصيل، صادره‌ از كليه‌ كالج‌هاي‌ وابسته‌ به‌ دانشگاه‌ در صورت‌ داشتن‌ مدرك‌ دوره‌ ده‌ ساله‌ متوسطه از پاکستان، معادل‌ "ديپلم" دبيرستان‌ است.

 2. مدارك‌ Bachelor ، با دو يا سه‌ سال‌ تحصيل، صادره‌ از دانشگاه‌ها در صورت‌ داشتن‌ ديپلم‌ دبيرستان يا پيش‌ دانشگاهي از پاکستان، "كارداني" ارزشيابي‌ مي‌شود.

.3مدارک Bachelor  با چهار تا پنج‌ سال‌ تحصيل، از دانشگاه‌هاي‌ گروه‌ 1 و 2 در صورت‌ داشتن‌ ديپلم‌ دبيرستان‌ يا پيش‌ دانشگاهي، "كارشناسي" ارزشيابي‌ مي‌شود.

‌.4مدارك‌ Bachelor  با دو يا سه‌ سال‌ تحصيل‌ و داشتن مدرك‌Master  در مجموع، از دانشگاه‌هاي‌ گروه‌ 1 و 2 در صورت‌ داشتن‌ ديپلم‌ دبيرستان‌ يا پيش‌ دانشگاهي، "كارشناسي" ارزشيابي‌ مي‌شود.

.5مدارك‌ Master با دو سال‌ تحصيل‌ از دانشگاه‌هاي‌ گروه‌ 1 و 2 ، (موضوع‌ بند 3)، "كارشناسي‌ ارشد" در رشته‌ مربوط‌ ارزشيابي‌ مي‌شود.

.6مدارک M.Phil به شرط‌ داشتن‌ مدرك‌ كارشناسي، "كارشناسي‌ ارشد" ارزشيابي‌ مي‌شود. براي‌ دارندگان‌ مدارك‌M.Phil  بعد از كارشناسي‌ ارشد فقط‌ صحت‌ صدور آن‌ تأييد مي‌شود. 

‌.7مدارك‌Ph.D.   از دانشگاه‌ها و مراكز پژوهشي‌ گروه‌ 1 ، "دكترا" ارزشيابي‌ مي‌شود. 

  ‌‌معرفي‌ دانشگاه‌هاي‌ پاكستان‌

‌الف) دانشگاه ها و مراکز آموزشی عالی، گروه‌ يك  برای کلیه دوره های تحصیلی

1- University of Sindh (SU)

2- University of the Punjab ,Lahore (PU)

3- Quaid-e- Azam University, Islamabad (QAU)

4- North West Frontier Province Agricultural University (NWFPAU)

5- North West Frontier Province University of Engineering & Technology (NWFPUET)

6- National College of Arts (NCA)

7- Water Resources Engineering University of Engineering & Technology, (Lahore)

8- University of Engineering & Technology, Lahore (UETL)

9- University of Peshawar (PUP)

9- صرفا" در رشته های بيوتکنولوژی، فيزيک، باستان شناسی، زمین شناسی و شیمی                                                                            

10- University of Karachi (KU)

  10- صرفا" در رشته های بيولوژی و شیمی، اقتصاد، علوم دریایی و مطالعات اسلامی                                                                     

11- University of Balochistan ,Quetta

11- صرفا" در رشته کانی شناسی

12- International Center for Chemical & Biological Sciences (University of Karachi)

12- صرفا" در رشته شيمي

13- Government College University _Lahore (G.C.U)

13- در دوره دکتری صرفا" در رشته های شيمي و ریاضی

‌ب(  دانشگاه‌ها و مراكز آموزش‌ عالي پاکستان‌، گروه‌ دو که فقط در دوره های کارشناسی (لیسانس) و کارشناسی ارشد (فوق لیسانس) ارزشیابی می شود.

1- University of Karachi.

2- University of Agriculture, Faisalabad.

3- University of Peshawar.

4- NED University of Engineering and Technology, Karachi

5- National University of Sciences and Technology, Karachi.

6- Shaheed Zulfikar Ali Bhutto Institute of Science & Technology ,Karachi.

7- International Islamic University, Islamabad (IIU)

7- برای مقطع دکترا صرفاً در رشته های زبان عربی و مطالعات اسلامی

8- Lahore College for Women University ,Lahore

9- Balochistan University of Information Technology & Management Sciences

10- Lahore University of Management Sciences (LUMS)

10-تامقطع کارشناسی در کلیه رشته ها و مقاطع کارشناسی ارشد صرفا" در رشته های مدیریت بازرگانی و علم کامپیوتر

11- University of Balochistan, Quetta.

11- صرفا" تا مقطع كارشناسي‌ .

12- Punjab College of Commerce (161-C Muslim Town, Lahore) ,University of Central Punjab (UCP)

12- صرفا" تا مقطع کارشناسی

13- Punjab Cllege of Commerce (City Campus, Lahore), Uniiversity of Central Punjab (UCP)

13- صرفا" تا مقطع کارشناسی

14- Faculty of Commerce-M.com Campus (185-Abu Bakar Block, Garden Town, LHR.), University of Central Punjab (UCP)

14- صرفا" تا مقطع کارشناسی

15- Balochistan University of Engineering & Technology (BUET)

15- صرفا" تا مقطع کارشناسی

16- Comsats Institute of Information Technology

16- صرفا" تا مقطع کارشناسی

 


نوشته شده در تاريخ Thu 8 Apr 2010 توسط محمد نظیر عرفانی
در پاکستان نوروز را عالم افروز یعنی روز تازه رسیده که با ورود خود جهان را روشن و درخشان می‌کند می‌نامند.

در میان مردم این سرزمین تقویم و روز شمار و یا سالنمای نوروز از اهمیت خاصی برخوردار است. بدین جهت گروه‌ها و دسته‌های مختلف دینی و اجتماعی در صفحات اول تقویم‌های خود به تفسیر و توضیح نوروز و ارزش و اهمیت آن می‌پردازند و این تقویم را در پاکستان (جنتری) می‌نامند.

از آداب و رسوم عید نوروز در میان مردم پاکستان می‌توان به خانه تکانی و یا به عبارتی پاکیزه کردن خانه و کاشانه و پوشیدن لباس و تهیه نمودن انواع شیرینی مثل (لدو) گلاب حامن، رس ملائی، کیک، برفی، شکرپاره، کریم رول، سوهن حلوا، و همچنین پختن غذاهای معروف این ایام و عیدی دادن و گرفتن و دید و بازدید اقوام اشاره نمود.

در ایام نوروز مردم پاکستان از گفتار نا مناسب پرهیز نموده و با نواختن و نوازش یکدیگر با احترام و اخلاص یکدیگر را نام می‌برند. همچنین سرودن اشعار نوروزی به زبان‌های اردو، دری و عربی در این ایام مرسوم است که بیشتر در قالب قصیده و غزل بیان می‌شود.

پاکستانی‌ها بر این باورند که مقصد نوروز، امیدواری و در امن و صلح و آشتی نگهداشتن جهان اسلام و عالم انسانیت است تا آنجا که آزادی و آزادگی، خوشبختی و کامیابی، محبت و دوستی و برادری و برابری همچون بوی خوش گلهای بهاری در دل و جان مردمان جایگزین می‌گردد.

در بلتستان نوروز اهمیت خاصی دارد و از قدیم جشن نوروز را با آداب خاص خود برگزار می کنند


نوشته شده در تاريخ Sat 3 Apr 2010 توسط محمد نظیر عرفانی

جايگاه احزاب وگروه ها در پاكستان

گروه ها و احزاب مذهبي همواره در تاريخ پاكستان از جايگاه ويژه اي برخوردار بوده اند بطوري كه در تاريخ شصت ساله اين كشور به عنوان يكي از بازيگران اصلي در عرصه سياست نقش آفريني كرده اند. البته حضور گروه ها و احزاب مذهبي در عرصه سياست پاكستان در مقاطعي با نوساناتي همراه بوده اما نقطه عطف حضور مذهبي ها در سياست به 10ساله تاريخ اخير اين كشور بازمي گردد. اسلام دين رسمي اين كشور است و 98 درصد جمعيت پاكستان پيرو اين دين هستند. اكثريت مسلمانان پاكستان سني، حنفي مذهب و گروهي نيز شافعي مسلك مي باشند. اقليت قابل توجهي نيز كه حدود 25 درصد جمعيت پاكستان تخمين زده مي شود؛ شيعه هستند. اساس تشكيل پاكستان دين اسلام بود از اين رو اديان ديگر نقش چشمگيري در اوضاع سياسي اين كشور ندارند. قانون اساسي جديد پاكستان (1973) اين كشور را جمهوري اسلامي معرفي مي كند. معهذا براساس قوانين پاكستان هر پاكستاني حق دارد مراسم مذهبي خود را به جا آورد و تبليغ كند. همچنين در فرقه مذهبي مي تواند مؤسسات مذهبي مربوط به خود را تاسيس؛ نگهداري و اداره نمايد.
   
    تركيب مذهبي در پاكستان
    الف- اهل سنت كه شامل فرقه هاي ذيل مي باشند: بريلويان- ديوبنديان- اهل حديث- وهابيان. علماي اهل سنت در پاكستان دو گروه مي باشند و هريك مدارس و مراكز مذهبي متعدد دارند، يكي اهل حديث كه بسيار نزديك به وهابيان هستند و ديگري اهل سنت كه هرچند ممكن است جزو گروهي خاص از صوفيان نباشند ولي به هرحال ايدئولوژي صوفيان را دارند و به اهل تشيع از اين نظر نزديكند.
    ب- تشيع؛ 25 درصد مردم پاكستان را شيعيان تشكيل مي دهند كه بطور عمده از شيعيان اماميه هستند و بقيه نيز از فرقه اسماعيليه و اندكي نيز زيديه هستند. روحانيون در پاكستان دو گروه سني و شيعه مي باشند و هركدام مراكز ديني مخصوص دارند. در اين كشور بسياري از روحانيون؛ صوفيان و اقطابي هستند كه از نظر فرهنگي و ايدئولوژي به اهل تشيع نزديك هستند هرچند نام حنفي دارند. مدارس عمده اهل سنت عبارتند از: جامعه اشرفيه و جامعه نعيميه در لاهور؛ خيرالمدرس و دارالعلوم در ملتان، دارالعلوم حقانيه در اكوره ختك؛ جامعه اشرفيه در مشاور؛ جامعه اسلاميه در بهاولپور و مركز تعليمات اسلامي؛ مدرسه عربيه مظهور العلوم، مدرسه البنات ويژه بانوان جامعه خاروقيه و دارالعلم امجديه در كراچي، اهل تشيع نيز مراكز ديني متعدد در شهرهاي مختلف دارند ازجمله: مركز بزرگ ديني المنتظر در لاهور؛ جامعه اهل بيت در اسلام آباد؛ مدرسه مؤمن، مدرسه آيت الله حكيم در راولپندي؛ مدرسه مشاع العلوم در حيدرآباد و مدرسه امام صادق در كويته. رهبر شيعيان پاكستان پس از شهادت عارف حسين حسيني؛ سيد ساجد علي نقوي مي باشد كه رهبر نهضت نفاذفقه جعفري هم هست. مولانا حامد علي شاه؛ ملقب به حامد الموسوي رئيس مدرسه ديني مؤمن نيز يكي ديگر از رهبران شيعه مي باشد كه برخلاف ساجد نقوي اعتقادي به دخالت دين در سياست ندارد. فرقه اي از شيعيان نيز به نام اسماعيليه در پاكستان بيشتر در ايالت پنجاب و شمال غربي پاكستان وجود دارند كه بطور غالب پيروان آقا محمدخان محلاتي مي باشند.
    فعاليت هاي سياسي احزاب مذهبي تقريباً در 30 سال اول تاسيس پاكستان؛ يگانه حزب مذهبي واقعي؛ جماعت اسلامي بود كه در صحنه سياست فعاليت چنداني نداشت. در دوره حكومت ذوالفقارعلي بوتو يك حزب مذهبي ديگر به نام جمعيت علماي اسلام به رهبري مفتي محمود؛ در ايالت سرحد و بلوچستان مطرح شد. در سال 1947 فقط 137مدرسه در اين كشور وجود داشت كه تا سال 1994 شمار آنان بطور تقريبي به يك هزار و چهارصد مدرسه افزايش يافت. در سال 1979 قانون عشر و زكات در مجلس ملي پاكستان تصويب شد و طلابه هيئت هاي توزيع زكات پيوستند و مسئوليت توزيع پول بين فقرا و مستمندان را برعهده گرفتند و دراين مورد با دستگاه اداري محلي و مسئولان دولت رابطه برقرار كردند و بدين وسيله براي نخستين بار روحانيون تا حدودي داراي نفوذ سياسي و اجتماعي شده و در انتخابات شركت كردند و در سطح شهرداري، اداري و قانونگذاري در تشكيلات دولتي سهيم شدند، اين وضعيت البته با فرقه گرايي مذهبي مقارن شد و دو گروه با عقايد متفاوت احزاب سياسي مخالف يكديگر را تشكيل دادند و هردو باكشورهاي ديگر اسلامي ارتباط برقرار نمودند. درگيري هاي فرقه اي در زمان «ضيا الحق» رشد چشمگيري پيدا كرد. قوانين اسلامي مورداختلاف؛ گرايشات فرقه هاي مختلف جهت اجراي قانون شريعت؛ دسترسي مردم به سلاح وايجاد دادگاه هاي شرعي؛ فضاي تشنج را در جامعه افزايش داد. در اين مقطع تعدادي از رهبران روحاني ازجمله علامه «عارف الحسيني» رئيس نهضت اجراي فقه جعفري؛ رؤساي انجمن سپاه صحابه پاكستان «مولانا حق نواز» و «ضياءالرحمن فاروقي» ترور شدند. در سال 1972 از بين 893 مدرسه مذهبي در پاكستان 254 ديوبندي (وهابي) 267 بريلوي (حنفي)؛ 144اهل حديث (با گرايش وهابي)؛ 41 شيعه و 105 مدرسه از عقايد متفاوت ديگر بودند.
   
    سياست برخي از احزاب و گروه هاي اسلامي پاكستان اعم از شيعه و سني
    حزب جماعت اسلامي پاكستان؛ «ابوالاعلي مودودي» حزب جماعت اسلامي را در سال 1941 تشكيل و هدف خود را تلاش براي ايجاد و استقرار يك دولت اسلامي اعلام كرد. اين حزب نقطه نظرها و مواضعي همچون اخوان المسلمين مصر را پيگيري مي كند. جماعت اسلامي در انتخابات سال 1970 چهار كرسي به دست آورد و در انتخابات 1977 از ائتلاف مزبور كنار گذاشته شد. رهبر فعلي آن قاضي «حسين احمد» است و دفاتر مركزي آن در لاهور قرار دارد. اين حزب در دوران حكومت اوليه «بي نظير بوتو» از «نواز شريف» حمايت كرد تا قوانين اسلامي را پس از رسيدن به قدرت در پاكستان برقرار نمايد. نواز شريف پس از رسيدن به قدرت؛ لايحه شريعت را تصويب نمود ولي جماعت اسلامي؛ نواز شريف را به اجرا نكردن دقيق قوانين اسلام متهم كرد. در اوايل دهه 1990 جماعت اسلامي در اعتراض به تصميم دولت نواز شريف در حمايت از دولت جديد ميانه روهاي مجاهدين در كابل؛ از اتحاد دموكراتيك اسلامي كناره گيري كرد. قاضي حسين احمد دولت نواز شريف را به قطع حمايت از «گلبدين حكمتيار» رهبر حزب اسلامي افغانستان و شكست برنامه اسلامي كردن كامل پاكستان متهم نمود. در انتخابات اكتبر 1993 جماعت اسلامي كه خاطره خوشي از همكاري با حزب مردم و مسلم ليگ؛ نداشت تصميم گرفت كه با عنوان جبهه جديد سياسي به نام امت و جداي از اين دو حزب در انتخابات شركت نمايد؛ ولي نتوانست آراي قابل توجهي كسب نمايد.
   
    جمعيت العلماء اسلام
    اين حزب؛ گروهي حنبلي مذهب و در رشته اصحاب حديث؛ معتقد به مكتب ديوبندي و نزديك به وهابيت مي باشد و همان حزبي است كه در سال 1945 تحت رهبري مولانا «شبير احمد عثماني» براي كسب حمايت از تاسيس پاكستان ايجاد شد. پس از وقفه اي اين حزب در سال 1950 بطور مجدد فعاليت خود را آغاز كرد. جمعيت العلماء اسلام بر تدوين قانون اساسي مبتني بر اصول و ضوابط اسلامي تاكيد مي نمود. رهبر آن مولانا مفتي محمود؛ بنيانگذار و رهبر اتحاد ملي پاكستان بود كه پس از وي مولانا «فضل الرحمن» رهبري اين حزب را برعهده گرفت. اين حزب در انتخابات سال 1977 در اتحاد ملي پاكستان و در مقابل حزب مردم قرار داشت. در ابتداي حكومت ژنرال ضياءالحق؛ با وي همكاري داشتند اما در سال 1981 به جنبش احياي دمكراسي پيوست و رفراندوم 19 مارس 1984 را كه موضوع تجديد رياست جمهوري وي بود؛ تحريم كرد.
   
    جمعيت العلماي پاكستان
    اين حزب در سال 1948 تاسيس شد. حزبي اسلامي؛ عامه پسند و نه چندان نخبه گرا؛ سني مذهب و معتقد به سنت ها و مكتب بريلوي مي باشد و از اصول مترقيانه اسلامي پيروي مي كند. در مجلس ملي در 1970 هفت كرسي به دست آورد. اين حزب نيز از اعضاي اتحاد ملي پاكستان كناره گرفت. در 1981 به نهضت اعاده دمكراسي پيوست اما يك ماه بيشتر در اين نهضت نبود.
    در 1988 به حزب تحريك استقلال پيوست تا اتحاد عوامي پاكستان را ايجاد كند. در نوامبر 1990 به اتحاد دموكراتيك اسلامي پيوست و در مارس 1991 در اعتراض به سياست نوازشريف در مورد جنگ خليج فارس، از اين اتحاد كناره گيري كرد. اين حزب نيز به دو شاخه اصلي تقسيم مي شود؛ جناح تحت رهبري مولانا «احمد شاه نوراني» و جناح تحت رهبري مولانا «عبدالستار نيازي»
   
    سپاه صحابه
    يك گروه سني مذهب نظامي كه پيرو فرقه وهابي است. رهبر آن محمد غياث الدين در 31 مه 1992 در گيلگيت در شمال پاكستان ترور شد. محبوبيت اين گروه در نزد افكار عمومي به دليل اعمال خشونت بار و تروريستي بسيار پايين است. گروه مذكور كه شهر جهنگ در ايالت پنجاب را به عنوان مركز فعاليت هاي خود انتخاب كرده؛ مسئول اكثر فعاليت هاي تروريستي در پاكستان به شمار مي رود. انجمن وهابي سپاه صحابه كه شاخه نظامي آن لشكر جهنگوي نام دارد علاوه بر ترور بسياري از سياستمداران پاكستاني، عداوت شديد با نهضت فقه جعفري دارد.
   
    تحريك نفاذ فقه جعفري
    گروهي شيعه مذهب است كه در سال 1979 تشكيل شد تا با برنامه اسلامي كردن ضياءالحق براساس فقه سني مخالفت نمايد. اين سازمان به عنوان يك حزب سياسي در 1987 ثبت شد. در 1984 يك جناح اصلاح طلب به رهبري عارف حسين الحسيني از جناح سنتي به رهبري «حامدعلي موسوي» جدا شد و گروه تحريك فقه جعفريه پاكستان را تشكيل داد.
    عارف حسين الحسيني در اوت 1988 در پيشاور به شهادت رسيد. پس از عارف حسين الحسيني رئيس اين گروه سيدساجد علي نقوي شد. اين گروه برخلاف گروه اول معتقد به فعاليت هاي سياسي مي باشند اين نهضت در سال 1990 با اتحاد دمكراتيك مردم به رهبري بي نظير بوتو ائتلاف كرد ولي در سال 1993 از اين اتحاد خارج شد. در بيانيه نهضت؛ علت اين جدايي عدم توجه حزب مردم به درخواست نهضت مبني بر اختصاص شش درصد سهميه براي نامزدهاي اين نهضت در مبارزات انتخاباتي ذكر شد. تشكيلات شيعه ديگري نيز وجود دارند كه از جمله مي توان به سازمان دانشجويان اماميه؛ سازمان اماميه (به سرپرستي صفدر نقوي)؛ سازمان اصغريه (تاسيس 1989)؛ سپاه محمد (كه در اوج درگيري هاي فرقه اي در سال 1994 اعلام موجوديت كرد) و وفاق علما و جامعه المنتظر (لاهور) اشاره كرد.
   
    گروه اسلامي اهل حديث
    اين گروه در قبال فعاليت شيعه در دهه 1970 شكل گرفت. ريشه آن در حركت اصلاح طلب محافظه كارانه هندو مسلمان است كه تاريخ آن به قرن 19 باز مي گردد. اين گروه عضوي از اتحاد جمهوري اسلامي بوده و به جناح هاي مختلفي تقسيم شده و رهبر شناخته شده اي ندارد.
   
    پيوند مذهب و سياست در پاكستان
    در پاكستان هيچ سياستمداري قادر به ناديده گرفتن نقش اسلام در تحولات سياسي كشور نيست و اكثر سياستمداران ترجيح مي دهند تا علماي مذهبي را به عنوان يك اهرم حمايتي به سوي خود جلب نمايند. در زمان حكومت ژنرال ضياءالحق وي با جنبه ارزشي دادن به اقدام هاي نظامي خود در حمايت از مجاهدين افغان در مبارزات ضدروسي آنها به طرز چشمگيري موفق شد تا علماي مذهبي را به سمت حمايت از سياست هاي داخلي و خارجي خود جلب نمايد. رژيم هاي پاكستان از حيث جهت گيري سياسي و تعبير و تفسيرشان از ايدئولوژي اسلامي با يكديگر تفاوت داشتند؛ به عنوان مثال؛ رژيم ذوالفقار علي بوتو و حزب مردم پاكستان او تعبيري مردم باورانه از اسلام اختيار كردند. اين حزب زير لواي سوسياليزم اسلامي سياست هاي تعديل اقتصادي- اجتماعي در كشور و سياست هاي عدم تعهد خارجي را در پيش گرفت.
    خطابه هاي سياسي و اصلاح طلبانه رژيم بر مساوات و عدالت اجتماعي به عنوان اصول اساسي اسلامي و ويژگي هاي بنيادي جامعه و نظام حكومتي اسلامي در دوران حكومت حضرت محمد تاكيد مي ورزيد. خط مشي حزب براي انتخابات ماه مارس 1977؛ در مواجهه با ناآرامي هاي فزايندا شهري در اواسط دها 0197 مستلزم اصلاحات اجتماعي و آموزش اسلامي و درك و شناخت بيشتري از نقش علما و مساجد بود اما رژيم بوتو قبلابه حال عقب نشيني درآمده بود و سازمان هاي اسلامي محافظه كار زير چتر اتحاد ملي پاكستان درخواست ها؛ نفوذ و اعتراضات خود را افزايش دادند. سرانجام كودتاي ژوئيه 7197 اين رژيم را برانداخت. رژيم جديد؛ به رهبري ژنرال ضياءالحق قطعاً از لحاظ اقتصادي- اجتماعي محافظه كارتر؛ از لحاظ سياسي قدرتمندتر و در جهت گيري سياست خارجي آشكارا طرفدار غرب و علي الخصوص طرفدار آمريكا بود. وي در خصوص خاستگاه برناما اسلامي كردن كه مشهور به نظام مصطفي (نظام پيامبر يا فرد برگزيده) بود به هدايت الهي متوسل شد. دولت ضياء به ارتباط سرنوشت اسلام و پاكستان با تداوم رژيم نظامي تاكيد مي ورزيد. هدف عمدا رژيم از پيگيري چنين روابط و پيوندي كسب مشروعيت، علي الخصوص در ميان طبقات ميانا فرودست و در صفوف علما و نيز در ميان احزاب سياسي مذهبي محافظه كار بود.
    يكي ديگر از اهداف عمدا چنين ارتباطي؛ از اعتبار انداختن نيروهاي جناح مخالف چپ گرا و ليبرال بود تا آنان را عموم مردم به منزلاجناح غيراسلامي و از اين رو بديل هاي غيرقابل قبول رژيم اسلامي نشان دهند.
    تمايل گروهها و احزاب مذهبي در پاكستان براي اجراي نظام اسلامي در اين كشور به تدريج به گسترش مدارس مذهبي منجر شد. ضياءالحق پس از آن كه ذوالفقار علي بوتو؛ نخست وزير پيشين را به اتهام طرح سوءقصد به جان يكي از رقباي سياسي اش در آوريل 9791 به دار آويخت سعي كرد تا اثرات سياست بوتو را در عرصه بين المللي خنثي كند. بوتو با هدف استقلال بيشتر پاكستان از كشورهاي غربي، سياست نزديكي به كشورهايي مانند چين را در پيش گرفته بود و در مقابل ضياءالحق درست در دوراني كه آمريكا در بحبوحا مقابله با پيشروي كمونيسم در آسياي مركزي به ويژه افغانستان بود سعي كرد به آمريكا نزديك شود در حالي كه بوتو از سياست اسلامگرايي به عنوان ابزاري براي اتحاد بيشتر نيروهاي داخلي پاكستان استفاده كرده بود؛ ضياءالحق از اين جريان براي افزايش محبوبيت خود استفاده كرده و آن را به سمت حركت هاي افراطي سوق داد. ضياءالحق در راستاي حمايت از اين سياست كه كمك هاي نظامي آمريكا را از او در پي داشت به حمايت و گسترش جنبش هاي افراطي و مسلح كردن آن ها دست زد و در مدت كوتاهي شمار زيادي از مدارس مذهبي در سراسر پاكستان پديد آمدند كه در حقيقت مهدكودك جهادگراني به شمار مي رفتند كه در افغانستان مي جنگيدند. به اين ترتيب طي سه دهه هزاران مدرسا مذهبي با كمك هاي مالي دولتي و خارجي در سراسر پاكستان پديد آمدند. مدارس مذهبي در پاكستان از جمله لال مسجد اسلام آباد كه رئيس وقت آن؛ مولانا «محمد عبدالله» (پدر مولانا عبدالعزيز و عبدالرشيد غازي)؛ روابط دوستانه و بسيار نزديكي با ضياءالحق داشت در دوران مبارزا جهادگران عليه كمونيسم، سالانه از هزاران طلبا جديد ثبت نام مي كردند كه طي چند سال به جهادگراني تبديل مي شدند كه دوشادوش سايرين در افغانستان مي جنگيدند ضياءالحق در دوره حاكميت خود بر پاكستان موفق شد سازمان هاي خيريا سعودي را متقاعد كند تا صدها مدرسه آموزش و حفظ قرآن در حاشيه مرز اين كشور با افغانستان احداث كنند. در دوران ضياءالحق براي اولين بار در تاريخ پاكستان حكومت به حمايت مالي از توسعا آموزش هاي مذهبي دست زد و حتي پرداخت زكات در طول دوران حكومت ضياءالحق براي تامين هزينا مدارس مذهبي براي شهروندان پاكستاني اجباري شد. اين بخش از كمك هاي مالي به ويژه در توسعا مدارس ديوبندي ها كه شاخه اي بومي از سني ها هستند؛ به كار گرفته شد. اين شاخه از سني ها كه ريشه هايشان از مدرسه اي مذهبي در هند به همين نام (ديوبندي) مي آيد پيرو فقه ابوحنيفه هستند و ديدگاه هاي بسيار نزديكي به وهابي هاي عربستان دارند. امروزه مدارس مذهبي ديوبندي ها و بريلوي ها كه شاخص بومي ديگري از سني هاي جنوب آسيا هستند؛ در كنار مدارس مذهبي اهل حديث (وهابي ها) و حتي شيعيان در سراسر پاكستان پراكنده هستند. نتيجا سياست ضياءالحق گسترش حركت هاي افراطي و عميق شدن اختلافات مذهبي بود. حمايت ويژا دولت وقت پاكستان از مدارس ديوبندي ها و اختصاص كمك هاي خيرين متمول خارجي به سازمان هاي تندروي وهابي در اين دوران موجب وخيم تر شدن شدت اختلافات شد. سازمان هاي شبه نظامي سني مانند سپاه صحابا پاكستان در همين دوران تنها با هدف مبارزه با شيعيان شكل گرفتند و حركت هاي شيعه نيز در پاسخ جنبش هاي تندرويي مانند حزب «تحريك نفوذ فقه جعفريه» را تاسيس كردند. اوايل دها 0791 تنها چند مدرسا مذهبي در گوشه و كنار پاكستان وجود داشتند كه به شيوا سنتي به آموزش علوم مذهبي مي پرداختند و از لحاظ مديريت و سياست ها نيز فقط تحت نفوذ مساجد كوچك محلي بودند. براساس آمار دولتي هم اكنون 31هزار مدرسا مذهبي ثبت شده در پاكستان مشغول فعاليت هستند و به رغم اين كه آمار دقيقي از مدارس ثبت نشده در دست نيست گفته مي شود كه تعداد آن ها از مدارس ثبت شده بسيار بيشتر است. براساس گزارشي كه اخيراً از سوي «مؤسسه بين المللي بحران ICG» در بروكسل؛ بلژيك منتشر شده تنها در سال 3002؛ 7.1 ميليون طلبه در اين مدارس ثبت نام كرده اند. اكثر اين طلاب بين 5 تا 81 سال سن دارند و از فرزندان خانواده هاي فقير پاكستاني هستند. همچنين به خاطر فقدان سيستم قانوني ناظر بر فعاليت يتيم خانه ها سالانه هزاران تن از كودكان بي سرپرست نيز از اين مدارس سردرمي آورند. تعداد طلبه هاي خارجي نيز كه در اين مدارس تحصيل مي كنند هزاران نفر برآورد مي شود كه اكثريت آن ها را طلبه هاي افغاني تشكيل مي دهند بيشتر اين مدارس كه پيش تر تحت حمايت حكومت قرار داشتند؛ اكنون براي تامين هزينه هايشان به كمك هاي سازمان هاي خيريه مذهبي (كه بخشي از نهادهاي مذهبي هستند) وابسته اند و بخش قابل توجهي از اعانات را از پاكستاني هاي مهاجر در ساير كشورها و سازمان هاي خيريه اسلامي بين المللي دريافت مي كنند. براي مثال جامعا پاكستاني تبارهاي ساكن بريتانيا كه در سال هاي اخير رفته رفته به يكي از منابع اصلي درآمد مدارس مذهبي تبديل شده؛ براساس گزارش ICG سالانه حدود 09 ميليارد روپي (معادل 1.5 ميليارد دلار) به اين مدارس كمك مي كند كه اين مبلغ تقريباً با درآمد سالانه دولت پاكستان از محل ماليات هاي مستقيم برابر است.
    اين واقعيت كه مدارس مذهبي پاكستان بخشي از نظام آموزشي و كارآمدتر از بخش رسمي و دولتي هستند؛ بدرستي مورد توجه قرار نگرفته است. اكنون بيش از دوازده هزار مدرسه مذهبي با گرايش راديكال اسلامي در پاكستان وجود دارند كه به لحاظ مالي به صورت مستقيم به حمايت دولتي وابسته نيستند. اصلي ترين ماده درسي در اين مدارس، جهاد الگوي تركيبي ايدئولوژيكي مكتب ديوبندي و مكتب سلفي است. مكتب ديوبندي ريشه در شكست قيام مسلمانان هند در سال 7581 و انحلال رسمي حكومت گوركانيان و تسلط كامل انگليس دارد. علماي طراز اول در بررسي علل شكست به جهاد رسيدند و با تاسيس مدرسه ديني ديوبند كه در آن زمان دهكده اي كوچك بود؛ آموزش جهاد را براي آزادي دوباره هند در راس مواد درسي قرار دادند. اين مدرسه در عالم اهل سنت تاثيرات بسيارعميقي بر جاي گذاشت و از آنجا كه تدريس هرگونه علوم جديد كه وابسته به قدرت استعماري تلقي مي شد ممنوع اعلام گرديد طلاب و علماي مكتب ديوبندي با ديدگاهي حزبي تربيت شدند و بازگشت به اصل اسلام آن طور كه آنها برداشت مي كردند؛ در اولويت آموزش قرار گرفت. علماي ديوبندي بعدها در استقلال شبه قاره هند و تاسيس پاكستان نقش موثري پيدا كردند، هرچند كه مكاتب فكري ديگري نظير مكتب بريلويي و مكتب يلورودي به وجود آمدند و با مكتب ديوبندي رقابت كردند؛ اما در هر حال ديدگاه جهادي مكتب ديوبندي غلبه يافت. اتفاق مهمي كه باعث شد ديدگاه مكتب ديوبندي در شرايط كنوني تقويت شود تحولات افغانستان و اشغال اين كشور بوسيله ارتش سرخ اتحاد شوروي سابق بود، امر جهاد مورد توجه قرار گرفت و مكتب ديوبندي كه در اساس بر تفكر ضدانگليسي و غربي متكي بود؛ اولويت خود را جهاد در افغانستان قرار داد. مدارس مذهبي پاكستان مورد حمايت دولت اين كشور قرار گرفتند و در تقسيم بين المللي كار در جهاد افغانستان؛ حمايت مالي مدارس مذهبي به كشورهاي ثروتمند عرب حوزه خليج فارس و در راس آنها عربستان سعودي پيوند خوردند. واقعيت آن است كه مدارس مذهبي در پاكستان دردوره جهاد بشدت مورد حمايت دستگاه امنيتي اين كشور موسوم به «آي اس آي» قرار گرفتند و در كنار آموزش ايدئولوژيك؛ آموزش نظامي طلاب و جهادگران در گسترده ترين سطح ممكن مورد توجه بود.
    علماي ديني مسئوليت آموزش ايدئولوژيك طلاب را برعهده داشتند و افسران امنيتي آي اس آي آموزش نظامي آنها را پذيرفتند. هرگاه بدون پيشداوري شرايط كنوني افغانستان و پاكستان و ارتباط آنها با تفكري كه از آن به نام طالبانيزه كردن قدرت ياد مي شود را مورد ارزيابي قرار دهيم؛ محصول پيوند سلفي گري و تفكر ديوبندي نيروئي مهم ايدئولوژيك خواهند بود. طالبان و القاعده بدون شك محصول همين واقعيت هستند. سازمان القاعده كه نماد رهبري آنها در «بن لادن» با تحصيلات دانشگاهي در رشته مهندسي و «ايمن الظواهري» دكتراي پزشكي و جراحي متمركز شده است؛ در حقيقت بوسيله يك اردني فلسطيني تبار به نام «اعظم» در پيشاور بنيانگذاري شده است. تركيب اين سه شخصيت جالب است: فلسطيني و اردني (اعظم)؛ يمني-عربستان سعودي (اسامه بن لادن) و مصري (الظواهري) اين تركيب درست پايگاه ديدگاههاي افراطي جهان عرب را در مصر؛ عربستان سعودي، اردن و يمن نشان مي دهد. يك واقعيت مهم ديگر اين است كه قوميت پشتون در پاكستان و افغانستان به عنوان تقويت كننده و ياري دهنده جهاد براساس الگوي تركيبي مكتب ديوبندي و سلفي هستند.
    سخن پاياني اينكه علت كثرت احزاب و فراواني گروه هاي ديني و سياسي و وجود اختلافات مذهبي و عقيدتي و قومي كه در اين ديار ديده مي شود و پاره اي از آن اختلافات در سطح جامعه بطور كامل محسوس و ملموس و آشكار است؛ يكي به لحاظ جمعيت زياد اين سرزمين است كه افكار مختلف را در پي آورده؛ در نتيجه گروه گرايي مذهبي و سياسي را به دنبال داشته است از طرف ديگر وجود اسلام به عنوان عامل تشكيل كشور پاكستان و همچنين قوانين اساسي كه در چارچوب موازين اسلامي تدوين گرديده باعث كمك به رشد احزاب و گروه هاي اسلامي گرديده است. اما وجود احزاب متعدد و فراوان اسلامي، پراكندگي آنها و وجود عقايد و ديدگاههاي گوناگون درميان مردم پاكستان باعث عدم موفقيت احزاب اسلامي در انتخابات پارلماني شده است و اين احزاب هيچ گاه نتوانسته اند كه به طور مستقل حكومت را به دست گيرند.
    خبرگزاري جمهوري اسلامي


نوشته شده در تاريخ Wed 6 Jan 2010 توسط محمد نظیر عرفانی

ڈاکٹر قدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـ

ڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ـ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـ

مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـ

 

کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ادارے نے پچیس کلو میٹر تک مارکرنے والے ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سینسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کے لئے جدید دفاعی آلات کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کیلئے متعدد آلات بھی بنائےـ

انیس سو چھتیس میں ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والےڈاکٹر خان نے ایک کتابچے میں خود لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـ

ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیںـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیا تھاـ

ڈاکٹر قدیر خان نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب کہوٹہ میں ریسرچ لیبارٹری زیر تعمیر تھی تو وہ سہالہ میں پائلٹ پروجیکٹ چلارہے تھے اور اس وقت فرانسیسی فرسٹ سیکرٹری فوکو کہوٹہ کے ممنوعہ علاقے میں بغیر اجازت گھس آئے تھے جس پر ان کی مارکٹائی ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ سی آئی اے کے لیے کام کرتے تھے۔ انہوں نے تہران میں اپنے سی آئی اے باس کو لکھا کہ ’ کہوٹہ میں کچھ عجیب و غریب ہورہا ہے۔‘

ڈاکٹر خان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا اور جب جمالی حکومت آئی تو بھی وہ اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم کے مشیر کا عہدہ لکھتے ہیں لیکن 19 دسمبر 2004ء کو سینیٹ میں ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے سوال پر کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے اس میں وزیراعظم کے مشیروں کی فہرست میں ڈاکٹر قدیر خان کا نام شامل نہیں تھاـ

ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور اب تو ڈاکٹر قدیر خان نانا بن گئے ہیں۔

ڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔

چودہ اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر قدیر خان نےسیچٹ sachet کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ


نوشته شده در تاريخ Thu 6 Mar 2008 توسط محمد نظیر عرفانی

چند هفته است که آخرین جنگ در پاراچنار پایان یافته ؛ ولی ابعاد گوناگون آن هر روز بیشتر روشن می‌شود و تاسف همگان را بر می‌انگیزد.

پنج روز پیش «جرگه» یا مجلسی که برای صلح تشکیل شده بود از طرفین درگیر - یعنی شیعیان و گروههای ناصبی- خواست گروگانهایی را که از یکدیگر در اختیار دارند، تحویل این مجلس دهند؛ در نتیجه شیعیان 8 تن از یزیدیانی را که - در مقابل 6نفر خدمه 3 دستگاه تانکر سوخت و 6 نفر سرباز سپاه مرزی ربوده شده توسط یزیدیان در روستای «چپری» واقع در ورودی شهرستان «کرم ایجنسی»- گروگان گرفته بودند و مانند مهمان از آنان پذیرایی کرده بودند، را تحویل این مجلس دادند اما در مقابل یزیدیان 6 جسد و 6 نفر مجروح را تحویل این مجلس داده اند.

براساس گزارش ها از پاراچنار، اجساد شهداء نشان از آن دارد که آنها قبل از شهادت به شدت هدف خشونت مخصوص یزیدیان ناصبی قرار گرفته اند و وضع 6 نفر دیگر نیز به شدت وخیم است.

این حادثه بار دیگر خشم و انزجار شیعیان را برانگیخت و آنان از دولت و مقامات محلی خواسته اند که عاملان این اقدام غیرانسانی و غیر اسلامی و حتی مغایر با فرهنگ قبائلی، را فورا دستگیر و مجازات نمایند.

براساس این گزارش، بعد از مرحله اول جنگ دوم – که از اواسط نوامبر سال گذشته آغاز شده بود و در اوائل ژانویه سال جاری میلادی پایان یافت – بیش از صد نفر از اعضاء اصلی القاعده با یونیفورم ارتش با شعار ایجاد امنیت در شهر وارد پاراچنار شدند و در مسجد ناصبیان مستقر گردیدند اما بعد از یکی دو روز آنها نیز شیطنت هایی را در شهر آغاز کردند که این امر باعث آغاز مرحله دوم جنگی شد که بیش از 50 روز ادامه یافت.

مبارزین شیعه در طول این جنگ هرگز وارد مسجد اصلی ناصبیان نشدند ولی بعد از پایان جنگ ارتش وارد این مسجد شد و دهها جنازه را با هلی کوپتر از منطقه دور کرد که گفته می شود متعلق به اعضاء معروف گروه تروریستی القاعده بوده اند. 85 جسد از این جنازه ها – که در میانشان 11 نفر از اتباع کشورهای فرانسه، سودان و برخی کشورهای عربی دیگر دیده می شدند – در یک گور جمعی به خاک سپرده شدند. این درحالی است که در این درگیریها 13 تن از افسران و سربازان ارتش نیز کشته شده بودند.

کسانی که به درون مسجد رفته بودند به خبرنگار ابنا گفتند که درحالی که شیعیان هرگز به مسجد متعرض نشده اند، آثار تیراندازیهای شدید بر دیوار های مسجد هویدا است. لذا چنین به نظر می رسد که ارتشیان به بهانه امدادرسانی و تحویل مواد غذائی و داروئی وارد مسجد شده اند و براثر درگیری فیمابین همه افراد القاعده کشته شده و بیش از 10 افسر و سرباز ارتش نیز در همین درگیری جان باخته اند زیرا شیعیان در هیچ موردی به نیروهای دولتی حمله نکرده اند.

این گزارش به نقل از منابع آگاه می افزاید که اعضاء القاعده طی تماسی با ارتش خواستار مواد غذائی و داروئی شده و خواسته بودند که مواد درخواستی توسط نیروهای سپاه مرزی - که عمدتا از مناطق مختلف وزیرستان شمالی و جنوبی می باشند – به مسجد محل استقرار القاعده انتقال داده شود. ارتش عده ای از کماندوهای خود را با یونیفورم مخصوص شبه نظامیان سپاه مرزی وارد مسجد کرد که به دنبال آن، درگیری مورد اشاره رخ داده است.

جنگهای اخیر در پاراچنار با سه هدف شعله ور شد:

1. تضعیف شیعه و متوقف کردن روند پیشرفت این منطقه شیعه نشین و سرسبز و زیبا، که هم از لحاظ طبیعی زیباترین و آبادترین است و هم از نظر سطح سواد و حضور در عرصه های گوناگون کشور در بین این مناطق بی نظیر است.

2. جمع آوری تروریست های خطرناک در یک نقطه. دولت و ارتش که در مناطق گوناگون قبائلی از جمله در «وزیرستان»، «خیبر»، «مهمند»، «باجور»، «سوات» و «اورکزئی» با مشکلات عدیده ای از جمله مقاومت شدید تروریستها روبرو است و از قرار معلوم با ایجاد جنگ در پاراچنار و اعلام جهاد از سوی تروریستها علیه شیعیان در سایر مناطق قبائلی، تعداد کثیری از آنها در پاراچنار حضور یافته بودند. دلیل این امر اجساد بیشماری بوده که به مناطق مختلف انتقال یافته است. تبلیغات برای جمع آوری تروریستها جهت مبارزه با شیعیان بقدری وسیع بوده که از همه مناطق قبائلی پاکستان هزاران نفر در مناطق جنوب غرب پاراچنار تجمع کرده بودند. ضمن این که آنها از ناحیه طالبان افغانستان نیز پشتیبانی می شده اند.
البته یکی از فرماندهان معروف طالبان افعانستان «ملافضل شاه» در جنگ ربیع الاول در این منطقه به هلاکت رسیده بود. گفته می شود که در بعضی موارد ارتش نیز با کاروانهای تروریستهای عازم پاراچنار در مناطق ورودی کرم ایجنسی – با مرکزیت پاراچنار - درگیر شده و دور از چشم شیعیان با استفاده از بالگردهای توپدار دهها تن از آنها را به هلاکت رسانده است و چنین به نظیر می رسد که ارتش و دولت خواهان رویارویی تروریستها با شیعیان در پاراچنار و گردآوری آنها در این منطقه بوده تا به آسانی بتوان آنها را – در خارج از مناطق محل سکونتشان – نابود کرد.

3. ایجاد اختلاف در بین شیعیان پاراچنار و قبائل دیگر. در نتیجه این اقدامات که هم اینک عبور شیعیان از مناطق قبائلی غیر شیعه غیر ممکن است و در صورتی که بخواهند از این مناطق عبور کنند و شناسائی شوند احتمال زنده ماندنشان به شدت ضعیف خواهد بود، ضمن این که راههای پاراچنار به سایر مناطق پاکستان هنوز ناامن است و مسافرانی هم که با اسکورت نیروهای دولتی حرکت می کنند – در مناطق غیر شیعه - با توهین و فحاشی روبرو می شوند.
با توجه به واقعیتهای موجود می توان گفت که هدف اول و سوم تا حدود زیادی حاصل شده و فاصله بین شیعیان و غیرشیعیان به شدت افزایش یافته است و حمله اول یزیدیان به شیعیان در روز 17 ربیع الاول سال گذشته هجری قمری – زمانی که کنفرانس وحدت اسلامی در حسینیه شیعیان با حضور علماء شیعه وسنی در حال برگزاری بود – خود گویای این بود که چه اهداف دیگری از این اقدامات دنبال می شود. البته ناگفته پیدا است که تلاش پاکستان برای تغییر وضعیت حقوقی خط دیورند به مرز بین المللی ناآرام کردن مناطق پشتون نشین برای نیل به این هدف را نیز نباید از نظر دور داشت به خصوص که منطقه پاراچنار با سه استان «پکتیا»، «خوست» و «ننگرهار» افغانستان مرز مشترک دارد و برای افغانستان از این ناحیه هیچ تهدیدی وجود ندارد در حالیکه دیگر مناطق قبائلی ناآرام می باشند.
آنچه مسلم است تحویل جنازه های شیعیان و افراد مجروح در مقابل افرادی که سالم از سوی شیعیان به جرگه تحویل داده شده اند، و شهادت بیش از 40 تن از شیعیان در اقدام تروریستی روز شنبه در شهر پاراچنار، اوضاع را یک بار دیگر در منطقه جنگزده پاراچنار با ابهامات متعددی روبرو ساخته است


نوشته شده در تاريخ Mon 18 Feb 2008 توسط محمد نظیر عرفانی
پاکستان کے قیام کے ساٹھ برسوں میں تین صدور اور تین وزراء اعظم سمیت اہم سیاسی شخصیات پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ ان قاتلانہ حملوں میں ایک صدر اور ایک وزیراعظم ہلاک ہوئے جبکہ دیگر بال بال بچ گئے۔
قیام پاکستان کے بعد چار برس بعد ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم کو قتل کردیا گیا۔ لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر سنہ انیس سو اکیاون میں اس وقت گولی مار کرکے ہلا ک کیا گیا جب وہ راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔

صدر جنرل ایوب خان ملک کے پہلے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ صدر جنرل ایوب پر آٹھ نومبر سنہ انیس سو اڑسٹھ میں پشاور یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ کرکے ان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تاہم صدر ایوب اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔

صدر جنرل ضیاء الحق پاکستان کے دوسرے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملے ہوئے تاہم ان کی ہلاکت سترہ اگست سنہ انیس سو اٹھاسی میں فوجی طیارے کی تباہی سے ہوئی۔ اس حادثہ سے صدر جنرل ضیاء الحق کے علاوہ اعلیْ فوجی افسر اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر بھی ہلاک ہوگئے۔

 

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو بھی اپنی بہن کے دورے حکومت میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو اپنے سات ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ سے اپنے آبائی اقامت گاہ سترہ کلفٹن کے باہر ہلاک ہوئے تھے۔

نواز شریف ملک کے دوسرے وزیر اعظم تھے جن پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں واقع اپنے فارم پر جارہے تھے اور ان کے راستے میں ایک پل کے نیچے رکھا گیا بم ان کی گاڑی گزرنے کے بعد پھٹا اور اس طرح نواز شریف محفوظ رہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سنہ دوہزار تین میں یکے بعد دیگرے دو انتہائی خطرناک حملے ہوئے۔ تاہم صدر مشرف معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

صدر جنرل مشرف پر پہلا حملہ چودہ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا لیکن صدر کے قافلے کی گاڑیوں میں نصب شدہ ’سگنل سینسرنگ‘ آلات کی وجہ یہ بم اس وقت نہیں پھٹ سکا تھا جب گاڑیاں پل سے گزر رہی تھیں۔

اس واقعہ کے دس دنوں بعد صدر مشرف پرپچیس دسمبر کو دوسرا حملہ کیا گیا اور ان کو خودکش حملہ کے ذریعےہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف کے قافلے پر اس خطرناک خود کش حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ صدر مشرف کے قافلے پر دو مختلف اوقات پر دو گاڑیوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ گاڑیاں دو پیٹرول سٹیشنوں سے باہر نکلی تھیں۔ اس حملے میں صدر مشرف بال بال بچ گئے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز پر بھی تیس جولائی سنہ دو ہزار چار میں ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ تاہم اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

 


شوکت عزیز اٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران فتح جنگ کےقریب ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر کے باہر آ رہے تھےکہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ان کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اس سال سترہ جولائی کی شام اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں بال بال بچے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی معطلی کے دوران ایک جلوس کی شکل میں وکلا کنونشن میں خطاب کے لیے آرہے تھے اور ان کا قافلہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر تھا جب پنڈال میں بم دھماکا ہوا۔ اس دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن بھی شامل تھے۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو آٹھ برسوں کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپسی پر ان کے استقبالیہ جلوس میں خودکش حملے میں ایک سوانتالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ بینظیر بھٹو کے ٹرک سے کچھ فاصلے پر ہوئے۔ تاہم بینظیر بھٹو اس انتہائی خطرناک حملے میں محفوظ رہیں۔

 

نوشته شده در تاريخ Fri 26 Oct 2007 توسط محمد نظیر عرفانی
پاکستان میں فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ہونے والی ترامیم نے صدر مملکت کے پروقار نمائشی منصب کو ایک طاقتور اور با اختیار عہدے میں تبدیل کردیا ہے۔

انیس سو تہتر کے آئین میں صدر مملکت کا عہدہ ایک نمائشی لیکن پروقار تھا لیکن جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومتوں میں ہونے والی ترامیم نے اس رسمی اور نمائشی عہدے کو ملک کے طاقتور عہدے میں تبدیل کردیا۔ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کی وجہ سے انیس سو پچاسی سے انیس سو چھیانوے کوئی منتخب اسمبلی اپنی معیاد مکمل نہیں کرسکی۔

صدر جنرل ضیا الحق نے ترمیم کر کے صدر کے منصب کو طاقتور بنایا تھا جبکہ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرکے اس عہدے کو دوبارہ نمائشی بنادیا تھا۔


جنرل مشرف نے جنرل ضیا الحق کے دور میں ہونے والی اس ترمیم کو دوبارہ بحال کردیا اور اس طرح صدر کا عہدہ ایک مرتبہ بااختیار منصب میں تبدیل ہوگیا۔

پاکستان میں ساٹھ برسوں میں مختلف شخصیت صدر کے منصب پر براجمان ہوئیں۔ انیس سو چھپن کے آئین کے نافذ کے بعد پاکستان میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے۔ نئے آئین کے بعد
سکندر مرزا پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر بن گئے۔ وہ تقریباً اڑھائی برس یعنی تئیس مارچ سنہ انیس سو چھپن سےستائیس جنوری سنہ انیس سو اٹھاون تک صدر کے عہدے پر فائز رہے ۔

 

جنرل محمد ایوب خان ملک کے دوسرے صدر تھے جو گیارہ سال اس منصب پرفائز رہنے کے بعد صدارت سے الگ ہوئے۔ صدر جنرل ایوب خان نے ستائیس جنوری سنہ انیس سو اٹھاون کو صدر کا عہدہ سنبھالا۔ صدر جنرل ایوب خان کے دور میں نیا دستور بنایاگیا جس کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ صدارتی طرزِ حکومت قائم کردیا گیا۔ انیس سو چونسٹھ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جنرل ایوب خان کا مقابلہ حزب مخالف کی جماعتوں کی امیدوار اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ ہوا تھا۔ ایوب خان منتخب ہوگئے۔

صدر جنرل ایوب خان نے انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت اقتدار سپیکر کو سپرد کرنے کی شِق پر عمل نہیں کیا اور پچیس مارچ انیس سو انہتر کو اقتدار جنرل یحیْ خان کے سپرد کردیا۔ صدر جنرل یحیْ خان نے سقوط ڈھاکہ کے چار روز بعد بیس دسمبر سنہ انیس سواکہتر کو اقتدار چھوڑ دیا اور اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو ملک کے چوتھے صدر بنے۔

ذوالفقار علی بھٹو چودہ اگست انیس سو تہتر کو ملک کا نیا آئین منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم بن گئے اور اپنی جگہ قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری فضل الہیْ کو صدر منتخب کرایا۔ چودھری فضل الہیْ کے عہدے کی معیاد کے دوران اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے پانچ جولائی سنہ انیس سو ستتر کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اور اسی مارشل لاء کے دوران صدر فضل الہیْ سولہ ستمبر سنہ انیس سواٹھتر کو اپنے منصب کی آئینی معیاد مکمل ہونے پر عہدے سے الگ ہوگئے۔

صدر فضل الہیْ چودھری کے منصب سے الگ ہونے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالیا۔ ضیاء الحق ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخاب سے قبل انیس دسمبر سنہ انیس سو چوراسی کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائزہ ہوگئے۔

جنرل ضیاء الحق صدر مملکت کے عہدے پر دس سال اور گیارہ ماہ تک فائز رہے اور اپنی عہدے کے معیاد مکمل ہونے سے قبل سترہ اگست سنہ انیس کو اٹھاسی کو طیارے کی تباہی میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو آئین کے تحت قائم مقام صدر بنادیا گیا۔

 

انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد غلام اسحاق کو دسمبر اٹھاسی میں ملک کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ صدر غلام اسحاق خان نے اپنے مدمقابل معمر سیاست دان نواب زادہ نصراللہ خان کو شکست دی۔ غلام اسحاق خان نےانیس نوے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرکے نئے انتخابات کرائے اور نوازشریف وزیر اعظم بن گئے۔

غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو برطرف کر کے اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے نواز شریف کو ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان تنازعے کی وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف نے مداخلت کی جس کے بعد غلام اسحاق خان اور نواز شریف اقتدار سے الگ ہوگئے۔غلام اسحاق کی جگہ اس وقت کے چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کو قائم مقام صدر بنایا گیا۔

انیس سو ترانوے میں بے نظیر بھٹو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد سردار فاروق احمد خان لغاری کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور فاروق لغاری حزب مخالف کے امیدوار وسیم سجاد کو شکست دیکر صدر منتخب ہوگئے۔
سردار فاروق لغاری نےسنہ انیس چھیانوے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کوختم کردیا اور فروری سنہ انیس ستانوے میں عام انتخابات میں نواز شریف وزیراعظم بن گئے اور انہوں نے آئین میں ترمیم کرکے صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو ایک ترمیم کے ذریعے ختم کردیا۔

 

سنہ انیس سوستانوے میں حکومت اور اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان سید سجاد علیشاہ کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں سردار فاروق لغاری دو دسمبر انیس سو ستانوے کو صدارت کے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے اور وسیم سجاد ایک بار پھر قائم مقام صدر پاکستان بن گئے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) نے سپریم کورٹ کے سابق جج اور سینیٹر رفیق تارڑ کو صدر کے منصب کے لیے نامزد کیا لیکن چیف الیکشن کمشنر جسٹس مختار جونیجو نے رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی ان کے عدلیہ کے بارے میں ’توہین آمیز بیان‘ دینے پر مسترد کردیئے جس سے رفیق تارڑ نااہل ہوگئے۔

رفیق تارڑ نےاس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس پر موجودہ اٹارنی جنرل اور اس وقت کے ہائیکورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم کی سربراہی میں قائم ایک بنچ نے رفیق تارڑ کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی اور نتائج کو عدالتی فیصلے کے ساتھ مشروط قرار دیدیا

رفیق تارڑ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے رہنما آفتاب شعبان میرانی کے ساتھ ہوا تاہم رفیق تارڑ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔

بارہ اکتوبر ننانوے کو جنرل پرویز مشرف نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے بعدچیف ایگزیکٹو بن گئے جبکہ صدر رفیق تارڑ بیس جون سنہ دو ہزار ایک تک صدر مملکت رہے۔ جنرل مشرف نے بھارت یاترا سے قبل بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو خود صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

صدر جنرل مشرف تیس اپریل سنہ دوہزار دو کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر بن گئے اور دسمبر سنہ دو ہزار تین میں سترہویں ترمیم کی منظور کے بعد موجودہ اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

صدر مشرف ملک کے پہلے صدر ہیں جو وردی میں صدارتی امیدوار بنے جبکہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب ملک کےدوسرے صدارتی انتخابات ہیں جن کے نتائج عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔


نوشته شده در تاريخ Tue 9 Oct 2007 توسط محمد نظیر عرفانی
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے دن مشرقی پاکستان کا بنگالی، مغربی پاکستان کا پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی، کھوکھراپار اور واہگہ پار کرنے والا مہاجر، سیالکوٹ میں بسنے والا عیسائی، لاہور میں مقیم احمدی اور تھرپارکر کا ہندو ایک آزاد ملک کے برابر کے شہری تھے۔

اس روز کسی مسلمان فرقے نے دوسرے ہم مذہب فرقے کو دائرہ اسلام سے خارج کرکے نہ تو اس سے نکاح حرام قرار دیا اور نہ ہی اسکے جوشیلے ماننے والوں نے دیواروں پر کافر کافر کی چاکنگ کی اور نوآزاد ملک کے طول و عرض میں کسی عبادت گاہ یا مذہبی اجتماع میں کوئی بم بھی نہیں پھٹا۔

تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود کسی سیاستداں، زمیندار یا صنعتکار کو چودہ اگست کے دن اپنے تحفظ کے لئے بندوقوں سے مسلح کرائے کے محافظوں کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔

اس دن کسی وزیر یا دستور ساز اسمبلی کے رکن نے اپنے مخالف کو غدارِ پاکستان کے لقب سے بھی نہیں نوازا۔

کوئی صحافی رپورٹنگ کرتے ہوئے کسی سرکاری ادارے، سیاسی و مذہبی تنظیم کے مشتعل کارکنوں یا اپنے ہی اخبار کے مالک کے غیض و غضب کا نشانہ نہیں بنا۔ کسی پریس فوٹوگرافر کا کیمرہ اور سر بھی نہیں ٹوٹا۔

اس دن نئے ملک میں کہیں بھی کسی عورت کو انتقاماً سرِ بازار عریاں بھی نہیں گھمایا گیا۔کسی مفرور ملزم کے اہلِ خانہ کو کسی پولیس تھانے میں دھوپ میں بٹھا کر رسوا بھی نہیں کیا گیا۔کوئی ملزم پولیس کی گرفت سے فرار ہونے کے جواز میں پولیس مقابلے میں بھی نہیں مارا گیا۔

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے روز خطِ غربت، جعلی ادویات، جعلی کھاد، جعلی سگریٹ اور دو نمبر آدمی کی اصطلاح سے بھی آزاد ملک کا کوئی شہری آشنا نہیں پایا گیا۔

اس روز کسی پاکستانی شہری نے معاشی جبر کے نتیجے میں نیا نیا ملک چھوڑ کر اجنبی سرزمین کا سفر اختیار نہیں کیا۔

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو امریکی ایف بی آئی کا کوئی ایجنٹ، حکومتِ امریکہ کا کوئی ایلچی یا عالمی مالیاتی اداروں کا کوئی وفد دارلحکومت کراچی نہیں پہنچا۔

اور اس دن پاکستانی مسلح افواج کا صرف ایک دستہ بیرکوں سے باہر تھا اور وہ بھی نئے گورنر جنرل کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے لئے۔

چودہ اگست انیس سو سینتالیس واقعی یومِ آزادی تھا۔


نوشته شده در تاريخ Wed 15 Aug 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

باری تعالی : مخدوم و محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صحتِ کاملہ عطا فرما

کینسر جیسے موذی مرض کے کراچی میں آپریشن کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اب اسلام آباد میں اپنے گھر میں مسلسل نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے اور ابھی تک مسائل سے دوچار ہیں۔
گزشتہ دنوں ان کی شریانوں میں خون منجمد ہوگیا لہذا ہسپتال میں ان کے ٹیسٹ وغیرہ لیے گئے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ صحت یابی کے بعد انہیں آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کا موقع میسر آئے اور وہ پھر سے اپنی قوم کے سامنے آئیں جو اپنے اس محسن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے قرار ہے۔ پوری قوم ان کی صحت یابی کیلیے دعائیں کر رہی ہے۔ انہیں فورا رہا کرکے ملک کو باعزت اور باوقار اسلامی جمہوریہ پاکستان ثابت کرنا چاہیے۔

ان کی نظر بندی کو آج 1250 دن ہوگئے ہیں۔

یہ پیغام 1250دن سے مسلسل روزنامہ نوائے وقت میں آرہا ہے اور ہماری بے حسی کو مسلسل للکار رہا ہے۔

کیا ہم بے حس ہی رہیں گے


نوشته شده در تاريخ Wed 1 Aug 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

جنرل پرويز مشرف (ولادت: 11 اگست 1943ء، دہلي) پاکستان کے موجودہ فوجي صدر ہيں جنہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کو وزير اعظم نواز شريف کو معزول کر ديا اور پھر 20 جون 2001ء کو ايک صدارتي ريفرينڈم کے ذريعے صدر کا عہدہ اختيار کيا?

 خانداني پسِ منظر
جنرل پرويز مشرف کے والدين ايک سيد خاندان سے تعلق رکھتے ہيں? ان کي والدہ زہرہ مشرف انگريزي ميں گريجوايٹ ہيں? انہوں نے ايک بين الاقو امي تنظيم "انٹرنيشنل ليبر آرگنائيزيشن" کے ليے کام کيا اور 1968 ميں رٹائر ہوئيں? جنرل پرويز مشرف کے والد سيد مشرف الدين وزارت خارجہ ميں سيکشن آفيسر تھے? انہوں نے کئي سال انقرہ، ترکي ميں پاکستاني سفارتخانے کے ليے کام کيا? جنرل پرويز مشرف نے اپنا لڑکپن اور جواني کا کچھ حصہ ترکي ميں گزارا ہے اور وہ بڑي رواني سے ترکش بول سکتے ہيں? اقتدار ميں آنے کے فوراََ بعد ہونے والے ايک انٹرويو ميں انہوں نے کہا تھا کي کمال مصطف?ي اتا ترک ان کے آئيڈيل ہيں?

 تعليم
جنرل پرويز مشرف نے ابتدائي تعليم سينٹ پيٹرکس ہائي سکول، کراچي سے حاصل کي اور پھر فارمين کرسچين کالج، لاہور سے 1958 ميں گريجوايشن کي? (ايف سي کالج)?

فوجي تربيت
1961 ميں پاکستان آرمي ميں کميشن حاصل کرنے کے بعد پاکستان ملٹري اکيڈمي کاکول ميں شامل ہوئے اور وہاں فوجي تربيت حاصل کي? يہ سٹاف کالج کوئٹہ اور نيشنل ڈيفنس کالج راولپنڈي ميں بھي زير تربيت رہے?

 فوجي دور
جنرل پرويز مشرف نے بھارت کے ساتھ ہونے والي دونوں جنگوں يعني ستمبر 1965 اور 1971 ميں بھرپور حصہ ليا اور کئي فوجي اعزازات حاصل کيے?

 سياسي دور
جب 12 اکتوبر 1999 ميں نواز شريف نے جنرل پرويز مشرف کو ہٹا کر آئي ايس آئي کے سربراہ جنرل خواجہ ضيا الدين کو مقرر کرنا چاہا? اس وقت جنرل پرويز مشرف ملک سے باہر ايک سرکاري دور پر گيے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے ليے ايک کمرشل طيارے پر سوار تھے? تب فوج کے اعلي افسران نے ان کي برطرفي کو مسترد کر ديا اور جنرل پرويز مشرف نے نواز شريف کے اقتدار کا تختہ الٹ کر ان کو معزول کر ديا اور طيارہ سازش کيس تيار کيا گيا?? اور ملک ميں ايمرجنسي نافذ کر دي اور تين سالوں ميں اليکشن کروانے کا وعدہ کيا?

ريفرينڈم 2002
20 مئي 2000 ميں سپريم کورٹ آف پاکستان نے جنرل پرويز مشرف کو حکم ديا کہ وہ اکتوبر 2002 تک جنرل اليکشن کروائيں? اپنے اقتدار کو طول دينے اور محفوظ کرنے کي غرض سے انہوں نے 30 اپريل 2002 ميں ايک صدارتي ريفرينڈم کروايا? جس کے مطابق 98 فيصد عوام نے انہيں آئندہ 5 سالوں کے ليے صدر منتخب کر ليا? البتہ اس ريفرينڈم کو سياسي جماعتوں کي اکثريت نے مسترد کر ديا اور اسکا بائيکاٹ کيا? جنرل پرويز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے ميں آنے والے بہت سے عہديداروں کو بھي ہٹايا جن ميں سپريم کورٹ کےجج حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ايڈيٹر بھي شامل ہيں?

 اکتوبر 2002 عام انتخابات
اکتوبر 2002 ميں ہونے والے عام انتخابات ميں پاکستان مسلم ليگ ق نے قومي اسمبلي کي اکثر سيٹيں جيت ليں? ياد رہے کہ يہ جماعت اور جنرل پرويز مشرف ايک دوسرے کے زبردست ہامي ہيں? دسمبر 2003 ميں جنرل پرويز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کيا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردي اتار ديں گے? ليکن وہ اپنے اس وعدے پر پورا نہيں اترے جن کا انہوں نے پوري قوم کے سامنے وعدہ کيا تھا? اس کے بعد جنرل پرويز مشرف نے اپني حامي اکثريت سے قومي اسمبلي ميں سترھويں ترميم منظور کر والي جس کي روح سے انہيں با وردي پاکستان کے صدر ہونے کا قانوني جواز مل گيا?


نوشته شده در تاريخ Mon 25 Jun 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

"اردو" زباني است که امروز ميليونها نفر در کشورهاي گوناگون بدان سخن مي گويند، و مي نويسند، امّا با اين همه هنوز ريش. اصلي و منبع و حتي چگونگي آغاز آن به عنوان يک زبان، مورد بحث و گفتگوي محققين است و دربار. پيدايش آن بين آنان اختلاف نظر وجود دارد. بيشتر محققين (.) معتقدند که اردو از در هم آميختن زبانهاي فارسي، عربي، ترکي و سانسکريت به وجود آمده است، يعني آنان زبان اردو را پديد. بر آمده از اعصار اسلامي شبه قاره و نتيج. تحولات و موقعيت سياسي و فرهنگي آن دوران مي دانند.

دليل اين گروه اين است که پس از طلوع نور اسلام، مسلمانان خيلي زود اسلام را در بيرون شبه جزير. عربستان گسترش دادند.

بلوچستان و مکران در زمان حکومت علي (ع) شامل قلمرو اسلام شدند. سند يا منطق. جنوبي پاکستان کنوني در زمان امويان به دست "محمد بن قاسم" سردار لشکر "حجاج ثقفي" تسخير شد. و در آن زمان لشکريان او بيشتر ايراني و ترک بودند. قبل از وي نيز تجار مسلمان که بيشتر ايراني بودند، وارد شبه قاره شده بودند.

به هرحال اسلام به عنوان ديني جديد بر بال و پر زبان و ادب فارسي وارد شبه قاره شد و به زودي نفوذ چشمگيري يافت و توانست علاوه بر تسلط سياسي بر منطقه، فرهنگ و تمدن مردم بومي را نيز تحت تأثير قرار دهد.

پس از فتح هند توسط سلطان محمود غزنوي و هزيمت هندوها و شکستن بتخان. سومنات، هندوها در مقابل مسلمانان بسيار ضعيف شدند و عرفان و ادب فارسي و انديشه هاي اسلامي روبه گسترش گذاشت.

عرفائي مانند "علي بن عثمان هجويري" صاحب کتاب "کشف المحجوب" و معروف به "داتا گنج بخش" و "خواجه نظام الدين اولياء" و "شاه شمس سبزواري" و "لعل علي شهباز قلندر" و "مير سيد علي همداني" و بسياري بزرگان ديگر که ايراني يا ايراني تبار و يا فارسي زبان بودند، در گسترش دين اسلام و زبان فارسي نقش مهمي را ايفاء نمودند.

با گذشت روزگار مسلمانان کسب قدرت کردند و مرزهاي قلمرو خود را به تدريج گسترش دادند و در مقاطع مختلف زماني، خانواده هاي ترک، ايراني و افغاني بر مناطق مختلف شبه قاره فرمانروايي کردند.

بزرگترين اين سلسله ها حکومت تيموريان هند است، غير از آنها خانواده هاي تغلق. خلجي وغيره نيز بر مناطق مختلف اين سرزمين فرمانروايي کردند. اين فرمانروايان زبان فارسي و فرهنگ مسلمانان ايران را وارد شبه قاره کردند. به طوري که زبان فارسي در حدود ... سال زبان رسمي اين سرزمين بود و درکنار آن هنرهاي بومي نيز از هنر ايراني تأثير گرفت.

زبان فرمانروايان و لشکريان بيشتر ترکي جغتايي و فارسي بود و زبان عربي نيز چون زبان ديني مسلمانان است اثراتي بر زبانهاي محلي به جا گذاشت.

زبان مردم شبه قاره در آن دوران سانسکريت و هندي بود، لذا به مرور زمان اين چهار زبان با هم آميخته شد و از ترکيب آنها زباني به وجود آمد که آن را در سالهاي بعد زبان هندي يا هندوي مي گفتند و بعدها اسم اين زبان اردو شد، چون اين زبان بيشتر در بين لشکريان، رواج يافته بود.

محققيني همانند شادروان دکتر محمد باقر بر اين عقيده هستند، که زبان اردو در حقيقت شکل جديد يکي از زبانهاي باستاني آريايي است. (.) يعني زبان مردم بومي مناطق شمال غربي شبه قاره قبل از ورود آرياييهاست که بعدها با واژه هايي از زبانهاي آريايي مانند فارسي و سانسکريت آميزش يافته و به مروز زمان به شکل زبانهاي پنجابي، خيرپوري، بهاولپوري، سرائيکي در آمده است. وي واژه هاي مترادف در اين زبانها را ذکر کرده است. مناطق شمال غربي شبه قاره (پنجاب کنوني) در کتاب "اوِستا" با نام "هپته هيندو" ذکر شده است. در اوستا آمده است که "هپته هيندو" يکي از سرزمينهاي شانزده گانه ايست، که اهورا آن را بهتر آفريد و معناي آن سرزمين "هفت رود" است. يعني رودهاي راوي، ستلج، چناب، جهلم، بياس، سند و کابل. در آن زمان منطقه پنجاب و دشت پيشاور و غرب استان سرحد پاکستان فعلي را "هپته هيندو" مي ناميدند.

دليل ديگري که دکتر محمد باقر مي آورد اين است که: اردو در فرهنگهاي قديم فارسي به اسم هندي يا هندوستاني نيامده است، بلکه آن را زبان اهل هند مي ناميدند، چون ريش. زبان اردو از هندي هم قديمتر است.

بعضي ديگر را عقيده بر آن است که اردو در دهلي و نواحي اطراف آن ريشه گرفته است. برخي نيز از قبيل حافظ محمود شيراني و دکتر محمد باقر، پنجاب را سرزمين اصلي زبان اردو مي دانند و گروهي هم دکن را سرزمين پيدايش آن مي شمارند.

اردو به عنوان زبان

در فرهنگها، معني اردو عبارت است از "مجموع سپاهيان با تمام لوازم سپاهيگري که به جانبي گسيل دارند". مجموع. قشون و لوازم و لشکر پادشاهان را، چه در سفر و چه در حضر، اردو مي گويند و گاهي به "لشکرگاه" و يا جماعتي بسيار نيز اردو گفته مي شود. امّا "اصطلاحاً نام زباني است که اکنون در پاکستان و هندوستان و قسمتي از بنگلادش و بعضي کشورهاي ديگر رواج دارد". تعداد اردو زبانان در حال حاضر بين حدود ... تا ... ميليون نفر تخمين زده مي شود. امّا بنا به گفته برخي از محققان حدود ... ميليون نفر در جهان زبان اردو را مي فهمند.

از جهت کاربرد لغات و حتي تا حدّي در اصول صرف و نحو، اردو از زبان فارسي و عربي بسيار تأثير پذيرفته است و شايد بتوان گفت که زبان اردو در اثر اختلاط فرهنگي معتقدان به دو مذهب هندو و اسلام به وجود آمده است. با حمل. مسلمانان از جانب ايران، عناصر اولي. شکل گيري اين زبان در هند ايجاد شد.

در زمان سلطنت سلطان محمود غزنوي و پسر وي مسعود، بسياري از هندوان در دربار غرنين منشأ خدماتي شدند. يک لشکر هندي تحت فرمان "سوندرا رائو" در زمان سلطان محمود در غزنين مقيم بود. امّا آخرين پادشاهان غزنوي، غزنين را ترک گفتند و در پنجاب اقامت گزيدند و تا پايان سلطنت غزنويان در آنجا بودند. از اين روي در يک زمان، هم در غزنه و هم در لاهور، مسلمانان و هندوان با يکديگر ارتباط يافتند.

تماس دائم بين مسلمانان و هندوان و عدم آشنايي آنان به زبان ديگر در زبان تخاطب دو ملت مؤثر واقع شد.

گفته مي شود اردو واژه ايست ترکي و چون در لشکر سلطان، ايرانيان و ترکان و هندوان با هم مي زيستند، زبان مشترک آنان که ترکيبي از زبان اين سه قوم بود. به نام زبان "اهل اردو" يا به اختصار زبان اردو خوانده شد. در آن زمان، سلاطين مسلمان هند، به زبان فارسي، که زبان پارسي دري بود، سخن مي گفتند، ولي زبان رايج ميان مردم، همان زبان هندي بود که از "پراکريت" و آن هم از "سانسکريت" مشتق شده بود.

زبان فارسي با زبان رايج ميان مردم هند در آميخت و از اين اختلاط، "زبان اردو" پديد آمد. نه تنها بسياري از لغات فارسي به زبان اردو وارد شد، بلکه شعر، نثر، سبک نگارش، مصطلحات و کنايات، دستور يا صرف و نحو و بسياري خصايص و ظرايف زبان فارسي در اردو راه يافت.

امّا در بين محققين اختلاف نظر وجود دارد که اردو به معناي زبان از چه زماني رواج گرفت زيرا زبان مردم هند را هندي مي گفتند و بعضي منابع اين زبان را هندوي نيز ناميده اند. حافظ محمود شيراني ابتدا بر اين عقيده بود که نخستين بار واژ. اردو در شعر يکي از شعرا به نام "شاه مراد" به کار برده شده است. اين شعر در يک نامه نوشته شده و سال نگارش آن .... هجري قمري است. شعر مذکور اين است.

وه اردو کيا هي يه هندي زبان هي

که جس کا قائل اب سارا جهان هي

که ترجم. آن اين است : اردو چيست، اين زبان هندي است، که اکنون تمام جهان آن را مي شناسند.

حافظ محمود شيراني(.) بعداً طبق تحقيقاتي که داشته به اين نتيجه رسيده که شعر "مصحفي" قديمي تر از شعر شاه مراد است. لذا مصحفي را به عنوان اولين کسي که واژ. اردو به معناي زبان به کار برده معرفي کرده است.

دکتر محمد باقر هم بر اين عقيده است و مي گويد (.) : نمي توانيم شعر شاه مراد را نخستين شعري بدانيم که واژ. اردو به معناي زبان در آن آمده است، چون غلام مصطفي همداني مصحفي در همان زمان (.... تا ....هجري قمري) مي زيسته و او نيز شعري دارد که در آن واژ. اردو به معناي زبان به کار برده شده است.

خدا رکهي زبان هم ني سني هي مير و مرزائي

کهين کس منه سي هم اي مصحفي اردو هماري هي

ترجمه: خدا به سلامت نگه دارد، ما زبان مير (مير تقي مير) و ميرزا (غالب) را شنيده ايم اي مصحفي با چه رويي بگويم که اردو زبان ماست.

طبق تحقيقات حافظ محمود شيراني، نخستين کسي که اردو را به معناي زبان در نثر به کار برد، محمد عطا حسين خان تحسين است.

شاه جهان فرمانرواي تيموري هند، پايتخت را از آگره به دهلي انتقال داد. در سال.... هجري قمري قلع. دهلي را ساخت و زبان رايج در قلعه را "اردوي معلي" نام داد. پس از آن فصيح ترين نمونة زبان اردو همان زبان "اردوي معلي" شناخته شد. به هر حال اين زبان که حدود .. در صد لغات آن فارسي است، تقريباً هم. اسامي و صفات از فارسي گرفته است.

نخستين شاعر و نويسند. بزرگ فارسي گوي هند که کلمات هندي در اشعار خود آورده، امير خسرو (... – ... هجري قمري) است و ملمعاتي دارد که يک مصراع آن فارسي و مصراع ديگر هندي است. اين سبک، مدتي دراز، پس از امير خسرو هم مورد تقليد بود، و اين نوع شعر را "ريخته" مي گفتند. ريختن به معاني متعدد آمده است. امّا از آن زمان که امير خسرو قوافي فارسي و هندي را خلق کرد، کلم. "ريخته" به عنوان اصطلاحي که معرف اشعاري مختلط از مصراعهاي فارسي و هندي بوده، که در يک موضوع سروده شده باشد، با به کار برده شد. بعدها همه شعب شعر اردو، به نام "ريخته" ناميده شد، سپس زبان اردو که مدت ها "هندي" يا "هندوي" خوانده مي شد، به نام "ريخته" و پس از گذشت زماني به "اردو" موسوم شد. با آن که زبان اردو، در منطق. دو آب (نواحي ميان دو شط گنگ و جمنا) و دهلي و نواحي آن نشوونما يافت ولي، در دکن به عنوان زبان ادبي مورد استفاده قرار گرفت.

نخستين کساني که از زبان اردو حمايت کرده و رواج آن را تشويق کردند، گروهي از علماي صوفي مشرب بودند. همان طور که "بودا" زبان سانسکريت را رها کرد، و زبان "پالي" را براي تبليغ پيام خويش مناسب ديد، اين صوفيان نيز زبان عربي را که جنب. ادبي داشت، يکسو نهادند و زبان فارسي را برگزيدند امّا براي آنکه در قلوب عامه، بيشتر تأثير کنند، از زبان اردو هم استفاده کردند. چون اين فرقه، در گشت و گذار خود، به نواحي دکن، مانند دولت آباد، گلبرگه، احمد آباد، بيجاپور، پتن، گجرات و جاهاي ديگر رسيدند، براي مردم اين شهرها، به زباني که خود از دهلي ارمغان آورده بودند، وعظ کردند.

بعضي از آنان مانند "سيد محمد گيسو دراز بنده نواز"، در سال ... هجري قمري به دکن آمد و منظومه ها و رسايلي به اين زبان نوشت، مقبر. او در گلبرگه است و شاگردان و پيروان وي نيز همان سيرت و روش را تعقيب کرده و کتب بسيار به زبان اردو تأليف کردند. امّا به هر حال استعمال جمله ها و واژه هاي فارسي و عربي در تخاطب و به کار بردن خط فارسي، اين زبان را به طور کلي از زبان هندي مجزا کرد.

کتاب "معراج العاشقين" گيسو دراز، به تصحيح مولوي عبدالحق، معروف به "باباي اردو" در حيدرآباد دکن به سال .... هجري قمري به طبع رسيده است. علاوه بر گيسو دراز بسياري از صوفيان ديگر واژه هاي اردو را در نظم و نثر خود به کار برده اند، از جمله "ميراجي" مشهور به "شمس العشاق" (متوفي به سال... هجري قمري) که يکي از زهّاد بيجاپور و از علاقه مندان و شاگردان گيسودراز بود و نيز پسر و جانشين او "شاه برهان جانم" (متوفي به سال... هجري قمري) و پسر او "امين الدين اعلي" (متوفي به سال...6 هجري قمري) تأليفاتي به نظم و نثر، به زبان اردوي دکني از خود باقي گذاشتند که محققين بر اين اعتقادند که ارزش چنداني ندارند. به نظر مي رسد که در گجرات نيز، صوفيان، اردو را ترويج کرده باشند، "شاه علي محمد جان" (متوفي به سال... هجري قمري)، شاعر و صوفي ارجمندي بود، که مجموع. اشعار او به نام "جواهرالاسرار" مشهور است. شاعر عارف ديگر "شيخ خوب محمد" ناظم مثنويي است موسوم به "خوب ترنگ"، که در سال ... هجري قمري به نظم در آمده است.

سه مرکز بزرگ اردو زبان در محدوده دکن وجود داشته است که عبارتند از "گلکنده" پايتخت شاهان قطب شاهي، "بيجاپور" پايتخت شاهان عادل شاهي، و "احمدآباد" در گجرات. بايد دانست، زبانهايي که در اين سه مرکز تکلم مي شده، با يکديگر اختلافات جزيي و لهجه اي داشته است.

سلاطين قطب شاهي، مروّجين ادب و هنر بودند. "سلطان محمد علي قطب شاه" (...-....هجري قمري) که کليات وي، مجموع. عظيمي را تشکيل مي دهد، خود شاعر بود. دو جانشين او، يعني "سلطان محمد قطب شاه" (....-....هجري قمري) و "سلطان عبدالله قطب شاه" (....-.... هجري قمري) و همچنين "تاناشاه" (....-.... هجري قمري)، آخرين پادشاه اين سلسله، از شاعران فصيح بودند و علاقه داشتند که به اردو شعر بگويند. گويندگان ديگري که در دور. قطب شاهي مشهور بودند، از اين قرارند. (.)

.. وجهي، که داستان عشقي محمد قلي قطب شاه را در مثنوي خود به نام "مثنوي قطب و مشتري" به سال .... هجري قمري سروده است

.. شهاب الدين قريشي، گوينده "بهوگ بال"

.. شيخ احمد شريف، ناظم مثنويي در موضوع طب.

.. غواصي، گويند. "سيف الملوک و بديع الجمال" (در سال .... هجري قمري) و "طوطي نامه" (در سال ....هجري قمري)

.. ابن نشاطي، ناظم "پهول بن" (.... هجري قمري)

.. رضي قطب، مترجم "تحفه النصايح" يا "پندا کا تحفه"

.. طبعي، ناظم "بهرام و گلندام"

.. واله، گوينده "طالب و موهني"

.. مظفر، ناظم "ظفرنام. عشق" (اين چهار شاعر در عهد سلطان عبدالله قطب شاه بودند).

... فيض، گويند. "رضوان شاه و روح افزا"

... شاهي، گويند. مراثي اردو

... ميرزا، گويند. مراثي اردو

.. نوري، از مردم حيدرآباد

پادشاهان نيز حاميان بزرگ علوم شعر و ادب محسوب مي شدند. در زمان محمد علي شاه قطب شاهي (.... – .... هجري قمري )، چهار شاعر نامي وجود داشتند:

.. حسن شوقي، ناظم "فتحنام. نظام شاه" (که در آن شرح جنگ تالي کوت را آورده است) و "ميزباني عادل شاه".

.. مقيمي (ميرزا مقيم خان)، ناظم "فتحنامه يک هوري" (داستان فتح عادل شاه) و منظوم. عشقي "مهيار و چندربهان".

.. رستمي (کمال خان)، ناظم مثنوي عظيم "خاورنامه" (شرح جنگهاي حضرت علي (ع) که به سال .... هجري قمري سروده است.

.. ملک خشنود، ناظم "جنت سنگهار" (داستان بهرام)،که آن را به سال .... هجري قمري پرداخته است، "ابراهيم عادل شاه دوم" (... – .... هجري قمري ) به جهت ذوق موسيقي که داشت، به "جگت گرو" مشهور شد. او مؤلف کتاب معروف "فونورمس" در باب موسيقي هندي است. در زمان اين پادشاه، زبان هندي، (و به تعبير درست تر "اردوي دکني")، به جاي فارسي، زبان دربار شد. به خصوص در عهد "علي عادل شاه دوم" (....-.... هجري قمري ) که وي به زبان اردو علاقه خاص نشان داد.

بين مؤلفيني که در زمان سلطنت اين پادشاه، به زبان اردوي دکني کتاب تأليف کرده اند، اين کسان را مي توان نام برد:

.. ملانصرتي، مؤلف "گلشن عشق" و "علي نامه"

.. اياغي محمد امين، مؤلف "نجات نامه" (.... هجري قمري) و "شمايل نامه"

.. سيد بلاغي، مؤلف "معراج نامه" (.... هجري قمري)

همچنين در زمان سکندر عادل شاه شعراي ذيل شهرت يافتند.

.. شاه امين الدين اعلي، (مذکور در فوق)

.. عبدالمؤمن، از مردم بيجاپور. گويند. "عشق نامه" (که در مقابل "مهدي موعود" سيد محمد جونپور، سروده شده است).

.. هاشمي، سراينده "يوسف و زليخا". وي مشهورترين و بزرگترين شاعر اين عصر است و کور مادرزاد بود. سرودن اشعار به زبان عامه با مصطلحات زنان را مي توان از ابداعات وي دانست. همين نوع شعر را بعدها "رنگين" شاعري ديگر که ذکر وي بعداً خواهد آمد. گسترش داده است.

نخستين کتابهاي منثور اردو، به لهج. دکني تأليف شده است. از زهّادي، مانند شاه راجو سيد قتّال، سيد محمد گيسودراز بنده نواز، و شاه امين الدين اعلي، چند رساله در تصوف به جا مانده است، ولي از جنبه ادبي ارزشي ندارند.

کتب ارجمندي در موضوع ادبيات و حکمت الهي بدين زبان تأليف شده است. از جمله:

"شرح تمهيد": اين کتاب را "سيد ميرا حيدر آبادي" (متوفي به سال .... هجري قمري) از کتاب "تمهيدات فارسي"، تأليف "قاضي عين القضاه همداني" (متوفي... هجري قمري) به زبان اردوي دکني ترجمه کرده است.

وجهي، که قبلاً از او نام برده ايم مؤلف کتابي است به نثر که ارزش ادبي بسيار دارد، به نام "سَب رَس"، يا "حسن و دل" اين کتاب تعبير هايي است از روابط جمال و احساسات عاشقان. قلب. سال تأليف آن .... هجري قمري و به نثر مسجع تحرير يافته است. کتاب منثور ديگر "ترجم. شمايل الاتقياء" است، که ميرزا ياقوت در حدود سال .... هجري قمري از کتاب فارسي رکن عمادالدين، شاگرد روحاني خواجه برهان الدين (متوفي به سال ... هجري قمري)، در دولت آباد ترجمه کرده است.

در اين زبان ابتدايي، همچنان که لغات عربي و فارسي با لغات هندي اختلاط يافته، مؤلفين  کوشيده اند، هم از داستانهاي هندي و هم از اساطير اسلامي در تأليف خود استفاده کنند. بخشي از اين کتب، ترجم. آثار نويسندگان و شعراي ايراني است و برخي، مقتبس از اساطير عاميان. سانسکريت و هندي و آداب و رسوم هندوان است، از آن جمله: "نل ودمن" يا مثنوي معروف به "گلشن عشق" اثر "نصرتي". داستان "عشقي مدمالتي و منوهر" يا داستان “کامروپ کامتا".

در تأليفات صوفيه، لغات سه زبان فارسي و عربي و هندي به صورتهاي گوناگون و روشهاي مختلف استعمال شده است. شاعران نيز از اين سه زبان، کنايات و تعبيرات لازم را اقتباس کرده اند. بايد گفت که پس از قبول رسم الخط فارسي، بنياد واقعي زبان اردو استوار شد.

کتاب “پَدماوَت”، تأليف “محمد جائسي” (متوفي ... هجري قمري ) با آنکه به زبان هندي عصر خويش تحرير و فقط تعداد معدودي لغات فارسي و عربي در آن ديده مي شود، امّا به خط فارسي نوشته شده است.

تأليفات منثور و منظوم به زبان اردوي دکني، به يک سبک تأليف شده، و بخش اعظمي از منظومه ها با اوزان و بحور شعر فارسي پرداخته شده، به طوري که شعر اردو پايه اي از شعر فارسي گرديده است.

آثار "ملک محمد"، که زبان خالص هندي عصر را با حروف فارسي تحرير کرده است، اختلاط فرهنگ هندي و اسلامي را در آن عهد کاملاً نشان مي دهد. نويسندگان پس از وي، قدمي فراتر نهادند و برخورداري از واژه هاي سه زبان مذکور را بيشتر تحکيم بخشيدند.

شعر، به زبان اردوي جديد، از عصر محمد شاه (.... – .... هجري قمري ) آغاز شد. "ولي دکني اورنگ آبادي" (.... – .... هجري قمري ) نزد استاداني که در دهلي بودند، تلمّذ کرد و در شعر خويش از ايشان الهام گرفت. اين گويند. ارجمند، نارساييها و ناتوانيهاي زبان اردو را تا اندازه اي اصلاح کرد و در به کار گرفتن لغات و عبارات و ترکيبات ظريف و زيبا بسيار کوشيد. عناصر دستوري زبان هندي و فارسي به نسبت مساوي در شعر او استعمال شده است. امّا قالبهاي شعر فارسي و بحور عروضي آن را به کار گرفته و محتواي کاملاً متأثر از شعر فارسي بود.

معاصر "ولي دکني"، "سراج" است او نيز شاعري بزرگ است و زبان اردوي او آنچنانکه از اشعارش معلوم مي شود، از زبان شعري "ولي دکني"، آراسته تر است.

دور. شعر کلاسيک اردو با "مير" (.... – .... هجري قمري) آغاز مي شود. شعر "مير"، انعکاس کامل زندگي خود اوست. غزليات و مثنويات وي، بهترين بخش ادبيات اردو محسوب مي شود. وي به دعوت نواب آصف الدوله، به لکهنو مهاجرت کرد و تا پايان عمر در آنجا زندگي کرد.

"سودا" (.... – .... هجري قمري) معاصر "مير"، شاعري هنرمند بود، و ليکن ارزش کار او کمتر از مير است. وي هجويات مطول سروده است، مع هذا بايد او را در رديف استادان شعر و ادب محسوب داريم. شعر لطيف "خواجه مير درد" (.... – .... هجري قمري)، انعکاسي است از آيين تصوف در عصر زندگي اين سرايند. عارف.

"ميرحسن" (متوفي به سال .... هجري قمري) از علاقمندان "مير درد"، سير حوادث جامع. عصر خويش را در اشعارش مجسم کرده است، و مثنوي معروف وي "سحرالبيان" که در آن به شرح احساسات انساني و توصيف صحنه هاي طبيعت پرداخته است، مشهورترين مثنوي به زبان اردو است.

اکنون به دور. "رنگين" و "انشا" (متوفي ....هجري قمري ) مي رسيم. اين دو شاعر، مانند برخي از معاصرانشان، به لکهنو مهاجرت کردند. در اين عصر، لکهنو مرکز شعر بود و لطايف افکار و احساسات اين دو، بالطبع، در شعر شاعران آن دوره تأثيري به سزا داشته است.

"رنگين" را عموماً گسترش دهنده حقيقي زبان "ريخته" دانسته اند و همان طور که گذشت "ريخته" نوعي شعر است که فقط از زن گفت و گو مي کند و به زبان و اصطلاحات و تعبير زنان بيان مي شود. "رنگين" به استعمال لغات عاميان. هندي تمايل داشته و اشعار او مشحون از کنايات رکيک است.

"انشا" شاعري است که در عصري ظهور کرد که آن را دور. انحطاط شعر اردو خوانده اند. وي حيات را ملعبه مي دانست و در اشعار او، اغلب احساسات دروغين تشريح شده است. ولي بايد دانست که او استاد فن شعر بود و آثار وي موجب اعتبار و لطافت شعر اردو مي باشد. "انشا" در ادبيات اردو، بسيار مؤثر بود. منظوم. "درياي لطافت" او، شاهد مهارت وي در زبان اردو است.

"نظير" (متوفي به سال ....هجري قمري) شاعر بزرگي است. نيکوترين اشعار او، ترانه ها يا نغمه هايي است که دربار. موطن خود سروده و پيران و جوانان و اغنيا و فقرا را توصيف کرده است. بسياري از منظومه هاي وي، دربار. پرندگان و جانوران، است مانند "قوي مسکين"، "بچه خرس" و "سنجاب کوچک" که از عادات و آداب جامع. انتقاد مي شود. آثار او گاهي از قواعد شعري دور مي شود و ناقص به نظر مي آيد.

"ذوق" (متوفي به سال .... هجري قمري) يکي از طرفداران شعر فارسي است، که مديحه سرايي را به هنري عالي تبديل کرده است. قصايدي که او در مدح آخرين پادشاه مغول سروده در ادبيات اردو مشهور است، ولي در غزل چندان دستي ندارند.

به نظر مي رسد در قرن سيزدهم هجري شعر اردو در طي مدارج ترقي خود متوقف مانده است. آثار منظوم اين عصر، بيشتر تقليديست و عاري از لطف و هنر، و تکرار و افکار پيشينيان. در اين هنگامه "غالب" ظهور کرد. غالب (.... – .... هجري قمري)، پيشواي نهضت جديد در شعر اردوست و هيچ يک از شاعران اردو زبان، در ابتکار و قدرت تخيل به پاي. او نمي رسد وي نخستين کسي است که افکار فلسفي را وارد شعر اردو کرده و از اين جهت، شعر او مجموعه اي از حکمت و عرفان است و گفتار او آراسته و فصيح و بليغ و خوش آهنگ مي باشد.

"غالب" زبان فارسي را به منزل. زبان ادبي به کار برده است. ديوان "غالب" و مثنويات و رساله هاي منثورش به زبان فارسي موجود است و بارها چاپ و منتشر شده است.

مشهورترين مراثي فارسي، دربار. شهادت حضرت امام حسين (ع)، يعني ترکيب بند محتشم کاشاني، سرمشق شاعران مرثيه گوي هند شده و از آن ميان، "انيس" (.... – .... هجري قمري)، و "دبير" (.... – .... هجري قمري) را مي توان نام برد. جنب. مذهبي و ارزش ادبي آثار اين دو شاعر موجب شده است که در ادبيات اردو، مقامي شامخ به دست آورند.

عصر انحطاط لکهنو، به عنوان دوران توقف محسوب مي شود. در اين دوره شعرا هم در مضامين و هم در سبک، فاقد ابتکارند و اشعار آنان از تغييرات زائد مشحون است، آتش و ناسخ دو استاد فن اين عهدند، ولي شايست. آن نيستند که در رديف استادان طراز اول شعر اردو قرار گيرند. تمام هنر شعري آندو و پيروانشان، مصروفِ به کار بردن صنايع لفظي در شعر شده است.

مثنوي "شنکر نسيم" (.... – .... هجري قمري) که در همين عهد تصنيف شده، اگر صنايع لفظي فراوان، در آن به کار نمي رفت، منظومه اي کامل به شمار مي آمد. مثنويهاي متعدد "شوق" انعکاس اخلاق فاسد جامع. آن روز است. گويند. مزبور در دربار واجد علي شاه، آخرين سلطان "اوده" مي زيسته و سخنانش از آن محيط الهام گرفته است.

پس از "داغ" (.... – .... هجري قمري) و "امير" (.... – .... هجري قمري) مي توان گفت که اساس شعر کلاسيک که ميراث شعري "مير" بود، واژگون شد. اشعار اين دو شاعر معرّف انحطاط شعر آن دوره است.

در همين زمان افکار جديد غربي به واسط. حضور انگلستان در هندوستان رايج شد و در پي آن سنن قديم شعري روبه تغيير گذاشت و سبکهاي جديد جانشين هنجارهاي زباني گذشته شد و شعرا به جاي سبک کلاسيک که مصنوع و مسجّع بود، سبک بسيار ساده و آزاد را پذيرفتند. به عبارت ديگر، اين دوره، عصر جديد و زمان احياي ادبيات اردو به شمار مي رود. "محمد حسين آزاد" (متوفي به سال .... هجري قمري) معرف خصايص ادبي عصر مزبور است. وي نخستين گوينده اي است که از منابع غربي تأثير پذيرفته است. "آزاد"، لغت شناس و استاد نثر مسجّع است، ولي شاعري بزرگ محسوب نمي شود معاصر او "حالي" (متولد در پاني پت به سال .... هجري قمري و متوفي به سال .... هجري قمري) است. ايام جواني وي در دهلي گذشت. در اين دوره سلطنت گورکانيان در هندوستان به سرعت رو به زوال نهاد. بنابر اين، امور اجتماعي و سياسي و ادبي نيز راه انحطاط مي پيمود. "حالي" شاهد انحطاط و فروپاشي سلسل. مذکور بود و مشاهدات او تأثير عميق در ذهن وي به جاي گذاشت. هر چند "حالي" در تحقيقات ادبي، پيرو و جانشين "غالب" و "شيفته" است، ولي به لحاظ فکري همچون شعراي بزرگ عهد جاهليت عرب است. نخستين آثار شعري او به سبک معمول عصر بود، ولي به تدريج، افکار جديد در ذهن او مؤثر واقع شد. وي به تحقيق و مطالعه در امور جامعه و محيط خويش پرداخت. بر اثر کوششهاي بسيار "سرسيد احمد خان" در دانشگاه عليگر، افکار جديد، در تمدن و فرهنگ مسلمان هند جاري شد. "حالي" طليع. اين نهضت بود. وي در "مسدّس" خود، تاريخ گذشته را مجسّم ساخته و حيات ملّي مسلمانان هند را به خوبي تشريح کرده است. "حالي" نه تنها شاعري است بزرگ، بلکه وي يکي از کساني است که ادبيات انگليسي را در فرهنگ هند نفوذ داده است.

در اين زمان "اکبر حسين اله آبادي" (.... – .... هجري قمري) به دفاع از فرهنگ شرقي پرداخت و قريح. انتقادي خود را در ردّ طرفداران تقليد از اروپا به کار برد، و حتي استادان دانشگاه عليگر را مورد انتقاد قرار داد. وي معتقد بودکه اسلام و تمدن اسلامي در معرض خطري عظيم از جانب فرهنگ مادي غرب واقع شده است، از اين رو، قريح. شعري خويش را در راه جلوگيري و رفع اين خطر به کار گرفته است.

در شعر جديد اردو، سه شخصيت ممتاز وجود دارند. "غالب"، "حالي" و "اقبال" قدرت تخيل و افکار فلسفي "غالب" موجب آن شده که بتواند خِرق سنن قدما کند ، ولي بدبيني در آثار او غالب است. "حالي" همچون کسي است که خود را در پهن. فرهنگ در ميان شاعران قديم تنها مي بيند و بر آنها مي گريد و از آتش حسرت تجديد امارت مسلمانان مي سوزد. "اقبال" هم قدرت تخيل "غالب" را دارد و هم تاثرات عميق "حالي" را و نيز داراي فکري نوين و وجد و حال قدرت خلاقه است. نخستين اشعار او در موضوع وطن پرستي سروده شده است. ولي بعدها، وي تمايلي شديد به وحدت مسلمين از خود نشان داد. او مسلمانان را دعوت مي کند که دين را اساس وحدت خويش قرار دهند و معتقد است روزي خواهد رسيد که اسلام نه تنها آسيا، بلکه هم. جهان را نجات بخشد. "اقبال" هنر خويش را در شعر فارسي بيش از شعر اردو به کار گرفته است، زيرا وي معتقد بود که زبان فارسي براي تبليغ افکار او در ممالک اسلامي، مناسب تر است.

پيشتر به نثز اردو اشاره کرديم. نخستين آثار منثور اردو نيز به زبان دکني تأليف شده ولي اغلب آنها در باب مذهب و مواضيع مختلف نگارش يافته است امّا به جز "سب رس" (.... هجري قمري) که به نثر مسجّع تحرير شده، هيچ يک ارزش ادبي ندارد. در هندوستان شمالي، تا عصر بعد از انقلاب، مؤلفين، کتب و مکاتبات خود را به زبان فارسي مي نوشتند "شاه رفيع الدين دهلوي" (....-.... هجري قمري) "شاه عبدالقادر" (.... – .... هجري قمري) هر دو، قرآن را به زبان اردو ترجمه کرده اند، ولي ترجمه هاي آنان تحت اللفظي است. اساس نثر اردو، در "فرت ويليام کالج" کلکته، که "لردولسلسي" در .... هجري قمري آن را تاسيس کرد، نهاده شد. در ميان زبانهايي که در آنجا تدريس مي شد، زبان فارسي، هندوستاني و اردو مقامي شامخ داشتند. در ميان نويسندگان اردو "ميرامّن"، مؤلف "باغ بهار"، يا "قصّ. چهار درويش" (.... – .... هجري قمري) و "مير شير علي افسوس"، مؤلف "آرايش محفل" (.... هجري قمري) شايان ذکر   مي باشند. ترجمه ها و تأليفاتي که از طرف "فرت ويليام کالج" منتشر مي شد، در ترويج زبان اردو مؤثر شد.

نويسندگان اردو زبان، افکار خود را به زبان ساده تشريح کردند و سبک قديم را که مبتني بر نثر مسجّع و مقفي و مشحون از اصطلاحات و تعابير فارسي و عربي بود، به کنار نهادند، ولي بيشتر اين نوشته ها، افسانه و داستان بود. "سرسيد احمد خان" (.... – .... هجري قمري) به معاصرين خود، فن نگارش جدّي و علمي را به زباني ساده آموخت. مجل. او به نام "تهذيب الاخلاق" تقريباً در ادبيات اردو انقلابي ايجاد کرد. به همين دليل، استادان نثر اردو، يا مستقيماً تحت تأثير "سر سيد احمد خان" هستند و يا از کساني که با کالج دهلي به نحوي ارتباط داشتند، متأثرند. در آنجا هنگام تدريس، زبان اردو به کار مي رفت، و کتب به زبان اردو ترجمه مي شد. از بزرگان نثر اردوي جديد، کسان ذيل را مي توان نام برد:

"محمد حسين آزاد"، "خواجه الطاف حسين حالي"، "نذير احمد" (.... – .... هجري قمري) و "شبلي نعماني" (.... – .... هجري قمري)

داستان نويسي در اردو، از عصر "رتن ناته سرشار" (.... – .... هجري قمري) آغاز شد. وي مؤلف "فسان. آزاد" است، که در اين کتاب، وضعيت اجتماعي جامع. لکهنو را در عصر خويش مجسم کرده است.

داستانهاي "عبدالحليم شرر" (.... – .... هجري قمري) بيشتر جنب. تاريخي دارد، و جنب. تخيل داستاني در آنها ضعيف است. تا اين زمان جز چند داستان، "نذير احمد"، هيچ داستان ديگري به زبان اردو تأليف نشده بود، بنابر اين، رمانهاي "شرر" بدون شک، ذوقي ادبي در مردم ايجاد کردند.

با ورود انگليسيها به هند، ذوق نوشتن نمايشنامه در نويسندگان تحريک شد و پارسيان هند در اين راه پيشقدم شدند. بالنتيجه، عده اي از نويسندگان به تحرير نمايشنامه پرداختند.

جوانان تربيت شد. عصر اخير، بيشتر به زبان مادري خود علاقه نشان دادند و آن زبان را با ترجمه هاي آثار اروپاييان در فنون و علوم مختلفه تکميل کردند.اما در هر صورت مرکز اردو در آن روزگار دکن و لکهنو محسوب مي شد.


نوشته شده در تاريخ Fri 16 Feb 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

تاريخ پاکستان جديد

قبل از ورود انگليسي ها مسلمانان 700 سال بر هند سلطه داشتند . اما در شروع قرن 20 انگليسيها قدرت برتر در شبه قاره بودند و هم هندوها و هم مسلمانان از آنان ناراضي شده بودند در سال 1885 كنگره ملي هندوستان را تشكيل شد . که شامل اعضايي از هر دو مذهب بود .

اما از آنجا كه تعداد هندوها به مراتب بيش تر از مسلمانان بوده لذا شمار آنها در كنگره هميشه بيشتر بود . در نتيجه رهبران مسلمان از نرسيدن به حق واقعی خود بيم دشتند به همين جهت  در سال 1906 مسلمانان اتحاديه سراسري هند را به نام مسلم ليگ تشكيل دادند.

محمد علي جناح در 1913 به مسلم ليگ پيوست وي در پاکستان قائد اعظم لقب دارد .و در رشته حقوق در انگليس تحصيل كرده است .

 مسلم ليگ استقلالي را كه در آنها اجازه تشكيل يك كشور جداگانه را ندهد رد كردند .

علامه اقبال بر لزوم تشكيل يك كشور مسلمان متحد براي حفظ منافع اسلام و هندوستان تأکيد کردند .

در 1933 رحمت علي دانشجوی جوان كه در دانشگاه كمبريج انگليس در رشته حقوق مشغول تحصيل بود در مقاله اي براي اولين بار نام ( پاكستان ) را مطرح كرد .

در 1940 در گردهمايي مسلم ليگ در لاهور ، رهبران مسلمان قطعنامه لاهور را عرضه كردند كه در آن شبه قاره به دو كشور جداگانه هند و مسلمان تقسيم مي شد .مسلم ليگ مي خواست كه در مناطق شمال غرب و شمال شرقي هند كه مسلمان نشين بود يك كشور دو بخشي برای مسلمانان تشكيل شود .

در سال1947 کشور پاکستان استقلال يافت که از  دو بخش شرقي(بنگلادش فعلی) و غربي(پاکستان کنونی) تشکيل يافته بود که اين از همان ابتدا مشكلاتي را سبب شد .زبان رسمي اردو بود در حالي كه اكثريت مطلق در پاكستان شرقي بنگالي صحبت مي كردند رهبران نظامي و سياسي از پاكستان غربي بودند و فرهنگ و نژاد دو بخش  با هم متفاوت بود .

لذا حزب عوامي ليگ در پاكستان شرقي شكل گرفت و در 1971 هنگامي كه رهبر حزب در زندان بود مردم پاکستان شرقی به  تظاهرات پرداختند و  ارتش به سركوب مردم پرداخت . هند به پاكستان شرقي حمله كرد و توانست ارتش پاكستان غربي را كه از مركز دور بودند  و نمی توانستند کمکی از پاکستان غربی دريافت کنند را وادار به عقب نشيني كند بدين ترتيب كشور جديد تأسيس شد که بنگلادش نام گرفت .


نوشته شده در تاريخ Fri 9 Feb 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

در زبان اردو به موزه (Museum)، "عجايب گهر" يا "عجايب خانه" مي گويند. متأسفانه اين ترجمه به تحريف اصل کلمه منجر شده، در حالي که معني موزه چيز ديگري است. عجايب خانه در ذهن مردم انبار و مجموعه غرايب و اشياي حيرت آور را تصوير مي کند در حالي که موزه مجموعه علم و تاريخ و پشتيبان مطالعات مربوط به تاريخ يک ملت يا آيين است. موزه در واقع ترتيب منظم علم در يک زمين? خاص است. محلي که داراي جنب? نمايشي است به تسريع مطالعات کمک مي کند.بر اساس تعريف ارايه شده از سوي شوراي بين المللي موزه ها، موزه در ساده ترين شکل خود ساختماني شامل مجموعه هاي اشياي مختلف به منظور بازديد، مطالعه و تفريح است.

در هر شهر و ديار کشور پاکستان، موزه يا موزه هايي تاريخِ گذشتگان را پيش روي بازديد کنندگان قرار مي دهد.

مطلبي که در پي مي آيد وضعيت برخي از موزه هاي پاکستان را نشان مي دهد. با هم اين گزارش را که به همّت خان? فرهنگ جمهوري اسلامي ايران در کويته تهيه شده مي خوانيم:

نخستين موز? شمال غرب هند (پاکستان فعلي) درکراچي تأسيس گرديد. اين موزه به اسم "موز? ملکه ويکتوريا" نامگذاري و درسال1851 ميلادي يعني فقط 8 سال بعد از "اشغال سند" توسط انگليس در کراچي افتتاح شد.

اين موزه در سال 1870 ميلادي به شهرداري کراچي تحويل و در سال 1928 ميلادي در ساختمان جديدي مستقر گرديد.

اين ساختمان پس از تجزي? هند به بانک دولتي پاکستان (State Bank of Pakistan) اختصاص يافت و بعدها تا مدت زيادي به عنوان ساختمان ادار? آب و فاضلاب کراچي نيز مورد استفاده قرار گرفت امّا اخيراً به حکومت سند ارجاع شد. ساختمان مزبور ساختماني جذّاب بوده و در منطق? اصلي باغ بارن (Garden Burn) در تقاطع خيابان چاندريگار، خيابان دکتر ضياءالدين احمد و خيابان م.ر.کياني ، در مجاورت ساختمان جديد موز? ملّي پاکستان قرار دارد. در حال حاضر ساختمان مزبور منتظر بازسازي است که به عنوان ميراث فرهنگي سند مجدداً به محل موزه تبديل شود.

متأسفانه فقط بخشي از مجموعه هاي باستاني "موز? ويکتوريا"، که در سال 1947 ميلادي متروکه شد، به موز? ملّي پاکستان راه يافته و سرنوشت باقي ماند? اشياي فوق العاده ديدني آن موزه مشخص نيست.

کراچي داراي سه موزه است که توسط وزارت فرهنگ مرکزي اداره مي شود. اين سه موزه،     موزه هاي ملي پاکستان مي باشند و در محل نخستين موز? کشور، که در سال 1851 ميلادي تأسيس شده است، قرار دارند. اين محل، امروزه "باغ بارن" ناميده مي شود و در مجاورت گالري هنري فيضي رحمان در محل شوراي هنري پاکستان (Pakistan Arts Counsil) قرار دارد.

چنانچه قبلاً ذکر شد نخستين موز? کشور در سال 1851 ميلادي يعني قبل از تجزي? هند، تأسيس شده است، زماني که رشد موزه ها در کشورهاي همسايه بسيار کند بود، فقط 15 باب موزه در چهار ايالت پنجاب، سرحد، سند و بلوچستان پاکستان تأسيس شده بود. موز? لاهور در سال 1865 ميلادي تأسيس شد که تأسيس دو موز? مهم ديگر در کويته (در سال 1900 ميلادي) و در پيشاور (در سال 1908 ميلادي) را به دنبال خود داشته است. از سال 1947 ميلادي به بعد رشد موزه در کشور سريعتر شد به طوريکه در حال حاضر تعداد موزه هاي پاکستان به 50 باب رسيده است و به نظر مي رسد ظرفيت تأسيس موزه هاي بيشتري در اين کشور وجود دارد.

مردم داخل و خارج کشور به خصوص دانش آموزان از موزه هاي مختلف بازديد مي کنند و اين را مي توان به فال نيک گرفت که موزه، با کمترين هزينه خدمات دائمي آموزشي را به مدارس شهر ارايه     مي دهد.

 موزه ملي:

موز? ملي به طور دايمي اقدامات لازم را در زمين? تعليم و تعلّم انجام مي دهد و فعاليتهاي آموزشي را ادامه مي دهد، که اين فعاليتها شامل برگزاري مسابقات و تشکيل کلاس طرح، نقاشي و همچنين نقاشي اشياء موزه ها، خوشنويسي، سفال سازي و معادل سازي مي شود.

اين موزه همچنين در مناسبتهاي ملي و بين المللي محافل سخنراني، نمايش فيلم، مسابقات سؤال و جواب و نمايشگاههاي ويژه را نيز ترتيب مي دهد.

"موز? ملّي پاکستان" در سال 1950 ميلادي افتتاح شد. در حدود دو ده? متوالي در محل "سالن فرير" باقي ماند و ساختمان جديد آن در سال 1970 ميلادي در "بارن باغ" (Burn Garden) بنا شد.

"موزه ملي" چهارگالري مخصوص شامل دوره هاي:

-         ما قبل تاريخ

-         گندهارا

-         هندو

-         اسلام،  مي باشد.

اين موزه دو گالري عمومي:

-         نژادشناسي

-         دست نوشته ها، نقاشي، خوشنويسي، سکّه ها و غيره، دارد.

مواد مربوط به تاريخ پاکستان در راهروها گذاشته شده است. اين موزه داراي بهترين مجموع? دست نوشته هاي مربوط به جنبش پاکستان مي باشد. بعضي اسناد و مدارک کمياب مربوط به عهد       "سر سيد احمد خان" و حرکت آزادي بخش پاکستان، تکوين حزب مسلم ليک و جنبش خلافت (در حمايت از خلافت عثماني) نيز در اين موزه محفوظ است.

در اين موزه آزمايشگاه حفظ آرشيو، که شايد در نوع خود بهترين است، وجود دارد و افراد  آموزش ديده و مجرب در اين موزه به طور دايمي مشغول فعاليت هستند که وظيف? آنها حفظ آثار است.

طرح نمايش اين موزه شايد در سطح پاکستان در نوع خود بهترين باشد. اشکال هندسي و مدلها، گويا و توضيح دهنده اشياء گذاشته شده مي باشند.

تالار بسيار زيبايي در اين موزه وجود دارد که با مدلها و تصاوير شخصيتها تزيين شده است. موز? ملي در واقع تصوير کامل ميراث تاريخي و فرهنگي پاکستان است.

 

موزه لاهور:

اين موزه در شلوغ ترين و زيباترين خيابان لاهور يعني خيابان جناح THE Mall)سابق ( قرار دارد. موز? لاهور که بهترين موز? کشور پاکستان تلقي شده، در واقع داراي ذخاير غني فرهنگ، عظمت گذشته و تاريخ اين کشور است.

علاوه بر اين قديمي ترين موز? پاکستان درشهر لاهور در سال 1864 ميلادي تأسيس شد و موز? هنر صنعتي پنجاب ناميده شد اين موزه تا سال 1892 ميلادي در بازار تولينتون (Tollinton Market) قرار داشت. امّا هنگامي که به ساختمان جديد خود منتقل شد، به علّت نقّاشي هاي مينياتوري سلطنت مغول (مغولان تيموري هند) (که بهترين نمونه هاي مينياتور به حساب مي آيند) و مجسّمه هاي بتها از زواياي مختلف و قطعاتي از تمدن «گندهارا» و دست نوشته هاي ناياب شهرت يافت. موز? لاهور اين خاصيّت را نيز دارد که شما در حين بازديد احساس نمي کنيد که چه مقدار وقت در آن صرف کرديد. شما همواره در پي مشاهد? اشياي جديد و با عظمت و با شکوه در مجموعه هاي آن هستيد. در اين موزه معنويّات بسياري وجود دارد که شما را با جذابيّت آزاد از قيد زمان به خود جلب مي کند.

در حدود 67 هزار نفر در سال 1996 ميلادي از اين موزه بازديد کرده اند. موز? لاهور وابسته به سازمان فرهنگي دولتي است و توسّط يک هيأت مديره خود مختار اداره مي شود.

در حال حاضر هيأت مدير? موزه 13 عضو دارد و «حنيف رامي» رياست اين هيأت را به عهده دارد. حکومت فدرال هيچ دخالتي در امور موزه نمي کند.

در کنار مجموعه هاي نادر و عتيقه جات و آثار هنري يک مسأله ديگر نيز نظر بيننده را جلب     مي کند و آن ساختمان موزه است که به بهترين نحو حفظ و تمامي آن محفوظ مانده است. حفظ اين ساختمان، عالي ترين درجه را در اولويّتهاي موزه دارد.

حفظ عتيقه جات از هوا و فرسايش زماني بسيار مهم است. براي اين امر يک مجموع? حفظ آثار وجود دارد که براي اين هدف آزمايشگاه مستقل و تسهيلات لازم دراختيار اين بخش قرار دارد. يک مقام ارشد لوازم و آثار تاريخي و هنري را نگهداري مي کند و چنانچه چيزي بشکند، توسّط اين سازمان، ترميم و تعمير مي شود و اين سازمان آنگاه براي نجات آن از آثار منفي هوا، فرسودگي و شکستگي نيز اقدام    مي کند.

پيکره ها و مجسمه هاي هنر گندهارا (GANDHARA) در گالري شماره دو گذاشته شده است. بخش ديگري که بيننده را به خود جلب مي کند "مجسم? بوداي روزه دار" است که تنها در اين موزه يافت مي شود و اين امتياز مهمّي براي موز? لاهور به شمار مي رود. مجموع? جذّاب سکّه ها در گالري شماره هفده گذاشته شده که بازيدکنندگان خوبي دارد. اين مجموعه بسيار مستند و زيبا مي باشد. بازديدکنندگان بومي دانشجويان و روستاييان هستند که اکثر آنها به اشياء سفالي، کوزه ها و اشياء گلي جلب مي شوند.

گالري هاي يک، دو، سه، مربوط به نژادشناسي است. اين گالري ها شامل اشيايي مي شوند که نمونه هاي زندگي روستايي در مناطق مختلف کشور را به نمايش مي گذارد. بوميها به اين گالري ها بسيار توجّه مي نمايند.

گالري هاي شماره سيزده که مخصوص تاريخ مبارزات استقلال پاکستان است يکي از بخشهاي جذّاب موزه و مورد علاق? فراوان دانشجويان است. در همين حال بسياري از اشياي به نمايش گذاشته شده در حال انتقال به مرکز جديدي واقع در بزرگراه قائداعظم است. جايي که موزه جنبش استقلال پاکستان توسط حکومت در حال احداث است، قرار است در آنجا جشن پنجاهمين سالگرد استقلال کشور     برگزار شود.

گالري پست پاکستان محل ديگري در اين موزه است که بسياري از دانشجويان و جوانان 14 تا 19 سال از ميان دانش آموزان را به خود جلب مي کند، بزرگسالان نيز توسط تمبرهاي موجود در مجموعه جلب مي شوند.

موز? لاهور همچنين شامل اشياء نمايشي مربوط به شبه قارّ? پاکستان و هند نيز مي باشد و در اينجا همچنين غرايب و اشياي ناياب مربوط به ساير نقاط جهان نيز وجود دارد. در گالري هاي اين موزه اشياء نمايشي معتبر پاکستان نيز گذاشته شده است.

دو گالري ديگر اين موزه شامل نمونه هاي متنوعي از منابع بين المللي است. همچنين يک گالري اسلامي که شامل اشيايي از مصر، ترکيه و آسياي ميانه مي شود، وجود دارد. گالري هايي نيز مربوط به اشيايي از فرهنگهاي غير اسلامي مثل "گندهارا"، "هندوئيسم"، "بوديسم" و "جين" (Gain) نيز در اين موزه وجود دارد و قطعاتي از کشورهاي هند، نپال، تبّت و برمه در آن گذاشته شده است.

 

موزه کراچي:

در زمان استقلال، پاکستان بخش ناچيزي از تاريخ گذشت? خود را به دست آورد. گرچه موزه هاي لاهور، تاکسيلا و پيشاور قابل توجه تلقّي شدند و موز? انجمن تحقيقات «وارندرا» و موز? داکا در پاکستان شرقي شهرت شاياني داشتند امّا به زودي آشکار شد که پاکستان نياز به مکاني دارد که در آنجا ميراث خود را براي نسل آيند? خود به نمايش بگذارد. بدين ترتيب موز? ملي پاکستان در سال 1951 ميلادي در "تالار معروف فرير" (Frere Hall) در کراچي قرار گرفت همان که امروز "تالار جناح" ناميده مي شود.

ساختمان اين موز? با دشواري مي تواند پاسخ نيازهاي در حال افزايش را بدهد. در سال 1970 ميلادي يک خان? جديد که در "خيابان بارن" قرار دارد به آثار موزه اختصاص داده شد. به گفت? مدير موزه از آن زمان به بعد شش الي هفت گالري بر اساس اصول علمي در اين موزه مجدداً سازمان داده شد. از سال 1993 ميلادي، کامپيوتر نيز در جهت مستند ساختن موزه مورد استفاده قرار گرفته است. آنان يک گوشه «علامه اقبال لاهوري» در اين موزه تشکيل داده اند و مجموع? بسيار جالب و پر تأثير عتيقه جات مربوط به نژادشناسي را در اختيار دارند. اين موزه بزرگترين روزنه به سوي ميراث ملي پاکستان از عصر حجر تا عصر حاضر است.

نمايشگاه اصلي در طبق? اول قرار دارد و در آنجا آثار طبق اصول نژاد شناسي گذاشته شده و توضيحات نمايشي لازم براي آنها در نظر گرفته شده است. جنب? ديگر موز? ملي اين است که اين موزه خدمات متداوم آموزشي را ارايه مي دهد، سياحت ها (تورها) را راه اندازي مي نمايد، به نمايش فيلم اهتمام مي ورزد، سخنراني هاي توضيحي را ترتيب مي دهد و برنامه هاي سوال و جواب را تشکيل مي دهد و اين برنامه ها طبق نيازهاي درسي و بر اساس رشته هاي تحصيلي دانشجويان به مرحل? اجراء گذاشته مي شود. سرويس ويژ? اتوبوس نيز براي دانشجويان ساکن مناطق دور دست منظور شده است.

 

موز? سند:

موز? ايالتي سند در حيدرآباد نيز يکي از موزه هاي پاکستان است. اين تنها موزه اي است که در فضاي باز در جوار ساختمان اصلي موزه قرار دارد. ساختار موزه به راستي منعکس کنند? زندگي روستايي سند است. رديفي از درختان با کرتي کوچک که با روش بومي سند آبياري مي شود به نمايش گذاشته شده است. روش بومي آبياري درسند "نار" ناميده مي شود. در اين روش آب از چاه و به وسيل? يک راس گاو به بالا کشيده مي شود. گاو بسته شده به وسيل? دستگاه چوبي، تمام روز در يک دايره مي چرخد و سطلهاي چوبي را به حرکت در مي آورد. سطلها به يک ديگر پيوسته است و از بالا به پايين مانند زنجير مي چرخد و آب را از چاه کشيده، به زمينهاي تازه شخم زده شده وارد مي نمايد. علاوه بر اين تمامي آلات کشاورزي نظير: گاو آهن، بيل و ... در نمايشگاه گذاشته شده است. چند قدم آن طرف تر يک خان? روستايي کوچک با يک سالن پذيرايي سنتي قرار دارد. اين سالن را به زبان محلي "اتاق" مي گويند که سقفش از حصير است. اتاق دادگستري بومي يا "چيکهات" زنده را در انديشه ها تصوير مي کند. دادگستري در زندگي محلي سند مقام مهمي را به خود اختصاص مي دهد. اوضاع روزمره و منازعات فيمابين مردم در اين دادگستري ها مورد بحث و بررسي قرار مي گيرد. فردي که ميزبانش کار اين دادگستري را به تعويق بياندازد، احساس ناراحتي خواهد کرد. در فاصل? کمک يک آلونک قرار دارد که شما مي توانيد نمون? آن را در منطق? "تهرپارکر" مشاهده کنيد. اين آلونک دايره اي شکل و گرد است و سقف آن مخروطي شکل است.

چند سال قبل در اين محل گل? کوچک اَهوان در زير انبوه درختان سرگردان و به سمت منطق? روستايي حرکت مي کرد.

طرحي وجود دارد که يک بازار کوچک صنايع دستي در فضاي باز ايجاد شود که در آنجا صنعتگران مختلف در حين انجام کار قابل مشاهده خواهند بود و صنايع آنها در محل به مشتريان عرضه خواهد شد، يک طرح وسيع و مبتني بر همّت جوان مجريان امر، در دست اجراء است که مربوط به توسع? باغ مغول در زميني واقع در همان نزديکي ها مي شود که قبلاً توسط درختان احاطه شده است. درب ورودي موزه دو طاق بزرگ دارد که شکل فرهنگ مغولي را به محل مي دهد. شما از درواز? اصلي        مي گذريد و اولين جيزي که توجه شما را به خود جلب مي کند يک کشتي است که خط مشي زندگي مردم با رودخانه و درياهاي فراوان را به تصوير مي کشد. کشاورزي و صنايع دستي در درج? بعدي      قرار دارند.

موز? ايالتي سند در سال 1956 ميلادي توسط فرماندار کلّ حيدرآباد تأسيس شده و 70 نفر در آن براي ايجاد اضافاتي در گالري هاي موجود و يا احداث گالري هاي جديد برنامه ريزي مي کنند.

گالري مربوط به انسانهاي "عصر حجر" موادّي در خصوص نمونه هاي جغرافيايي و طبيعي منطقه را شامل مي شود.

شما در اينجا مردان غارنشين منطق? روهري (در سند) را مي بينيد که بدنهايشان به وسيل? برگ درختان پوشانده شده است. رييس بخش باستان شناسي بر خلاف نظرات عموم مي گويد: "امري" (سهوان) و قلع? کوت ديجي (خيرپور) و نه تمدن بزرگ اندوس (INDUS) کهن ترين بقاياي زندگي در خاک سند مي باشند. ممکن است که آنها چندان به امر حفاري نپرداخته باشند ولي تا جايي که به تاريخ مربوط       مي شود، مناطق "امري" و "قلّ? کوت ديجي" به ترتيب مربوط به 7500 و 7000 سال قبل از ميلاد        مي باشند در حالي که "موئن جودارو" 2500 سال قبل از ميلاد مسيح وجود داشته است.

آنطرف مجسمه هاي شاه پريست (Priest) يک دختر در حال رقص قرار دارد، اين دو نشانه هايي از کشفيّات "موئن جو دارو" مي باشند. ويرانه هايي در شهر ميرپورخاص نيز نظر بينندگان را به خود جلب مي کند. گالري به وسيل? اشياي مربوط به دوره هاي مختلف تاريخي پر شده که اين اشيا بر زندگي روزمره مردم سند آثار عميقي گذاشته است. اين موزه ها، "دور? گندهارا" قرن 6 قبل از ميلاد تا قرن 5 پس از ميلاد را نيز شامل مي شود و سومراها (1050 تا 1350)، سمّه ها (1351 تا 1520)، مغول ها (1599 تا 1719)، کلهورها (1719 الي 1786)، تالپورها (1788 الي 1843) وغيره را نيز در بر مي گيرد. در اينجا اشياي مربوط به نژادشناسي، زيورآلات، دست نوشته ها، سلاحهاي سرد و گرم و انواع مختلف عتيقه جات مربوط به قرنهاي گذشته وجود دارد.

در گالري تصاوير، تصاوير اصلي و واقعي رهبران پاکستاني و رهبران و شخصيتهاي مسلمان به نمايش گذاشته شده است.

يک تالار 400 نفر? زيبا نيز در جوار ساختمان اصلي بنا شده است. اين تالار داراي جديدترين تسهيلات است و همواره به سازمانها و احزاب اجتماعي و سياسي اجاره داده مي شود. علاوه بر اين کتابخان? "شمس العلماء عمر ابن محمد داود پوتا" در اينجا قرار دارد و حداقل 55 هزار جلد کتاب به زبان اردو، سندي، فارسي، عربي و انگليسي دارد.

 

موزه پيشاور:

وادي پيشاور مي تواند ميراث بسيار غني اي را ارايه دهد. بهترين هنرهاي مربوط به فرهنگ "گندهارا" و مجسمه هاي سنگي را دارد. مناطق بسيار وسيعي که فرهنگهاي کهن را در خود پرورانده اند. پيشاور يکي از کهن ترين شهرهاي پاکستان است که عروج و افول بسياري از امپراتوريهاي تاريخي را شاهد بوده است.

اين شهر متعلق به "امپراتور کوشانها" بوده و اين امپراتور گنبد غول پيکري را در سال 78 پس از ميلاد بر روي آثار بودا احداث کرد. اين گنبد در جهان بودايي ها جزو اعجوبه ها به حساب مي آيد.

اراضي حاصلخيز و کوهستانها گهوار? پرورش فرهنگ "گندهارا" بوده که اين فرهنگ در آن به اوج خود و در نهايت به جاودانگي دست يافت. بودا در جهان هنر بودايي در شکل بي مانند بر سين? سنگها جاودانگي يافته است و اين کارها توسّط هنر بودايي هند انجام شده است. اين مناظر در بهترين      مجموعه هاي موز? پيشاور منعکس گرديده اند. شهر کنارا (Lotus) که امروز "چار سدّه" ناميده مي شود، نخستين پايتخت عهد "گندهارا"، در تاريخ، مهم ترين مرکز فرهنگي، مذهبي، اجتماعي و سياسي         بوده است.

موزه پيشاور درجهان فرهنگ و هنر شناخته شده است و مجموع? بسيار جامع «گندهارا» را در خود جاي داده است.فن تصوير بودايي در سفال، گچ و برنز، دانشمندان و دانشجويان و جهانگردان را از گوشه و کنار جهان به خود جلب کرده است.

اکثر اشياي مجموعه هاي شگفت آور از خانقاه ها و رهبانگاههاي مناطق "تخت بايي"، "جمال گري" و "سحري بهلول" به موزه آورده شده است. همچنين اين اشيا از منطق? "شهبازگري" و منطق? هُند (HUND) از توابع "صوابي" سرچشمه مي گيرد. اين مناطق در زمان حاکميت انگليس حفر شده و توج? رسانه ها را به جلب کرده بودند.

موز? پيشاور به نظر مورخين و جهانگردان، قديمي ترين موزه، پس از موزه هاي خاور دور با ميراثهاي بودايي عظيم است. با اينحال اين واقعيت را بايد خارجيان درک کنند که موز? پيشاور نتوانسته است بوميان را به خود جلب کند. زيرا در درجه اول اطراف و محل اين موزه منطقه اي متروکه است. علّت اصلي اين مسأله کمبود علاقه و بي اعتنايي مسئولان سازمان فرهنگ و آرشيو اداره کنند? موزه مي باشد. مجسمه هاي فوق العاده کوچک و مجسمه هاي بزرگ ارزشمند، حجاري ها و حکاکي ها و نمونه هاي المثني که از 4 الي 5 ده? گذشته در موزه گذاشته شده، تحت نظارت عناصر بي احتياط قرار داشته است.  به هرحال در اينجا يک رسم شايع در خصوص تقلب و جعل سازي صاحبان نفوذ نيز وجود دارد.

موز? پيشاور منظر? نامطلوبي دارد. اين مانند چيزي است که به طور غير محسوس، متروک و از دنياي خارج جدا و دور شده باشد. بينند? آن مثل کسي است که در تاريخ به عقب برگشته باشد. در اينجا هيچکس نيست، فقط شما با اشياي نمايشي موجود در موزه هستيد و در پيچ و تاب زمان گرفتار آمده ايد. براي يک شخص عادي که دانش کمي از تاريخ و رسوم و فرهنگهاي گذشته دارد فقط باستان شناسي باقي مي ماند و در هر حال بيننده غمگين مي گردد.

موز? پيشاور که در سال 1906 ميلادي در "سالن يادگاري ويکتوريا" ايجاد شده بود، در مقابل کاخ حکمران قرار دارد. نماي خارجي ساختمان موزه، معماري و مهندسي مغولي را به نمايش مي گذارد و از درون، قصر سلطنتي را تصوير مي نمايد. "سالن ويکتوريا" در واقع به صورت مرکز فعاليتهاي اجتماعي و فرهنگي مقامات دولتي و افسران نظامي انگليسي مستقر در پيشاور احداث شده بود. واقعيت اين است که اين سالن به عنوان سالن رقص مورد استفاده قرار مي گرفت و زوجهاي انگليسي در زمان حاکميت انگليس به اين سالن آمده و با هم به رقص مي پرداخته اند. جالب اينجا است که اين ساختمان مدتي به عنوان سالن مجلس ايالتي نيز مورد استفاده بوده است البته هيچ حکومتي تا کنون اين ساختمان را توسعه نداده که باعث جلب مردم به اين موزه بشود.

مجموعه هاي منعکس کننده تمدن و هنر "گندهارا" در طبقه اول به نمايش در آمده و هنر و فرهنگ مسلمانان همراه با صنايع و دست ساخته هاي قبايل در طبق? دوم گذاشته شده است. داستان بودا به کمک نمايشهاي متوالي و منظم ترتيب داده شده است. سرهاي (Heads) متعددي از بودا بر روي ويترينها گذاشته شده است. مجسمه هاي مربوط به بودا در «غارايندراسالا» و تفکر نخستين "سيّدهاراتا"، اهميت فراواني دارند. نفيس ترين ثروت موزه، به هرحال، "تابوت يا صندوق کانيشکا" است که از منطق? "شاه جي کي دهري" در حومه پيشاور در سالهاي 9-1908 ميلادي به دست آمده است. درکنار کوزه گري، صنايع برنز، گنبدهاي مينياتوري، عتيقه جات سنگي، سيني هاي آرايش و سکه هاي مربوط به عهد هندي يوناني، دور? سيت، پارتيانها، کوشاني ها و ساساني ها قرار دارند که ارزش ديدن دارند. در اين موزه سنگهاي حک شده گذاشته شده اند. اين سنگها زماني را منعکس مي کند که هندوها در اينجا حکومت مي کردند. اين حکاکي مناظر شکار و رقص را به شکل هانومان (Hanuman)، نشان مي دهد و علاوه بر اين مردان، زنان و حيوانات را به نمايش مي گذارد.

در گالري مسلمانان اين دوره، نسخه هاي قرآن مجيد، سکه هاي فرمانروايان مختلف، مينياتورها و منبّت کاريهاي روي چوب مربوط به عهد مغولان تيموري هند، و جبّه و شلوار و قميص مربوط به "شهيد سيد احمد بريلوي" وجود دارد. در سالن ديگري خانه هاي قبايل به نمايش گذاشته شده است. اين نمايشها در واقع نگاهي به درون زندگي فرهنگي قبايل معروف "پشتون" است.

ابراز آلات موسيقي، زيورآلات طلايي و نقره اي، شمشيرها و تيرکمانهاي جمع آوري شده از مناطق مختلف ايالت شمال غربي سرحد نيز در اينجا مشاهده مي شود. مجموع? ديگري که انسان را به خود جلب مي کند مربوط به منطق? کافرستان (در چترال) است که مرکب از تمثالهاي چوبي مردان سوار بر پشت اسب و زنان نشسته در صندليها است. اين تمثالها توسط مردم بومي کافرستان بر روي قبور صاحبان آن، گذاشته شده بود. اشياي ديگر از قبيل تيرها و ترکشها و اشياي چوبي نيز به نمايش گذاشته شده اند. علاوه بر اين، ماکت معبد معروف بودايي واقع در "تخت بايي" از توابع فرمانداري مردان و ماکت گالري بوديستاوا در اين قسمت است. تأثيرات يونان، ايران و روم بر فرهنگ و هنر "گندهارا" از قبيل تزيينات روي لباس وغيره مشهود است مثلاً شما مي توانيد نفوذ اَتلانتيس، باچاناليان (بر مجسمه هاي زنان به شکل ستون) و مناظر وينتاژ و کلاسيک را بر اين هنر مشاهده نماييد.

 

 
 
نام منبع: ماهنامه چشم انداز، شمار? 7، مهر 1376 
  
   
   
   


نوشته شده در تاريخ Fri 9 Feb 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

 

8000 – 3000 سال قبل از ميلاد:

منطقه ي مهرگهر در پايين گردنه بولان بلوچستان، كشف شده در 1984.

پيش از 3000 سال قبل از ميلاد:

فرهنگ سوان (منطقه ي پوتوهار نزديك راولپندي) از عصرحجر.

3000 سال قبل از ميلاد:

توسعه جوامع كوچك روستايي در بلوچستان – فرهنگ آثار سرخگون، فرهنگ ژوب از شمال بلـوچستان – فـرهنگ آثـار نـخودي رنگ، فرهنگ هاي مناطق كويته، امـري، نـال، كـولـي در جنوب بلوچستان و سند.

2800 – 2500 سال قبل از ميلاد:

تمدن ما قبل هاراپا، تمدن دره رود سند، آثار به جا مانده از كوت ديجي (سند).

2500 – 1500 سال قبل از ميلاد:

اوج شكوفايي تمدن دره رود سند در مراكز شهري، موهنجودارو و هاراپا.

1700 سال قبل از ميلاد:

حمله ي آريايي ها از آسياي مركزي.

1600 – 1500 سال قبل از ميلاد:

آغاز تمدن آريايي ها در منطقه ساپتاسندو، پنجاب و فرهنگ رود سند، تمدن ريگوديك، فرهنگ گندهارا در دير و سوات. دو دوره ميراث فرهنگي پاكستان  بنام هاي: عصر برنز و عصر آهن.

516 سال قبل از ميلاد:

شمال پاكستان، شـرقي تـرين استان اميـراتوري هخامنشيان پارس مي شود.

گندهارا پادشاهي نيمه مستقل است.

600 سال قبل از ميلاد:

آغاز دوره هخامنشيان، بودا تعليمات خود را آغاز كرد. سند و پنجاب به عنوان استانهاي اميراتوري داريوش اول پادشاه ايران.

330 سال قبل از ميلاد:

اسكندر كبير از مقدونيه، داريوش سوم را شكست داد.

327 – 325 سال قبل از ميلاد:

اسكندر، پاكستان را تصرف مي كند و شهر تكسيلا را به تصرف خود در مي آورد.

300 سال قبل از ميلاد:

اميراتوري مائوريان، آشوكا بوديسم را ترويج مي دهد.

185 سال قبل از ميلاد:

يوناني هاي باختر، شمال غرب پاكستان را فتح مي كنند.

75 سال قبل از ميلاد:

ظهور سيستان ها (سكاها) از آسياي مركزي.

20 ميلادی:

پارت ها، شمال پاكستان را فتح مي كنند.

60 ميلادی:

كوشاني هاي آسياي مركزي، بر پارت ها غلبه مي كنند.

قرن سوم ميلادی:

انحطاط كوشانيان و سلطه امپراتوري ساسانيان از سرزمين پارس.

قرن چهارم ميلادی:

كوشاني هاي كيدار (كوچك) بر سرقدرت مي رسند.

455 ميلادی:

تصرف گندهارا بوسيله هون هاي سفيد، روي آوردن آنها با هندوئيزم.

565 ميلادی:

شكست هون هاي سفيد بوسيله ساسانيان و ترك ها.

اواخر قرن ششم تا قرن هفتم میلادی:

سيطره سلطنت هاي ترك بر مناطق غرب  رود سند و گندهارا.

712 – 711 ميلادی:

فتح سند و پنجاب جنوبي بوسيله محمد بن قاسم.

870 ميلادی:

ظهور سلطنت هندو شاهي هاي از آسياي مركزي.

1148 – 926 ميلادی:

دوره غزنويان، فتوحات محمود غزنوي (1026 – 1001).

1206 – 1148 ميلادی:

دوره ي غوري ها.

1526 – 1206 ميلادی:

تشكيل سلطنت دهلي.

1221 ميلادی:

فتح پنجاب بوسيله چنگيز خان مغول.

1399 – 1398 ميلادی:

تيمور لنگ از آسياي مركزي حمله مي كند.

1857 – 1826 ميلادی:

تضعيف مغولان (1707 – 1526) سلطه تشريفاتي و ظاهري مغولها.

1739 ميلادی:

نادرشاه از سرزمين پارس، شبه قاره را فتح مي كند.

1773 – 1747 ميلادی:

فتح احمد شاه درانـي به دعوت شاه ولـي الله (1762 – 1703) و بدست آوردن قلمرو رود سند، پنجاب و كشمير.

1849 – 1760 ميلادی:

سيكها قدرت برتر منطقه پنجاب شده و رانجيت سينگ حكومت مي كند   (1839–1799) شهيد سيداحمد بريلوي در نبرد با سيك ها در منطقه بالاكوت به شهادت مي رسد (1831)، شكست سيكها بوسيله ي بريتانيايي ها والحاق پنجاب و منطقه ي مرزي شمال غرب (سرحد) به قلمرو آنها (49 – 1848).

1857 ميلادی:

شكست جنگ استقلال پاكستان.

1885 ميلادی:

تشكيل كنگره ملي هند.

1886 ميلادی:

كنفرانس آموزشي مسلمانان دوستدار انگليس و كالج عليگره.

1906 ميلادی:

تشكيل حزب مسلمانان سرتاسر هند در داكا بوسيله نواب سليم الله خان.

1916 ميلادی:

توافقنامه لكهنو و اتحاد هندوستان مسلمان.

1930 ميلادی:

سخنراني الله آباد (سرزمين جداگانه براي مسلمانان) بوسيله علامه محمد اقبال.

1935 ميلادی:

قانون اساسي دولت هند.

1940 ميلادی:

قطعنامه پاكستان.

1947 ميلادی:

ظهور پاكستان بر روي نقشه ي جهان.

1948 ميلادی:

در گذشت قائداعظم محمدعلي جناح.

1971 ميلادی:

جدايي پاكستان شرقي.

1973 ميلادی:

قانون اساسي پاكستان.

1998 ميلادی:

پاكستان اولين قدرت اتمي اسلامي شد.

 

 

 


نوشته شده در تاريخ Fri 26 Jan 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

 

                                              ميراث جهاني در پاكستان

موهنجودارو:

مكشوف در سال 1992 ميلادي در 129 كيلومتري جنوب شرق سكّهر، تشكيل دهنده قسمت اعظمي از تمدن دره رود سند (2800 – 1500). امروزه پس از گذشت سالها از مراحل حفاري، اين شهر يكي از ديدني ترين شهرهاي جهان است.

تكسيلا:

واقع در 40 كيلومتري شمال اسلام آباد، مركز بوديسم، مهد مشهور ترين مجسمه گندهارا در جهان كه بوسيله اسكندر در سال 327 ق.م، فتح گرديد. از 50 تا 250 سال بعد از ميلاد، شهر تكسيلا يكي از مراكز پـر آوازه تعليم فلسفه و هنـر بـوده است. زائـران و سياحان حتي از چين و يونان به اين منطقه سرازير مي شدند.

تخت باهي:

تقريباً در 80 كيلومتري پيشاور و 16 كيلومتري شمال شرقي شهر مردان، خرابه هاي معبد قديمي بودائيان، واقع بر تپه اي به ارتفاع 500 پا، قدمت ساختمان اصلي به قرن دوم و سوم بعد از ميلاد مي رسد، اين مكان متشكل از حيات، صومعه اصلي و عبادتگاه دير مي باشد كه به خوبي طراحي شده است.

قلعه روهتاس:

اين قلعه عظيم واقع در 16 كيلومتري شمال غربي شهر جهلم، بوسيله شيرشاه سوري در سال 1543 بنا شد. قسمت هاي اصلي عبارتند از: دروازه هاي سهيل، كابل، شيشي، لنگرخاني، موري، پيپل والا، مسجد شاهي و قصرراني.

قلعه شاهي:

واقع در لاهور، مركز استان پنجاب، ساخته شده در حدود 1566 ب.م، بوسيله اكبرشاه بزرگ، اميراتور مغول،قسمت هاي مشهور آن عبارتند از: ديوان خاص، موتي مسجد، شش محل، تماشاگاه نولخه.

باغ هاي شاليمار:

واقع در لاهور، بنا شده توسط شاه جهان اميراتور مغل در 1642 میلادی، در زميني به مساحت 42 ايكر، پذيرايي هاي مهم استان هم اكنون در اين محل انجام مي گيرد.

 

 


نوشته شده در تاريخ Fri 26 Jan 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

در كشور مسلمان  پاكستان چهار ميليون دختر كه بين 18 تا 50 سال سن دارند, به دليل نداشتن جهيزيه در خانه پدر به سر مى برند. مردم امروزه, جهيزيه سنگين را مايه خوش اقبالى و خوشبختى دختران مى دانند. هر چه جهيزيه بهتر و گرانقيمت تر باشد, آسايش عروس در منزل داماد بهتر است. زندگى براى دخترانى كه بدون جهيزيه پا به منزل بخت مى گذارند, سخت است و غالبا در اثر كشمكش در اين زمينه و طعنه مادرشوهر و سايرين, ازدواج به طلاق كشيده مى شود و يا عقده هاى روانى به بار مىآورد كه سرانجام زن از طريق خودسوزى و خودكشى به زندگى خود پايان مى بخشد.
دولت پاكستان طبق قانونى كه در سال 1355 (1976م) به تصويب رسانده ارزش جهيزيه را مبلغ پنج هزار روپيه برآورد كرده كه متإسفانه مردم به اين مصوبه توجهى نكرده و به آنچه كه در قالب رسوم به آنها القا شده است عمل مى كنند. با گذشت سالها نه تنها از ميزان جهيزيه و ارزش آن كاسته نشده بلكه به مقدار و ميزان آن اضافه هم شده است. در گذشته جهيزيه در حد توانايى خانواده عروس تعيين مى شد ولى امروزه, كيفيت و كميت جهيزيه را خانواده داماد تعيين مى كنند. اين تغيير به اين معناست كه اكثر خانواده هاى عروس بايد براى عروس كردن دختر خود زير بار قرض بروند. درخواستهاى رو به افزايش خانواده داماد باعث شده است كه بار زندگى بر دوش خانواده هاى دختر گذاشته شود. در حقيقت در مناطق شهرى, پيدا كردن شوهرى مناسب براى زنانى كه خانواده شان قادر به تهيه جهيزيه درخواستى خانواده داماد نيستند, بسيار مشكل شده است.
فقط در مناطق قبيله اى, كه قيمت روى عروس گذاشتن مرسوم است, دختر به عنوان يك سرمايه مالى در نظر گرفته مى شود و بنابراين تا زمان ازدواج از او بسيار مراقبت مى كنند تا سلامت جسمانى دختر شوهرنكرده خود را حفظ كنند. در نظر والدين هرگونه هزينه براى دخترشان به عنوان يك سرمايه گذارى است. زمانى كه دختر ازدواج مى كند, والدين او ديگر مشكل مالى از جانب دختر را ندارند زيرا خرج دختر را خانواده شوهر او تإمين مى كنند. خانواده شوهر هم از طرفى مى خواهند مطمئن شوند كه ((دارايى)) آنها سالم به آنها تحويل داده شده است. بنابراين در حالى كه مى توان گفت قيمت عروس برخلاف جهيزيه, ارزش بالقوه زن را نشان مى دهد ولى زن را تا حد يك كالا كه مى توان آن را خريد و فروش كرد پايين مىآورد.
امروزه جهيزيه در بين مردم پاكستان وجهه اى تجارى و در عين حال سرنوشت ساز به خود گرفته است. طورى كه سرنوشت دختران دم بخت توسط آن تعيين مى شود. قبل از ازدواج خانواده دختر فهرست وسايل جهيزيه را به منزل خواستگار مى فرستند تا با توجه به ارزش آن براى انتخاب عروس تصميم بگيرند. به هر اندازه داماد لايق, شايسته و تحصيل كرده باشد ميزان ارزش جهيزيه دختر بالا مى رود. به همين علت, اكثر خانواده هايى كه چنين فرزندانى دارند تا جهيزيه مورد نظر خود را نيابند به خانواده دختر پاسخ مثبت نمى دهند. البته گفتنى است مسلمانان شبه قاره رسم جهيزيه را مانند بعضى سنتهاى ديگر از هندوها به ارث برده اند. هندوها به علت عدم برخوردارى دختران از ارث, چنين سنتى دارند و بر اساس استطاعت مالى خود جهيزيه دختران را تدارك مى بينند. ولى متإسفانه مسلمانان به آيين پاك و مقدس اسلام و قوانين آن توجه لازم را نداشته, در نتيجه جامعه دچار معضلات بسيارى در اين خصوص گرديده اند.


نوشته شده در تاريخ Sun 21 Jan 2007 توسط محمد نظیر عرفانی

مسإله عمده اى كه سرنوشت دختران دم بخت را رقم مى زند ((ثروت)) است كه با زندگى اجتماعى مردم شبه قاره عموما و مردم مسلمان پاكستان خصوصا ارتباط مستقيم دارد. به اين دليل اكثر والدين تمايل دارند كه با خانواده هاى متمكن و سرمايه دار ((هر دو طرف)) پيوند و قرابت سببى داشته باشند. برخوردارى از زر و زيور و نام و نشان از جمله شرايط و مقرراتى است كه در امر ازدواج يك دختر پاكستانى نقش دارد. در اين راستا اكثر دختران بى بضاعت و بى سواد با مشكل تشكيل خانواده روبه رو هستند. بالا بودن آمار دختران ازدواج نكرده در شهرهاى ديگر پاكستان گواهى بر اين ادعاست. اين آفت عارضه سنت كهنه و بى خاصيتى است كه مردم پاكستان آن را از اسلاف خود و هندوهاى شبه قاره به ارث برده اند.
ـ ازدواج مبتنى بر مذهب: خانواده هاى سادات (شيعيان) نه حاضرند دختران خود را به غير از پسر سادات شوهر بدهند و نه اينكه دختر غير سادات براى پسر خود انتخاب كنند.
ـ ازدواج مبتنى بر عشق: در صورتى كه پدر و مادر به خواسته دختر و پسرى كه علاقمند به هم شده اند پاسخ مثبت ندهند, دختر و پسر از طريق دادگاه, اقدام به تشكيل خانواده نموده و زندگى مشتركشان را آغاز مى كنند.
ـ ازدواج مبتنى بر ارث: خانواده هاى ثروتمند و فئودال به منظور از دست ندادن خود با اقوام نزديك پيوند ازدواج برقرار مى كنند. در چنين موارد كه به ندرت نيز اتفاق مى افتد تعدادى از خانواده ها به ازدواج دختر با برادرزاده خود ولو واجد شرايط و مناسب شإن و مناسب بادخترشان نباشد, تن درمى دهند.
تبادل دختر (وته سته): اين نوع ازدواج در مناطق روستانشين و عقب افتاده جنوب پنجاب مرسوم است. هر گاه دو خانواده بخواهند فرزندان خود را به عقد هم درآورند, نسبت به تبادل دختر براى پسران خود اقدام مى كنند.
بنياد ازدواج: روش ديگر انتخاب همسر, از طريق بنيادهاى متعددى صورت مى گيرد كه قصدى جز عوامفريبى و زراندوزى ندارند. آنها ابتدا اسم عده اى از دختران ((دم بخت)) را در مطبوعات كثيرالانتشار شهر اعلام مى نمايند و چون دولت بر چنين دفاتر و ادارات نظارت ندارد, به همين خاطر اين دفاتر جهت ايجاد ارتباط بين خانواده ها مبالغ هنگفتى پول مى گيرند.
در هر يك از شكلهاى ازدواج در پاكستان, زن به عنوان مملوك شوهرش شناخته مى شود و از خود هويتى ندارد. اين امر منجر به اين مسإله مى شود كه زن در خانه پدر فقط يك ((ميهمان)) است تا زمانى كه مردى بيايد و او را به همسرى بپذيرد. بنابراين, دختران جوان تحت مراقبت دائمى هستند و ازدواج مناسب در سن بسيار پايين براى آنان ترتيب داده مى شود. در طبقه هاى بالاتر جامعه نيز والدين به دختران خود مى گويند, تنها آرزويشان اين است كه آنها را در خانه خودشان يعنى خانه شوهرانشان ببينند. و يك مثال دارند: ((دختران بايد با لباس عروس به خانه شوهر بروند و با كفن از آنجا بيرون بيايند.))
از ابتدا به يك دختر گفته مى شود كه تنها هدفش در زندگى ازدواج است و دختر جوان غير از اين رويايى ندارد. و اغلب به آنها گفته مى شود كه بعد از ازدواج, آزادى خواهند داشت ولى بيشتر وقتها اين گونه نيست. گفتنى است كه اكثر زنان روستايى از ازدواج به عنوان ((شيطانى لازم)) ياد مى كنند. زنان بعد از ازدواج حاضرند در خانه بمانند, تمام سختيها و ناملايمات را تحمل كنند ولى ننگ طلاق را بر روى خود نگذارند.
دختران جوان با در نظر گرفتن اينكه براى رفاه خانواده خود هيچ كارى انجام نمى دهند و از نظر مالى هم براى خانواده خرج دارند, را زود شوهر مى دهند. بنابراين على رغم ممنوعيت قانونى براى ازدواج يك دختر قبل از 16 سالگى, ((عروسان كودك)) غير عادى نيستند. در حالى كه اين فكر كه زنان براى رفاه خانواده خود سودى ندارند و نان خور اضافى هستند بسيار غلط است. گسترش اين عقيده به مسإله و مشكل جهيزيه منجر شده است.


نوشته شده در تاريخ Sun 21 Jan 2007 توسط محمد نظیر عرفانی
پاکستان دارای سه منطقه جغرافيايي می باشد 1 - ارتفاعات شمالی مناطق شمالی پاکستان محل برخورد سه رشته کوه مهم می باشد در اين منطقه رشته کوههای قراقروم ، هيماليا و هندوكش واقع شده است . پاکستان در مقام نخست را در دارا بودن کوههای بلند در جهان دارد بطوری که در منطقه بلتستان بيش از 45قله بالای 6هزار متر و در منطقه گلگت 24قله بالای 6هزار متر وجود دارد .همچنين پاکستان دارای 4قله بالای 8هزار متر و 6قله بالای 7هزار متر می باشد .و دومين کوه بزرگ جهان به نام (k2)با ارتفاع 8611متر در پاکستان واقع شده است . لذا هر ساله گروه های کوهنوردی از سراسر جهان به اين منطقه می آيند. کوههای اين منطقه از نظر صعود از سختترين کوههای جهان می باشد که تاکنون قربانيهای زيادی گرفته است. 2 – جلگه رود سند جلگه رود سند که بخش وسيعی از پاکستان را به خود اختصاص داده پرجمعيت ترين بخش پاکستان می باشد که حيات کشاورزی پاکستان در اين منطقه واقع شده است . 3 – فلات بلوچستان فلات بوچستان منطقه ای خشک و غير قابل سکونت می باشد . و با توجه به اينکه بخش وسيعی از کشور را به خود اختصاص داده است اما جمعيت بسيار کمی دارد
نوشته شده در تاريخ Wed 3 Jan 2007 توسط محمد نظیر عرفانی